میں فلسطین ہوں - عصمت اسامہ

دنیا میں صرف دو ہی ممالک ایسے ہیں جو کسی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوئے ان میں سے ایک تو "اسلامی جمہوریہ پاکستان " ہےاور دوسرا اس کے برعکس یا متضاد طور بننے والا ملک "اسرائیل "ہے جو عالمی اور صیہیونی طاقتوں نے ناجائز طور پرارض مقدس "فلسطین" پر قبضہ کر کے بنایا تھا ۔ ان دونوں ممالک کی حیثیت دیگر ممالک سے بالکل جداگانہ ہے ۔ اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جس کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے لیکن فلسطین ایسا ملک ہےجواس لئیے بھی خاص الخاص ہےکہ وہاں ہمارا قبلہ اول بیت المقدس مسجد اقصیٰ ہےجو مکہ اور مدینہ کےبعد مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : "پاک ہے وہ ذات،جواپنے بندے کوراتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی، جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں ، تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہ ہر بات سننے والی ، ہر چیز جاننے والی ذات ہے ۔(الاسرا -1)

تاریخی لحاظ سے موجودہ فلسطین ,وسیع تر شام کا حصہ رہا ہے جو کبھی حالیہ ملک شام ,فلسطین ,لبنان اور اردن پر مشتمل تھا ۔شام کورسول اللہ ﷺ کی دعا بھی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا : اللھم بارک لنا فی شامنا "اے اللہ ہمارے لئے ہمارے شام میں برکت عطا فرما !(صحیح بخاری) اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا : "شام کی جہت والے لوگ بالاتررہیں گے ,حق پر رہتے ہوئے یہاں تک کہ قیامت آجائے "۔(صحیح مسلم) ایک اور مقام پر حضور اکرمﷺ کی بہت اہم ہدایت ملتی ہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تھا :"عنقریب وقت آئے گا کہ آدمی کے پاس گھوڑے کی رسی جتنی زمین ہو کہ جس سے اس کی نظر بیت المقدس تک جاسکے ,اس کے لئے یہ پوری دنیا سے افضل ہوگا , کہا یا پھر یہ الفاظ کہے : یہ اس کے لئے دنیا و ما فیھا سے افضل ہوگا. (روایت ابو ذر ؓ- بحوالہ البانی ) ہمارے نبئ آخر الزماں کا پہلا قبلہ بھی بیت المقدس ہے ۔ مسجد اقصیٰ وہ خاص مسجد ہے جہاں معراج کی رات رسول اللہ ﷺ کولےجایا گیا۔ اسرا کا راستہ اقصیٰ سے ہوکے گزرتا ہے ! مسجد کوئی بھی ہو ,اللہ کا گھر ہے تو وہ مسجد کتنی عظیم الشان ہوگی جہاں سے حضور ﷺکے سفر معراج کا آغاز ہوا اور جس کا تذکرہ رب عظیم نے اپنی کتاب میں کیا اور جس کی تلاوت ساری مسلم امت کرتی ہے ۔ قبہ الصخریٰ یا سنہری گنبد وہ مقام ہے جہاں وہ چٹان ہے جہاں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر معراج کے لئے حضرت جبرائیل کی رفاقت میں آسمان کی جانب چڑھے تھے ۔آج کل سنہری گنبد والی عمارت کا یہ ہال خواتین کی مسجد کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ 1948 میں عالمی طاقتوں نے ایک گھناونی سازش کے تحت یہودیوں کو لا کر فلسطین میں آباد کرنا شروع کیا اور پھر نوبت یہاں تک آگئ کہ آج ارض فلسطین پر فلسطینی مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی گئ ہے اور یہودیوں نے ظلم و بر بریت کے ہتھکنڈوں سے اپنی ناجائز حکومت قائم کرلی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   اسرائیل کی حمایت؛ عاصمہ حدید کی جہالت یا مسخ حقائق - عالم خان

