رومی کا دیس اور میں - عالم خان

۲۹ نومبر (۲۰۱۳) کی صبح پانچ بجے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ائرپورٹ اسلام آباد سے بزریعہ ترکش ائر لائن میں ایک ایسے ملک کے لیے روانہ ہوا جہاں میری کسی سے بالمشافہ شناسائی نہ تھی اگر کسی سے تعارف تھا بھی تو صرف ای میل کی حد تک تھا ، ترکش حکام کی طرف سے جو ٹکٹ مجھے ملا تھا اس کے مطابق مجے استنبول سے یونیورسٹی تک ڈومیسٹک فلائٹ میں طرابزون شہر جانا تھا جو استنبول سے بائی ائیر ایک گھنٹہ ٤٥ منٹ فلائٹ کے فاصلہ پر جورجیا بارڈر کے قریب واقع ہے، چونکہ یہ میرا پہلا غیر ملکی سفر تھا اس لیے کافی پریشانی تھی کہ وہاں اکیلا کیسے جاؤں گا۔
خیر ! اللہ کا نام لے ترکی کے عظیم تاریخی شہر استنبول ( قسطنطنیہ) تک عزم سفر باندھ لیا، جوں ہی جہاز نے رن وے سے ٹیک آف کیا تو ساتھ بیٹھی ایک لاھوری فیملی سے سلام و دعا کی مقصد یہ تھا کہ شاید یہ وہاں مقیم ہوں گے تو ائیر پورٹ پہ میری راہنمائی کریں گے، لیکن انھوں نے سیدھا سیدھا کہا کہ بھئی ہم جرمنی جا رہے ہیں، یہ سن کر میں نے اپنی اجنبیت اور اندر کا خوف چھپایا اور ہلکی سی مسکراہٹ دے کر بیگ سے لیپ ٹاپ نکال کر مختلف کتابوں کو پڑھنا شروع کیا میں مطالعہ میں مگن تھا کہ جہاز کے کپتان نے اعلان کیا کہ سیٹ بیلٹ باندھ لیجئے ہمیں تھوڑی دیر بعد اتاترک ائیر پورٹ استنبول پر اترنا ہے، جب سامنے سکرین پر موجود گھڑی پر نظر پڑی تو ترکی کے مقامی وقت کے مطابق صبح کے نو بجے چکے تھے، لیپ ٹاپ بند کرتے ہی دوبارہ وہی ٹینشن شروع ہوگئی جسے میں مطالعے میں بھلا کر سفر کاٹنے کی کوشش کی تھی اسی الجھن میں اتاترک ہوائی اڈے پر قدم رکھا۔

جہاز سے اترتے ہی پہلے سے ایک بہترین ڈائیوو (بس) ہماری منتظر تھی اس میں بسم اللہ کرکے سوار ہوئے جس نے ہمیں ٹرمینل کے گیٹ پر اتار دیا اندر داخل ہوتے ہی اندازہ ہوا کہ بہت زیادہ رش ہے لیکن ڈسپلن کی وجہ سے تھوڑی دیر بعد میرا نمبر آگیا اور پاسپورٹ پر انٹری کی مہر لگ گئی ابھی تک تو میں قطار میں تھا اس لیے کوئی مشکل نہیں تھی لیکن جب قطار سے نکلا تو منزل پہ پہنچنے کے لیے کسی سے مدد لینے کی ضرورت تھی پہلے تو بورڈز اور سکرین سے مدد لینے کی کوشش کی لیکن ناکامی کے بعد تھوڑی دیر کھڑا رہا اور سوچا کہ کسی ترک سے پوچھوں جو مجھے وہاں تک پہنچانے میں مدد کریں اسی لیے ایک گورے رنگ کے نوجوان مسافر کو فون پر بات کرتے ہوئے دیکھا تو فورا اسی کے طرف دوڑا اور پوچھا کہ (How do I get to domestic terminal) اس نے ہاتھ سے معذرت کا اشارہ کیا اور نکل گیا اسی دوران ایک فیملی وہاں سے گزری تو وہی جملہ ان سے بھی دہرایا تو انھوں نے ساتھ آنے کا اشارہ کیا وہاں مجھے پتہ چلا کہ جس زبان (انگریزی) کے سیکھنے اور بولنے پر ہم فخر کرتے ہیں اور اس کو ترقی کا راز سمجھتے ہیں یہاں اسکو بہت کم لوگ بولتے اور سمجھتے ہیں، میرا یہ خیال عوام کے بارے میں تھا لیکن جب یونیورسٹی پہنچا تو وہاں سٹوڈنٹس اور پروفیسرز کا بھی انگریزی سے دشمنی کا یہی حال تھا۔

