''شعور'' کو ''شور'' کی مزاحمت کا سامنا - محمد ناصر اقبال خان

باب العلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے، ''میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹ جانے سے اللہ تعالیٰ کو پہچانا''۔ آپؓ کے ایک دوسرے قول کامفہوم کچھ اس طرح ہے ،'' زندہ انسان کو زندگی میں کئی بارمفاہمت کے لیے جھکناپڑتا ہے جبکہ لوگ مُردہ حالت میں اکڑ جاتے ہیں''۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ''ارادوں'' کے ٹوٹ جانے سے اللہ تعالیٰ کوپہچان لیا، مگر ہزاروں بدنصیب پاکستانیوں نے ریاستی ''اداروں'' کی ٹوٹ پھوٹ اور ملک میں بڑے پیمانے پر لوٹ کھسوٹ کے باوجود خاندانی چوروں کے سیاہ چہروں کو نہیں پہچانا، وہ کئی دہائیوں تک چوری کے نوٹوں سے مقدس ووٹوں کی قیمت لگاتے اور اقتدار انجوائے کرتے رہے ہیں۔

کئی دہائیوں بعد ملک میں تبدیلی کے آثار پیدا ہوئے تو نیب نے کچھ چوروں سے اثاثوں کا حساب مانگا جس پر چمڑی اور دمڑی بچانے کی نیت سے سیاسی انتقام کا شور مچا دیاگیا۔ ایک مخصوص طبقہ کے نزدیک نیب پگڑیاں اچھالتا ہے مگر میں تو الٹاچوروں کو نیب کا میڈیا ٹرائل کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ چوروں کا استحقاق مجروح نہ ہو، اس لیے ڈی جی نیب شہزاد سلیم ا نٹرویو نہیں دے سکتے، مگر نیب کے مطلوب ملزمان کو اس اہم ریاستی ادارے اوراس کے نیک نام چیئرمین جسٹس جاویداقبال اور دبنگ ڈی جی شہزادسلیم کے خلاف بلیم گیم کی آزادی ہے۔ میں سمجھتاہوں جس نے زندگی بھر اپنا دامن کرپشن کے چھینٹوں سے بچایا ہو، وہ بار بار حفاظتی ضمانت کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ پراعتماد اور باوقار انداز سے اپنا قانونی دفاع کرتا ہے، اُس کے چہرے کی ہوائیاں نہیں اڑی ہوتیں۔ ضمیر کے قیدی اور نیب کے اسیر قیصر امین بٹ کا وعدہ معاف گواہ بننا ان کا درست اور دوررس فیصلہ ہے کیونکہ قیصرامین بٹ کو کئی دہائیوں تک استعمال اور ان کا استحصال کیا گیا، ان کے ساتھ جو جو وعدہ کیاگیا ان سے کوئی ایک بھی وفا نہیں ہوا، قیصر امین بٹ اپنی روحانیت، سخاوت اور پاکستانیت بچانے کے لیے وعدہ معاف گواہ بنے ہیں۔ مجاہدکامران سے لوگ اپنی صفائیاں دینے کے بجائے الٹا نیب کے ظلم و ستم کی دہائیاں دے رہے ہیں، موصوف کا بار بار یہ کہنا، ''امریکی اسٹیبلشمنٹ کے لوگ 9/11 کے حوالے سے اس کی کتاب کو بنیاد بنا کر اسے انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں''، '' کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ '' والی بات ہے۔ مجاہد کامران سمیت بیسیوں افراد نے9/11 پر کتب لکھی ہیں، تو پھر امریکہ انتقام صرف مجاہدکامران سے کیوں لے گا۔ مجاہد کامران یاد رکھیں کتاب لکھنے سے نہیں بلکہ کردار سے انسان کا قد آور ہوتا ہے۔ موصوف بار بار ایکسٹینشن کے لیے مسلم لیگ (ن) کو جو خدمات فراہم کرتے رہے ہیں، نیب کچھ کرے نہ کرے تاریخ مجاہد کامران کا محاسبہ ضرورکرے گی۔

