گولڑہ شریف کے ”شریف زادے“ - جمال عبداللہ عثمان

یہ گولڑہ شریف کے ”شریف زادے“ ہیں۔ میں حسنِ ظن رکھنا چاہتا ہوں، لیکن بدقسمتی سے نہیں رکھ پارہا۔ یہ ”شریف زادے“ جس مزار کے متولی ہیں، اس مزار پر سالانہ لاکھوں بے بس مائیں اور لرزیدہ ہاتھ باپ آکر حاضری دیتے ہیں۔ اس حاضری میں وہ روتے اور گڑگڑاتے ہیں۔
کس مقصد کے لیے؟ ”میری بچی کے ہاتھ پیلے ہوجائیں“۔ ”ان کے بالوں میں چاندی اُتر آئی ہے“۔ وہ منتیں مانتے ہیں۔ نذرانے دیتے ہیں۔ ایک ایک روپے جوڑجوڑ کر ان مزاروں پر لٹاتے ہیں۔
اس کے متولی مگر کس قدر سنگ دل ہیں۔ آپ اس سے اندازہ لگالیں کہ گولڑہ کے شریف زادوں کی کئی ہفتوں سے شادی کی تقریبات چل رہی ہیں۔ آپ رات کو یہاں سے گزرکر دیکھیں تو دیر اور دور تک آتش بازی کے مناظر آپ کو مبہوت رکھ دیں گے۔ ممکن ہے آپ اسے مبالغہ سمجھیں لیکن ان تقریبات کو دیکھ کر یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ان پر کروڑوں روپے خرچ ہوچکے ہیں۔

اس سے پہلے بھی راولپنڈی کے ایک ”شریف زادے“، پیر نقیب الرحمن کے صاحبزادے کی ایسی ہی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ مغل شہنشاہوں کی تقریبات جس کے سامنے شرماگئی تھیں۔ کروڑوں روپے جس پر خرچ ہوئے، اور انتظامات جس کے دیکھ کر انسان حیرت زدہ رہ جائے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ”شریف زادوں“ کے لیے بھی کوئی جے آئی ٹی بنے گی؟ ریاست ان سے سوال کرے گی؟ عوام ان کا گریبان پکڑیں گے یا پھر ہم انتظار کریں اس وقت کا جب خدا کے ہاں ہی ان سے سوال ہوگا کہ کہاں سے یہ دولت آئی تھی اور کہاں خرچ کردی؟
ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.