الفاظ کی دنیا - خلیق کوہستانی

ہمارے رشتے، ہماری چاہتیں، ہماری نفرتیں اس لیے دیرپا ہوتی ہیں کیونکہ ہم انہیں الفاظ میں ریکارڈ کرلیتے ہیں. الفاظ ہی کے دم سے انسان کو خدا نے دوسری مخلوق پر ممتاز بنایا ہے. کسی کو دوست کہنے کے بعد ہم اس کی جفائے وفا نما کو برداشت کرتے ہیں. الفاظ ہمارے تعلقات کو استقامت بخشتے ہیں.ہمیں ماحول سے جوڑتے ہیں رشتے سے منسلک کردیتے ہیں، ہم رشتوں کو اسلئیے بھی قائم رکھتے ہیں کہ ہم نے انکو رشتہ کہہ دیا ہوتا ہے. یہاں کہہ دینا ہی ضروری ہوتا ہے. کلمہ پڑھنے والا زندگی بھر مسلمان رہتا ہے. اگر اسلام کا مفہوم سمجھ میں نہ بھی آئے تو بھی مسلمان ہی رہتے ہیں. کہی دینا ہی ضروری ہوتا ہے.

مزے کی بات تو یہ ہے کے الفاظ سے ہی قرآن پاک ہے، ان الفاظوں کی اہمیت اس بات سے لگائی جاسکتی ہے کے قرآن میں ردو بدل نہ ہونے کی ذمہ داری خود خدا نے لے رکھی ہے. قرآن کے الفاظ قرآن کے علاوہ استعمال ہوں تو قرآن نہیں. الفاظ خدا کے ہوں تو قرآن بنتا ہے. نبی کے الفاظ حدیث بنتے ہیں. بزرگان دین کے الفاظ ملفوظات بنتے ہیں. داناؤں کے الفاظ اقوال بنتے ہیں. غرض یہ کے جتنی مقدس زبان سے ادا ہوں گے اتنے ہی الفاظ مقدس ہوں گے، اتنے ہی پر اثر ہوں گے. الفاظ دنیا ہیں اور کائنات ہیں.

ہم الفاظ کی دنیا میں رہتے ہیں، الفاظ کے حصار میں بڑے ہوتے ہیں، الفاظ ہی ہمارے کردار بناتے ہیں،یہی الفاظ کانوں کے راستے دل پر اثرانداز ہوتے ہیں، اور خدا کانظم دیکھیں اچھے الفاظ پر کچھ خرچ نہیں ہوتا، لیکن اچھے الفاظ سے بہت کچھ حاصل ہوتا ہے، کیونکہ یہی انسان کو پسندیدہ اور ناپسندیدہ بناتے ہیں.یہی ایک دوسرے کے انتہائی قریب اور دور کرنے کا بھی سبب ہوتے ہیں

ہر سماج اور ہر گروہ کے الفاظ الگ الگ روح رکھتے ہیں، آپ کسی کے بھی الفاظ سن کر یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ کس پیشے سے تعلق رکھتا ہے، بازار میں بیٹھنے والے لوگ بازاری زبان، دارالعلوم کے لوگ اور ہی زبان استعمال کرتے ہیں، علماء کی زبان الگ ہے، حکماء کی زبان اور ہے، استاد کی زبان اور. جاہل کی زبان اور، ڈرامے کی اور نثر کی زبان اور، الفاظ بھی خاندان رکھتے ہیں، قصیدے کے الفاظ اور ہوتے ہیں، مرثیے کے الفاظ کچھ الگ ہیں، تنقید کے، تعریف کے کچھ اورہیں، کسی بھی آدمی کے ذخیرہ الفاظ سے یہ معلوم کرنا آسان ہے کے وہ آدمی کونسے علاقے کا رہنے والا ہےاور کونسے پیشے سے تعلق رکھتا ہے. الفاظ کی حرمت بولنے والے کے انداز اور لہجے کے دم سے ہے. ہم نے قوم ہونے کی حثیت سے الفاظ کے استعمال پر غور کرنا چھوڑ دیا ہے، صرف سیلاب الفاظ کا موجود ہے، لاکھوں الفاظ اخباروں میں روز چھپتے ہیں، انسان کو انسان کے قریب لانے والے الفاظ گھم ہوگئے ہیں، دلوں کو زخمی کرنیوالے الفاظ عام ہیں، آج نہ جانے کیوں لوگوں کے پاس شکریہ ادا کرنے کے لیے نہ وقت ہے اور نہ ہی الفاظ. اپنی کوتاہی پر معذرت کرنے کی نہ جرات ہے اور نہ توفیق. اگر آج کسی مذہبی اور سیاسی اجتماع میں بولے جانے والے الفاظ کو غور سے سنا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہم لوگ کہاں جارہے ہیں. ہماری منزل کہاں ہے اور ہم اخلاق کے کس درجے ہر موجود ہیں.

ہمارے تلخ الفاظ معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں، ہمیں میٹھا بول زندہ کرنا چاہیے، زندہ رہو اور زندہ رہنے دو کے اصول کو اپنانا چاہیے، الفاظ کا احترام ہی انسان کا احترام ہے، اہم چیز یہ ہے کے ہم الفاظ کو کسطرح استعمال کررہے ہیں.

الفاظ کے صحیح استعمال کی توفیق نعمت ہے، الفاظ سے ماحول کو خوشگوار بنانے کا کام لیا جائے تو بڑی بات ہے، خالی الفاظ نگلنے اور الفاظ اگلنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا، الفاظ سے ماحول کو روشن کیا جائے، الفاظ سے دلوں کو خوش کیا جائے، الفاظ حقیقت ہیں، الفاظ امانت ہیں، الفاظ دولت ہیں، الفاظ طاقت ہیں، انہیں ضائع نہ کیا جائے، انہیں رائیگاں نہ کیا جائے.

ٹیگز