ڈومیسٹک ٹرمینل پہنچتے ہی پوری فیملی کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ سکھ کا سانس لے کر طرابزون کے لیے آن بورڈ ہوا جہاں مجھے لینے کے لیے ڈپٹی ڈین ڈاکٹر فکری جونائی اور علم کلام کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر حلمی کراچ صاحب پہلے سے موجود تھے طرابزوں پہنچتے ہی انھوں نے میرا گرمجوشی سے استقبال کیا اور ہم یونیورسٹی جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھ گئے جہاں مجھ پر عیاں ہوا کہ ڈاکٹر فکری جونائی اسلامی بین الاقوامی اسلام آباد سے (۱۹۹۲) میں گریجوٹ ہوا ہے جس وقت میں پانچ سال کا تھا اور حسن اتفاق دیکھیے کہ بیس (۲۰) سال بعد اسی یونیورسٹی سے میں نے بھی گریجویشن کی اور اب ہم ایک ادارے میں ہیں۔
یونیورسٹی پہنچ کر مہمان خانہ میں میرے لیے مختص روم تک مجھے پہنچایا گیا چونکہ ڈنر ہم نے راستہ میں کیا اس لیے چائے پلانے کے لیے انھوں نے مجھے لاؤنج آنے کا کہا جہاں پہلے سے کئی اور پروفیسرز میرے انتظار میں موجود تھے، انھوں نے گلے لگاتے ہی مجھے حجام ( Hocam) کہنا شروع کیا ایک طرف انکی گرمجوشی اور محبت تھی تو دوسری طرف لفظ حجام سے کوفت تھی کیونکہ مجھے ترکش زبان نہیں آتی تھی اور ہمارے ہاں حجام (barber ) کو کہتے ہیں اس لیے دل ہی دل میں سوچنا شروع کیا کہ یا اللہ مجھے تو لیکچرر کا کہا گیا تھا یہ کس پوسٹ پر میری تعیناتی ہوئی، یہ تو بعد میں مجھے پتہ چلا کہ حجام ترکش زبان میں حجۃ سے لیا گیا جس کا مطلب شیخ اور استاد کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   انقرہ میں جناح ینگ رائٹرز ایوارڈ - ڈاکٹر فرقان حمید

