تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے مسائل - عکاشہ احمد

استاذ کامقام اس لحاظ سے بہت بلند ہے کہ وہ معاشرے کی تشکیل کرتا ہے، اسے اس قابل بناتا ہے کہ وہ کسی نہج پر چل سکے کسی مقام پر پہنچ سکے۔ معاشرے کو کسی رخ پر چلانے میں، اس کی اینٹوں کو ترتیب دینے میں اور اس کی عمارت کھڑی کرنے میں استاذ ایک بنیادی اکائی کا درجہ رکھتا ہے، اس لحاظ سے ضروری تھا کہ اس کا بہت خیال رکھا جائے۔ لیکن جب سے تعلیم تجارت کا ذریعہ بنی ہے استاذ کا مقام بھی گرا دیا گیا، اور اسے ہر جگہ رسوائی کا سامنا ہے۔ پرائیویٹ سکول ہوں کالجز ہوں یا یونیورسٹی، ہر جگہ اساتذہ کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔

پرائیویٹ اسکولوں میں اساتذہ کو کہا جاتا ہے کہ بچہ چاہے کتنی ہی شرارتیں کیوں نہ کرلے اسے کچھ بھی نہیں کہنا۔ بچہ استاذ کی بے عزتی کرجائے تو استاذ کو انتظامیہ تلقین کرتی ہے کہ سہہ جائیں لیکن اگر معاملہ برعکس ہو تو انتظامیہ سے یہ بات برداشت نہیں ہوتی۔ والدین بھی اساتذہ کی بےعزتی کرتے ہیں۔ کبھی کلاس روم میں پرنسپلر آ کر بےعزتی کر جاتا ہے، کبھی بچوں کے والدین کے سامنے ٹیچر کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔ نوبت تو یہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ کئی بار ٹیچر کو کہا جاتا ہے کہ وہ بچے سے معافی مانگے۔ اب تو بچوں کو بھی معلوم ہے کہ ٹیچر کی کتنی عزت ہے، وہ کلاس روم میں کہہ دیتے ہیں کہ اگر آپ نے یہ کیا یا ایسے کہا تو میں آپ کو ہی معافی مانگنی پڑے گی، اور ٹیچر کو ہی ڈرنا پڑتا ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں میں انھی ٹیچرز کو زیادہ عزت ملتی ہے جو اپنے آپ کو بچوں کے آگے زیادہ ذلیل کرسکیں۔ ان کی غلط کو کسی نہ کسی طرح درست کہہ سکیں اور جو زیادہ سے زیادہ سہہ سکیں۔ جونہی کسی ٹیچر کو اپنی عزت یاد آئی تو سمجھیں کہ اس اسکول میں اس کا آخری دن آیا۔

والدین کے دلوں میں بھی یہی خیال ہے کہ ہم پیسے دے رہے ہیں لہذا ٹیچر کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہمارے بچے کو کچھ کہے۔ گویا ٹیچر نہیں ایک خریدا ہوا غلام ہے جسے اسکول کی انتظامیہ، والدین، اور بچے تک پوچھ سکتے ہیں لیکن وہ یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنا دفاع کرے۔ یہ انہائی افسوس ناک صورت حال ہے اور ہمارے ملک کی تعلیم کی تنزلی کی اعلی ترین مثال ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حاملہ خواتین کے لیے رہنما ہدایات - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

کالجز اور یونیوسٹیز میں بھی حالت ابتر ہے۔ پرائیویٹ ادارہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ فیسیں بہت زیادہ لیتے ہیں۔ پھر اساتذہ کے لیے قانون بنائے جاتے ہیں کہ وہ بچوں کو فیل نہیں کرسکتا۔ بچوں کو بھی معلوم ہوتا ہے چنانچہ بعض دفعہ تو طلبہ کو یہ کہتے بھی سنا گیا کہ اتنی فیس دے کر بھی یہ کون ہوتے ہیں ہمیں فیل کرنے والے۔ جب ٹیچر کو پورا اختیار نہیں دیا جائے گا تو وہ کیسے درست تعلیم دے سکے گا۔ ایک یونیورسٹی نے تو اپنے ایک ٹیچر کو صرف اس وجہ سے نکال دیا کہ اس نے بچوں کو فیل کیا تھا۔

پھر اسکول ہوں یا کالجز اور یونیورسٹیز ہر جگہ اساتذہ سے اضافی کام لیا جاتا ہے۔ کبھی چھٹی والے دن بلا لیا جاتا ہے۔ کبھی دوسروے کاموں میں لگا دیا جاتا ہے جن کا تعلیم کے ساتھ کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اسکولوں میں کبھی میٹنگ کے نام سے کبھی کوئی دوسرا بہانہ بنا کر لیکن اساتذہ کو چھٹی والے دن بھی تنگ کیا جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اگر ٹیچر کو کوئی کام ہو اور وہ اپنی مجبور ی بیان بھی کردے تو صاف دھمکی دی جاتی ہے کہ یا آجائیں یا نکال دیے جائیں گے۔

