شہریوں کی صحت، مسائل اور حل - نجم الثاقب

صحت، تعلیم، غریب، بے روزی گاری، ناخواندگی، دہشت گردی، انتہا پسندی پاکستان کے شہری گذشتہ کئی دہائیوں سے نسل در نسل ان گھمبیر مسائل پر سمجھوتا کرنے پر مجبور ہیں۔ حکمرانوں نے ملک کے وسائل کو صرف اپنے خاندان، مفاد اور ذاتی فوائد کے لئے خوب لوٹایا قدرت نے پاکستان کو ہر قسم کی نعمتوں و رحمتوں سے بھر نواز ہے لیکن شاید ہم خود بھی رب العزت کی نوازشات کو حاصل کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں۔

آئین کے آریٹکل 38 کے تحت ریاست پاکستان کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو بلاامتیاز، مذہب، جنس،ذات، عقیدہ اور نسل کے زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو بشمول صحت اور علاج معالجہ کی بہترین سہولتوں فراہم کریں۔ اسلام جس کا تمام مذاہب پر فضیلت کا درجہ ہے، اسلام کا امن، سلامتی اور محبت کا درس دوسری اقوام نے اپنا لیا ہے اور ہم نے انسانیت کے حقوق کو پس پشت پھینک دیا ہے یہی ہماری ناکامی اور بربادی کی بنیادی وجہ یہ ہی ہے۔ ہماری عوام کو صحت و ہیلتھ کی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ صحت و ہیلتھ کے بے پناہ تکالیف و مسائل کا حل کیسے ممکن ہے اور ان کو کیسے دور کیا جاسکتا ہے۔ صحت و ہیلتھ کے مسائل کے کئی عناصر ہیں جس کے باعث مسائل کا ازلہ بے حد ضروری ہے:
1۔ حکومت کی عدم دلچسپی و توجہ، 2۔ سرکاری ہسپتالوں و مرکزمیں بنیادی سہولتوں کی کمی، 3۔ ناقص ادویات کی ترسیل و فراوانی، 4۔ ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی اور بااثر مافیا کی ملی بھگت و گٹھ جوڑ، 5۔متوازن و معیاری غذاؤں کا نہ ہونا، 6۔آبادی کا تیزی سے بڑھنا،

1۔ حکومت کی عدم دلچسپی و توجہ:
حکومت کی عدم توجہ و دلچسپی کا یہ حال ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 2017-2018کے وفاقی بجٹ میں صحت وہیلتھ کے لیے48ارب روپے مختص کیے گئے تھے جبکہ گذشتہ حکومت نے اپنے آخری بجٹ 2018-2019 میں صحت کے لیے25ارب روپے مقرر کیے گئے ہیں اوراس کے فنڈز میں 23 ارب روپے کی کٹوتی کر دی گئی ہے، اس سے صاف پتا چلتا کہ حکومت کس قدر عوام کوصحت اور ہیلتھ کی سہولیات فراہم کرنے میں سنجیدہ ہے۔ آج ملک کے 136 اضلاع میں۵ ہزار ’بنیادی مراکز صحت‘،600 ’دیہی مراکز‘ اور 1000کے لگ بھگ ضلعی اورتحصیل سطح کے ہسپتال ہیں۔

صحت اور تعلیم دونوں انسان کی بنیادی ضرورت ہے کیونکہ صحت کے بغیر انسانی زندگی کا تصور ممکن نہیں اور تعلیم ایسا ہتھیار ہے جس کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے اور یہاں کی زیادہ تر آبادی دیہات میں رہائش پذیر ہے اور دیہات میں بہتر طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے لوگ شہروں کی طرف رخ کرتے ہیں۔ بڑے ہسپتالوں میں جب حکومت بجٹ فنڈ ہی مہیا نہیں کرے گی تو کیسے مسائل کا حل ممکن ہے۔