جب اگلے دن مجھے آفس اور کلاسز جانا پڑا تو وہاں بھی صرف عربی ہی ہمارے کام اسکتی تھی انگریزی کا بالکل وجود نہیں تھا، لیکن عوام الناس عربی بھی نہیں بول سکتے تھے اس لیے کئی رات صرف جوس پی کر بغیر کھانا کھائے سونا پڑا کیونکہ ترک قوم مجموعی طور پر شام کا کھانا پانچ بجے کھاتے ہیں اور میں تو لیٹ کھانے کا عادی تھا اس لیے بہت بھوک لگتی تھی، اس وقت میرا خیال یہ تھا کہ شاید ترکش کلچر میں شام کا کھانا نہیں ہے اس لیے جب شام کو بھوک لگتی تو شرم کی وجہ سے کسی کو اسی وجہ سے نہیں کہہ سکتا کہ ایسا نہ ہو کہ ان کے دل میں پاکستانیوں کا امیج خراب ہوجائے کہ یہ صرف کھاتے پیتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے اور ترکش بھی نہیں آتی تھی اس لیے کافی عرصہ تک فریزر سے جوس نکال کر پیتا تھا اور اگلی صبح ناشتہ کا انتظار کرتا تھا۔
ایک دن ہمارے ڈین ڈاکٹر علی قوزی دشلی نے مجھے کھانے کے لیے مدعو کیا اور ہم شہر کے ایک بہترین ریسٹورنٹ میں کھانے کے لیے گئے جہاں مجھے ہماری روٹی (نان) کی طرح روٹی نظر آئی دل میں سوچا کہ اس کا نام سیکھتا ہوں اور پتہ کرتا ہوں کہ کہاں سے ملتی ہے اور آیندہ کے لیے اسی کو لوں گا کھانا پکانا نہیں آتا لیکن انڈہ فرائی کروں گا اور شام کو چپکے سے کھاؤں گا، تاکہ ان کو پتہ نہ چلے کہ میں شام کو بھی کھاتا ہوں، پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس کا نام لَوَش (lavaş) ہے، اگلی شام کلاسز ختم ہونے کے بعد انتہائی خوشی کے ساتھ برفباری میں آفس سے نکلا کہ آج تو شام کا کھانا کھاؤں گا، جوں ہی کیفٹریا پہنچا تو ہیجان کی وجہ سے لفظ لوش بھول گیا

رات کے گیارہ بج چکے تھے کال بھی نہیں کرسکتا کہ ڈاکٹر صاحب اس روٹی کا نام کیا تھا کیونکہ ایک تو ٹائم لیٹ تھا اور دوسرا میں تو سوچ رہا تھا کہ یہ لوگ شام کا کھانا نہیں کھاتے تھے اس لیے معیوب ہوگا اگر ان کو پتہ چلے کہ میں کھاتا ہوں تو خود اس نام کو یاد کرنے کا کوشش کرتا رہا ایک طرف شدید برفباری دوسری طرف بھوک اور کھانے کا انتظار اسی اثناء مجھے لوش کے بجائے یَوَش (yavaş) یاد آیا، ایک بار پھر جان میں جان پیدا ہوئی اور ڈاکٹر صاحب کی ہدایت کے مطابق کیفٹریا داخل ہوا اور سلام کے بعد۔ ایک انگلی اٹھا کر کہا کردش یوش ( kardeş yavaş ) اور اس نے حیرانی سے دیکھا جسکو میں نے انکار سمجھا یوں مجھے کہیں بھی یوش نہیں ملی اس لیے جوس پینے پر اکتفا کیا اور پوری رات سونے کی کوشش کرتا رہا لیکن خالی معدہ اور صبح سے شام کو انڈہ فرائی کرنے کا انتظار مجھے کہاں سونے دیتا اگلی صبح جلدی میں آفس پہنچا تاکہ جب بھی ڈاکٹر صاحب آجائے تو اس کو بتاؤں کہ مجھے وہ یوش نہیں ملا۔

جب وہ آئے اور میرے آفس سے گزر رہا تھا تو صبح بخیر اور سلام کے بعد میں نے پوچھا کہ مجھے وہ روٹی نہیں ملی تو انھوں نے پوچھا کہ آپ نے کیا کہا تھا میں نےدوبارہ انگلی اٹھا کر وہی جملہ دہرایا کہ کردش یوش (kardeş yavaş ) تو وہ اتنے ہنسے کہ ہنستے ہنستے دوہرے ہوگئے مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا انھوں نے کہا کہ یوش نہیں لوش اور مزید واضح کردیا کہ یوش کا مطلب ہے آرام سے، میں بھی آپنے آپ پر خوب ہنسا اور اس کے بعد لوش کو لے کر گھر لے آتا تو تمام کھڑکیاں بند کرکے انڈہ فرائی کرتا اور چپکے سے کھاتا تھا یہ سلسلہ کافی عرصہ تک جاری رہا ایک شام میرے ہمسائے پروفیسر صلاح الدین فتح اللہ کی کال آئی اور انھوں نے گھر آنے کی دعوت دی جب داخل ہوا تو ٹیبل مختلف ترکش کھانوں سے سجا ہوا تھا جسکو دیکھتے ہی میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی وجہ سے میں شام کا کھانا چپکے سے کھاتا تھا کہ ترکش ثقافت میں شام کا کھانا نہیں اور آپ لوگ تو کھاتے ہیں جس سے پوری محفل زوردار قہقہوں سے گونج اٹھی اور یوں اس کے بعد میں نے آرام سے علی الاعلان شام کو کھانا شروع کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی میں حیرت کے پانچ سال - عالم خان