جولائی 1948 میں یہودیوں کے مسلح گروہ نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں 55 ہزار بم گرائے ۔ 1967 میں بیت المقدس پر یہودیوں نے جبرا"قبضہ کرلیا تھا , تب سے اب تک ہر سال فلسطینی "یوم نکبہ (تباہی کا دن )مناتے ہیں کیونکہ اسرائیل کے ناجائز قیام کے ساتھ ہی لاکھوں فلسطینیوں کو اپنے گھر بار، زمین چھوڑکر نقل مکانی پر مجبور کیا گیا تھا ۔ 1969 میں مسجد اقصی 'کو ایک سازش کے تحت آگ لگادی گئ جسے وہاں کے بہادر عوام نے اپنی جان پر کھیل کر بجھایا ۔اسرائیلیوں نے عین وقت پر پانی بھی بند کردیا تو اقصی 'کے اردگرد بالٹییوں کی قطاریں لگادیں اور انسانی ہاتھوں نے وہ بھڑکتی آگ بجھائ جو بڑی مشینوں سے ہی بجھائی جاتی۔ اس سال 2018 میں امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کردیا گیا جو مسلمانوں کے زخموں پہ نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اس وقت بھی اسرائیل کے تشدد اور بربریت کا مقابلہ فلسطین کے نہتے عوام اپنی جان کی بازی لگا کے کر رہے ہیں ۔اسرائیلی قید خانوں میں ہزاروں مسلمان پابند سلاسل ہیں -غزہ میں بجلی کی سپلائی رات دن میں صرف دوگھنٹے فراہم کی جاتی ہے. جبکہ پینے کو آلودہ پانی دیا جارہا ہے۔ غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی اوپن ائر جیل کہا جاتا ہےجبکہ خوراک کا بحران بھی ہنگامی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں فلسطینی مندوب "ریاض منصور" نے سکریٹری جنرل "بان کی مون " کے نام خط میں لکھا ہے کہ : "اسرائیلی فوج فلسطینی شہدا کے جسد خاکی کے پوسٹ مارٹم کی آڑ میں ان شہیدوں کے مختلف اعضاچوری کر رہی ہے جس میں شہیدوں کی آنکھیں بھی شامل ہیں ۔۔! (استغفر اللہ )اس وقت امت مسلمہ کی مجموعی صورت حال غورو فکر کی متقاضی ہے۔ ترکی کے صدر طیب اردگان نے بجا طور پر کہا ہے کہ اگر ہم نے بیت المقدس کھودیا تو پھر ہم مکہ اور مدینہ بھی کھو دیں گے!

یہ بھی پڑھیں:   فلسطین، اسرائیل اور ہم، حل کیا ہے؟ آصف محمود

مسجد اقصیٰ کے عین بالمقابل یہودی اپنے "ہیکل سلیمانی "کی بنیاد رکھ رہے ہیں جو ان کے خیال میں دنیا پہ ان کی حکومت کی علامت ہے ۔اس مقصد کے لئے وہ تیسری جنگ عظیم چھیڑنا چاہتے ہیں جس کے بعد "دجال " آئے گا جس کو وہ اپنا مسیحا کہتے ہیں (معاذاللہ ) ۔ اسرائیل نہ صرف امن عالم کےلئے خطرہ ہے بلکہ یہ حالات کچھ عملی اقدامات کے متقاضی ہیں قابل تحسین ہے تیونس کا سرکاری موقف جس نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا قیام "جرم"ہے اور اسی طرح آئرش حکومت کا جرات مندانہ اقدام ,جس نے اپنی پارلیمنٹ میں "اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا بل منظور کر لیا ہے ۔ ان حالات میں پاکستانی حکمرانوں کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنانا انتہائی غلط اور امت کے جسم میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہوگا جیسا کہ سعودی حکمرانوں نے "صفقہ القرن " یعنی Deal of the Century کی صورت میں پہلے ہی کردیا ہے ! لیکن پاکستانی عوام اسے کبھی قبول نہیں کریں گے ۔ عوام کو چاہئے کہ قبلہ اول اور اہل فلسطین کے بارے میں اپنے جزبات و احساسات سے حکمرانوں کو آگاہ کریں دانشور ,صحافی ,علمائے کرام ایک ہی صف میں کھڑے ہو جائیں۔


میرے دامن میں ایمان پلتا رہا

ریت پر رب کا فرمان پلتا رہا

میرے بچے لڑے آخری سانس تک !

اور سینوں میں قرآن پلتا رہا

ذرے ذرے میں اللہ اکبر لئے

خوش نصیبی ہے میں صاحب دین ہوں

میں فلسطین ہوں میں فلسطین ہوں !