وہ جو وزیر ہوئے مگر وزیر شذیر نہیں ہوئے- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

پنجاب اسمبلی میں کارروائی ہوئی تو حیرت بھی ہوئی کہ وزیرزراعت اچانک شہبازشریف کے کسان دوست اقدامات کی تعریف کرتے نظر آئے۔ وارث کلو نے شہبازشریف کے چیک اپ کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا۔

پنجاب اسمبلی میں ماجد بھٹی نے اسمبلی سیکرٹریٹ میں محفل میلاد منعقد کرانے پر سپیکر اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
یہ ایک منفرد واقعہ ہے جو چودھری پرویزالٰہی کی طرف سے بڑی معرکہ آرائی ہے۔ وہ مبارکباد کے بھی مستحق ہیں۔

برادرم محمد حسین اکبر ادارہ منہاج الحسین کے بانی اور سرپرست اعلیٰ ہیں۔ ان کا ایک جملہ بہت عقیدوں سے بھرا ہوا ہے۔ توحید‘ نبوت‘ عدل‘ امامت اور قیامت اسلام کی اساس ہیں۔ محمد حسین اکبر کی محبت اور مہربانی ہے ہم اس اہل ہوتے کہ روضہ امام حسین کے سامنے کھڑا ہونے اور دعا مانگنے کی سعادت حاصل کر سکیں۔ وہ کل میرے پاس تشریف لائے اور کچھ دیر بیٹھے رہے۔ درود و گداز کی ایک کیفیت ماحول میں چھائی رہی۔ میں ان کا ممنون ہوں اور ان کیلئے دعاگو رہتا ہوں۔

شیخ رشید پاکستانی سیاست کے ایک منفرد اور زبردست کردار ہیں۔ وہ کئی دفعہ وزیر رہے مگر کبھی وزیر شذیر نہیں ہوئے۔ان کی باتیں دوستوں اور دوسروں کیلئے دلچسپی اور روشنی کا ایک سلسلہ ہوتی ہیں۔ ان کی طرف سے زندگی میں سارے اعتراف ایک تعریف بن گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ بچپن میں چائلڈ لیبر کا شکار رہا ہوں۔ لال حویلی کے سامنے مزدوری کی‘ کتابیں بیچیں اور پھر گارڈن کالج پنڈی میں داخل ہوئے۔ میں نے تب گارڈن کالج راولپنڈی میں پڑھانا شروع کیا تھا۔ پھر میںوہاں سے گورنمنٹ کالج لاہور آگیا۔ شیخ رشید گارڈن راولپنڈی میں پڑھتا تھا۔ بی اے میں اس کے پاس فارسی آپشنل تھی مگر اس نے کوئی پیریڈ اٹینڈ نہیں کیا تھا۔ وہ میرا شاگرد نہ تھا۔ پرویز رشید بھی وہیں تھا۔ اس نے بھی کوئی پیریڈ اٹینڈ نہیں کیا تھا۔ میری دوستی پرویز رشید سے بھی تھی۔ کالج میں دونوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں الیکشن لڑا تھا۔ پرویز رشید ہار گیا۔ شیخ رشید صدر سٹوڈنٹس یونین بن گیا۔ وہ بہادر اور بے باک آدمی ہے۔ دونوں وزیر ہوئے۔ اب میں انہیں کبھی نہیں ملا۔ رضا ربانی نے بھی کہیں کسی تقریب میں کہا کہ میں اجمل نیازی کا شاگرد ہوں۔ اب کوئی بتائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی میرا شاگرد تھا۔

شیخ رشید نے یہ بھی بتایا کہ اس کا خواب تھا کہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کروں اور یہ موقع بھی اسے ملا۔ ایسے کئی خواب تھے جو پورے ہوئے۔ کوئی خواب نہیں جو اسے بھول گیا ہو۔اقوام کی جنرل اسمبلی میں بالمعوم کسی مملکت کا سربراہ خطاب کرتا ہے۔ پاکستان کا وزیراعظم ہونا بھی اس کا خواب ہوگا۔ یہ بھی انشاء اللہ پورا ہوگا۔ جو تقریر پاکستان کی قومی اسمبلی اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شیخ صاحب نے کرنا ہے۔ ابھی سے تیاری شروع کریں۔ وہ دونوں جگہ پربرجستہ اور فی البدیہہ تقریر کریں تو زیادہ اچھا ہوگا۔ قومی زبان اردو میں تقریر کریں۔

یہ حقیقت عجیب لگتی ہے کہ عمران خان نے اپنی بہت سی زندگی یورپ میں گزاری ہے مگر اس نے پاکستان میں ہمیشہ شلوار پہنی ہے اور کبھی انگریزی میں بات نہیں کی۔ وہ ہمیشہ اردو میں تقریر کرتا ہے۔ ہمیشہ اردو بولتا ہے۔

جب میرے مرحوم ابا نے مجھے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل کرایا اور کہا کہ کبھی پتلون نہ پہننا‘ مجھے وہاں کی دوست طلبہ و طالبات نے کہا کہ تمیں پتلون پہنا پڑے گی۔ میں نے کہا پتلون پہننے والے شلوار پہنیں گے اور ایسے ہی ہوا۔ میں اور ابا پتلون پننے کے خلاف نہیں مگر شلوار پہنتا ہوں۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں حلقہ ارباب شلوار بھی بنا۔ میں اس کا پہلا صدر مقرر ہوا۔ میں حیران ہوں کہ عمران نے شلوار اور اردو زبان سے اپنی محبت کو ثابت کیا۔ اس کے ساتھیوں اور دوستوں کو اس کی تقلید کرنا چاہئے۔

لاہور کے شاہی قلعے کے ٹارچر سیل کی بات ڈاکٹر نوشین عمران بڑے جذبے اور ولولے سے کی ہے۔ اس میں ہمارے بہادر صحافیوں کا حصہ بھی ہے جو تصویریں اس تحریر کے ساتھ شائع ہوئی ہیں۔ ان میں ضیاشاہد‘ خاور نعیم ہاشمی‘ خالد چودھری کی تصویر بھی ہے۔ اس میں جہانگیر بدر کا ذکر بھی ہے۔ وہ دوست ہے اور پنجاب یونیورسٹی میں ہم اکٹھے تھے۔ صدارتی انتخاب ہار گیا تھا مگر ہمارے صدر وہی تھے۔ تب صدر حافظ محمد ادریس تھے۔ ہم اس شخص کے اب تک قائل ہیں۔ وہ جیت گیا تھا تو یہ اس کا میرٹ تھا۔ شاہی قلعے میں ایک سعادت حاصل کرنے والے سب میرے دوست ہیں۔ وہاں کی کہانی مجھے ابھی معلوم نہیںہوئی مگر میں یہ باتیں بھی آپ سے شیئر کروں گا۔