ممبئی حملے، چند حقائق - آصف خورشید رانا

کوتلیہ چانکیہ ایک بد صورت، نفرت انگیز رنگت اور ٹیڑھی ٹانگیں رکھنے والا غریب شخص تھا جو آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے سرزمین ہند پر پیدا ہوا۔ اس نے دوسروں کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھی تو چالبازی اور مکاری کا سہارا لیتے ہوئے معاشرے میں اپنی جگہ بنائی۔ اپنی چالاکی اور عیاری کی بنیاد پر وہ بادشاہ کے دربار تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ بعد میں وہ ہند کے مشہور بادشاہ چندرگپت موریا کا وزیر بن گیا۔ اس نے ایک مشہور کتاب ''ارتھ شاستر'' کے نام سے لکھی جس میں اس نے لکھا کہ ریاست چلانے کے لیے دھوکے بازی، مکارانہ، مجرمانہ ذہنیت اور ظلم و تشدد نہایت اہم عنصر ہیں۔ اپنی اس کتاب میں وہ ایک جگہ لکھتا ہے کہ جب حالات مساعد اور موزوں نہ ہوں تو لڑنے کے بجائے صرف مکاری سے ہی کام لیا جائے۔ عیاری ، مکاری ،چالبازی اوردھوکہ سے لڑی جانے والی جنگ میں غافل دشمن پر شب خون مارنا، حالت امن میں دشمن ریاست کے اہم افسروں، دستوں کو رشوت کے ذریعے اپنے ساتھ ملانا، معتبر افراد، اہم عہدیداران کو توڑنا، تخریب کاری اور خفیہ کارروائیاں کرنا اس کے نزدیک نہایت ضروری ہیں۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اپنا فائدہ دیکھ کر امن کے لیے کوشش کرنا ایک کامیاب بادشاہ کی علامت ہے۔ ہمسائیوں سے بگاڑ اور دور پار کی طاقتوں سے یاری چانکیائی سیاست کا سنہرا اصول ہے، دوستی کی آڑ میں دشمنی کرنا، دشمن کو کمزور جان کر اس پر حملہ کرنا اور طاقت ور ہونے کی صورت میں اس سے دوستی کے چکر چلانا اس حکمت عملی کے بہترین اصول قرار پائے۔ اسی کی بنیاد پر وہ ساری دنیا پر حکومت کرنے کاخواب دیکھا کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جارحیت اس کی سیاسیات کا سب سے اہم باب ٹھہرا۔

کئی سو سال گزرنے کے بعد آج بھی بھارت کے سیاستدانوں، پالیسی سازوں اور فوجی اداروں کے لیے چانکیہ کی سازشی تھیور ی پڑھنا لازمی ہے، تاکہ اس کے اصولوں پر عمل پیرا ہوا جا سکے اور اکھنڈ بھارت کا ناپاک منصوبہ پایہء تکمیل تک پہنچ سکے۔یہ ساری تمہید اس لیے بیان کی گئی تاکہ بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے میں مدد مل سکے۔ آج بھارت میں ممبئی حملوں کو دسویں برسی منائی جا رہی ہے لیکن دس سال گزرنے کے باوجود آج تک حقائق پر پردہ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک طرف بھارت مسلسل عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ حملے پاکستان آئی ایس آئی، لشکر طیبہ اورجماعۃ الدعوۃ کے تعاون سے ہوئے۔ اس سلسلے میں ہر سال وہ ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ افراد کی تعداد بڑھاتا رہا، پہلے حافظ سعید، پھر ذکی الرحمن لکھوی، پھر ڈیوڈ ہیڈلی اور آخر میں ذبیح اللہ، تاہم اس کے باوجود جو آخری زندہ ثبوت اجمل قصاب موجود تھا، اسے انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر پھانسی کی سزا سنا دی گئی، حالانکہ وہ واحد ایسا ثبوت تھا جس کی مدد سے دنیا کے سامنے سچ سامنے آسکتا تھا، یا یوں کہہ لیں کہ بھارت کی نظر میں وہ پاکستان اور حافظ سعید کے خلاف ایک معتبر ثبوت ہو سکتا تھا، تاہم یہ بھارت کی تاریخ میں شاید نہات ہی انوکھی قسم کا مقدمہ تھا جو اتنی تیز رفتاری کے ساتھ مکمل ہوا اور پھر اسی تیز رفتاری سے ہائی کورٹ، سپریم کورٹ سے اس کی اپیلیں مسترد کر کے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد بھی کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   طاہر داوڑ کی شہادت اور ہمارا پڑوسی - احسان کوہاٹی

