عمل کی ضرورت - رابن سیجر

جرمن ادیب، سائنس دان اور فلسفی گوئٹے نے کہا تھا ’’سوچنا آسان کام ہے، عمل کرنا مشکل ہے اور کسی خیال کو عملی جامہ پہنانا زیادہ مشکل کام ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ مشکل بات یہی ہے۔‘‘ جب تک آپ عمل نہیں کریں گے تب تک آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ کبھی بھی حاصل کرنے کے لیے کام کرنا ضروری ہے۔ زندگی کی یہ سب سے واضح حقیقت بہت سارے لوگ کھو دیتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس بہت وقت ہے۔ وہ لوگ ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں۔ ہم فلاں کام کل کر لیں گے، اگلے ہفتے کر لیں گے۔ اگلے مہینے کر لیں گے یا اگلے سال کر لیں گے۔ اسی طرح کئی سال گزر جاتے ہیں اور کچھ بھی نہیں کر پاتے۔ اسی طرح بہت سارے لوگ ایک دن اس غفلت سے جاگ جائیں گے اور پھر وہ دیکھیں گے کہ وہ جب چاہیں اپنی زندگی تبدیل کر سکتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ کام کرنے کے لیے انقلابی حالات کا انتظار کرتے ہیں۔ ہمیں ایسے حالات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ بہت سے لوگ مشکل حالات سے ہی سبق حاصل کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر کام کرنے کی ہمت پیدا کر لیں۔ ہمیں اپنی ضرورت کے مطابق کام کرنا چاہیے اور کبھی بھی آج کا کام کل پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ میں بہت سے ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو کہ بغیر کسی وجہ کے اپنی ملازمت چھوڑ دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں انہیں ایسا بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔

وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں یہ دریافت کر لیا ہے کہ وہ جب چاہیں جہاں چاہیں ملازمت کر سکتے ہیں۔ جس طرح ایک پرندہ اپنے پروں کے ذریعے جہاں بھی جانا چاہتا ہے وہ جا سکتا ہے۔ یہاں پر میں نے پرندے کا ذکر استعارے کے طور پر کیا ہے۔ لوگوں کے کام نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں ناکامی کا خوف ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ کام ہی نہیں کریں گے تو آپ ناکام نہیں ہو سکتے، لیکن اس طرح بغیر کام کیے آپ کامیاب بھی نہیں ہو سکتے جیسا کہ علامہ اقبالؒ کا ایک شعر ہے کہ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے یہ ہدف آپ کو اس قابل بنائے گا کہ آپ اپنی پسند کے مطابق کامیابی حاصل کر سکیں۔ آپ کبھی بھی ناکامی سے خوف زدہ نہ ہوں، کام کریں، اگر آپ ناکام ہو بھی جاتے ہیں تو آپ اس سے سبق حاصل کریں گے۔ آپ کی ماضی کی ناکامیاں مستقبل میں کامیابی حاصل کرنے میں آپ کی مدد کرتی ہیں۔ اگر آپ کوشش ہی نہیں کریں گے تو آپ کچھ بھی سیکھ نہیں پائیں گے۔ آپ جب کبھی ناکام ہوں، خود سے دو سوال پوچھیں، میں نے اس سے کیا سبق حاصل کیا ہے اور میں مستقبل میں کس طرح اس سے مختلف طریقے سے کام کروں کہ جس سے میں کامیابی حاصل کر سکوں۔

آپ دو طریقوں سے زندگی گزار سکتے ہیں، یا تو آپ تماشائی بن کر زندگی کو دیکھ سکتے ہیں یا اس کے کھیل میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم زندگی کے کھیل میں ایک اہم فرد کی حیثیت سے شریک ہوں۔ آپ اپنے خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کر سکیں، اور خود کو تبدیل کر سکیں، جیسا کہ آپ چاہتے ہیں۔ کوئی عمل بھی نہ کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ آپ کوئی نہ کوئی کام ضرور کریں، اس سے یا تو آپ کامیابی حاصل کریں گے یا اس سے کوئی سبق حاصل کریں گے۔ بہت اچھا کام کرنا محض ایک اتفاق ہی نہیں ہوتا۔ میرا ایک دوست ہے جس کے پیٹ کے پٹھے بہت اچھے ہیں، جس طرح صرف بہترین کھلاڑیوں کے ہوا کرتے ہیں۔ ایک دن میں نے اس دوست سے اس کا راز پوچھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ روزانہ 80 اٹھک بیٹھک اور ورزش کرتا ہے۔ میں اپنے ایک اور دوست سے ملا جو بہت اچھی گولف کھیلتا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ 13 سال سے 19 سال کی عمر تک ہفتے میں ایک ہزار دفعہ گولف کے گیند کو ضرب لگاتا تھا اور اس عرصے کے بعد بھی وہ کئی ہفتوں تک ایسا کرتا رہا تھا۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ اس مثبت عمل کا نتیجہ ہے جو آپ مسلسل کر سکتے ہیں اور اپنی پسند کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح سے آپ بھی اپنی خواہش کے مطابق کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ المختصر، ہمیں کوئی بھی نتیجہ حاصل کرنے کے لیے عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ کوئی عمل نہیں کرتے تو آپ اس طرح اپنا وقت ضائع کر دیتے ہیں۔

ٹیگز