بھارتی ہٹ دھرمی اور سارک کانفرنس کا مستقبل - آصف خورشید رانا

بھارت میں اس وقت 2019انتخابات کے لیے مہم شروع کر دی گئی ہے۔بھارت میں حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی بظاہر ان انتخابات میں مشکلات کا شکار ہے ۔بھارت کے اکثر تجزیہ نگار مودی سرکارکے لیے انتخابات کو خطرے کی گھنٹی قرار دے رہے ہیں ۔انتخابات میں کانگریس جماعت کی کامیابی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔بھارتی انتخابات میں ہمیشہ کی طرح بھارتی جنتاپارٹی کی ترجیح اپنی کارکردگی پر نہیں بلکہ بھارت کو ہندو سٹیٹ بنانے اور پاکستان مخالفت کا کارڈ استعمال کررہی ہے ۔بھارتی جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے سے جہاں بھارت میں ہندو تواازم کو فروغ ملا وہاں پاکستان کی تمام کوششوں کے باوجود مذاکرات کی راہ ہموار نہ ہوسکی۔بھارتی انتخابات کے برعکس پاکستان میں کوئی بھی سیاسی جماعت بھارت مخالف کارڈ استعمال کرکے اقتدار کی سیڑھی تک نہیں پہنچ پاتی ۔مسئلہ کشمیر کی وجہ سے عوام الناس کی اکثریت کی جانب سے بھارت مخالف نظریات رکھنے کے باوجود قومی دھارے کی کسی بھی سیاسی جماعت نے بھارت مخالفت کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ نہیں بنایا بلکہ حکومت بنانے کے بعد ہر جماعت کا پہلا اقدام بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور تصفیہ طلب مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کا اعلان ہوتا ہے۔

حالیہ انتخابات کے نتیجہ میں اقتدار میں آنے والی جماعت تحریک انصاف کے چئیرمین اور وزیر اعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرامن تعلقات کا اظہار کیا اور تما م تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ۔ موجودہ حکومت کی جانب سے سکھ زائرین کے لیے برسوں سے بند کارتار پور سرحد کھولنے کا اعلان بھی اسی خواہش کا اظہار تھا جسے بھارت کے میڈیا اور بی جے پی میں موجود انتہا پسند ہندؤوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنا کر پہلے مرحلہ میں ہی متنازعہ بنانے کی کوشش کی ۔ دوسری طرف سکھ برادری کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے بالآخر بھارت نے بھی اس اقدام کو قبول کرتے ہوئے اپنی طرف سے بھی سرحد کھولنے کا اعلان کردیا۔ دونوں اطراف سے ابتدائی تقریبات ہو چکی ہیں اور اس راہداری پر عملی اقدامات شروع کیے جا چکے ہیں ۔اس موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھردونوں ممالک کے درمیان امن کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کو تمام تنازعات کے لیے مل بیٹھ کر مسائل کے حل کی دعوت دی ۔ تاہم بھارت ابھی تک اس مثبت اقدام کو بھی اپنے سیاسی مفاد میں استعمال کرنے کی کوششوں میں ہے ۔ایک طرف مودی سرکار سکھ کمیونٹی کی ہمدردی کے حصول کا ذریعہ سمجھ رہی ہے تو دوسری طرف کانگریس جماعت اسے سازش قرار دے کر اپنی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ بھارت میں سرحد کھولنے کی تقریب کے موقع پر بھارتی جنتا پارٹی کے رہنماؤں کا نام لکھنے میں ہی تنازعہ پیش آنے پر کہا جا سکتا ہے کہ بی جے پی بھی اس کے ذریعے سیاسی فائدہ اختیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

کرتاپورراہداری پر دونوں اطراف سے رسمی افتتاحی تقریبات کے بعد دونوں ممالک میں خیر سگالی کے جذبات بڑھنے کی امید کا اظہار کیا جا نے لگا اور پھر سے امید پیدا ہوئی کہ عوامی رابطوں کے بعد باہمی تعاون مزید بڑھے گا ۔ پاکستان کی جانب سے ماحول سازگار دیکھتے ہوئے جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کا اجلاس کے لیے بھارتی وزیر اعظم کو دعوت دینے کا عندیہ دے دیا ۔تاہم بھارت کی جانب سے کرتار پور راہداری کے اقدام کو سراہنے کے باجود سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ۔بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے سارک کانفرنس میں شمولیت کی دعوت کو مسترد کرتے ہوئے وہی الزامات کی فہرست دہرا دی ۔سشما سوراج نے کہا کہ جب تک پاکستان ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو نہیں روکتا بھارت سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ بھارت کے اس اعلان کے بعد سارک فورم کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان لگ چکاہے۔

