یادش بخیر۔سیل فون- نذیر ناجی

چاہے‘ جتنی بھی تاویلیں کر لی جائیں‘ لیکن اس حقیقت کو نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ آدمی ''ترقی‘‘ کی جن اونچی سے اونچی چوٹیوں کو سر کرتا چلا جا رہا ہے‘ وہ نا صرف اسے‘ بلکہ ساری دنیا کو ہلاکت اور تباہی و بربادی کے ایسے گہرے گڑھوں میں گراتی چلی جا رہی ہیں‘ جن سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔ یہاں تک کہ ترقی کے نام پر کی جانے والی '' کرتوتوں‘‘ کے نتیجے میں وہ زمین بھی اس کے پیروں تلے سے نکلتی جا رہی ہے‘ جس پر آدمی رہتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا مٹھی میں سمٹی جا رہی ہے‘ لیکن درحقیقت دنیا مٹھی سے نکلتی جا رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آدمی آج نہ گھر کا رہ سکا اور نہ گھاٹ کا۔ ظاہر بھی برباد اور باطن بھی برباد۔ آدمی کو ساری ترقی الٹی پڑ رہی ہے۔ اس کے باوجود اس کی آنکھیں نہیں کھل رہی اور اس میدان پر خطر میں وہ سرپٹ بھاگا چلا جا رہا ہے۔

خود بھی نا قابل تلافی مصائب و آلام اور آفات کی بھٹی میں پس رہا ہے اور دنیا کو بھی پیس رہا ہے۔ بنی نوع انسان بھلے ہی یہ ماننے کو تیار نہ ہو کہ اسے اپنے ''کئے‘‘ کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑ رہاہے ‘لیکن حقائق تو بہر صورت سرچڑھ کر بولتے ہیں۔ جیسا کہ ایک بار پھر کچھ یوں بول رہے ہیں کہ موبائل اور اس کے کل پرزے بنانے والی بھارت میں قائم سام سنگ الیکٹرونکس کمپنی میں کام کرنے والے ملازمین‘ اچھی خاصی تعداد تابکاری کی وجہ سے کینسر اور اس جیسے دوسرے امراض میں مبتلا ہو کر لقمہ اجل بن رہے ہیں۔کمپنی نے اپنی فیکٹریوں سے مسلسل خارج ہونے والی اس ہلاکت خیز تابکاری(Radiation) کے انجام پر نا صرف ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی ہے‘ بلکہ متاثرین کے ورثا کو معاوضہ کے طور پر خطیر رقم دینے اور علاج و معالجہ کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

سام سنگ الیکٹرونکس کی موبائل فیکٹریوں کی تابکاری سے ہونے والی بیماریوں اور اموات جیسی خبروں کو دیو ہیکل کمپنیاں ‘دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اپنے کاروباری مفادات پر ضرب پڑنے کی وجہ سے ‘ہمیشہ دبا دینے کی بھر پور کوششیں کرتی ہیں‘ لیکن آستین‘ دامن یا کہیں بھی لگا لہو‘ آخر کار لہو ہی ہوتا ہے ‘ جو زبان خنجر کے لاکھ چپ رہنے کے باوجود پکار ہی اٹھتا ہے۔ جیسا کہ سام سنگ معاملے میں پکارا ٹھا۔عالمی ادارہ صحت(WHO) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق‘ جس میں انتباہ کیا گیا ہے کہ سیل فون کے کثرت سے استعمال کرنے سے دماغ کا کینسر ہو سکتا ہے ‘کیونکہ موبائل سے نکلنے والی تابکاری‘ انسان کے زندہ خلیوں میں کینسر پیدا کرنے والا مادہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ موبائل ‘جن نہ دکھائی دینے والی برقی مقناطیسی لہروں(Electro Magnetic Rays) کے کاندھے پر سوار ہو کر کام کرتا ہے‘ وہ تابکاری سے بھری رہتی ہے جو کہ کینسر کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

