وائرل ویڈیو اور ہمارا طرزعمل - بشارت حمید

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں‌ایک سفید داڑھی والے بزرگ کسی پارک میں‌ٹریک سوٹ پہنے واک کر رہے تھے کہ ایک خاتون نے اپنا جوتا اتار کر ان کو مارنا شروع کر دیا اور چند لوگ وہاں‌اکٹھے ہو گئے ان میں‌سے ایک نے وہ ویڈیو بنانی شروع کر دی جو پھر شئر ہوتے ہوتے ہم تک بھی پہنچ گئی۔ وہ خاتون جوتے مارتے ہوئے یہ بھی کہہ رہی تھی کہ اس بابے نے ہمارا پارک میں‌آنا حرام کیا ہوا ہے اور پھر کئی جوتے مارنے کے بعد کہیں سے کالک لا کر اس بزرگ کے منہ پر مل کر منہ بھی کالا کر دیا۔اس دوران وہ بزرگ ہاتھ جوڑ کر معافیاں‌مانگ رہے تھے۔

اب اصل کہانی تو معلوم نہیں‌کیا ہوئی لیکن جب سے یہ کلپ دیکھا ہے ذہن میں‌عجیب خیالات آ رہے ہیں۔ ہر انسان اس دنیا میں‌ عزت حاصل کرنا اور پھر مرتے دم تک اس میں‌ اضافہ ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔ کوئی بندہ بشمول میرے یہ نہیں‌چاہتا کہ کسی بھی کمی کمزوری اور کوتاہی پر اس کو سرعام بے عزت کیا جائے اس کا منہ کالا کیا جائے اور پھر اسکی ویڈیو بنا کر دنیا میں‌پھیلا دی جائے۔ اب اس بزرگ کی کوئی ناگوار حرکت اس خاتون نے نوٹ کی ہوگی لیکن اس پر وہ باباجی اس شدید ردعمل کی توقع نہیں‌کر رہے ہوں‌گے جو انہیں‌بھگتنا پڑا۔

اب اس کالے منہ کے ساتھ جب وہ اپنے گھر پہنچے ہوں گے تو انکی فیملی انکے بچے کیا سوچتے ہوں‌گے کہ یہ کیا معاملہ ہوا اور پھر یہ ویڈیو وائرل ہونے پر وہ بزرگ تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہے ہوں گے۔

اب یہاں‌ ایک نقطے پر ذرا ہم غور کریں، کہ کیا اس ویڈیو کو بنانے والا بندہ خود بہت نیک، پاک اور معصوم عن الخطا ہے۔۔۔ کیا اس کےاپنے جی میں‌کسی لڑکی یا عورت کو دیکھ کرکبھی کوئی خیال پیدا نہیں‌ہوا۔۔۔ کیا وہ خود چاہے گا کہ اگر اس کے ساتھ کبھی ایسا ہو تو اس کی ویڈیو بنا کر نشر کر دی جائے۔۔۔اسی طرح ہر ایسی ویڈیو کو آگے شئر کرنے والے بھی اس معاملے میں برابر کے شریک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمان کی تذلیل ،،، ہم اور ہمارا میڈیا - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

اس بزرگ نے جو کچھ کیا ہوگا یقینی طور پر غلط کیا ہوگا لیکن اس کی اتنی بھیانک سزا دینا اور وہ بھی یک طرفہ موقف پر صرف یہ دیکھ کر کہ خاتون کہہ رہی ہے تو ٹھیک ہی ہوگا، کس طرح جائز قرار دیا جاسکتا ہے۔۔۔ وہ باباجی تو آخری عمر میں اتنی ذلت دیکھ کرجیتے جی مر گئے ہوں گے ۔

شیطان ہمارے اندر ہر وقت اس تاک میں رہتا ہے کہ ہماری کمزوریوں‌کو استعمال کرکے ہمیں‌غلط راہ پر ڈال دے۔ کوئی بھی شخص کسی بھی وقت اس کا شکار ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمارا دین کسی ایسی بات کو اس طرح‌سرعام پھیلانے کی اجازت نہیں‌دیتا۔

حضرت عیسی علیہ السلام کے دور میں‌ایک بدکار کو سزا دینے کے لئے لوگ اکٹھے ہوئے اور ہر کوئی بڑھ چڑھ کر سخت سزا دینے کی باتیں‌کرنے لگا، حضرت عیسی نے فرمایا کہ یہ شخص گنہگار ہے لیکن اسے سنگسار کرنے کے لئے پہلا پتھر وہ مارے جس نے خود کبھی یہ گناہ نہ کیا ہو یہ سننا تھا کہ لوگ وہاں‌سے کھسکنا شروع ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا مجمع چھٹ گیا۔

کہنے کا مقصد یہ ہے ہم سب گنہگار ہیں‌اور کوئی نہ کوئی کمی کوتاہی ہمارے اندر موجود ہے لیکن ہم کبھی نہیں‌چاہیں گے کہ ہماری کسی بات کو سرعام نشر کر دیا جائے۔ ہم دوسروں‌کے عیبوں کی پردہ پوشی کریں‌گے تو اللہ دنیا اور آخرت میں ہماری بھی پردہ پوشی فرمائے گا۔ ورنہ ہم کوئی اتنے حاجی بھی نہیں‌کہ دوسروں‌کے عیب لوگوں‌سے شئر کرتے رہیں‌اور خود عزت دار بنے بیٹھے رہیں۔

عیب کی پردہ پوشی کے حکم کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ انسان کو توبہ کا موقع مل جائے یہ نہ ہو کہ پھر وہ سوچے کہ بدنام تو ہو ہی گیا ہوں‌ اب یہ کام ڈٹ کر کرتے رہو۔ ہم کسی کا عیب دوسروں‌پر ظاہر کرکے دراصل اس کی توبہ کا راستہ بند کرنے کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ اللہ ہمیں‌سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.