چھینک کے آداب - ثمیرہ صدیقی

اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے اور کائنات کی ہر چیز پر غوروفکر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ اللہ کی نعمتوں کو دیکھ کر شکریہ ادا کریں اور ہمارا ایمان اور پختہ ہو جائے کہ واقعی کوئی ہے جو اس نظام ہستی کو چلارہا ہے۔

چھینک ہمارے لیے اللہ کی بےشمار نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ جو ہمارے لیے صحت و تندرستی کی علامت ہے۔ اس لیے چھینک آنے پر الحمدللہ کے ذریعہ اللہ کا شکر ادا کرنے کو مستقل عبادت قرار دیا گیا ہے۔ چھینک بہت طاقتور ہوتی ہے، اگر کوئی جراثیم ناک کے ذریعہ بدن میں داخل ہو تو جسم اس سے فوری نجات حاصل کرنے کے لیے چھینک کا سہارا لیتا ہے اور اندر کے نظام کو درست رکھنے کے لیے چھینک کے ذریعہ اس کو باہر نکال دیتا ہے۔ اس لیے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر چھینک آئے تو اسے نہں روکنا چاہیے، اگر چھینک روکی گئی تو اندر خرابی پیدا ہو سکتی ہے اور اس سے انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے، ڈاکٹروں کے مطابق ایک چھینک ہوا میں ڈیڑھ سو میل فی گھنٹہ رفتار سے خارج ہوتی ہے، اگر اس کے دباؤ کو روکا گیا تو بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔

سب سے پہلے اس جہان فانی میں حضرت آدم علیہ سلام کو چھینک آئی۔ جب حضرت آدم علیہ سلام کو چھینک آئی تو اللہ نے آپ کی زبان سے الحمدللہ کو جاری فرماکر ساری انسانیت کے لیے ایک ادب قرار دیا اور شریعت اسلامیہ نے بھی اس کو ادب بلکہ مستقل سنت قرار دیا ہے۔ ”آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔ جب تم اس سے ملو تو سلام کرو، جب تمھیں دعوت دے تو قبول کرو، جب نصیحت طلب کرے تو نصیحت کرو، جب چھینکے اور الحمدللہ کہے تو یرحمک اللہ کہو،جب مرجائے تو جنازہ میں شریک کرو اور جب بیمار ہو جائے تو عیادت کرو۔“ (صحیح مسلم) حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے: ”عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:اذا عطس احدکم فلیقل : الحمدللہ ولیقل لہ اخوہ اوصا حبہ یرحمک اللہ فإِذا قال لہ : یرحمک اللہ فلیقل یھدیکم اللہ و یصلح با لکم“ (صحیح بخاری 6224) ”حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی چھینکے تو اسے چاہیے کہ وہ کہے ”الحمد للہ“ اور اس کا بھائی یا صاحب اس کو جواب دے ”یرحمک اللہ“ پھر وہ کہے ”یھدیکم اللہ ویصلح بالکم“۔ اس حدیث نبوی صلی االلہ علیہ وآلہ وسلم میں چھینکنے کے آداب بتائے گئے ہیں جس سے ہمیں زندگی گزارنے کے اصول معلوم ہوتے ہیں کہ ہم لوگ ایک بہترین زندگی کس طرح گزار سکتے ہیں۔ اگر ہم لوگ اپنی روز مرہ کی زندگی کی چیزوں کو درست انداز میں کریں جس کا ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثوں سے پتا چلتا ہے، تو ہم ایک بہترین زندگی گزار سکتے ہیں۔

ایک اور جگہ حدیث مبارکہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہے: ”عن ھلال بن یساف، قال: کنا مع سالم بن عبید، فعطس رجل من القوم، فقال: السلام علیکم، فقال سالم: وعلیک وعلی امک، ثم قال بعد: لعلک و جدت مما قلت لک، قال: لوددت انک لم تذکر امی بخیر و لا بشر، قال: انما قلت لک کما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انا بینا نحن عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”اذعطس رجل من القوم، فقال: السلام علیکم، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: وعلیک و علی امک، ثم قال: اذا عطس احدکم فلیحمد اللہ، قال: فذکر بعض المحامد، ولیقل لہ من عندہ: یرحمک اللہ، ولیرد یعنی علیھم یغفراللہ لنا ولکم“ (سنن ابی داود 5031، سنن کبری نسائی9982) ”ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سالم بن عبید کے ساتھ تھے کہ ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا ”السلام علیکم، (تم پر سلامتی ہو) تو سالم نے کہا: تم پر بھی اور تمھاری ماں پر بھی، پھر تھوڑی دیر بعد بولے: شاید جو بات میں نے تم سے کہی تمھیں ناگوار لگی، اس نے کہا: میری خواہش تھی کہ آپ میری ماں کا ذکر نہ کرتے، نہ خیر کے ساتھ نہ شر کے ساتھ، وہ بولے، میں نے تم سے اسی طرح کہا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، اسی دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، اچانک لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا ”السلام علیکم“ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر بھی اور تمھاری ماں پر بھی“ پھر آپ نے فرمایا: جب تم میں کسی کو چھینک آئے تو ”الحمدللہ“ کہے، پھر آپ نے حمد کے بعض کلمات کا تذکرہ کیا، اور جو اس کے پاس ہو اس کو کہنا چاہیے ”یرحمک اللہ“ اور یہ ان کو جواب دے ”یغفراللہ لنا ولکم“

