ریاستی گورنر کا ’’کشمیر بیانیہ‘‘ - ایس احمد پیرزادہ

دلی کی جانب سے جموں وکشمیرمیں مقرر کیے گئے گورنر ستیہ پال ملک نے گزشتہ دنوں سرینگر میں محکمہ سیاحت کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے بہت ساری باتیں کہیں جن پر تبصرے اور تجزیے جاری ہیں۔ اس موقع پر ان کی یہ لن ترانی کہ ’’جب تک حریت لیڈران پاکستان پاکستان کہتے رہیں گے، تب تک اْن کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔‘‘ اتنی حیران کن بات نہیں، جتنی اْن کی یہ گل افشانی کہ ’’پاکستان مسئلہ کشمیر کا کوئی فریق نہیں ہے‘‘۔ اْنہوں نے مزید کہا کہ ’’ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں نے پیدا نہیں کیا، بلکہ یہ پرانے زمانے کی سرکاروں کی دین ہے۔ میں یہ ایمانداری سے کہتا ہوں کہ گزشتہ چالیس برسوں کے دوران دلی سے کچھ غلطیاں سرزد ہوئیں جن کی وجہ سے کشمیر میں اجنبیت کا احساس پیدا ہوگیا۔‘‘ ستیہ پال ملک صاحب نے یہ بھی کہا کہ: ’’آزادی، اٹانومی اور پاکستان کے ساتھ الحاق ایسے جھوٹے خواب ہیں جو کبھی بھی پورے نہیں ہوسکتے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ’’اگر میں صد فیصد سچ بولوں گا تو حریت ہو جاؤں گا۔‘‘ ریسرچ اسکالر عبدالمنان وانی کی عسکریت کی راہ اختیار کر نے پر رائے زنی کرتے ہوئے ریاستی گورنر نے کہا: ’’اگر منان اس راستے پر نہیں جاتے تو ملک کے بڑے کام آجاتے۔‘‘ گورنر کے اس بیان یا خیالات کو ریاست کی دو بڑی ہند نواز جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے فوراًسے پیش تر رد کردیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ کانگریس کے سابق ہندوستانی وزیرداخلہ و وزیر خزانہ پی چدمبرم نے بھی اس بیان پر گورنر صاحب کو انگریزوں کے وائسرائے سے مشابہ قراردیا۔ مزاحمتی جماعتوں نے بھی حسب توقع گورنر کے اس بیان کو حقائق سے بعید قرار دیا۔ اپنے بیان میں مشترکہ بیان میں مزاحمتی قیادت نے مسٹر ملک کی گفتنی کو ہندوستانی سرکار کی اْس پروپیگنڈا مہم کا حصہ قرار دیا جس کا مقصد اصل مسئلہ سے توجہ ہٹا کر بھارتی عوام کو گمراہ کرنا ہے۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت کے بقول اس طرح کی بیان بازی سے دلی کی ضد اور ہٹ دھرمی پوری دنیا پر عیاں ہو رہی ہے اور صاف دِکھ رہا ہے کہ دلی سرکار مسئلہ کشمیر کا حل نہیں چاہتی۔

فی الوقت ریاست جموں وکشمیر کی باگ ڈور گورنر ستیہ پال ملک کے ہاتھ میں ہے۔ رواں سال میں بی جے پی، پی ڈی پی کولیشن سرکار ٹوٹ جانے کے بعد جموں کشمیر میں گورنر راج نافذ ہے اور سابق گورنر این این ووہرہ کی جگہ ستیہ پال ملک نے لے لی ہے۔ یہ ریاست کے پہلے گورنر ہیں جن کا اپنا ایک سیاسی بیک گراؤنڈ ہے، جبکہ ان سے قبل جتنے بھی گورنر یہاں رہے ہیں، وہ یا تو سول سروسز سے تھے یا پھر فوج سے ریٹائرڈ ہوکر آئے تھے۔ ستیہ پال ملک کا انتخاب دلی میں موجود بی جے پی سرکار نے ایک ایسے وقت میں کیا جب ریاست میں زمینی حالات کی ابتری کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر بھی غیر معمولی بے چینی پائی جارہی ہے اور اس پس منظر میں گورنر شپ کی ذمہ داریاں نبھانا بہت بڑا چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔ جب ملک صاحب نے اپناچارج سنبھالا، اْس سے قبل بھی اور اس وقت بھی کشمیر کی مجموعی صورت حال نہایت ہی مخدوش ہے، ہند نواز سیاسی جماعتیں دلی کی جانب سے ریاست میں طاقت کے ذریعے حالات معمول پر لانے کی پالیسی کی سخت نکتہ چینی کر رہی ہیں، حالات ایسے پیچیدہ بنے ہیں کہ ہر روز وادی کے کسی نہ کسی کونے میں پرتشدد واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور ہر آنے والے دن کے ساتھ مارا ماری کے واقعات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ رواں سال جولائی میں محبوبہ مفتی کو وزارتِ عالیہ سے ہٹاکر دلی کے پالیسی ساز، یہاں اْن کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کو یکسر نظر انداز کرکے حالات کو اپنے من پسند انداز میں ڈیل کر رہے ہیں۔ اس کے ردعمل میں پی ڈی پی اور این سی نے دلی کی جانب سے عوام سے جڑ جانے کے نام پر کیے جانے والے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ حالانکہ انہی دو جماعتوں کے ذریعے وادی میں دلی کی رٹ قائم رہی ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے ہمیشہ عوامی خواہشات کے برعکس دلی سے موصول ہونے والے احکامات کی پیروی کی، اگرچہ عوامی سطح پر ان دونوں جماعتوں کے تئیں عوام الناس میں ہمیشہ غم و غصہ پایا جاتا رہا جو گزشتہ سال 2016ء میں اپنے عروج کو چھو گیا۔ ان حالات میں مودی سرکار نے سیاسی حال و ماضی رکھنے والی شخصیت کو بحیثیت گورنر نامزد کرکے اس خیال کو تقویت پہنچائی کہ موصوف ایک تو دلی سرکار کے قریبی لوگوں میں شامل ہوں گے، دوسرے اْن میں یہاں کی مجموعی صورت حال سے نپٹنے کا انداز بی جے پی فکر تراشید ہوگا۔ چنانچہ ابھی تک ستیہ پال ملک کے بیانات اور خیالات کے جتنے بھی نمونے سامنے آئے ہیں، اْن پر حقائق سے زیادہ سیاست کی چھاپ پائی جا رہی ہے۔ مذکورہ بالا بیان بھی اسی نوعیت کا سیاسی بیان ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس لن ترانی پر تواریخ کشمیر پر معمولی نظر رکھنے والاہی نہیں بلکہ ہر کوئی سادہ لوح عام کشمیری بھی انہیں اصل حقائق سے یکسر منافی ثابت کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   زخموں کی سرزمیں پر مرہم لگائیے - ایس احمد پیرزادہ

گورنر ملک کا یہ کہنا کہ’’ اٹانومی، آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق ایسے جھوٹے خواب ہیں جو کبھی بھی پورے نہیں ہوسکتے‘‘اور ساتھ ہی یہ فرمانا کہ:’’پاکستان مسئلہ کشمیر کا کوئی فریق ہی نہیں ہے‘‘توجہ طلب باتیں ہیں۔پاکستان کے فریق ہونے سے انکارکرنے کی صورت میں ہندوستان کی گزشتہ ستر سالہ سرکاری کشمیر پالیسی پر ہی سوالیہ نشان کھڑا ہوجاتا ہے۔ اگر پاکستان مسئلہ کشمیر کا فریق ہے ہی نہیں تو پھر اس ملک کے ساتھ تین جنگیں کیوں لڑی گئیں؟ پھر1947 ء کی ہند پاک جنگ کے موقع پر ہندوستان کے وزیر اعظم نہرو بذات خود پاکستان کے خلاف شکایت لے کر اقوام متحدہ کیوں چلے گئے ؟ سلامتی کونسل کی کشمیر قراردادوں میں پاکستان بہ حیثیت فریق کیوں تسلیم کیا گیا ؟ اقوام عالم کے سامنے جو وعدے نہرو کی جانب سے بطور انڈین پرائم منسٹر کئے گئے وہ کیا تھے اور کیوں کئے گئے؟ پھر تاشقنداورشملہ معاہدوں اور لاہور اعلامیے میں دونوں جانب کے حکومتی سربراہوں کے مابین مسئلہ کشمیر کیوں سرفہرست رہا ہے؟ پھر کوہالہ پل تک’’کشمیر ہمارا اَٹوٹ انگ ہے‘‘کی مالا کیوں جھپی جارہی ہے؟اگر کوہالہ برج تک آپ کے جسم کا ’’اٹوٹ انگ‘‘ ہے تو انگ کا ایک حصہ تو دوسری جانب ہے ، کیا اس اعتبار سے بھی پاکستان مسئلے کا ایک فریق نہیں بن جاتا ؟یہ جو دونوں ملکوں کے درمیان آج تک ڈیڑھ سو سے زائد مرتبہ کشمیر مذاکرات کی میزیں سجائی گئیں، وہ پا کستان کو کیا مقام دیتی تھیں ٰ؟ سوال یہ ہے کہ گزشتہ ستر سالہ بھارتی اسٹیٹ پالیسی اورتاریخ کوجھوٹ پر مبنی مانیں یا پھر ریاستی گورنر ملک کی یہ بات صحیح نہیں کہ پاکستان مسئلہ کشمیرکا کوئی فریق نہیں؟ اس سوال کا جواب واجبی سطح کا عقل وفہم رکھنے ولا بھی از خود پا سکتا ہے۔

اٹانومی اور آزادی کے ساتھ ساتھ الحاق پاکستان کو جھوٹا خواب قرار دینے سے پہلے اس بات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ ان معاملات میں ہندوستانی پالیسی کی تاریخ کیا رہی ہے۔ایک زمانے میں خود بھارتی وزیر اعظم اقوام متحدہ جاکر ریاست میں اقوام عالم کے سامنے استصواب رائے کا وعدہ کرکے آتے ہیں۔ استصواب رائے میں ریاستی لوگوں کے لیے صرف دو آپشن رکھے جاتے ہیں: اْنہیں پاکستان اور ہندوستان دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے ، جس کے ساتھ وہ اپنا مستقبل وابستہ کرسکتے ہیں۔دنیا کے سامنے، دنیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارم پر ، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویداربھارت یہ تسلیم کرچکا ہے کہ اگر ریاستی لوگ پاکستان کے ساتھ جانا چاہیں گے ،اْنہیں قبول ہوگا۔ پو چھا جاسکتا جس بات کو بھارت کی سیاسی قیادت نے سرکاری سطح پر دنیا کے سامنے قبول کیا ، پھر بھلا اْسے کیسے بیک جنبش زبان جھوٹا خواب قرار دیا جاسکتا ہے؟

بھارت کے دو سابق وزرائے اعظم پی وی نرسمہا راؤاور اٹل بہاری واجپائی کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے دئے گئے بیانات آج بھی زبان زد عام ہیں۔ یہ بیانات مسئلہ کشمیر کی تاریخ کے ساتھ جڑ چکے ہیں۔ پہلا بیان نوے کی دہائی میں اْس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسیماراؤنے دیا جس میں اْنہوں نے آئین کے دائرے میںکشمیریوں کے سامنے مفاہمت کے لیے"Sky is The limit" کی بات کہہ کرہر اْس حل کو بھارت کے لیے قابل قبول قرار دیا، جو آئین ہند کے دائرے میں ہو۔1953 ء سے پہلی والی پوزیشن میں ریاست کا اپنا صدر اوروزیر اعظم ہواکرتا تھا، ہندوستان کی صرف کرنسی ، مواصلات اور سیکورٹی ہوتی تھی۔ لکھن پور سے آگے بڑھنے اور ریاست میں داخل ہونے کے لیے ہر ہندوستانی شہری کو پرمٹ لینا پڑتا تھا، ریاست میں ہندوستانی قومی پرچم کے بجائے صرف ریاستی جھنڈا لہرایا جاتا تھا؟"Sky is The limit" میں اس پوزیشن کی بحالی کو اصولاً بھارتی حکومت نے نوے کی دہائی میں ہی تسلیم کرلیا تھا۔ یہ کشمیر کی مزاحمتی قیادت ہی ہے جس نے اس حل کو تسلیم نہیں کیا۔ اب جس چیز کو دلی کی سرکارماضی میں اعلاناً تسلیم کرچکی ہے، اْس کو جھوٹاخواب قرار دینا سیاست سے ماوراء ہے؟