بھارت کو آخر جلدی کس چیز کی تھی؟ بھارت کیوں نہیں چاہتا تھا کہ اجمل قصاب دنیا کے سامنے آئے؟ کیا وجہ تھی کہ ایسا کیس جس پر پوری دنیا کی نظریں لگی تھیں جس کی بنیاد پر دو ممالک کے تعلقات کا دارومدار تھا یا یوں کہہ لیں کہ جنوبی ایشیا میں اس کی بنیاد پر دوایٹمی ممالک میں جنگ کے امکان بھی پیدا ہو سکتے تھے، کیوں فوری طور پر اس کے آ خری گواہ کو منظر عام سے ہٹا دیا گیا؟ اسی طرح کے ان گنت سوالات کے جواب جاننے کے لیے کسی سائنس کی ضرورت نہیں بلکہ یہ جواب خود بھارت سے مل سکتا ہے۔ کچھ دنوں پہلے بھارتی وزارت داخلہ کے انڈر سیکریٹری آر وی ایس مان نے دستخط کے ساتھ ایک حلفیہ بیان عدالت میں جمع کرایا ہے کہ سی بی آئی اور ایس آئی ٹی کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل عہدیدار ستیش ورما نے انھیں بتایا ہے کہ دہلی میں پارلیمنٹ اور ممبئی دہشت گرد حملے طے شدہ اور انسداد دہشت گردی قوانین کو مضبوط بنانے کے لیے کرائے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان حملوں کے بعد جو قوانین بنائے گئے ان کے باعث بھارتی سیکورٹی فورسز کو جھاڑکھنڈ، مقبوضہ کشمیر اور دیگر ریاستوں کھل کھیلنے کی آزادی مل گئی۔ اس کے علاوہ ممبئی حملوں کاسب سے پہلا نشانہ بھارتی اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ کے آنجہانی سربراہ ہیمنت کرکرے بنے جس نے اپنی تحقیقات میں پہلی دفعہ بھارت میں ہونے والے مختلف دہشت گردی اور ہندو مسلم فسادات سے متعلق تفتیش کرکے یہ راز کھول دیا تھا کہ ان میں خود بھارتی افواج کے حاضر سروس ملازم اور انتہا پسند تنظیموں کے رہنما شامل ہیں۔ ہیمنت کرکرے کی تحقیق کے مطابق مالیگاؤں، حیدر آباد کی مکہ مسجداور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے بھارتی انتہاپسند ہندوؤں نے حاضر سروس فوجی کرنل پروہت، ریٹائرڈ بھارتی فوجی میجر رمیش ایادھیا کی مدد سے کیے جبکہ اس کیس کے بعد اس نے اس کرنل اور سادھو سمیت ہندو انتہاپسند تنظیم ابھینو بھارت کے مختلف افراد کو گرفتار کیا تھا۔ کرکرے کی اس جسارت کی سزا ممبئی حملوں میں اسے نشانہ بنا کر دی گئی۔ عینی شاہد کانسٹیبل کا کہنا ہے کہ کرکرے حملہ آوروں کا خصوصی نشانہ تھا اور اسے تسلی سے ہلاک کرنے کے بعد ہی حملہ آور وہاں سے گئے۔ کرکرے اپنی موت سے چند دن پہلے اس بات سے اپنے چند مخصوس دوستوں جن میں کانگریس کے جنرل سیکرٹری وجے سنگھ اور جو لیوربیرو جو ایک سابق پولیس کمشنر اور جانباز پولیس افسر ہیں کو بتا چکے تھے کہ انتہا پسند ہندوؤں اور بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے انہیں جان سے مار دینے کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے پولیس افسر کو یہ بھی بتایا تھا کہ ان کے پاس ایک ایسی سی ڈی ہے جس میں مالیگاؤں بم دھماکوں کے متعلق مزید ثبوت ہیں اور ان کی بدولت اس نے کچھ اور لوگوں کو شامل تفتیش کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم ان لوگوں کو سیاسی دباؤ کی وجہ سے اس کی تحویل میں نہیں دیا جا رہا۔ بھارتی میڈیا ہی کے مطابق کرکرے کی بیوی کو غیر معمولی امداد یعنی تین کروڑ روپے بھی اسی لیے دیے گئے کہ وہ اپنا منہ بند رکھے۔

