بھارتی مسلمانوں کے لئے ماتم کادن- نذیر ناجی

بھارت میں بابری مسجد کی شہادت پر مسلمان سوگ منا رہے ہیں ۔مسلمان ہر چھ دسمبر کو بابری مسجد کے المناک سانحے پر سوگ مناتے ہیں‘ لیکن وہ ہندوئوں کی تمام تر چالوں کے باوجود کوشش کرتے ہیں کہ انسانیت دشمن متعصب ہندوئوں کو اشتعال انگیزی کا موقع نہ دیں۔ہم یہاں بیٹھ کر توکچھ نہیں کر سکتے‘ مگر جہاں جہاں مسلمان موجود ہیں‘ انہیں چاہئے کہ بھارتی مسلمانوں کے خلاف وحشیانہ جذبات کا اظہار کرنے سے گریز کریں۔ہم دعا گو ہیں کہ متعصب ہندو‘ مظلوم مسلمانوں کو بلا اشتعال اپنی وحشت کا ہدف نہ بنا ئیں۔ وہاں کی کسی بھی ہندو سیاسی جماعت میں فرق نہیں ‘مگر کانگرس کے علاوہ چند ایک دوسری جماعتیں بھی اعتدال سے کام لیتی ہیں‘ جو امن پسند ہیں۔گزشتہ روزبابری مسجد کی شہادت کا دن منایا گیا۔ خدا بھارت کے تمام مسلمانوں کو متعصب ہندوئوں کے شر سے بچائے۔ 26 سال گزرنے کے صہد
باوجود ملت اسلامیہ آج بھی اپنے زخم بھول نہیں پائی‘ کیونکہ بابری مسجد کے قاتلوں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا کر انہیں سزا نہیں دی گئی۔ ساتھ ہی ہندو شدت پسند تنظیموں اور بابری مسجد شہید کرنے والے نام نہاد لیڈروں کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ آج سے بھارت میں صوبائی انتخابات مرحلہ وار شروع ہو رہے ہیں۔بھارت سے آنے والی ایک تازہ رپورٹ پیش خدمت ہے:۔

''بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت تمام ہندو توا گروپوں کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کو بھارت میں ایک ناگزیر مسئلہ بنانے کی کوششیں ہر روز ہو رہی ہیں ‘لیکن ان کوششوں کا عوامی ردعمل ان کے لئے یقینا حوصلہ افزا نہیں۔ ایودھیا میں دھرم سبھا کا بڑے زور شور سے انعقاد کیا گیا۔ ملک گیر تیاریاں بھی کی گئیں۔ عوام کو اس میں شرکت کے لئے ترغیب دی گئی۔ یہ تاثر دیا گیا کہ بھارت کے کونے کونے سے ہندو‘ بہت بڑی تعداد میں پہنچ کر سب کچھ تہہ و بالا کر دیں گے اور آئین و قانون کی دھجیاں اڑا کر مندر تعمیر کر لیں گے۔خیا ل رہے کہ مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے سپہ سالار‘ میر باقی کی 1528 ء میں اترپردیش کے شہرایودھیا میں تعمیر کردہ بابری مسجد کو‘ ہندو انتہا پسندوں نے 6 دسمبر 1992 ء کو منہدم کردیا تھا۔

اس کے بعد پورے بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے ‘ جس میں سینکڑوں افراد مارے گئے تھے ۔ بھارت کی سیاست کا رخ بدل دینے والی بابری مسجد کے انہدام کی 26ویں برسی کے موقع پر پورے ملک اور بالخصوص صوبہ اتر پردیش میں ہائی الرٹ اور ایودھیا میںمتنازعہ مقام پر حکم امتناعی نافذ ہے۔شدت پسند ہندو تنظیموں بشمول وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے چھ دسمبر کو یوم شجاعت اور یوم فتح کے طورپر منایا‘ جبکہ مسلم تنظیموں نے یوم غم اور یوم سیاہ کے طورپر منایا۔امن و امان برقرار رکھنے کے لیے صرف ایودھیا میں ہی اڑھائی ہزار سے زائد سیکورٹی فورس تعینات کی گئی تھی۔ لوگوں کے دلوں سے خوف و ہراس کو دور کرنے کے لیے نیم فوجی دستوں نے فلیگ مارچ بھی کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رام مندر تحریک میں نئی جان ڈالنے کا مقصد صرف اور صرف سیاسی ہے ۔ ہندوؤں کے عقیدہ یا مذہب سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ یہ منصوبہ سازی کے ساتھ کی جانے والی ایک سیاسی کوشش ہے ‘کیونکہ اقتدار میں آنے کے بعد ساڑھے چار برس تک‘ مودی سرکار بالکل خاموش رہی۔ اب چونکہ الیکشن قریب ہے ‘ اس مسئلے کو اٹھا کر ہندو مسلم صف بندی کرنا چاہتی ہے۔