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے سرینگر میں آکر کشمیریوں کو ایڈریس کرتے ہوئے کہا تھاکہ مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نپٹانے کے لیے ہم ’’ انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت‘‘ کے دائرے میں بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اٹل بہاری واجپائی جی کے اس بیان کو کشمیر میں بھی بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور دلی کی سیاسی گلیاروں میں بھی اس کی مثالیں دی جا تی رہی ہیں۔ آج دلی میں بر سر اقتدار بی جے پی سرکار کے بیشتر سنیئر عہدہ دار جب واجپائی اور کشمیر کی بات کرتے ہیں تو اس جملے کی مثال دینا نہیں بھول جاتے۔ انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت میں سے اگر ہم ’’انسانیت ‘‘ کی بات کرتے ہیں، اس کا دائرہ نرسمہا راؤ کی جانب سے آئین کے دائرے میں "Sky is The limit" کے کو بھی پھلانگتا ہے، کیونکہ ’’انسانیت‘‘ کی جب بات آتی ہے تو اس لفظ کے سامنے ’’آئین ‘‘ نام کی کوئی بھی چیز ثانوی بن جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے کوئی جرم کیا ہوتو ملکی آئین اْسے سزا دیتی ہے لیکن ملکی سربراہ بعض اوقات انسانی بنیادوں پر آئین کے فیصلے کو یک طرف چھوڑ کر اس سزا کو از روئے انسانیت معاف بھی کردیتے ہیں۔انسانیت کو اگر معیار بنایا جائے تو پھر یہ دیکھنا ہے کہ ریاست کی اکثریت کیا چاہتی ہے؟ لوگوں کے لیے کس طرح کا منصفانہ حل قابل قبول ہوگا؟اکثریت ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، پاکستان کے ساتھ جانا چاہتی ہے یا پھر دونوں ملکوں سے الگ رہنا چاہتی ہے، تو پھر انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ اْنہیں اپنی مرضی کی زندگی جینے کا اختیار فراہم کیا جائے۔جمہوریت کا بھی یہی اصول ہے، لوگوں کی مرضی کیا ہے، اْسی کو قبول کرکے اْنہیں اپنے حال ا ور مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا جائے۔’’انسانیت‘‘ کی اس عظیمت کا اعتراف جدید بھارت کے بانیوں نے بھی کیا ہے، حتیٰ کہ اُنہوں نے ’’انسانیت ‘‘ کو ملک پر بھی ترجیح دے دی ہے۔ گاندھی جی نے کہا ہے کہ:’’ جس طرح وطن پرست یہ تلقین کرتے ہیں کہ ایک فرد کو اپنے خاندان کے لیے قربانی دینی چاہیے، خاندان کو گاؤں کے لیے، گاؤں کو ضلع کے لیے، ضلع کو صوبہ کے لیے اور صوبہ کو ملک پر قربان ہونے کے لیے تیار ہونا چاہیے، اسی طرح ملک کو یہ آزادی ملنی چاہیے کہ ضرورت پڑے تو عالمی انسانی مفاد کے لیے وہ خود کو قربان کرے۔ میرا تصور قومیت یہ ہے کہ میرے ملک کو اس بات کی آزادی ملنی چاہیے کہ نسل انسانی کی بقا کے لیے ضرورت متقاضی ہو تو پورا ملک خود کو قربان کرسکے۔( میرے تصور قومیت میں) نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہی میرا تصور قومیت ہے۔‘‘اسی طرح رابندر ناتھ ٹیگور نے’’ نیشنل ازم‘‘ کے موضوع اپنے خیالا ت کا اظہار یوں کیا:’’ میرا ایقان ہے کہ میرے ہم وطن اس تعلیم سے لڑکر ہی حقیقی ہندوستان پاسکتے ہیں جو انہیں یہ سکھاتی ہے کہ ملک انسانیت کی قدروں سے عظیم تر ہے۔ میںاپنے ملک کی خدمت کے لیے ہر دم تیار ہوں لیکن جہاں تک عبادت کا تعلق ہے وہ اس حق کے لیے مخصوص ہے جو میرے وطن سے کہیں عظیم تر ہے۔ وطن کی خدا کی طرح عبادت کرنا دراصل وطن کے لیے مصیبت لانا ہے۔‘‘… گویا ’’انسانیت‘‘ کے لیے وطن تک کو قربان کیا جاسکتا ہے لیکن یہاں حال یہ ہے کہ جھوٹی دیش بھگتی کے نام پرکشمیر میں انسانیت کی ہی نسل کشی کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سقوط ڈھاکہ سے سبق حاصل نہ کیا - موسیٰ غنی