جنوبی ایشیا کے علاقائی تعاون کو ٹھوس بنیادوں پراستوار کرنے کے لیے سارک کا قیام 1985میں عمل میں لایا گیا جس کی تجویز پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے دی تھی۔ اس تنظیم میں شامل آٹھ ممالک کی آباد دنیا کی 23 فیصد آبادی کے برابر ہے۔ بھارت ان تمام ممالک میں سب سے بڑا ملک ہے تنظیم کی اسی فیصد آبادی ہندوستان پر مشتمل ہے۔ ترقی اور پسماندگی کی بات کی جائے تو دنیا کی 44فیصد غربت ان آٹھ ممالک میں پائی جاتی ہے ۔ سارک کا قیام درحقیقت یورپی یونین کی طرز پر ایک فورم بنانے کی کوششوں کا اظہار تھا تاکہ اس خطے میں پائی جانے والی غربت ، بے روزگاری، کرپشن سمیت دیگر مسائل کا مقابلہ مل جل کر کیا جائے ۔تاہم پاک بھارت تنازعات کے باعث سارک علاقائی ترقی میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکا ۔بھارت جتنا بڑا ملک ہے اتنی ہی بڑی آبادی غربت کا شکار ہے ۔کرپشن کے انڈیکس میں بھارت کا شمار جنوبی ایشیا کے دیگر تمام ممالک سے اوپر ہے ۔ سیکولر سٹیٹ کا دعوٰ ی رکھنے کے باوجودملک میں ہندو بنیاد پرستی کو مسلسل فروغ دیا جارہا ہے اور سرکاری سطح سے اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔پاکستان اس فورم میں شریک دوسرا بڑا ملک ہے تاہم سیاسی عدم استحکام کے باعث اور سیاسی جماعتوں کے ذاتی مفادات کے باعث یہ ملک بھی ایک فلاحی ریاست بننے کا خواب پورا نہ کر سکا۔پاک بھارت تنازعات کے باعث جنوبی ایشیا میں اس فورم کے ذریعے کسی بھی مثبت پیش رفت کی توقع کرنا عبث ہے ۔دونوں ممالک کے تنازعات کے باعث بجٹ کا بڑا حصہ غربت، بیروزگاری کے خاتمہ کی بجائے اسلحہ کی خریداری میں صرف ہو جاتاہے ۔ دنیا کی 23فیصد آبادی کے باوجود آٹھ ممالک کا دنیا کی معیشت میں محض 9فیصد حصہ ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ علاقائی ترقی کی رفتار کس حد تک کم ہے ۔دوبڑے ممالک کے تنازعات کے باوجود یہ امید کی جارہی تھی کہ سارک کے فورم پر مل بیٹھنے سے تنازعات کو بھلا کر مشترکہ مسائل کے خلاف مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی تاہم بھارت کے منفی رویے کے باعث یہ امیدیں دم توڑتی جارہی ہیں۔

بھارت نے 2016میں بھی پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ جس کے بعد افغانستان، نیپال، بنگلہ دیش اور بھوٹان نے بھی شمولیت سے معذرت اختیار کرلی تھی۔ اس کی بڑی وجہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی سفارتی مہم تھی جس میں بھارت کے وزیر اعظم نریندرا مودی نے کہا تھا کہ ہم پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دیں گے۔ اگرچہ بھارت کا یہ خواب مکمل تو نہ ہو سکا تاہم علاقائی سطح پر تعاون کا سلسلہ رک گیا۔ سارک ممالک کی سربراہی کانفرنس پھر متوقع ہے لیکن بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث پھر سے اس کے ملتوی ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اس لیے سارک فورم کا مستقبل ایک بار پھر مخدوش نظر آرہا ہے۔ جنوبی ایشیا کو دہشت گردی، غربت، کرپشن، بےروزگاری، صحت و تعلیم کی سہولتوں کی عدم دستیابی، ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ سارک ان مسائل سے نبٹنے کے لیے ایک بہترین فورم ہے۔ اگر یورپی یونین میں موجود جرمنی اور فرانس اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہو سکتے ہیں تو دنیا کی 23 فیصد آبادی کے لیے دو ممالک کیوں نہیں ایک فورم پر بیٹھ سکتے۔ سارک فورم علاقائی ترقی اور تعاون کے لیے ایک بہترین فورم ہے۔ اس فورم کے ذریعے جہاں درپیش مسائل سے نبٹنے کے لیے حکمت عملی طے کی جا سکتی ہے، وہاں دو طرفہ تنازعات کے لیے بھی بات چیت کے ماحول کو سازگار بنانے کے لیے مدد مل سکتی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ بھارت ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم آگے آنے کے لیے تیار ہیں۔ کرتار پور راہداری اس کی ایک عملی مثال موجود ہے۔ بھارت کو اس موقع پر روایتی ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر مثبت ردعمل دینا چاہیے تاکہ جنوبی ایشیا کے لوگوں کی امیدوں کو تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