ان احادیث سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ جب ہمیں چھینک آئے تو ہمیں اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لینا چاہیے اور چھینکتے وقت اللہ کی حمد بیان کرنی چاہیے تاکہ وہ جراثیم جو چھینکنے والے کے منہ سے نکلیں، اس سے دوسرا فرد محفوظ رہ سکے، اسی طرح اگر کوئی شخص مسلسل تین مرتبہ سے زائد چھینکے تو پھر اس کا جواب دینا سنت نہیں ہے بلکہ اسے زکام ہے، اس کی عافیت کے لیے دعا کی جائے۔ حدیث میں ہے کہ: ”ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چھینکا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دعا دی اور فرمایا (یرحمک اللہ) ”اللہ تجھ پر رحم فرمائے“ اس نے پھر چھینک ماری تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اسے زکام ہے۔“ (سنن ابی داؤد، ادب کا بیان)

اگر کوئی فرد چھینکنے پر الحمدللہ نہ کہے تو اس کی چھینک پر خود جواب نہ دیا جائے۔ حدیث مبارکہ ہے ”عن ابی موسی قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول اذا عطس احدکم فحمداللہ فشمتوہ وان لم بحمد اللہ فلا تشمتوہ“(متفق علیہ)، ”آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی چھینکے اور الحمدللہ کہے تو تم یرحمک اللہ کہو اور اگر وہ الحمدللہ نہ کہے تو اس کا جواب نہ دو“۔ ”حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ دو شخصوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے چھینک آئی، ایک کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا اور دوسرے کو نہیں، اس نے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے جواب دیا اور مجھے نہیں۔ فرمایا اس نے الحمدللہ کہا تھا اور تم نے نہیں کہا تھا“(صحیح بخاری، ادب کا بیان)۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس یہود آکر جان بوجھ کر چھینکتے تو آپ ان کے جواب میں صرف کہتے ”یھدیکم اللہ ویصلح بالکم“۔ ” سیدنا ابوبردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہودی اس امید میں چھینکا کرتےتھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں یرحمک اللہ کہیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں کہا کرتے تھے یھدیکم اللہ ویصلح بالکم“ (سنن ابی داؤد،ادب کا بیان)

”حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے بطریق موقوف یہ نقل کیا گیا ہے کہ جس شخص کو چھینک آئے اور وہ یوں کہے ”الحمدللہ رب العالمین علی کل حال“ تو وہ داڑھ اور کان کے درد میں کبھی مبتلا نہ ہوگا“ (مشکوٰۃ المصابیح)

جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے نکلی ہوئی وحی کو یاد کرتے اور اسے اپنی زندگی بنا لیتے تھے۔ اسی طرح جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم معمولات زندگی کے بارے میں بتاتے تو صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ اس کو بھی اپنی زندگی میں شامل کر لیتے اور دوسروں کو بھی سکھاتے مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا لوگ غلط راہ پر چل پڑے اور ان کے دلوں میں اپنے بزرگوں کی بتائی ہوئی باتوں کی اہمیت کم ہوتی گئی اور وہ اپنی تہذیب بھول کر دوسروں کی تہذیب اپنانے لگ گئے۔

آج کے دور میں ہمیں اردگرد ایسے لوگ نظر آئیں گے جنھیں آداب زندگی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ انہیں یہ نہیں پتہ کہ دین اسلام میں معاشرے میں رہنے کے اصول بتائے گئے ہیں جیسا کہ ہمیں سیدھے ہاتھ سے کھانا کھانا چاہیے، سیدھے ہاتھ کی کروٹ سے سونا چاہیے، کھانستےاور چھینکتے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھنا چاہیے اور اللہ کی حمد بیان کرنی چاہیے وغیرہ۔ لوگ لاعلم ہیں کہ جب انھیں چھینک آتی ہے تو ان کے منہ سے جراثیم باہر آتے ہیں، اور ان کے منہ پہ ہاتھ یا کپڑا نہ رکھنے کی وجہ سے وہ جرثیم دوسروں کو بیمار کرتے ہیں۔ آج کل نئی نئی بیمریاں جنم لے رہی ہیں، جو لوگوں کی پریشانیوں کا باعث ہے۔ اس لیے ہمیں احتیاط کرنی چاہیے تاکہ لوگ ہماری وجہ سے بیمار نہ ہوں۔

آج کے دور میں نت نئے سائنسی تجربات کیے جا رہے ہیں، جو بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت بتائی اور سکھائی، ان چیزوں کے فوائد آج بتائے جارہے ہیں جیسا کہ پرنس چالس کی تحقیق میں یہ بات بتائی گئی کہ جو جراثیم چھینک یا کھانسی کی وجہ سے ہمارے منہ سے باہر نکلتے ہیں، وہ اتنی تیزی سے باہر آتے ہیں کہ جو بارہ فٹ دور تک جا سکتے ہیں، 45 منٹ تک ہوا میں رہ سکتے ہیں، اس لیے جب چھینک یا کھانسی آئے تو منہ پر کوئی کپڑا یا ہاتھ رکھ لینا چاہیے تاکہ ان جراثیم سے بچا جاسکے اور دوسرے لوگ ان سے محفوظ رہ سکیں۔