یہ بھی پڑھیں:   پارلیمنٹ میں اسرائیل سے دوستی کی باتیں - محمد مبشر بدر

جرمن سے تعلق رکھنے والے صحافی ایلیس ڈیوڈ نے اس حوالہ سے ایک تحقیقاتی کتاب (The Betrayl of India:Rivisting 26/11) شائع کی ۔اس کتاب میں ایلیس نے واضح کیا کہ ممبئی حملے ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس کا مقصد بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کو فائدہ پہنچانا تھا۔ دہشت گردوں کے حقائق چھپانا بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں کی نااہلی نہیں بلکہ جان بوجھ کر اطلاعات چھپائی گئیں۔ کتاب میں جرمن صحافی نے یہ بھی لکھا کہ ممبئی حملہ کیس کی عدالتی کارروائی بھی جانبدارانہ نہیں تھی بلکہ اہم ثبوت اور گواہوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا۔ ایلیس کی تحقیقات کے مطابق اس منصوبہ کے عملدرآمد میں بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ و اسرائیل کے ادارے بھی شامل تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حملوں کے دس سال بعد بھی امریکہ اس حوالہ سے بھارت کے ساتھ ساتھ نظر آتا ہے۔ ابھی گزشتہ روز ہی امریکہ نے ممبئی حملوں کے ملزمان کو پکڑوانے کے لیے 50 لاکھ ڈالر کا انعام کا اعلان کیا ہے۔

بی بی سی نے ممبئی ہوٹل کے جن متاثرین کے انٹرویو اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے، ان میں اکثر نے یہ بتایا کہ ہوٹل سے باہر نکلنے کے لیے جن راستوں کی طرف پولیس جانے کا کہہ رہی تھی، وہ خطرناک تھے، جو لوگ پولیس کے کہنے والے راستے پر گئے، ان کا نقصان زیادہ ہوا اور جو اپنی مرضی سے گئے وہ محفوظ رہے۔ گویا پولیس ہلاکتوں کی تعداد کو بڑھانا چاہتی تھی۔ یہ ساری باتیں بھارتی میڈیامیں شائع ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ رپورٹس بھی منظر عام پر ہیں کہ بھارتی انٹیلی جنس اداروں کو پہلے اس حملوں کی اطلاع مل چکی تھی، کیسے ملی اور اگر مل گئی تو اسے روکنے کے لیے کوئی انتظامات کیوں نہیں کیے گئے؟ یہ سوالات بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت ممبئی حملوں کے حوالے سے سارے الزامات پاکستان، آئی ایس آئی ، لشکر طیبہ اور جماعۃ الدعوۃ پر لگا رہا ہے جن کا اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے اور بھارت کے ان بے بنیاد الزامات کی سزا پاکستان کی قید میں وہ بے گناہ کاٹ رہے ہیں جن کو پاکستان نے پچھلے پانچ سالوں بھارت کے پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر قید کر رکھا ہے۔ ابھی تک ان کے خلاف بھارت کوئی ثبوت نہیں دے سکا لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ بھارت کی چانکیائی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دوستی کا ہاتھ بڑھائے یہ ٹھیک ہے کہ ہمسائے تبدیل نہیں ہو سکتے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ہندو کی فطرت دو ہزار سال بعد بھی تبدیل نہیں ہو سکی تو آئندہ بھی نہیں ہوگی۔