ترکش قوم کی ایک خاصیت یہ ہے کہ من حیث القوم احسان فراموش نہیں دوست اور دشمن دونوں کو اچھی طرح یاد رکھتے ہیں اور اس کا پہلی مرتبہ مشاہدہ مجھے تب ہوا جب مجھے ایک فیملی نے گھر بلایا تو خاتون خانہ کے والد صاحب بھی موجود تھے جن کی عمر تقریبا اسی (۸۰) سال تھی جب میں گھر میں داخل ہوا تو انھوں نے کچھ کہا جس میں مجھے صرف لفظ پاکستان کی اس وقت سمجھ آئی وہ مجھے گلے لگا کر رونے لگے تو میرے بھی آنسو نکل آئے لیکن مجھے ان کے رونے کی وجہ سمجھ نہ آئی بیٹھنے کے بعد بھی ان کے آنسو نہیں رک رہے تھے اور مجھے کچھ کہہ رہے تھے ان کی بیٹی بھی رو رہی تھی میں نے تھوڑی دیر کے بعد پروفیسر صاحبہ سے عرض کیا کہ مجھے ترکش نہیں آتی ہے اس لیے مائنڈ نہ کریں ترجمہ کرکے بتائیں کہ بابا جی کیا فرما رہے ہیں اس نے ترجمہ شروع کیا تو بابا جی ۱۸ مارچ (۱۹۱٥م ) کو چنا کلی کے مقام پر خلافت عثمانیہ اور تاج برطانیہ اور فرانس کے درمیان تاریخی جنگ کا احوال بیان کرہے تھے جس میں برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں نے اپنے ترک بھائیوں سے مکمل تعاون کیا تھا حتی کہ مسلمان خواتین نے اپنے کنگن اور بالیاں چندہ میں ترکی بھیجی تھیں جس کو ترک قوم آج بھی یاد کرتی ہے۔

اگرچہ مزکورہ جنگ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے ہوئی تھی لیکن ترک قوم کی اکثریت اس کو پاکستانیوں کی محبت اور تعاون تصور کرتے ہیں اسی لیے جہاں بھی جاتا ہوں اور کسی کو پتہ چلتا ہے کہ میں پاکستانی ہوں تو امتیازی حسن سلوک اور پیار دیتے ہیں، جس کا کئی بار تجربہ مختلف مواقع پر رہا ہے، کہ ترک قوم پاکستانی قوم پر اندھا اعتماد اور ان کے ساتھ بے پناہ محبت کرتی ہے۔
اسی لیے ترکی صدر رجب طیب اردوغان ۱۰ اگست ۲۰۱۸ کو ہماری یونیورسٹی تشریف لائے اور جب ان کو پتہ چلا کہ میں پاکستانی ہوں تو اپنے پاس بلایا اور کافی گفتگو کی اور بعد میں جب میں نے ایک سیلفی لینے کی فرمائش کی تو کہا ایک نہیں جتنی آپ چاہے لے لیں اور اس وقت تک کھڑے رہےتھےجب تک میں نے نہیں کہا کہ کافی ہے، اور رخصت ہوتے وقت مجھے نہ صرف گلے لگایا بلکہ اردو میں خدا حافظ بھی کہا جو ان کی پاکستانی قوم سے محبت کی دلیل تھی، یہ بظاہر ایک معمولی واقعہ نظر آتا ہے لیکن اگر اس کو اپنے حکمرانوں کے رویے تناظر میں دیکھا جائے تو یقننا اس قوم کی محبت اور عظمت کا پتہ چلے گا۔