گناہِ بے لذت- حامد میر

ہمارے اردگرد ذہنی مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اختلاف رائے پر آستینیں چڑھا کر للکارنا، گالی دینا، غداری کے الزامات لگانا اور کفر کے فتوے لگانا معمول بنتا جا رہا ہے۔ ہماری سیاست و صحافت میں بھی اختلاف رائے کی جگہ ذاتی دشمنی نے لے لی ہے حالانکہ ذاتی دشمنی پر اترنے والوں کی سیاست اور صحافت دیرپا نہیں ہوتی۔ عمران خان کو دیکھ لیجئے۔ بہت سے سیاسی و صحافتی پنڈت کہتے تھے کہ خان صاحب کبھی اس ملک کے وزیر اعظم نہیں بن سکتے لیکن وہ اپنے دشمنوں کی توپوں میں کیڑے ڈال کر وزیر اعظم بن چکے ہیں تاہم خود اُنہیں بھی اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ وہ وزیراعظم بن چکے ہیں۔ عمران خان کی حکومت نے بمشکل سو دن مکمل کئے ہیں لیکن مخالفین نے ابھی سے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ عمران خان کی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرے گی۔

خان صاحب اپنے مخالفین سے پیچھے کیسے رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے بھی یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ وقت سے پہلے انتخابات کرا سکتے ہیں حالانکہ یہ بات کہنے کی فی الحال کوئی ضرورت نہ تھی۔ عمران خان وزیر اعظم بن کر بھی اپوزیشن لیڈر کی طرح تقریریں کر رہے ہیں اور نواز شریف نااہل ہونے کے باوجود اپنی پُراسرار خاموشی کے ذریعہ سیاست میں واپسی کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ نواز شریف اور عمران خان میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ نواز شریف نے حکومت سنبھالنے کے بعد تین سال تک اپنی کارکردگی کا کوئی حساب نہیں دیا۔ عمران خان اپنی حکومت کے پہلے تین ماہ کا زبردستی حساب دینے میں مصروف ہیں۔ نواز شریف جب حکومت میں نہیں تھے تو بہت سے ٹی وی انٹرویو دیا کرتے تھے لیکن حکومت میں آنے کے بعد انہوں نے کسی پاکستانی ٹی وی چینل کو ایک بھی باقاعدہ انٹرویو نہیں دیا۔

ہاں کبھی کبھی وہ کچھ صحافیوں کو اپنے ساتھ غیرملکی دوروں پر لے جاتے اور واپسی پر جہاز میں اُن کے کیمروں پر کچھ گفتگو کر لیا کرتے تھے۔ عام طور پر یہ مہربانی ایسے دوستوں پر کی جاتی جو جنرل راحیل شریف کے قریب سمجھے جاتے تھے باقی خواتین و حضرات کو یہ کہہ کر ٹرخا دیا جاتا کہ جمہوریت ابھی بہت کمزور ہے اس لئے فی الحال آپ صبر کر کے جمہوریت سے اپنی محبت کا ثبوت دیں۔ دوسری طرف عمران خان کے پاس اپنی حکومت کے سو دن پورے ہونے کے بعد کہنے کو کچھ زیادہ نہیں تھا لیکن انہوں نے انٹرویو دینے کا فیصلہ کر لیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ پہلا انٹرویو کسے دیا جائے۔ پہلے انٹرویو کی تاریخ اور وقت طے کر لیا گیا تو انہیں کہا گیا کہ اگر ایک چینل کو انٹرویو دیا تو دوسرا ناراض ہو جائے گا اس لئے بہتر ہے کہ پانچ چھ چینلز کو مشترکہ انٹرویو دیا جائے جس کی ریکارڈنگ پی ٹی وی کرے گا۔ جن اینکرز کو اس پینل انٹرویو میں شرکت کی دعوت دی گئی اُن میں سے بعض نے اعتراض کیا کہ پہلا انٹرویو تو ہمیں ملنا چاہئے تھا اس پینل میں باقی چینلز کیوں شامل ہو رہے ہیں؟ ایک خاتون اینکر نے اس پینل میں شامل ہونے سے انکار کر دیا اور صرف اپنے لئے انٹرویو پر اصرار کیا کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ تحریک انصاف کو اقتدار دلانے میں ان کا کردار نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ افسوس کہ اُن کا یہ خودساختہ کردار نظرانداز کر دیا گیا۔

