ترکی میں حیرت کے پانچ سال - عالم خان

اللہ کے فضل وکرم سے آج میرے پانچ سال گوموشان یونیورسٹی میں بحثیت لیکچرر پورے ہوئے۔ یکم دسمبر 2013ء کو پہلی کلاس تاریخ تدوین حدیث ایم فل کے ساتھ لی تھی، اس وقت عجیب احساس تھا، مجھے ترکش آتی نہ ان کو میری زبان، عربی ہمارے درمیان پل کا کام دیتی تھی۔ دو گھنٹے کلاس کے بعد جب باہر نکلا تو طالب علموں کے ملنے کا نہ ختم ہونے والا خوبصورت سلسلہ شروع ہوا، کوئی تعارف کرواتا تھا تو کوئی میری عمر کے بارے میں پوچھتا تھا، کیونکہ اکثر طالب علم مجھ سے عمر میں بڑے تھے۔

جب دوپہر کھانے کے لیے بریک ہوئی اور فیکلٹی سٹاف کے ساتھ میس میں داخل ہوا تو وہاں بھی ہر کوئی گلے لگاتا تھا۔ لگتا تھا کہ یہ میرے اپنے لوگ ہیں، بس میں ہی ان سے بچھڑ گیا تھا، مجھے خود یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایک اجنبی اور پچیس سالہ 25 استاد کو اس کے سینئرز کولیگز اتنی محبت دیں گے۔ کئی دن تک تو یہ سلسلہ جاری تھا کہ مجھے خبر بھی نہ ہوتی اور جب کاؤنٹر پر پہنچتا تھا تو پتہ چلتا کہ میرا بل ادا کر دیا گیا ہے۔ اس محبت کی برکت تھی کہ میں اس شہر میں اکیلا پاکستانی تھا لیکن کبھی اس شہر کے باسیوں نے اکیلا ہونے کا احساس نہیں ہونے دیا تھا۔

مجھے اس وقت جس چیز نے متاثر کیا تھا وہ یہاں وی آئی پی کلچر کا فقدان تھا، ایک دن کھانا کھا رہا تھا اورگھر بار کا غم بھلانے کے لیے کھڑکی سے باہر برفباری کا خوبصورت منظر دیکھنے میں گم تھا کہ اچانک پاس بیٹھی ایک معزز شخصیت پر نظر پڑی کہ وہ کھانا کھانے کے بعد میری منتظر تھی۔ مجھے اس وقت احساس نہیں ہوا لیکن جب کھانا کھانے کے بعد میں نے ٹرے اٹھائی کیونکہ سیلف سروس تھی تو وہ بھی اٹھے اور میرے ساتھ لفٹ میں داخل ہوئے، مجھ سے ہاتھ ملایا اور اپنا تعارف کرایا کہ میں اس یونیورسٹی کا وائس چانسلر (ترکش ریکٹر) پروفیسر ڈاکٹر احسان گُن آئیدن ہوں، ایک پاکستانی نوجوان جو ایک دو سال پہلے پاکستانی نظام تعلیم سے گریجویٹ تھا، اس کے لیے یہ ناقابل یقین بات تھی کہ بغیر پروٹوکول کے میرے ساتھ ایک میز پر کھانے کھانے والا بھلا اسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر کیسے ہو سکتا ہے؟ ہمارے ہاں پاکستان میں تو وائس چانسلر وزیر مملکت سے کم نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:   انقرہ میں جناح ینگ رائٹرز ایوارڈ - ڈاکٹر فرقان حمید

خیر! جب ہم لفٹ سے نکلے تو وہ اپنے ساتھ مجھے آفس لے گئے، وہاں میرا بہترین انداز میں دوبارہ استقبال کیا اور رخصتی پر لیدر بیگ، ڈائری، یونیورسٹی لوگو والا چائے کا کپ اور بال پوائنٹس تحفہ میں پیش کیے، اور انتہائی شفقت اور محبت کے ساتھ مجھے رخصت کیا۔ جب میں نکل رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ شاید صرف پروفیسر احسان صاحب ہی ایسے ہیں۔

عالم خان ترک صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ
لیکن! اگلے دن ایک اور سرپرائز میرا منتظر تھا۔ پروفیسر کالونی میں مجھے الاٹ کیے گئے گھر میں رنگ روغن کا کام جاری تھا، اس لیے عارضی طور پر مجھے یونیورسٹی مہمان خانہ میں ٹھہرایا گیا تھا، جب میں اگلی صبح مہمان خانہ سے فیکلٹی کے لیے نکل رہا تھا تو استقبالیہ پر موجود خاتون نے انتہائی شائستگی سے درخواست کی کہ شام کو واپسی پر اگر چائے پینی ہو تو تھرڈ فلور پر موجود کیفٹریا کے بجائے سیکنڈ فلور پر موجود ریسٹورنٹ میں پی سکتے ہیں، کیونکہ وہ آج رات کے لیے ریزرو ہے، میں نے بھی ہاں میں سر ہلا دیا اور نکل گیا۔ واپسی پر جب میں نے کپڑے تبدیل کیے اور نیچے اتر رہا تھا تو صبح اس خاتون کی بات یاد آئی کہ مجھے تھرڈ فلور نہیں بلکہ سیکنڈ فلور جانا ہے، جاتے ہی اس خاتون سے پوچھا کہ کوئی فنکشن ہے تو اس نے کہا کہ نہیں بلکہ وزیراعظم جمہوریہ ترکی رجب طیب اردوغان یہاں تشریف لا رہے ہیں، جس نے مجھے ایک بار پھر اپنی آنکھوں پر شک میں ڈال دیا کہ یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں، کیونکہ پاکستان میں وزیراعظم کیا ایک وزیر بھی جب آتا ہے تو عام لوگوں کا داخلہ اس عمارت میں ممنوع ہوتا ہے، اور وہ ایک یونیورسٹی گیسٹ ہاؤس جو شہر کا سستا ترین گیسٹ ہاؤس ہوتا ہے، وہاں ٹھہرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور یہاں اس ملک کا وزیر اعظم ٹھہرا ہوا ہے۔ اس کے بعد مجھ پر اس قوم کی عظمت اور ترقی کے راز کھلتے رہے اور تاحال جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   رومی کا دیس اور میں - عالم خان

ان پانچ سالوں میں جو دیکھا ہے اور جو مجھ پر گزرا ہے، اس کے لیے ایک تحریر نہیں بلکہ ضخیم کتاب کی ضرورت ہے، ان شاء اللہ اگر زندگی نے وفا کی تو ان گزرے ہوئے بہترین لمحات کو صفحات پر ضرور منتقل کروں گا، جو ایک قوم کی عظمت، ثقافت کے ساتھ ایک نوجوان کی دیار غیر میں گزرے ہوے دنوں کی کہانی ہوگی جو زبان اور ثقافت سے نہ صرف لاعلم تھا بلکہ اس سفر میں بالکل اکیلا تھا، لیکن ترک قوم نے اس کو اتنی محبت اور اپنائیت سے نوازا کہ وہ الحمد للہ پردیس میں رہ کر بھی دیس میں تھا۔

اللہ تعالی کا شکر گزار ہوں اور دعاگو ہوں کہ باقی زندگی بھی خوشی، صحت، تعلیم اور تعلم کے ساتھ اپنے رب کی اطاعت اور رضا میں گزر جائے، اور علم نافع، رزق میں برکت اور اپنی دین کی سربلندی کے لیے راقم کو کام کرنے کی توفیق ملے۔
(اللہم آمین)