2۔ سرکاری ہسپتالوں و مرکز میں بنیادی سہولتوں کی کمی:
پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں کی صورت حال بھی دل خراش اور انتہائی مایوس کن ہے، مریض ہسپتالوں میں رل جاتے ہیں ۔ ایمرجنسی و او پی ڈیز میں چیک اپ کے لئے آنے والے مریضوں کی عام شکایت جونیئر ڈاکٹر ز کا تشخیص کرنا ہے، سینئرڈاکٹرز عموما او پی ڈی کے مریضوں کو دیکھنے سے اجتناب کرتے ہیں۔کئی جگہوں پر سینئر ڈاکٹرزدیر سے تشریف لاتے ہیں، واڈرز کے راوئیونڈ کے بعد اپنے اوقات ٹھنڈے کمروں میں گزارنے کے بعد گھروں کو چلے جاتے ہیں اورشام کے اوقات میں اپنے پرائیویٹ کلینک میں بھاری معاوضے و فیسوں سے مریضوں کا علاج و چیک اپ کرتے ہیں۔

سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا شدید فقدان نظر آتا ہے، واڈرز میں ایک بستر پر دومریض پڑے ہیں ، ایمرجنسی (ای آر) سروسز ناکافی،حادثات میں بڑھتی ہوئی اموات، جگہ جگہ فارماانڈسٹری لگانے اور قیمتیں بڑھانے کے باوجود دوائوں کا بحران، ڈاکٹروں،معاون عملے اور ہسپتالوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مریضوں کو شکایات ہیں۔ صحت سے متعلق مختلف ٹیسٹ کی سہولیات اور آٹو مشینیں(الڑسونڈ، ایکسریز) یا تو خراب پڑی ہوتی ہیں اور یا خراب کرکے مریض کواپنے من پسند کلینکس اورلیباٹریز میں بھیج دیا جاتا ہے کمیشن و لوٹ مارکا ایک اہم ذریعہ یہ پرائیویٹ لیبارٹریز ہیں۔ متعلقہ حکومتی ادارے جو عوام کی فلا ح و بہبود کے لئے عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بنائے جاتے ہیں وہ قصداً عمدا ایسے اقدامات میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ پرائیویٹ لیبارٹریز کے مالکان نے سرکاری ہسپتالوں کے عملے اور ڈاکٹروں پر سرمایہ کاری کی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   گردوں کے فیل یا ناکارہ ھوجانے کا آسان اور حیرت انگیز علاج ڈاکڑ زائر حسین رضوی

ایک اور بڑا فیکٹر پیرا میڈیکل اسٹا ف اور ڈاکٹرز کا احتجاج ، ہڑتال اور دھرنے کے وہ مناظر ہیں جو آئے روزاخبارات اور ملکی میڈیا پرنظر آتیہیں۔ تنخواہ میں اضافہ، سروس اسٹرکچر، الائونس کی منظوری پر مریضوں کو زندگی و موت کے کشمش میں دھکیل کرنعروں، دھرنوں اور احتجاج میں اکثر مصروف عمل ہو جاتے ہیں۔ حکومت جو پہلے ہی صحت و ہیلتھ کی سہولت دینے کے لئے سنجیدہ نظر نہیں آتی وہ مجبور ہو کر ان کے مطالبات کو تو تسلیم کرتی ہیں لیکن بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھاتی۔ ملک کے 78 ایم بی بی ایس اور 36 بی ڈی ایس کے میڈیکل اداروں سے ہر سال تقریبا 10000 ڈاکٹر، 3500 ڈینٹسٹ اور1200 فزیوتھراپی میں پاس آوٹ ہوتے ہیں جن کی بڑی تعداد ہاوس جاب کی تکمیل اور ڈگریاں لینے کے بعد بیرون ممالک شفٹ ہو جاتے ہیں۔ سرکاری طور پر دیکھا جائے تو صحت کا یہ رائج سسٹم پوری طرح ناکارہ بلکہ جدیداصطلاح میں کرپٹ ہو چکا ہے اور اس میں اصلاح کرنے پرکوئی مائل نہیں نظرآتا ہے۔

