فیس بکی تعلق داروں سے ہیلو ہائے - حافظ یوسف سراج

سید احمد بخاری اردو ادب میں پطرس بخاری کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ انھیں اردو مزاح کا مرزا غالب سمجھنا چاہیے۔ مرزا کی شعری متاع کی طرح ان کی نثری پونجی بھی بہت مختصر، بہت پر اثر اور بہت عدیم النظیر ہے۔ کم ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں، جن کا اتنا مختصر کام ہو اور اس کے باوجود اردو ادب کسی طور ان سے کترا کے نہ نکل سکے۔ اردو جاننے اور سکول جانے والے کسی شخص کو ان کے نام یا کام سے عدمِ واقف نہیں ہو سکتی۔ مرحوم کی یاد میں، میبل اور میں، مرید کے کا پیر وغیرہ وغیرہ ان کے مزاح کی لازوال یادگاریں ہیں۔ پطرس پھکڑ پن یا لطیفہ گوئی سے مزاح پیدا نہیں کرتے، وہ حالات واقعات اور کیفیات کو کام میں لا کر تبسم کا ساماں کرتے ہیں۔ 'مرحوم کی یاد میں' میں پطرس متکلم کی زبان میں لکھتے ہیں، میں اور مرزا دونوں دوست چپ چاپ اور خاموش بیٹھے تھے۔ آگے لکھتے ہیں، دوستی جب بہت پرانی ہو جائے تو دوستوں کو بولنے یا بات کرنے کی چنداں ضرورت نہیں رہتی۔ پتہ نہیں یہ بات محض مزاح ہے، طنز ہے یاانسانی نفسیات کا سچا بیان۔

بہرحال مجھے یہ بات آج کل کے فیس بکی دوستوں کے عمومی طرزِ عمل نے یاد دلائی۔ آدمی دیکھتا ہے، کتنے کتنے قدیم، کہنہ اور گرم جوش تعلق اور دوستیاں فیس بکی رابطے سے متعلق ہوتی ہیں۔ دوستوں سے بہت گہرا اور مسلسل رابطہ استوار رہا ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ پھر مگر تعلق پر خاموشی اور سکوت کی برف گرنے لگتی ہے۔ یہ نہیں کہ تعلق میں کوئی نفور و فتور آجاتا ہے، بلکہ بس اک خاموشی اور بےوجہ خاموشی کی تہہ جمنے لگتی ہے، موٹی ہونے لگتی ہے۔ اس دوران ہم ایک دوسرے کی پوسٹیں دیکھتے ہیں، گاہ پڑھ بھی لیتے ہیں، مگر دو حرف اس کی سند میں کبھی درج نہیں کرتے کہ بھائی ہم نے بھی دیکھ لیا، پڑھ لیا، آپ کی خوشی غمی یا علمی و فکری یا پھر بےوقوفی پر مبنی کیفیت ہم نے دیکھ جان لی۔ مہینوں گزر جاتے ہیں مگر ہم سردیوں کے مردے کی طرح اکڑے کے اکڑے پڑے رہتے ہیں۔ اور تو اور فیس بک نے مصروفیات اور سستی و تغافل کے ماروں کے لیے اظہارِ کیفیات کے علامتی نشان تک دے دئیے ہیں اور حد تو یہ کہ اظہارِ ناراضگی تک کے نشان اس میں موجود ہیں، تاکہ ناراضگی کے جذبات بھی ہوں تو تعلق نہ ٹوٹے، وہ کیا کہتے ہیں، عامیانہ سا شعر ہے۔


اس سب کے باوجود مگر ہماری اکتاہٹ، بےزاری، بے تعلقی یا برتری ہمیں اس سطح پر اترنے ہی نہیں دیتی کہ ہم کم از کم تعلق کی آبیاری کے لیے کوئی بٹن ہی دبا سکیں۔ میرا خیال ہے، فیس بک پر کوئی ایک ایسا دن بھی ہونا چاہیے، جب ہم اپنے تمام فیس بکی تعلق داروں سے کم از کم دو حرفی ہیلو ہائے ہی کر لیا کریں۔ روزانہ نہ سہی، ہفتے یا مہینے بھر میں ہی کبھی ایک بار سہی اپنے چند لفظوں سے اس تعلق میں کچھ جان ڈال دیا کریں۔ بہت سے لوگ ہمارے معیار کے نہیں ہوتے مگر انھیں خوش کر دینے سے بھی خدا خوش ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے ، خدا کی پیدا کردہ مخلوق ساری ہمارے جتنی معتبر نہیں ہو سکتی، وہ مگر خدا ہی کی مخلوق ہے اور ہم انھیں کے عصر میں برپا کیے گئے ہیں، سو ان سے بات کر لینے میں، انھیں دو حرف دان کر دینے سے، انھیں جھانک لینے سے، انھیں خوش کر دینے سے کوئی قیامت نہیں ٹوٹتی۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.