میں نے اپنے کالم کے آغاز میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقوال ''اہل شعور'' نہیں ''اہل شور'' کے لیے نقل کیے ہیں کیونکہ ان دنوں پاکستان میں ''یوٹرن'' ہاٹ ایشو بناہوا یا بنا دیاگیا ہے، اپوزیشن قائدین یاد رکھیں شعور کو شور اور شر سے دبایا نہیں جا سکتا۔ وزیراعظم عمران خان نے پچھلے دنوں اپنے سرکاری قصر میں کالم نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے یوٹرن بارے وضاحت سے اپنا مؤقف بیان کیا جس پر قومی سیاست میں ایک طوفان آگیا، اتفاق سے میں بھی اس گفتگو میں شریک تھا۔ وزیراعظم عمران خان ہال میں داخل ہوئے تو ان کے چہرے سے خوداعتمادی اور فرض شناسی جھلک رہی تھی جو ان کی خودداری کا نتیجہ ہے۔ عمران خان زمینی آقاؤں کے بجائے اپناسر آسمانوں والے قادر و کارساز آقا کے روبرو جھکاتے ہیں، اس لیے ان کی خودداری زندہ و تابندہ ہے۔ ایک فون کال پر راہداری اور ہوائی اڈے امریکہ کے سپرد کرنے والے ''کمانڈو'' پرویز مشرف کو کئی بار کہنا پڑا ''میں کسی سے ڈرتا ورتا نہیں ہوں''، مگر ڈٹ جانے کا وقت آیا تو موصوف نے ملک چھوڑ دیا جبکہ نڈر ''کپتان'' کی ڈونلڈ ٹرمپ کو بروقت شٹ اپ کال قومی خودداری کے لیے نیک فال ہے۔ جس طرح عزت دار لوگ دوسروں کو بھی عزت دیتے ہیں اس طرح ایک خوددار انسان ہی مادر وطن کی خودداری کا پہرہ دیتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی منفرد مجلس کی طرف واپس آتا ہوں، اس میں سینئر کالم نگاروں رحمت علی رازی، ایازخان، محسن گورایہ، شمشاد مانگٹ، کنور دلشاد، میاں محمد سعید کھوکھر، علی احمدڈھلوں، عرفان اطہرقاضی، خالدقیوم، منصورآفاق، علی رضاعلوی، لقمان شریف اور جاوید شاہ کے چہرے دیکھے، ان مانوس اور محبوب چہروں کے پیچھے مظہر برلاس کا ''چہرہ'' نمایاں تھا، درحقیقت یہ مجلس سجانے کا سہرا مظہر برلاس کے سر تھا، یہ راز وزیراعظم عمران خان نے خود فاش کردیا۔ وزیراعظم نے بذات خود مظہر برلاس کو اس بزم کا محرک قرار دیا۔ نبض شناس اور مردم شناس مظہر برلاس کے کالم پڑھ کرسچائی تک رسائی کا راستہ ہموار ہوجاتا ہے، وہ پچھلے کئی برسوں سے اپنے قلم کی نوک سے ایک ایک قومی چور کا ''چہرہ'' بےنقاب اور اس کا احتساب کر رہے ہیں۔ مظہربرلاس کے ہر کالم میں سچے پاکستانیوں کے لیے امید اور نوید ضرور ہوتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی مختصر گفتگو کے بعد ابتدائی سوال مظہر برلاس نے کیا اور پھر سوالات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ قلم قبیلے کے ''لیڈر'' علی احمدڈھلوں نے سوالیہ انداز میں چاروں صوبوں کے سول شہداء کی فہرست تیار کرنے اور ان کے ورثاء کی ویلفیئر کے لیے تجاویز دیں جو سن کر وزیراعظم نے خاصی سنجیدگی اور پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اس پر فوری کام کرنے کا عزم ظاہرکیا۔ محبوب شاعر اور کالم نگار منصورآفاق نے اپنے منفرد سوال سے کئی اداروں پر براجمان ''پٹواریوں' 'کے پر کاٹ دیے، منصورآفاق کی بات میں دم تھا جس پر وزیراعظم عمران خان کو وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے سٹاف کواحکامات صادرکرنا پڑے۔

