چراگاہ- ھارون الرشید

کسی بھی ملک میں ایسی لوٹ مار ہوئی ہوتی تو یہ سب لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہوتے۔ تحریکِ انصاف کے بعض لیڈر بھی ۔ پاکستان میں مگر یہ جمہوریت کا سوال ہے ۔ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے ۔ پورا ملک چراگاہ بن کے رہ گیا۔ یہ جمہوریت کا سوال ہے؟
امام شافعیؒ کا وہی قول: میں یہ مان سکتا ہوں کہ کسی شخص نے شراب لنڈھا رکھی ہو مگر وہ نشے میں نہ ہو‘ یہ نہیں مان سکتا کہ کوئی اقتدار میں ہو اور اس کے حواس پوری طرح سلامت رہیں۔
میرے دوست اعظم سواتی کو اسی روز دستبردار ہو جانا چاہئے تھا، جب جے آئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ہوئی۔ اب باقی کیا رکھا ہے ؟ یاللعجب تین دن قبل اخبار نویسوں نے وزیرِ اعظم کو واقعہ سے مطلع کیا تو انہوں نے کہا : میرے علم میں تو یہ بات نہیں ۔ وزیرِ اعظم کے علم میں تو خیر یہ بھی نہ تھا کہ روپے کی قیمت گری اور اتنی گری کہ پورا ملک سہم گیا۔

بہ زیر شاخِ گل افعی گزید بلبل را
نواگران ناخوردہ گزند را چہ خبر
شاخِ گل کے نیچے سانپ نے بلبل کو ڈس لیا ۔ جنہیں تکلیف نہیں پہنچی ، انہیں کیا خبر؟
پینتیس برس ہوتے ہیں ، میرے خالہ زاد بھائی میاں محمد یٰسین اپنے دیرینہ دوست جنرل محمد ضیاء الحق سے ملنے گئے ۔ انہیں بتایا کہ اسلامی جمعیت طلبہ کے دو گرفتار کارکنوں کو کیمپ جیل لاہور میں اذیت دی گئی ۔ جنرل نے کہا : محض ایک افسانہ ہے ۔ یٰسین صاحب بہت شائستہ آدمی ہیں۔ اسی بنا پر جنرل ان کے معترف تھے۔ کہا کرتے کہ ملاقات کو کوئی دن بیت جائیں تو دل بے چین ہونے لگتا ہے ۔ میاں صاحب برہم ہوئے اور بولے : آپ پہلے حکمران نہیں، حقائق سے جو بے خبر ہیں۔ خوب انہیں ادراک تھا کہ بادشاہ لوگ کس طرح الگ تھلگ ہوتے چلے جاتے ہیں۔

جنرل کو شبہ ہوا تو براہِ راست کیمپ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو فون کیا۔ دھمکایا تو سچ اس نے اگل دیا۔ لڑکے رہا کر دیے گئے لیکن جنرل جیلانی اور خفیہ ایجنسیوں کا اعتبار جاتا رہا۔
میاں شہباز شریف کا دعویٰ ہے کہ 2014ء میں انہیں ماڈل ٹائون کے قتلِ عام کا علم ٹیلی ویژن سے ہوا ۔ کتنی عجیب بات ہے ، کتنی عجیب بات!
یہ نمازِ فجر کا وقت تھا ۔ اتفاق سے یہ اخبار نویس جاگ رہا تھا ۔ نہ صرف یہ کہ اندھا دھند گولیاں برسائی گئیں بلکہ پولیس کا پالتو غنڈہ گلو بٹ لمبا سا ایک ڈنڈہ لیے منہاج القرآن یونیورسٹی کے آس پاس کھڑی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑتا رہا ۔ کارِ خیر میں وہ مگن تھا تو ایس ایس پی طارق عزیز اس کی حوصلہ افزائی فرما رہے تھے ۔ ایک دوسرے پولیس افسر سلمان کا یہ جملہ ریکارڈ پر ہے۔ Take over the idara۔ اس ادارے پہ قبضہ کر لو۔ شریف ، زرداری اور بھٹو خاندان ایسے حاکم اپنے ہی ملک کو فتح کیا کرتے ہیں۔
ایک عالمِ دین سے ، جس کا تعلق حریف مکتبِ فکر سے تھا، سوال کیا : کیا یزید خاندانِ رسولؐ کی شہادت اور اہانت کا براہِ راست ذمہ دار تھا؟ کہا : قاتلانِ حسین اس کے سائے میں پھلتے پھولتے رہے ۔

ان پہ تبرّا کیا جاتا رہا۔ ایسے پتھر دل تھے کہ محمد بن قاسم کو واپس بلایا گیا تو سیدنا علی کرم اللہ وجہہ پہ تبرّا کرنے کو کہا گیا۔ باقی تاریخ ہے!
ہنگامہ برپا ہوا تو رانا ثناء اللہ کو شہباز شریف نے طلب کیا۔ ان سے کہا : دو ہی راستے ہیں ۔ آپ مستعفی ہو جائیں یا میں۔ مبینہ طور پر رانا صاحب نے بعد ازاں ایک دوست سے کہا : میں کیا احمق تھا کہ الگ نہ ہوتا۔ اکثر سیاسی کارکنوں کو اگرچہ اس وقت بھی اندازہ تھا کہ رانا صاحب واپس آئیں گے... اور پورے کرّوفر کے ساتھ۔ وہ شریف خاندان کا بازوئے شمشیر زن ہیں۔