قابل ذکر بات ہے کہ اس سال بابری مسجد‘ رام جنم مندر کا معاملہ گزشتہ برسوں کے مقابلے ‘کچھ زیادہ شدت کے ساتھ اٹھایا جارہا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے رام مندر کے معاملے کو اتنی شدت کے ساتھ اٹھانے پر مودی حکومت کی سخت نکتہ چینی کی ہے۔سابق مرکزی وزیر اور جنتا دل کے صدر ‘ شرد یادو کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ''الیکشن سے قبل مندر کے معاملے کو اٹھانے کا مقصد‘ بھارت کو فرقوں میں تقسیم کرنا ہے۔ بی جے پی الیکشن سے قبل مندر کے معاملے کوصرف اس لیے اٹھاتی ہے تاکہ مذہبی بنیاد پر سیاسی صف بندی کی جا سکے‘‘۔بی جے پی کے اقتدار کو بر قرار رکھنے کی کوششوں کے تحت رام مندر کی فوری تعمیر کا مطالبہ پیش کرنے والے‘ رام دیو اور بھگوا گرو ہ کے دوسرے لوگ‘ جس میں آر ایس ایس کے سربراہ‘ موہن بھاگوت شامل ہیں‘ اگر اس سے بھی کم کوشش اور محنت اس نہج پر کرتے کہ مودی حکومت ان وعدوں کو پورا کرے‘ جو اس نے 2014ء کے الیکشن سے پہلے عوام سے کئے تھے‘ انہیں آج رام مندر کی تعمیر‘ زندگی اور موت کی طرح نظر نہ آتی۔ گزشتہ الیکشن سے قبل مودی نے صرف رام مندر کی تعمیر کا اکلوتا وعدہ ہی نہیں کیا تھا ‘بلکہ بے شمار وعدے اور بھی کئے تھے۔ اگر رام دیو اور موہن بھاگوت‘ مودی حکومت پر دبائو بنا کر ان میں سے چند وعدے بھی پورا کرا دیتے‘ تو انہیں آج یہ کہنے کی نوبت پیش نہ آتی کہ رام مندر نہیں بنا تو بی جے پی پر عوام کا بھروسہ قائم نہیں رہ سکے گا۔

رام دیو سے بہتر کون جان سکتا ہے؟ کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتدار میں آتے ہی بھارت کے بڑے امیرزادوں کا بیرون ملک پڑا کالا دھن واپس لانے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ اس دعوے کا کیا ہوا؟ کچھ نہیں ۔ الٹا کالا دھن رکھنے والوں کو ملک سے فرار ہونے کا موقع فراہم کر دیا گیا۔ سچ پوچھئے تو مودی سرکار نے ہر محاذ پر عوام کا بھروسہ توڑا ہے؟ مہنگائی کم ہونے کی امید رکھنے والوں کا بھروسہ توڑا۔ اچھے دنوں کی راہ تکنے والوں کا بھروسہ توڑا۔ روزگار ملنے کی امید لگائے بے روزگار نوجوانوں کا بھروسہ توڑا۔ کالا دھن نہ لا کر عوام کا بھروسہ توڑا۔ پندرہ پندرہ لاکھ بینک میں جمع ہو جانے کے منتظر ملک کے ہر شخص کا بھروسہ توڑا۔ کسانوں کی آمدنی دُگنا ہونے کے منتظر کسانوں کا بھروسہ توڑا۔

اگر مودی حکومت نے ان میں سے چند ایک وعدے بھی پورے کر دئیے ہوتے تو آج ہند توا کے کارندوں کے ہاتھوں میں رام مندر کی تعمیر کا زور نہ پکڑتا۔ آخر وہ کب تک عوام کو دھوکہ دیتے رہیں گے؟ انہیں مزید دھوکہ دیناا گر نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ابھی گزشتہ ہفتے بھارت کے بد حال کسانوں نے دلی میں اکٹھے ہو کر جو نعرہ لگایا ‘ وہ بی جے پی اور ان کے حواریوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ اسی رام لیلا میدان میں جہاں چند دنوں بعد‘ آر ایس ایس کی قیادت میں لوگ اکٹھا ہو کر حکومت سے رام مندر کی جلد تعمیر کے لئے آرڈیننس لانے کا مطالبہ کرنے والے ہیں‘ ملک بھر کے کسانوں نے فلک شگاف نعرے لگاکر مودی سرکار کو پیغام دے دیا ہے کہ انہیں ایودھیا نہیں‘ ان کے حقیقی مسائل کا حل چاہئے‘ لیکن حکومت اس نوشتہ دیوار کو نہیں پڑھ رہی۔ آج26 سال گزر جانے کے بعد بھی بابری مسجد اور پوری دنیا کے مسلمان‘ انصاف اور امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں‘ لیکن ابھی تک بابری مسجد کے قاتلوں کو سزا نہیں د ی گئی‘‘۔