خیبر پختونخوا کی حالت بدترین ہے - چیف جسٹس

خیبرپختون خوا کے اسپتالوں کے فضلے کی تلفی سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی حالت بدترین ہے۔ خیبر پختون خوا کے اسپتالوں کے فضلے کی تلفی کے ازخودنوٹس کیس کی سپریم کورٹ پاکستان میں سماعت ہوئی۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کن بنیادوں پر دعویٰ کرتے ہیں کہ کے پی کو جنت بنا دیا گیا ہے، پشاورمینٹل اسپتال میں انسانوں کو جانوروں سے بھی بدترحالت میں رکھا جا رہا ہے۔سیکریٹری صحت نے بتایا کہ خیبر پختون خوا کے 63 سرکاری اسپتالوں میں سے 4 ہزار کلو فضلہ روزانہ نکلتا ہے، 158 نجی اسپتال بھی 860 کلو فضلہ روز پیدا کرتے ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ خیبرپختون خوا کے اسپتالوں میں اب بھی 480 کلو فضلہ تلف نہیں کیا جا رہا، دسمبر 2019ء تک فضلے کے مکمل خاتمے کا ہدف دیا ہے۔

چیف جسٹس نے سیکریٹری صحت سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے مینٹل اسپتال کا دورہ کیا ہے، وہاں انسانوں کو جانوروں سے بھی بدتر حالت میں رکھا جا رہا ہے، دوائیں بھی زائد المیعاد ہیں۔سیکریٹری صحت کا کہنا تھا آپ کے دورے کے بعد بہتری کے لیے کافی اقدامات کیے ہیں، ایک الگ کیمپس بھی قائم کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں تین چار دن بعد دوبارہ دورہ کر کے دیکھوں گا کہ کیا بہتری آئی ہے؟ جس کے بعد کیس کی سماعت دو ماہ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