نواز شریف حکومت میں تھے تو میڈیا کے معاملے میں بہت محتاط تھے۔ خود نہیں بولتے تھے۔ دوسروں سے بلواتے تھے۔ عمران خان حکومت میں آنے کے بعد سب سے زیادہ بول رہے ہیں اور اپنے پہلے پینل انٹرویو میں انہوں نے اپنے پہلے سو دن کی کامیابیاں گنوانے کے بجائے کمزوریاں بیان کیں۔ سب سے بڑی کمزوری یہ بیان کی کہ اسٹیٹ بینک ان کو بتائے بغیر روپے کی قدر کو گرا دیتا ہے۔ میرا سوال یہ تھا کہ آپ کہتے ہیں روپے کے گرنے پر گھبرائیں مت لیکن یہ تو بتائیں کہ ہم کیوں نہ گھبرائیں؟ ان کے جواب نے پوری قوم کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ کر دیا۔ اسی انٹرویو میں اُنہوں نے یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ فوج تحریک انصاف کے منشور کے پیچھے کھڑی ہے۔ اُن کے الفاظ کا چنائو مناسب نہیں تھا۔ وہ یہ کہہ دیتے کہ سیاسی قیادت اور فوج ایک دوسرے کے ساتھ ہیں یا حکومت اور فوج ایک ہی صفحے پر ہیں تو مناسب رہتا۔ فوج کو اپنی پارٹی کے منشور کے پیچھے کھڑا کر کے انہوں نے فوج کے لئے مشکلات پیدا کردیں کیونکہ اپوزیشن کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فوج اب وضاحت کرے۔ عمران خان کی طرف سے زلفی بخاری اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے معاملے میں چیف جسٹس آف پاکستان پر تنقید بھی غیرضروری تھی۔

خان صاحب کو سپریم کورٹ سے کوئی شکایت تھی تو بھی صرف سو دن کے بعد انہیں اس شکایت کا سرعام اظہار نہیں کرنا چاہئے تھا۔ کچھ لوگ اسے ان کی سادگی اور کچھ لوگ بے وقوفی کہیں گے لیکن یہ سوچئے کہ اگر خان صاحب چاہتے تو چیف جسٹس کے بارے میں اپنے ریمارکس کو سنسر کروا سکتے تھے کیونکہ یہ انٹرویو ریکارڈنگ کے چھ گھنٹے بعد نشر ہوا۔ وزیر اعظم کے ایک میڈیا منیجر کا خیال تھا کہ چیف جسٹس کے بارے میں کہے گئے ریمارکس کو حذف کرانے میں کوئی حرج نہیں تھا کیونکہ یہ انٹرویو سرکاری ٹی وی پر نشر ہونا تھا لیکن آخرکار فیصلہ ہوا کہ اس انٹرویو میں سے کچھ بھی سنسر نہیں ہو گا۔ پی ٹی وی پر اس انٹرویو کا سنسر نہ ہونا خوش آئند ہے لیکن عمران خان یاد کریں کہ جب عدلیہ کے بارے میں اس قسم کے بیانات پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں سامنے آتے تھے تو عمران خان فوراً عدلیہ کی آزادی کے علمبردار بن جاتے تھے۔

پی ٹی وی کے انٹرویو میں انہوں نے چیف جسٹس کے بارے میں جو کچھ کہا اس سے اُن کی حکومت کے بارے میں یہ تاثر ختم ہو گیا کہ اس حکومت کو تمام ریاستی اداروں کی مکمل تائید حاصل ہے۔ تحریک انصاف کی نفرت میں اندھے ہو کر الزامات لگانے والے یہ بھی کہتے تھے کہ عمران خان کو ایک سازش کے تحت اقتدار میں لایا گیا ہے اور چیف جسٹس بھی اس سازش میں شامل ہیں۔ عمران خان کے حالیہ ریمارکس نے اس سازشی مفروضے کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ میں نے عمران خان سے بار بار پوچھا کہ آپ کے پاس این آر او دینے کا اختیار ہی نہیں تو پھر آپ سے این آر او کس نے مانگا ہے؟ خان صاحب کے پاس کوئی واضح جواب نہیں تھا۔

عمران خان نے نیب کی کارکردگی پر کھل کر عدم اطمینان ظاہر کیا۔ خبر یہ ہے کہ نیب فواد حسن فواد کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت حاصل نہیں کر پائی اور اگر فواد حسن فواد کے خلاف ثبوت نہیں ملا تو فائدہ کس کس کو ہونے والا ہے آپ خود سمجھ دار ہیں۔ خان صاحب نیب قوانین میں کچھ تبدیلیاں کرنا چاہتے ہیں، جنوبی پنجاب صوبہ بھی بنانا چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے اُنہیں اپوزیشن کا تعاون درکار ہے۔ اپوزیشن نے تعاون کر دیا تو وسطی پنجاب صوبے میں تحریک انصاف کے بجائے مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنے گی اور یہی وہ سوال تھا جس پر وزیر اعظم کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ اگر ایسا ہوا تو میں وقت سے پہلے انتخابات کرا دوں گا۔ وہ بھول گئے کہ سندھ میں اُن کی حکومت نہیں ہے۔ سندھ میں وقت سے پہلے انتخابات کرانے کے لئے انہیں پیپلز پارٹی کی مدد چاہئے۔ خان صاحب کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے۔ اُن سے ایک سال بعد سوال جواب ہوں تو بہتر ہو گا اس ایک سال میں اُنہیں سگریٹ نوشوں پر گناہ ٹیکس لگا کر خوش ہونے دیں، ایک سال میں انہوں نے معیشت سنبھال لی تو بہت اچھا ہو گا ورنہ یہ حکومت اُن کے لئے خود ہی گناہ بے لذت بننے والی ہے۔