لڑکی تو کمال کی تھی - اکرام اللہ عارف

شہر کے مصروف شاہرا ہ پر عین سڑک کے درمیان گاڑی اچانک بند ہوگئی۔سواریوں میں ڈارئیور نگ کرتا نوجوان اور پچھلی سیٹ پر براجمان ایک دوشیزہ شامل تھی۔ ڈرائیور جیسے ہی گاڑی سے باہر نکلنے کیلئے دروازہ کھولتا توآس پاس سے گزرتے تیز رفتار گاڑیا ں زور سے ہارن بجا کر آگے نکلتےاور یوں بیچار ڈرائیور پھر مایوس ہوکر دروازہ بند کرکے اندر بیٹھ جاتا۔ہر کسی کو جلدی تھی مگر بیچ سڑک کھڑے اس گاڑی والے کیساتھ کسی کی ہمدردی نہ تھی تاکہ کچھ لمحوں کیلئے رک جاتے ،ڈرائیوڑ باہر آجاتا کچھ دھکا وھکا لگا کے کم از کم کنارے پر تو ہوجاتے۔اسی لمحے فٹ پاتھ پر گامزن دو نوجوان مصروف سڑک کے درمیان آکر مذکورہ گاڑی کو دھکا دیتے ہیں یوں چند لمحوں میں گاڑی سٹارٹ ہوکر دوبارہ چل پڑتی ہے اور یہ نوجوان بھی فٹ پاتھ پر آکر ہنسنا شروع کردیتے ہیں۔ ان کے قریب سے گزرتے میں سوچ رہا تھا کہ شاید یہ دونوں اس لئے خوش ہیں کہ ایک ضرورت مند انسان کی مدد کرکے اس کےمشکل کو حل کردیا۔ لیکن میرا یہ سوچ صرف سوچ ہی رہا جب ایک نےدوسرے سےکہا یار " لڑکی تو کمال کی تھی" اور یوں ایک دفعہ پھر قہقہوں کا سماں باندھ دیا . اسی لمحے میں نے پوچھا کیا آپ صرف لڑکی کیلئے اس مصروف سڑک کے بیچ گئے تھے ؟ کہنے لگے ہاں صاحب " چیز بڑی مست تھی" چند قدم آگے جاکے ہمارا راستہ جدا ہوا وہ دونوں اپنےراستے اور میں اپنے راستے چل پڑا۔

میرا ایک دوست شہر کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے کا طالبعلم ہے ایک دن کہنے لگے یار عجب تضا د ہے جب کلا س میں لڑکے گفتگو کرتے ہیں تو استاد کہتا ہے" گٹ آوٹ" ، لیکن جب لڑکیا ں آپس میں محو گفتگو ہوتے ہیں تو ہمارا استا د مسکر ا کے پوچھتا ہے" کیا چل رہا ہے ہمیں بھی تو بتاو ناں" آپ کہیں بازار میں کھڑے ہو اور کوئی عورت سامنے سے آتی دکھائی دے توذرا آس پاس کھڑے ،بیٹھے مردوں پر نظر دوڑاو عجب الفاظ، حرکات اور سکنات دیکھنے کو ملینگے۔ کچھ نظریں تو ایسے بھی ہونگے جو غائب النظر ہونےتک موصوفہ کا پیچھا کرنے میں لگے رہینگے۔ دفتر میں ایک ہی لڑکی نوکری کررہی تھی۔ صبح آتی تو چھٹی تک سہمی بیٹھی ہوتی تھی ، کچھ دنوں بعد نوکری چھوڑ کے یہ جا وہ جا وجہ معلوم ہوئی تو فقظ یہ کہ ہر روز ہر دم دفتر کے مرد ساتھی ہوس بھر ی نگاہ سے دیکھتے تھے۔کلاس ، دفتر، ریلوے سٹیشن ، بس سٹینڈ ،بازار اور ہر وہ جگہ جہاں خواتین کا آنا جانا ہوتا ہے وہاں اکثریتی مرد حضرات کے لب ولہجہ میں تغیر واقع ہوجاتا ہے۔ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب کچھ مرد دانشورں نے یہ دیا کہ " دو مختلف جنسوں میں یہ کشش فطری بات ہے ۔اور جب لڑکی ایسی پرکشش لباس میں نکلتی ہے تو مرد بیچارا کیا کرے" مجھے لیکن اس جواب کے دوسرے حصے سے اختلاف اس بنا پر ہے کہ تحقیق کےمطابق مرد تو نقاب والی لڑکی کو بھی گھور گھور کے دیکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا کا شکر ہے صاحب ، کوئی تقاضا نہیں - قدسیہ ملک

