منرل واٹر کمپنیاں عوام کو بیوقوف بنا رہی ہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ منرل واٹر کمپنیاں عوام کو بیوقوف بنا رہی ہیں۔

سپریم کورٹ میں منرل واٹر کمپنیوں کا پانی فروخت کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالتی کمیشن کی جانب سے بتایا گیا کہ گندگی نہ ڈالیں تو دریاؤں کا پانی پینے کے لئے بہترین ہے، کراچی میں زیر زمین پانی کی سطح 1300فٹ تک پہنچ چکی ہے، پنجاب میں نہریں خشک ہو چکی ہیں، سیوریج کے پانی سے سبزیاں اگ رہی ہیں، منرل واٹر کمپنیاں ماہانہ سات ارب لیٹر پانی نکالتی ہیں اور آلودہ پانی بغیر ٹریٹمنٹ زیرزمین بہا دیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کمیشن کی رپورٹ دیکھ کر دل کرتا ہے تمام کمپنیاں بند کر دیں، منرل واٹر کمپنیاں عوام کو بیوقوف بنا رہی ہیں،عوام کو چاہیے کہ منرل واٹر کمپنیوں کا بائیکاٹ کریں۔ اس سے بہتر تو گھڑے کا پانی ہے۔ کمپنیاں ایک ہفتے میں نظام ٹھیک کریں ورنہ کمپنیاں بند کر دیں گے، منرل واٹر کمپنیاں بند ہونے سے کوئی پیاسا نہیں مرے گا۔

جسٹس ثاقب نثار نے مزید ریمارکس دیئے کہ سندھ میں صنعتیں نہروں اور دریائے سندھ کا پانی مفت استعمال کر رہی ہیں، دریائے سندھ اور نہر کا پانی منرل واٹر کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، پانی کسی صورت چوری نہیں کرنے دیں گے، کمپنیوں کو زیر زمین پانی کی قیمت ہر صورت ادا کرنا ہو گی، فی لیٹر ایک روپیہ قیمت مقرر کی جائے تب بھی ماہانہ 7 ارب روپے اور سالانہ 84 ارب روپے جمع ہوں گے، اس طرح 9 سال میں 756 ارب روپے جمع ہوں گے۔