مولانا طارق جمیل کا سرکاری مجلس میں جانا کیوں درست ہے؟ علی عمران

استادِ محترم مولانا طارق جمیل صاحب چیف جسٹس کی دعوت پر بڑھتی آبادی سے متعلق سمپوزیم میں تشریف لے گئے۔ میں اس بارے میں کچھ لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کررہا تھا، سمارٹ موبائل اور فیس بک کی سہولت یابی نے جس طرح ہر انگلی ہلانے والے کو دانشور بنا دیا ہے، اس کے بعد مجمع کی مرضی کے خلاف بات کہنا گویا اندھوں کے شہر میں آئینے بیچنے والی بات ہے۔ مگر جب چند سنجیدہ اہل علم کو بھی اس معاملے میں یک رخی بات کرتے پایا، تو ضروری ہوا کہ اس بارے میں وہ بات لکھی جائے، جو ضروری ہے اور وہ مولانا کا دفاع نہیں بلکہ تبلیغی نقل وحمل کا ایک دستور و اصول ہے۔

اپنے اعتبار سے کہوں تو مجھے مولانا کا اس مجلس میں جانا پسند نہ آیا اور اس کی وجہ بڑی صاف ہے، وہ یہ کہ مجلس کا اپنا ایک عنوان تھا اور یہ عنوان ہمارے دینی فضا میں شدت سے ناپسند کیا جاتا ہے۔ ایسے میں چاہے مولانا جس بھی نیت سے گئے اور جو بھی بات کی، اس سب کے بجائے عوامی سطح پر دیکھنے اور سیکھنے واسطے بس ایک ہی نکتہ بچتا ہے کہ دیکھیے اگر یہ عمل ایسا ہی برا ہوتا تو مولانا کبھی اس میں شریک نہ ہوتے۔

لیکن تبلیغی نظم کو دیکھیے تو مولانا کا عمل بالکل درست ہے اور قاعدہ کی بات یہ ہے کہ اگر باوجود کراہت کے، مجھے بھی اس عنوان پر دعوت دی جاتی، تو اسی نکتہ کے تحت میں بھی جاتا، ناپسند کرتے ہوئے بھی۔ یہ جو حضرات اعتراض کر رہے، دراصل مولانا کی حیثیت اور نسبت کی مکمل تشخیص کیے بغیر بات کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں مولانا کا کردار ایک ایسے عالم دین کا ہے جو بلا لومۃ لائم کے برسر منبر حق کہہ دے اور سب کو برا بھلا کہے، یا کم ازکم خطرناک لہجے میں حکومت اور عمال حکومت کو مشکل نتائج کی دھمکیاں دے۔ لاریب کہ سلطان وقت کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے اور ایک عالم باعمل کو کبھی اس سے کترانا نہیں چاہیے، اہل دعوت کبھی اس سے غافل نہیں رہے ہیں، تاہم بات کہنے کا ان کا اپنا ایک طریقہ ہے اور اس سلسلے میں سب سے اہم بات جو سمجھنے کی ہے، وہ یہ کہ اہل دعوت موجودہ مسائل پر سرے سے بات ہی نہیں کرتے۔ وہ ہمیشہ اپنی ہی بات کرتے ہیں اور جس بھی ماحول میں جائیں، وہاں الفاظ آگے پیچھے کیوں نہ ہوں، مفہوم ہر ایک کا ایک ہی رہتا ہے اور یہی عادت و طریقہ مولانا کا بھی ہے۔

دراصل ان سے یہ مطالبہ کہ وہ اس معاملے میں جو شرعی احکام ہیں، وہ بیان کرتے تو یہ مطالبہ ہی تبلیغی نظم کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ بھائی! تبلیغ والے ہمیشہ سے اپنا کام کر رہے ہیں اور اپنی ہی بات کرتے آ رہے ہیں اور ہمارے اکابر نے ان کے اس طرز پر اعتماد کرتے ہوئے ان سے ان کے مقدور اور پروگرام سے زیادہ کا کبھی مطالبہ نہیں کیا۔ جیسے اکابر علماء نے ان سے سکول اور کالج قائم کرنے یا جہاد و سیاست کا مطالبہ نہیں کیا، کیونکہ انہوں نے اپنے لیے جو پروگرام طے کیا ہے، وہ بالکل ابتدائی اور بنیادی ہے اور یہ سارے امور بعد کے درجات سے تعلق رکھتے ہیں، ایسے ہی ان سے یہ مطالبہ کرنا کہ فلاں مجلس میں آپ کو یہ یہ بات کہنی چاہیے تھی، اتنی ہی غلط ہے۔ ہاں آپ اعتراض تب کرسکتے تھے کہ اگر وہ وہاں جا کر اپنی بات بھی نہ رکھتے اور اپنے مقصد سے بھی ہٹ جاتے اور ظاہر ہے کہ ایسا بالکل نہیں ہوا، بلکہ مولانا نے اپنی پوری بات رکھی۔ رہی یہ بات کہ فلاں فلاں بنیادوں پر مولانا کو نہیں جانا چاہیے تھا، تو جناب والا! یہ ایک اجتہادی امر ہے کہ فلاں کام ان کے واسطے بہتر ہے یا نہیں اور اس میں سب سے اہم کردار خود مبتلا بہ کا ہوتا ہے کہ وہ ان حالات میں کیا فیصلہ کرتا ہے۔ سو براہ کرم! تبلیغی حضرات پر انکار کرنے سے قبل ان کا کلیہ سمجھ لیجیے۔

ان حضرات کا طریق یہ ہے کہ بات ہر ایک کی سننی ہے، مگر اپنا کام کرنا ہی ہے۔ ایک مرتبہ شیرپاؤ نے حاجی عبدالوہاب صاحب رحمہ اللہ کو اسلام آباد اجتماع سے کچھ مسائل کی وجہ سے روکنا چاہا۔ رائیونڈ پہنچے تو پتہ چلا کہ وہ تو وانا میں اجتماع واسطے گئے ہیں۔ یہ بڑے پریشان ہوئے کہ ہم تو ان کو اسلام آباد کے اجتماع سے روکنا چاہتے ہیں اور یہ وانا جیسے مشکل علاقے میں اجتماع کرا رہے ہیں۔ بہرحال ان کی واپسی پر عرض کیا تو حاجی صاحب نے پوری تبلیغی سٹریٹیجی ایک جملے میں بیان کر دی کہ تم روکوگے تو ہم رک جائیں گے، مگر اجتماع نے تو ہونا ہی ہے، وہ ہوکر رہے گا۔ بس یہ سارا معاملہ ہے۔ تبلیغی کام ہمیشہ ریاست اور حکومت کے ساتھ تعاون سے چلا ہے مگر کرتا اپنا ہی رہا ہے، نہ ان کا کام کیا ہے، نہ ان کے کام آیا ہے، مگر کبھی ان سے مخاصمت نہیں کی۔

Comments

علی عمران

علی عمران

علی عمران مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز کے فاضل ہیں۔ تخصص فی الافتاء کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامک کمرشل لاء میں ایم فل کے طالب علم ہیں. دارالافتاء والاحسان اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں افتاء کے علاوہ عصری علوم پڑھنے والے طلبہ اور پروفیشنل حضرات کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.