کئی جگہ استاذ کواس بات کا پابند بھی بنایا جاتا ہے کہ وہ بیٹھ کر نہیں پڑھا سکتا اور باقاعدہ اس کی چیکنگ کی جاتی ہے کہ کہیں وہ بیٹھ تو نہیں گیا۔ کئی اداروں میں تو اساتذہ کے لیے کرسی ہی نہیں رکھی جاتی تاکہ بیٹھنے کی ضرورت کے باوجود نہ بیٹھ سکیں۔ اساتذہ کی حاضری کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ راولپنڈی کے ایک اسکول میں یہ قانون بنایا گیا ہے کہ اگر استاذ پانچ منٹ لیٹ آئے تو ایک دن کی تنخواہ کاٹ لی جائے گی۔

اس افسوس ناک صورت حال کی ذمہ داری سراسر پرائیوٹ اداروں کے ذمہ داران کے سر ہے جنہوں نے تعلیم کو ایک تجارت سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا۔ ان کے نزدیک کسی استاذ کی حیثیت ایک نوکر سے زیادہ نہیں اور کیوں کہ مالک حضرات پیسے دے رہے ہیں لہذا وہ ہر قسم کا ظلم روا رکھنے کا حق رکھتے ہیں ۔عمومی خیال یہ پایا جاتا ہے کہ اساتذہ ادارے کو پیسے کے لحاظ سے نفع نہیں پہنچا رہے لہذ اپنے حقوق کا وہ مطالبہ بھی نہیں کرسکتے ۔یہ لوگ صرف ایسے ہی اساتذہ سے راضی ہوتے ہیں جو مکمل سپردگی دکھائیں۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ استاذہ پڑھائی کی طرف توجہ سے زیادہ سسٹم کی طرف توجہ دینے لگتے ہیں اور پڑھائی سے زیادہ اہم یہ بات ہوجاتی ہے کہ سسٹم کیا مانگ رہا ہے۔ بچے، والدین، اداروں کے مالکین اور اسٹاف سب کے سب صرف تجارت کی نگاہ سے دیکھنے اور سوچنے لگتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   بچوں کی اردو میں استعداد کیسے بڑھائیں؟ ہمایوں مجاہد تارڑ

بلاشبہ حکومت بھی اس کی ذمہ دار ہے۔ ایک تو حکومت نے اتنے زیادہ اور معیاری تعلیمی ادارے قائم ہی نہیں کیے جن کی وجہ سے کسی کو پرائیویٹ اداروں میں جانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے، دوسرا پرائیوٹ تعلیمی اداروں کے لیے حکومت کے پاس کوئی لائحہ عمل موجود نہیں جس کے تحت حکومت انہیں ایک طرز اور ایک طریقے پر چلا سکے۔ حد تو یہ ہے کہ کئی اداروں میں ہندوؤں کے ہیروز کے بارے میں پڑھایا جا رہا ہے، نقشوں میں پاکستان سے کشمیر کو جدا کرکے دکھایا جارہا ہے، لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ تیسرا پاکستان کے اس مظلوم طبقہ اساتذہ کے لیے حکومت کے پاس کوئی پیکچ نہیں، نہ انہیں سوشل سیکیورٹی دی جاتی ہے نہ ہی کوئی بونس وغیرہ نہ ہی ان کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے سنور جائے ، اور اگر ہم اس معاشرے کو ایک بہترین معاشرہ بنانا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ معاشرے کو سنوارنے میں بنیادی اینٹ کا کردار ادا کرنے والی شخصیت استاذ کو عزت دیں ، والدین بھی عزت دیں، بچوں کے سامنے ٹیچر کو برا بھلا نہ کہیں ، بچوں کو سمجھائیں کہ وہ اپنے ٹیچر کی عزت کریں، اداروں کی انتظامیہ قانونی طور پر بھی اور ذاتی طور پر بھی اساتذہ کی قدر دانی کرے۔ ان کی ضروریات کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ اگر اساتذہ کی طرف سے کسی بچے کی معقول شکایت ملے تو اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ایسے بچوں کے خلاف کاروائی کریں، اگر والدین آکر کچھ غلط کہتے ہیں تو انہیں ڈیل کرنا بھی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ جب تک استاذ کو عزت اور پرسکون ماحول نہیں دیا جائے گا تب تک تعلیمی نظام کو مکمل کامیاب حالت میں دیکھنا ایک خواب ہی رہے گا۔