بلکہ اس کے حوالےسے باتیں بھی کرتا ہے۔ برعکس اس کے زنانہ معاشرے کی اکثریت اس بیماری سے پاک ہے۔تو کیا یہ مردانہ معاشرےکی ایک بیماری ہے ؟جس کو تسلیم کرنے کو کوئی تیار نہیں۔میں مانتا ہو میڈیا کے مادر پدر آزاد ترقی، انٹرنیٹ کے ہر وقت اور آرزان دستیابی سمیت مخلوط نظام تعلیم بھی اس رویے کے فروغ میں شامل ہیں۔ اگر چہ ابھی تک ہمارے معاشرے نے اس عادت کو قابل تحسین نہیں مانا لیکن اس معاشرے کی ا کثریت اس وبا ء کی عادی ہوچکی ہے "چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی " کے مصداق جہاں عورت کی گزر ہو وہاں مرد ضرور اپنی اس عادت سے شکست کھائے گا۔ سنجیدہ لوگ اس حوالے سے ضرور فکر مند ہےکیونکہ مشرق میں تو صرف عورت کی ذات ہی ہے جوخالص ہے وگرنہ باقی تو ہر چیز ملاوٹ زدہ ہے ۔ تعفن بھری اس ماحول میں ماں ، بہن ،بیٹی اور بیوی کی روپ میں یہ عورت ہی ہوتی ہے جو مرد کیلئے باعث سکون و راحت ہوتی ہے۔ لیکن پھر بھی یہ معاشرہ صنف نازک کو گھر سے باہر برداشت نہیں کرسکتی ۔

یہی ایک المیہ ہے جو آجکل اخلاقی قدروں کو درپیش ہے۔ مدعا قطعا یہ نہیں کہ عورتیں شتر بے مہار بن کے جہاں ضرورت نہ ہو وہاں بھی جایا کرے۔ لیکن انسانی دنیا مجبوروں کی بستی ہے ۔یہاں کامل کوئی نہیں، ضرورت مند تو کوئی بھی ہوسکتا ہے اس میں مرد و عورت کی تفریق نہیں۔ضرورت توڑ دیتی ہے غرور بے نیازی کو نہ ہوتی کوئی مجبوری تو ہر بندہ خدا ہوتا اب اگر کوئی عورت تعلیم ،صحت یا کوئی اور مجبوری کی تحت گھر سے نکلے تو ہم اس کوبھی کیوں تاڑ تاڑ کے دیکھتے ہیں۔ بیچارے کو ہر دم یہ احساس کیوں دلاتے ہیں کہ یا تو ہم مرد کوئی افضل مخلوق ہے یا یہ دنیا یہ کائنات ،سب کچھ مردوں ہی کا ہے ۔جس میں عورت فقظ تفریحی طلبی کا ایک ذریعہ ہے۔یہ ایک انتہائی مفادپرستانہ سوچ ہے۔ بدقسمتی سے ہم آج تک اس سوچ کو ختم کرنے میں بحثئیت قوم کامیا ب نہ ہوسکے۔یہ بھی نہیں کہتا کہ مرد پورے کے پورے ایسے ہیں۔ لیکن یہ کہنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا کہ اکثریت ایسی ہے۔ ایک مرد کے حیثیت سے ہمیں ماننا ہوگا کہ یہ طرز زندگی غلط ہے۔ ہر گھر میں عورت موجود ہے، خواہ وہ ماں ہو، بہن ،بیٹی یا بیوی ہو۔ پھر بر سر بازار دوسروں کےعورتوں کو گھور گھور کے دیکھنا ، ذومعنی جملے کسنا کہاں کی مردانگی ہے؟ کہاں کی اخلاقیات اور ایک مسلمان کی شایان شان عادت ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   عورت کا گھر کوئی نہیں - منزہ ذوالفقار

پیارے قارئین ! آئیے آج یہ عہد تو کرلیں کہ کسی بھی عورت کو نشانہ تضحیک نہیں بنائینگے۔ کیونکہ میرے گھر میں بھی تو عورتیں ہی رہتی ہیں۔پختون معاشرے میں عورت عزت و ناموس ٹہرائی جاتی ہے ۔لہذا کسی کے عزت کو کبھی بھی سوالیہ بنانے کی کوشش نہیں کرئینگے۔کہ عزت تو ہر کسی کو عزیز ہوتی ہے۔بھلا کرونگے تو بھلا پاونگے اور یہی اس معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سنگ بنیاد ہے۔