امیر کون غریب کون ؟ خلیق کوہستانی

اس دنیا میں نہ کوئی امیر ہے اور نہ کوئی غریب، یہ سب اپنا اپنا خیال ہے. خیال غریب ہوجائے تو انسان غریب ہوجاتا ہے، خیال امیر ہے تو انسان امیر ہے. امیری اور غریبی سے صرف ضرورتیں پوری ہوتی ہیں. جس آدمی کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہو اسے امیر کہا جاسکتا ہے، اور جس کے پاس ضرورت سے کم مال ہو، اسے غریب کہتے ہیں. انسان خدا کا بنایا ہوا ایک مفاد پرست عنصر ہے، انسان حریص ہے، انسان ناشکرگزار ہے، انسان ظالم ہے. انسان مسافر خانوں میں ہمیشہ آباد رہنا چاہتا ہے. یہ جانتا ہے کہ جو اس دنیا میں آتا ہے اسے واپس جانا پڑتا ہے، آج نہیں تو کل، سب نے جانا ہے. پھر دعوی کیا، قیام کیا، اونچے بنگلے کیوں، لاکھوں سال کی پلاننگ کیوں،اور ضرورت کیا. اگر دنیا میں ٹھہرنا ضروری ہے تو پھر یہاں سے رخصت کی کیا ضرورت اور اگر جانا ہی ہے تو ٹھہرنے کا پروگرام بےمعنی ہے. انسان جب کچھ بن جاتا ہے تو وہ اندرمیں قائم نہیں رہتا، اندر کا انسان باہر کے انسان سے خاصا مختلف لگتا ہے. باہر سے اگر کوئی خطرہ نہیں ہوتا تو بدن کی چار دیواری ماردیتی ہے. انسان اپنے بوجھ تلے آپ ہی دب کے رہ جاتا ہے. وہ اپنے آپ کو خواہشات کے پتھروں میں چنواتا رہتا ہے اور جب آخری میں سانس رکنے لگتی ہے تو وہ شور مچاتا ہے کے بہت نا انصافی ہے. سب کو برابر کے حقوق ملنے چاہییں.

کوئی شخص امیر اور کوئی غریب کیوں ہوتا ہے؟ یہ بہت اہم سوال ہے، اس پر دین بھی خاموش ہے. ہم اکثر امیر ہونے کے نسخے بناتے رہتے ہیں لیکن ہمیشہ ناکام رہتے ہیں. ہمیں لگتا ہے کے محنت خوشحال کردیگی لیکن محنتیں بدحال ہیں، پریشان ہیں یہ خوشحال نہیں ہونے دیتیں. . امیر ہونے کیلئے تمام نسخوں کے باوجود کوئی نسخہ نہیں ہے. اگر سب برابر ہوجائیں تو تمام گلے مٹ جائیں گے، اگر جیب برابر ہو بھی جائے تو ذہن برابر نہیں ہوگا، ایک آدمی اپنی غریبی کے باوجود سراہا جاسکتا ہے، چاہا جاسکتا ہے، پسند کیا جاسکتا ہےبلکہ نفرت کیا جاسکتا ہے لیکن امیر کے پاس ان چیزوں کہ بھرمار ہے، یہاں غور طلب یہ ہے کے انسان امیر تو ہونا چاہتا ہے لیکن امیروں سے نفرت کرتا ہے، یہ کیسا انصاف ہے کے ہم جسکو قابل نفرت سمجھتے ہیں، وہی بننا چاہتے ہیں. ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کے انسان کے پاس مال ہونے کے باوجود اسکی زبان پر شکوہ رہتا ہے، زیادہ کی تمنا انسان کو اپنے موجودہ سے دور کردیتی ہے. اور فرعون بنادیتی ہےجو کے برباد ہوجاتا ہے، اور غریب؛ پیغمبر موسی اللہ کے قریب ہوجاتا ہے، تو پھر امیر کون ہوا موسی یا فرعون. زندگی فرعون جیسی چاہتے ہو اور مرنا موسی کے جیسا، تو اس طرح کی زندگی سے گریز کرنا پڑیگا. امیر اور غریب دو طرز حیات ہیں، دو مزاج ہیں، دو مختلف رنگوں کے جلوے ہیں.

امیر بھی دو طرح کے ہوتے ہیں، اچھے امیر اور برے امیر. اسی طرح غریب بھی دو طرح کے ہوتے ہیں، ا اچھے غریب اور برا غریب. غربت، عطا کرنے کے دروازے تک لاتی ہے اور عبادت سے بھی بڑا مرتبہ دی جاتی ہے.

خدا برا امیر اور برا غریب ہونے سے بچائے، ہر طبقے میں یہ طبقات ہیں. کیونکہ غربت میں غریب آپے سے باہر ہوجاتا ہے، اس کی غربت کو ٹالنے کو کوشش کی جائے، چھوٹے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات پوری کردی جائیں، ان کے کچن سے بھی دھوئیں اور خوشبوئیں اٹھیں. ان کے دستر خوانوں پر بھی شکر ادا کرنے کے موقع موجود ہونا چاہیے، غریب کو خدا کے لیے صرف نصیحت نہ دو، اس کا دکھ بانٹو، اسکا غم بانٹو. کیونکہ اگر غریب کو مفت دوائی نہ ملی تو تمھارے بڑے بڑے ہسپتال بیمار ہوجائیں گے، دیمک لگ جائے گی، ابھی بھی وقت ہے سوچا جائی، سمجھا جائے، ہوش کیا جائے، غریب قیمتی سرمایہ ہے، لیکن اگر اسکو غریب نہ رہنے دیا جائے

ٹیگز