3۔ ناقص ادویات کی ترسیل و فراوانی:
پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال ناگفتہ بہ ہونے کی بڑی وجہ ادویات کا غیر معیاری اور جعلی ہونا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کا اسٹینڈ و معیار بہت ہی ادنیٰ ہے اور جو ادویات سرکاری طور ہسپتالوں میں ہوتی ہیں ان کی بڑی تعداد کو غائب و ہڑپ کر دیا جاتا ہے، اور مریض کو ڈاکٹرز اپنی مرضی کی مہنگی اور متعلقہ کمپنی کی ادویات لکھ کر دیتے ہیں جس سے انھوں نے پہلے ہی مک مکا کیا ہوتا ہے۔

ملک بھر میں جان بچانے والی ادویات سمیت دیگر بیماریوں سے بچائو کیلئے استعمال ہونے والی ادویات کی تیاری کے دوران غیر معیاری اجزائکا استعمال بھی خوف ناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ پاکستان میں اسمگل شدہ ادویات کی بڑی گھپ ہول سیل مارکیٹ میں پہنچائی جاتی ہیں۔پاکستان میں فارماسیوٹیکل کمپنیوں کا کاروبار بے حد منافع بخش ہے اکثر کمپنیوں کے مالکان کا تعلق سیاست اور بیوروکریسی سے ہے جو سینئر ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے کم معیاری رجسٹرڈاور اَن رجسٹرڈ، معیاد زائد ادویا ت مریضوں پر استعمال کرکے معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ پاکستان میں90 فیصد کمپنیاں ادویات، پینے کے صاف پانی، غیر معیاری جوسز، جعلی مشروبات اور مضر صحت دودھ کا کاروبار کر رہی ہیں، ان ہی کمپینوں کی 80 ہزار کے قریب رجسٹرڈ ادویات مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

4۔ ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی اور بااثر مافیا کی ملی بھگت و گٹھ جوڑ:
ملک کی کئی نامور فارما سوٹکلث بڑی کمپنیاں کی تیار ہونے والی مختلف ادویات کے رزلٹ غیر معیاری ثابت ہونے کی بڑی وجہ پروبیشنل کوالٹی کنٹرول بورڈ اور ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی اور بااثر مافیا کی ملی بھگت ہے یہی وجہ کہ ہے آج پاکستان اسمگل شدہ اور غیر معیاری ادویات کا گڑھ بن چکا ہے۔

ایک سروے رپورٹ کے مطابق اس مارکیٹ میں سالانہ پانچ ارب سے زائد کی مالیت کی ’’جعلی ادویات‘‘ کا کاروبار بڑے شہروں جن کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ حیدر آباد، نواب شاہ، سکھر ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی سمیت کئی چھوٹے شہر شامل ہیں جن میں منظور نظر ڈرگ مافیا کی ملی بھگت سے قائم ہے۔ ڈرگ مافیا و انسپکٹر ز کی ماہانہ واری کے باعث اپنے محکمہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے زہر بانٹنے کااختیار دے دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   گردوں کے فیل یا ناکارہ ھوجانے کا آسان اور حیرت انگیز علاج ڈاکڑ زائر حسین رضوی

5۔متوازن و معیاری غذائوں کا نہ ہونا:
صحت کے بڑے مسائل کا ایک اہم پہلومتوازن غذا و مطلوبہ غذائی خوراک کی مقدار کی کمی ہے۔ انسانی جسم کو کاربوہائیڈریٹ، پروٹین، چکنائی، وٹامن، نمکیات اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس غذا میں یہ تمام اجزا صحیح مقدار میں موجود ہوں، اس کو متوازن غذا کہتے ہیں۔ پاکستان کی70 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جہاں دودھ، انڈہ، پھل، دالیں اور سبزیاں دستیاب ہوتی ہیں لیکن شہروں کے ساتھ اب دیہاتوں میں بھی بچوں کی توجہ پرنٹ اور الیکڑونکس میڈیا نے اپنے اشتہارات کے ذریعے غیرمعیاری غذاو?ں کی طرف مبذول کرا دی ہے۔قدرتی غذائیت، اجناس، انڈہ اور دودھ و ڈیری کی اشیاء کی بجائے ناقص اور نقصان دے اجزاء سے تیار کردہ پروڈکس( ڈرنکس،بسکٹ، جوس، ٹافیاں، چپس کے مسلسل استعمال) بچوں کی جسمانی صحت کو بری طرح متاثر کر رہیں ہیں، ایسی نامکمل اور غیر متوازن خوراک اگرچہ زبان کے چسکا اور پیٹ کی آگ کو تو بجھا دیتی ہے لیکن جسمانی اعضاء کو بری طرح نقصان پہنچاتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے بچے شروع سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بچوں میں بالوں کا گرنا، دانت کمزور ہونا، جسم میں درد کی شکایت، ہڈیوں کی کمزوری، منہ کے چھالے، بدہضمی، تیزابیت، نظر کم زور ہونا، جلد پر دھبے ابھرنا وغیرہ کچھ ایسی بیماریاں ہیں جو کہ ناقص غذا کے استعمال اورغذائی اجزا کی کمی کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔

6۔آبادی کا تیزی سے بڑھنا:
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی کے سنگین مسئلے نے نہ صرف ہماری اقتصادی ترقی کے ثمرات کو بے حد کم کر دیا ہے بلکہ ہماری جسمانی، معاشی اور معاشرتی زندگی پر بھی بے حد منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ ہماری شرح خواندگی جنوبی ایشیا میں سب سے کم یعنی 57 فیصد ہیجب کہ آبادی میں اضافے کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا ملک بن گیا ہے جس کی آبادی بڑھنے کی شرح 2.4فیصدتک پہنچ چکی ہے پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی اس مسئلے سے دوچار ہے اور پاکستان میں اس مسئلے کی سنگینی کے پیش نظر نجی شعبے کے ساتھ ساتھ بہبود آبادی کے مسائل کا شعور پیدا کرنا اور اس کو کنٹرول کرنے کے طریقے دریافت کرنا ہے۔

درپیش مسائل اور حل
موجودہ نظامِ صحت کی چیدہ چیدہ خرابیوں کی چند بڑی بڑی وجوہ اوراصلاح احوال کے لیے تدابیرکادرج ذیل ہے:
1۔ صحت کا بجٹ آبادی اور بیماریوں کی یلغار کے لحاظ سے کم ہے اوراس میں مریضوں کے لیے استعمال ہونے والاحصہ کم ترہوتاہے۔قومی جی ڈی پی تعلیم کی طرح مندی کا شکار ہے۔ جب وفاقی بجٹ میں اضافہ ہو گا توباقی سطحوں پر بھی بہتری آئے گی۔

2۔ سرکاری ہسپتالوں میں عملے کی بھرتی سے اس کے تبادلے تک، اس کی کارکردگی سے کام چوری تک، عمارتی تعمیر سے سامان اوردوائوں کی خریداری تک کرپشن اور بدانتظامی، جس میں قانون شکنی، بدعنوانی، بدنیتی، سفارش،رشوت،مفاد پرستی،مافیا نوازی، فرائض سے پہلو تہی،سیاسی مفادات کی نگہداشت جیسے امراض کو فوری کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ بڑھتی ہوئی کرپشن اورنااہلی اورنجی شعبے کی بے لگامی اورڈاکٹروں کی حرص بددیانتی کے خلاف ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔

3۔ بڑے بڑے ہسپتالوں کاانتظام مشکل ہے۔چھوٹے یونٹ، یعنی بستروں کی تعداد کم ہوتو وہ پھر بھی قابلِ انتظام ہوسکتے ہیں۔

4۔ بڑے شہروں کے میگاہسپتالوں پرآئوٹ ڈور کا رش کم کرنے کے لیے شہروں میں فلٹرکلینک یاڈسپنسریاں بنائی جائیں۔

5۔ آبادی کے کنٹرول کے لئے عوام میں آگاہی مہم کا آغاز بہت ضروری اور معاون ہے۔ اس سلسلے میں حکومت میڈیا اور انٹرنیشنل رفاعی اداروں کو بھر پور کردار کرنے کی ضرورت ہے۔
6۔ محکمہ بہبود آبادی کو صحت کاحصہ ہونا چاہے۔بیوروکریسی نے اپنے مفادکی خاطر اسے الگ کرکے عملاً غیرفعال اور غیرموثر کردیاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حالت ِ صحت کی روشنی میں صحت کے لیے اہداف اور صحت کا قومی بیانیہ تیار کیاجائے۔