موبائل کا زہر دو آتشہ ہوتا ہے‘ اس لئے یہ ریڈیائی اور مائیکرو ویو تابکار لہروں کو خارج کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں وصول بھی کرتا ہے۔ تابکار لہروں کا دائرہ ملک اور نیٹ ورک کی مناسبت ہے ۔ megaherts ریڈیو فریکوئنسی کو ماپنے کا پیمانہ ہوتا ہے۔مسلسل تابکار مادوں کی زد میں رہنے کا مطلب ‘انسانی خلیوں اور ڈی این اے کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تابکاری کی مدد سے کام کرنے والے ایکسرے اور سی ٹی سکین جیسی جانچ بار بار کرانے سے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
اس پورے منظر نامے کو جھٹلاتے ہوئے سہولتوں کا سبز باغ دکھلا کر آج دنیا بھر میں موبائل کا ایسا سونامی لایا گیا کہ لاکھ احتیاطی تدابیر کے باوجودبچنا محال ہے۔ دائیں بائیں‘ اوپر نیچے کوئی بھی جگہ موبائل ‘یعنی تابکاری سے خالی نہیں‘ جس جگہ جتنے زیادہ لوگ جمع ہوں گے‘ وہاں اتنی زیادہ تابکاری ہوتی ہے‘ کیونکہ ہر باتھ میں موبائل ہوتا ہے۔ موبائل آن ہے یا آف‘ دونوں صورتوں میں اس کی تابکاری ہوتی ہے۔ ایسے میں کیا یہ سچ نہیں؟ کہ ساری دنیا تابکاری کے سمندر میں غوطے لگا رہی ہوتی ہے اور برقی مقناطیسی تابکار لہریں بنی نوع انسان کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہوتی ہیں۔

سام سنگ کی بھارتی قصبے چائیبول قصبے میں واقع فیکٹری میں 1995ء سے لے کر2000ء تک کام کرنے والی ''کم ‘‘نام کی چھتیس سالہ ملازمہ کی مارچ2012ء میں بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت ہوئی۔ سام سنگ کمپنی کی موبائل فیکٹری میں کام کرنے والے جوان لڑکے و لڑکیوں کی بڑی تعداد جسم کے مختلف اعضا کے کینسر خاص طور پر ہڈیوں کے گودے اور پستانوں کے کینسر میں مبتلا پائی گئی ہے۔ کمپنی نے اپنی ان فیکٹریوں میں تابکاری سے ہونے والی اموات کے سچ کو دنیا کے سامنے نہ آنے دینے کے لئے‘ جی توڑ کوششیں کرنے میں کوئی کسر نہیں باقی رکھی‘ لیکن سچ بہر حال سامنے آکر رہا۔کینسر میں مبتلا اور اپنی بینائی کھو دینے والی ایک بائیس سالہ ملازمہ کو اس کی موت سے پہلے8,64,000ڈالر کی پیش کش کی گئی تھی۔

سام سنگ کمپنی کی موبائل فیکٹریوں کی تابکاری کی وجہ سے کینسر اور دوسری بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جانے والے افراد کے لواحقین اور متاثرین کو معاوضہ دے دیا جاتا ہے‘ لیکن اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔سام سنگ کمپنی کی معافی تلافی اور معاوضہ کی ادائیگی کے بعد بھی یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ ان سب کے بعد کیا موبائل اور اس جیسے دوسرے آلات سے ہونے والی ہلاکت خیز تابکاری کا اندیشہ جاتا رہے گا؟ جواب یقیناً نہیں میں ہو گا تو کیا اب بھی یہ سوچنے کا وقت نہیں آیا؟ کہ موبائل کی تابکاری سے بچنے کے لئے کیا کیا جائے؟ یقیناً کچھ نہیں کیا جا سکتا‘ کیونکہ ا گر ایسا ممکن ہوتا تو سام سنگ کی فیکٹریوں میں موت نہ ناچتی اور نا صرف بھارت‘ بلکہ اقوام عالم کی موبائل ساز کمپنیوں کی فیکٹریوں میں بھی کم و بیش ایسا ہی منظر نامہ نہ ہوتا۔ کون سی احتیاطی تدابیر برتنا ہوں گی؟ جس سے انسانی ضیاع کم ہو سکے؟