رہا سوال ’’کشمیریت‘‘ کا ، تو یہ واضح ہے کہ ’’ کشمیریت‘‘ ریاست جموں وکشمیر کے مخصوص کلچر سے منسوب تصورہے اور جموں وکشمیر ہر دور میں اپنی ایک الگ مملکتی شناخت اور وحدت کا حامل خطۂ ارض رہا ہے۔اس کا کبھی بھی اغیار کے ساتھ کوئی تہذیبی، تمدنی یا قدرتی تعلق نہیں رہا ہے۔الغرض تاریخ کا ہر پنہ ا ور سیاسی سطح پر ماضی کی ہر کوشش یہ گواہی دے ر ہی ہے کہ ریاست جموں وکشمیر ایک منتازعہ فیہ ریاست ہے۔ اس کے ساتھ ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کی زندگیاں وابستہ ہیں ، اس مسئلے کاپُر امن اور مبنی بر انصاف حل پورے جنوبی ایشیاء کے لئے ازحد ضروری ہے کیونکہ یہ تنازعہ جوہری طاقت رکھنے والے دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان لٹکاہوا ہے اور یہاں سات دہائیوں سے اس درد سر نے انسانیت کا جینا دوبھر کیاہوا ہے۔ ایسے حالات میں کوئی نافہم انسان ہی اسے انسانی مسئلہ ماننے سے انکار کرسکتا ہے۔کھرا سچ یہ ہے کہ یہاں کے لوگ جب اپنے سیاسی حقوق کی بحالی کی بات کرتے ہیں تو اْن کے اس جمہوری حق کو تسلیم کرلینااس مسئلہ سے جڑے ہر فریق کی اخلاقی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ لوگوں کی آواز اور عوام کی جائز بات کو قوت بازو کے بل پر گول کردینا اور سیاسی پینترا بازیوں کے ذریعے سے اصل کشمیر بیانیے کو من پسند معانی پہنانے کی ناکام کوششیں کرنا نہ مدبرانہ فکر ہے اور نہ دیانتدارانہ عمل۔

گورنر ستیہ پال ملک صاحب نے آدھی سچائی کو تسلیم کرکے یہ بھی کہا ہے کہ اگر میں نے صد فیصد سچ کا اظہار کیا تو پھر میں حریت بن جاؤ گا۔ حقیقی معنوں میں صد فیصد سچائی کے اظہار کے ساتھ اور بے عیب سچائی کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور دیر پا حل تینوں فریقوں کی کامل مفاہمت سے ڈھونڈنا ہی حق بینی اور حق نوائی کا تقاضا ہے۔ جب تک دلی صد فیصد سچائی کا اظہار نہ کرے، مسئلہ کشمیر یوں ہی انسانی دنیا کے چہرے پر ایک سیاہ دھبے کی طرح پوری’’ انسانیت‘‘ کی شبیہ بگاڑتا رہے گا۔تاحال بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ نئی دلی کشمیر کے حوالے سے بنیادی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے وقتی فائدوں کی خاطر اس زمین ِ بے آئین میں بشری حقوق کی پامالیوں سے ووٹ بنک سیاست کا جوا کھیلتی رہی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں، انسانی بنیادو ں پر اور زمینی حقائق کو بسر وچشم تسلیم کرتے ہوئے ایک مخلصانہ اور مدبرانہ طرز عمل اپناکر مسئلہ کشمیر کا حل ذاتی نفع نقصان سے اوپرا ٹھ کر کشمیری عوام کی خواہشات کے عین مطابق نکالا جائے تاکہ نہ صرف بر صغیر پھلے پھولے بلکہ کشمیر میں روز روز کے خون خرابے سے مقبرے آبا د ہوں نہ انسانی بستیاں ویران ہوجائیں۔ اس سلسلے میں گورنر صاحب کوغیر روایتی انداز میں صرف ’’ستیہ‘‘ کا ساتھ دینا چاہیے ۔