"اگر آج نبی آتا تو کیا کہتا؟" محمد زاہد صدیق مغل

ایک صاحب نے سوال نما دعوی فرمایا ہے کہ اگر آج کے دور میں نبی آتا تو وہ لوگوں کو وہ تعلیمات پیش نہ کرتا جسے مولوی پیش کرتا ہے، کیونکہ وہ تعلیمات تو اٹھارویں صدی تک کے انسان کو اپیل کرتی تھیں، آج کا نبی اگر ہوتا تو مثلا عورتوں کو پردہ کرنے یا گھروں پر بیٹھنے کا حکم نہ دیتا، غلامی کی بات نہ کرتا وغیرہ وغیرہ۔ کئی اہل علم نے اس سوال نما دعوے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس پر سوچنے اور جواب کی ضرورت ہے۔

اس پر ہمارا مختصر تبصرہ یہ ہے۔
• صاحب دعوی کی طرح ادعایت کے گھوڑے پر سوار ہوکر کوئی یہ کیوں نہیں کہہ سکتا کہ اگر آج نبی آتا تو وہ عورتوں کو مارکیٹ میں یوں گھومتا دیکھ کر ان کو گھروں پر لوٹ جانے کا حکم دیتا، سود کھانے والوں پر لعنت بھیجتا وغیرہ؟ اس مفروضے میں کیا منطقی و علمی خرابی ہے، کوئی مجھے سمجھائے گا؟

• دعوی کرنے والے صاحب کا مفروضہ ہے کہ اٹھارویں صدی کے بعد چونکہ انسان نے حق و عدل کے حقیقی پیمانے جان لیے ہیں، لہذا اگر اس دور میں نبی آتا تو وہ اسی حق کے مطابق وحی پیش کرتا، نیز ان کا یہ بھی مفروضہ ہے کہ وحی حالات کی پیداوار ہوتی ہے، اسی لیے لازم ہے کہ آج کی وحی آج کے حالات کے مطابق اور اس کی تصویب کرنے والے فیصلے سناتی۔

• آج کے نئے نبی کی وحی کے آج کے انسان کے تقاضوں کے مطابق ہونے کے دعوے کے پس پشت یہ غلط در غلط مفروضہ کار فرما ہے، گویا نبی وہی بات کہتا ہے جو کسی مخصوص دور کی اکثریت انسانوں کے لیے قابل قبول اور ان کے خیال میں قابل عمل ہو۔ بھائی اگر ایسا ہوتا تو کیا لوگ انبیاء کو قتل کرتے؟ کیا نوح علیہ السلام کو 950 سال تک لوگ یونہی بلا وجہ جھٹلاتے رہے تھے؟ آخر یہ وہم تمھیں کس دلیل سے ہوگیا ہے کہ اگر آج نبی آتا تو ایسی ہی بات کرتا جو تمھارے دل کی آواز ہے؟ اور اس بات کی آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ مغربی تاریخ سے برآمد ہونے والی جس آواز کو آپ نے اپنے دل کی آواز بنا لیا ہے، وہی آواز حق و عدل کا پیمانہ بھی ہے، وہ بھی اس قدر اعلی و ارفع کہ خدا کا نبی بھی اپنی وحی مین اسی کی پیروی کرنے کا پابند ہوتا؟

• پھر ان صاحب کے استدلال کا حال یہ ہے کہ انہوں نے نبی کی مفروضہ وحی کو اسی حد تک آگے پیچھے جانے کی اجازت دی ہے جو ان کے اپنے تجربات و خیالات سے ہم آہنگ ہو۔ مثلا ان صاحب سے سوال پوچھیے کہ اب جو نبی آتا کیا وہ مثلا ناروے و سویڈن والوں کو یہ حکم دیتا کہ تم زنا مت کرو اور جو ایسا کرے اسے کوڑے مارو؟ اگر ہاں تو کیوں، اس لیے کہ یہ صاحب دعوی کے شعور کو قابل قبول ہے یا اس لیے کہ اہل ناروے و سویڈن بھی اس بارے میں ایسا ہی سوچتے ہیں؟ اگر وہ ایسا نہیں سوچتے تو پھر سوال یہ ہے کہ صاحب دعوی کے مفروضات میں ایسا کیا کمال ہے کہ وحی ان کے مطابق تو آتی مگر اہل ناروے کے احساسات کا خیال نہ رکھتی؟ تو جس چیز کا الزام یہ مولوی کو دے رہے ہیں خود پوری طرح سے اسی کا شکار ہیں، فرق صرف دائرے کے سائز کا ہے۔ اور اگر اس سوال کے جواب میں ان کا جواب یہ ہے کہ نبی انھیں ایسا کوئی حکم نہیں دیتا تو بھائی پھر مجھے یہ بتائیے کہ آخر تمہیں نیا نبی چاہیے کس لیے؟ اپنے خیالات و عمل کی مذہبی تصویب کے لیے؟ جب تم نے وحی کو وہی بنانا ہے جو تمھارا دل کرتا ہے تو وحی و نبی کس لیے؟ آخر ایسے غیر منطقی سوال کا مقصد کیا ہے؟ آخر دلیل قائم کرتے ہوئے کچھ تو عقل سے کام لینا چاہیے۔

• بات یہ ہے کہ اگر بالفرض آج وحی آتی تو وہ بھی وہی کہتی جو اس نے پہلے کہہ دیا، بات تبدیل کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ نبی انسانوں کی اصلاح و تزکیے کے لیے بھیجے جاتے ہیں نہ کہ ان کے پسندیدہ خیالات و اعمال کی تصویب کے لیے۔ یہ اٹھاریوں صدی کے مابعد جس جدید انسان و معاشرت کو آپ حوالہ بنا رہے ہیں یہ انسان و معاشرت اصلاح کا موضوع ہے نہ کہ وحی کے لیے معیار بن جانے کا۔

اس قسم کے استدلال کو ہمارے یہ لوگ بڑے "منطقی و علمی" سمجھ کر پیش کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا نہ تو منطق سے کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی علم سے، یہ محض اوہام ہیں۔

ٹیگز

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.