ہر ایک ریلیشن شپ میں ہے - نیر تاباں

یہ کس قسم کے لڑکے لڑکیاں ہیں آج کل کے بھئی، ہر ایک ہی ریلیشن شپ میں ہے۔ دین سے دوری ہے، بس موبائل فون میں لگے ہیں ہر وقت۔ ایک ہم تھے کچھ پتہ ہی نہیں تھا آس پاس کا۔ کیسے سمجھائیں ان بچوں کو؟

میں بتاؤں کیا؟ اگر آپ واقعی انہیں سمجھانا چاہتے ہیں تو دردِ دل رکھ کر یہ کام ہو سکے گا، ججمینٹل ہونے سے نہیں۔ یقین کیجیے یہ شریف گھروں سے تعلق رکھنے والے شریف لڑکے لڑکیاں ہیں۔ پڑھے لکھے ہیں۔ ان میں سے اکثر نماز روزے کے بھی پابند ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ہاتھ میں ہتھیار موجود ہے جسے آپ اور ہم موبائل فون کے نام سے جانتے ہیں۔ ہم تو بڑے شریف تھے، معصوم تھے، کیونکہ ہمارے پاس مواقع ہی کب تھے؟! ہمارا اور آج کی جوان نسل کا موازنہ بنتا ہی نہیں۔ اپنے آپ کو آج کے بچوں کی جگہ رکھ کر دیکھیں اور peer pressure کا اندازہ لگائیں۔ آج کے والدین کو اگر زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے، تو آج کی یوتھ کو بھی کافی سارے وہ مسائل درپیش ہیں جو ہمارے وقتوں میں ناپید تھے۔

بچے ریلیشن شپ میں ہیں تو دین سے دوری واحد وجہ نہیں ہے۔ دین سے جڑی، خود درس دینے والے لڑکوں / لڑکیوں کو بھی ریلیشن شپ میں دیکھا ہے۔ سب نمازیں وقت پر ادا کرنے والوں / والیوں کو بھی رات رات بھر فون پر مصروف پایا ہے، اور انھی کے ساتھ پایا ہے جس کا خیال ابھی آپ کے دل میں آیا ہے۔ کیا کریں کہ شیطان برائی کو مزین کر کے دکھاتا ہے۔ وہ صحیح غلط جانتے بوجھتے ہوئے بھی اپنے آپ کو بے بس پاتے ہیں۔ موبائل نہ دینا بھی حل نہیں کیونکہ وہ جنہیں والدین نے فون نہیں لے کے دیا، انھیں ان کے 'انھوں' نے خود لے کر، سم ڈال کر دیا، اور اکاؤنٹ میں پیسے بھی وہی ڈلوا دیتے ہیں۔ اب ایسی صورت میں کیا کیجیے؟

یہ بھی پڑھیں:   بچوں کی اردو میں استعداد کیسے بڑھائیں؟ ہمایوں مجاہد تارڑ

اس مسئلے کا حل شاید کوئی ہے ہی نہیں، بس دعا میں شدت اختیار کریں۔ وقتاً فوقتاً اپنی اولاد کو صحیح غلط بتاتے رہیں۔ انہیں یقین دلائیں کہ آپ ان پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ انھیں محبت کی ڈوری میں باندھ کر رکھیں۔ اگر شادی کی عمر ہو تو بچوں کو اتنا مان دیں کہ وہ آپ کو اپنی پسند ناپسند بتا سکیں، اور اگر حرج نہیں تو جہاں بچوں کی پسندیدگی ہوھ شادی وہیں کر دیں۔ شادی میں تاخیر نہ کریں۔

اور اگر نوجوان نسل میں سے کوئی یہ پوسٹ پڑھ رہا ہے تو دیکھیں، والدین آپ پر اپنا مال، اپنی جان انویسٹ کر رہے ہیں۔ انھیں آزمائش میں نہ ڈالیے۔ اور عین ممکن ہے والدین کو پتہ نہ ہو، تو اللہ تو دیکھ رہے ہیں ناں؟ رات کے اندھیرے میں سب سے چھپ کر جس سے آپ کی بات ہوتی ہے، دن کی روشنی میں، سب کی موجودگی میں اگر وہ آپ کا ہاتھ تھامنے کو تیار ہے تو اسے کہیے شادی کر لے۔ اگر ایسا نہیں ہو رہا تو ماں باپ سے زیادہ آپ خود اپنے آپ کو تکلیف دیں گے، یہ بات مان لیں۔ اگر منزل ایک نہیں ہے تو جتنا لمبا سفر ساتھ طے کر کے آپ الگ ہوں گے، جتنا وقت اور جذبات دوسرے بندے کو دیں گے، اتنا ہی نقصان اٹھائیں گے۔ ہم گزرا ہوا کل ہیں، ہمارا آج آپ ہیں۔ آپ ہم سے کہیں زیادہ سمارٹ ہیں، اسی لیے ہم آپ سے سمارٹ فیصلوں کی توقع کرتے ہیں۔ سفید کپڑے پر انار کے دانے کے چند چھینٹے گر جائیں تو ساری عمر دھو دھو کر بھی وہ کپڑا واپس پہلے سا سفید نہیں ہوتا۔ یہ سفید کپڑا آپ کا کردار ہے۔ اسے سنبھال سنبھال رکھیے۔ اللہ ہر برائی کو آپ سے دور کرے اور نیکی کے راستے پر چلنا آپ کے لیے آسان کر دے، اور جو بھی چیز اللہ کی رضا کے لیے آپ چھوڑیں، اس کا بہترین نعم البدل آپ کو اسی دنیا میں ملے۔

رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا آمین یا رب العالمین

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.