انہی دنوں انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق سکھیرا سے یہ ناچیز ملنے گیا۔ کہا : میں نے تو اسی دن فرائض سنبھالے تھے۔ میرا کوئی تعلق اس معاملے سے نہیں ۔ برسوں سے میں انہیں جانتا تھا ۔ ان پہ اعتبار کر لیا اور اس دعوے پر بھی کہ ایک افواہ پھیلنے پر پولیس نے گولی چلائی۔ یہ کہ منہاج القرآن یونیورسٹی کی چھتوں سے فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس والے شہید ہو گئے ۔ سکھیرا صاحب کا اگر کوئی تعلق نہ تھا تو سبکدوشی کے بعد وفاقی محتسب کا جلیل القدر منصب انہیں کیوں ملا؟ اگر یہ نہیں تو کیا اس لیے کہ راز ہائے درونِ خانہ کے وہ محرم تھے۔ یا اس لیے کہ کوئی خاص خدمات انجام دی تھیں ؟
اخبار نویس حکم نہیں لگا رہا۔ اس کے پاس معلومات نہیں مگر تحقیقات تو ہونی چاہئیں۔ بہت پہلے ہو جانی چاہئیں تھی۔ ایک شفاف انکوائری کیوں نہ ہو سکی۔

طارق عزیز اور سلیمان ایسے افسر محفوظ و مامون بلکہ شادمان کیوں رہے؟ ڈاکٹر توقیر آئی ایم ایف کیوں بھیجے گئے؟
جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کیوں چھپائی گئی؟ بالواسطہ طور پر شہباز شریف کو جس میں قصوروار بتایا گیا۔ جج صاحب نے لکھا تھا ، کہ پہلی پریس کانفرنس میں وزیرِ اعلیٰ نے بے خبری کا دعویٰ نہ کیا تھا۔ کسی گواہ نے بھی یہ بات نہ کہی۔ چیف جسٹس نے جناب طاہر القادری سے کل یہ کہا : دوسروں کے دروازے آپ کھٹکھٹاتے رہے ، ہمارے پاس کیوں نہ آئے؟
وہ جنرل راحیل شریف کا دروازہ تھا ۔ اسلام آباد میں پاکستان عوامی تحریک اور پی ٹی آئی والے دھرنے کے ہنگام سپہ سالار نے طاہر القادری اور عمران خان کو مدعو کیا۔ علامہ صاحب سے تو نیازمندی نہ تھی ۔ تحریکِ انصاف کے لیڈروں ، جہانگیر ترین ، اسد عمر ، اسحٰق خاکوانی اور دوسروںکو اس ناچیز نے لکھا کہ جنرل کی پیشکش قبول کر لیں ۔ اپوزیشن کی تاریخ میں یہ عظیم ترین کامیابی ہوتی۔ شہباز شریف کا استعفیٰ ، الیکشن میں دھاندلی اور ماڈل ٹائون کے قتلِ عام کی تحقیقات۔ وہ ہوا کے گھوڑے پہ سوار تھے۔ نواز شریف کے استعفے پر مصر رہے۔

یاد ہے کہ انہی دنوں جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملنے گیا۔ عزیزم بلال الرشید ہمراہ تھے۔ جنرل صاحب سے اس نے پوچھا: کون سے وہ پانچ آدمی ہیں ، دھرنے کی جو پشت پناہی فرما رہے ہیں؟ جنرل صاحب کا مزاج یہ ہے کہ زائد از ضرورت ایک لفظ زبان سے نہیں نکالتے۔ مسکرائے اور کہا : اچھا تو اخبار نویسی؟ اس کام کے لیے آپ کے والد صاحب کیا کافی نہیں؟
ان دونوں سے زیادہ سنگین مسئلہ زرداری ٹولے کی لوٹ مار ہے ۔ سندھ اور پاکستان کو جنہوں نے کنگال کر دیا۔ اب اِدھر اُدھر کی وہ ہانک رہے ہیں ۔ سیاست نہیں یہ لوٹ مار ہے ۔ کرپشن نہیں لوٹ مار۔ بچہ بچہ جانتا ہے کہ بلاول ہائوس کے ارد گرد درجنوں جائیدادوں پہ کس طرح انہوں نے قبضہ جمایا۔ صدرِ پاکستان تھے تو پورے ملک میں شکار کھیلا۔

ذوالفقار مرزا سے شوگر مل چھیننے کی کوشش کی تو ان میں ٹھن گئی۔ سرے محل اور سوئٹزرلینڈ کے قصوں سے سبھی واقف ہیں ۔ لندن کے علاوہ فرانس ، امریکہ اور دبئی کی جائیدادوں سے بھی۔ برسوں سے تصاویر چھپ رہی ہیں ۔ کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ اس لیے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اس وقت نواز شریف سے حساب برابر کرنا ہے ۔ بلوچستان کی بغاوت سمیت ، ہر کہیں زرداری صاحب نے ان کا ساتھ دیا ہے ۔ غضب خدا کا ، زرداری خاندان تو الگ ، ادی کا ڈرائیور بھی کروڑ پتی نکلا۔
کسی بھی ملک میں ایسی لوٹ مار ہوئی ہوتی تو یہ سب لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہوتے۔ تحریکِ انصاف کے بعض لیڈر بھی ۔ پاکستان میں مگر یہ جمہوریت کا سوال ہے ۔ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے ۔ پورا ملک چراگاہ بن کے رہ گیا۔ یہ جمہوریت کا سوال ہے؟