میں یوٹرن کوکمزوری، خامی یاگناہ نہیں بلکہ نظریہ ضرورت سمجھتاہوں، کیونکہ کامیاب زندگی کے لیے بار بار مصلحت پسندی اور مفاہمت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ دشمن کے ساتھ سمجھوتہ اوراس کے روبروسرنڈر کرنے میں بہت بنیادی فرق ہے۔ غلطی یاگناہ کی صورت میں ''رجوع'' کرنے کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا، عمران خان نے بھی دین کی طرف رجوع کیا لہٰذا ان کا اپنے ماضی سے اب کوئی تعلق نہیں رہا۔ قومی اخبارات کے بچوں والے ایڈیشن میں ''راستہ تلاش کریں'' ضرور چھپتا ہے، کچھ بچپن اور کچھ پچپن میں بھی راستہ تلاش کرتے ہیں۔ راستہ تلاش کرتے ہوئے کئی بندگلیاں آتی ہیں، اس گیم میں رکنا یا ہار ماننا نہیں بلکہ کامیابی سے راستہ تلاش کرنا اور ہدف تک پہنچنا اہم ہے۔ انسانوں کی زندگی میں کئی موڑ اور یوٹرن آتے ہیں مگر کامیابی کے لیے طویل صبر اور سفر کرنا پڑتا ہے۔ تاریخ انسان اور اس کی منزل کے درمیان حائل فاصلے یا یوٹرن نہیں بلکہ فیصلے اور ان کے نتائج یاد رکھتی ہے۔ اپنی اور اپنوں کی غلطیاں معاف کرنا بھی یوٹرن ہے، یقینا ایک دوسرے کو درگزر کیے بغیر کوئی رشتہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اگر اسلامی تعلیمات اور قرآن مجید فرقان حمید کی آیات پر اجتہاد ہوتا آیا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا تو پھر ہماری گندی مندی سیاست کی کیا اوقات ہے۔ سیاست بچانے یاچمکانے کے لیے ریاست کو داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا مگر ریاست کے لیے ہزار بار سیاست قربان کی جا سکتی ہے، ہم میں سے کسی کی شخصیت، سیاست یا تجارت ریاست سے مقدم نہیں ہو سکتی۔ سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کوئی انسان کامل نہیں، بحیثیت طالب علم ہم باربار غلطیاں کرتے اور ان سے سیکھتے ہیں، لہٰذا غلطی تسلیم کرنا عظمت، اسے سدھارنا حکمت جبکہ اس پر ڈٹ جانا انتہائی ہٹ دھرمی، بےشرمی اور بدترین جہالت ہے۔

انسان کی تقدیر اُس قدیر اور قادر نے لکھی جو بڑا رحمن اور کارساز ہے۔ معبود برحق اپنے بندوں کی اداؤں اور دعاؤں کی بدولت ان کی تقدیر تبدیل کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ ہم انسان اپنی اپنی تقدیر کے اسیر ہیں، ہمارے پاس صرف دعا، تدبر اور تدبیر کا راستہ ہے، تقدیر پر اختیار کا دعویٰ یا اس سے چھیڑ چھاڑ کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ اِنسان کا تکبر اسے تدبر سے روکتا ہے جبکہ اناپرست فنا ہو جاتے ہیں۔ ماضی کے حکمران تکبر کی راہ یعنی تاریک راہوں پرگامزن تھے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے تدبر اور تدبیر کا راستہ منتخب کیا ہے، انہوں نے آج تک سیاستدان ہونے کا دعویٰ نہیں کیا مگر اس کے باوجود انہوں نے تنہا بڑے بڑے سیاسی برج الٹا دیے ہیں۔ 22 برس کی انتھک جدوجہد کے بعد وزیراعظم منتخب ہونا اور ہم وطنوں کا محبوب بننا معمولی واقعہ نہیں۔ اپنی ذات اور اپنے نجی مفادات کے لیے ضد کی جاسکتی ہے لیکن ریاست کے لیے بروقت، درست اور دوررس فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ عمران خان نے جس طرح پارلیمنٹ میں آگے بڑھ کر آصف زرداری، بلاول زرداری اور شہبازشریف سے مصافحہ کیا تھا، اس طرح انھیں اپنے بھائیوں سعیداللہ خان نیازی، حفیظ اللہ خان نیازی اور انعام اللہ خان نیازی کی طرف بھی قدم بڑھاناچاہییں ، پاکستان کی طرح خاندان کے لیے بھی یوٹرن لیا جاسکتا ہے۔ سعیداللہ خان نیازی، حفیظ اللہ خان نیازی اور انعام اللہ خان نیازی سے بھائی اور بازو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتے۔ بزرگ اور زیرک سیاستدان سردار ذوالفقارعلی خان کھوسہ اور سینئر پارلیمنٹرین رانا نذیر احمد خاں کو بھی وزیراعظم عمران خان کے ''پانچ پیاروں'' اور ان کی مشاورتی ٹیم میں ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اور رانا نذیر احمد خاں سے مخلص و مدبر سیاستدانوں کے ضیاع کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ اپوزیشن کے بدنام کرنے سے وزیراعظم عمران خان ہرگز ناکام نہیں ہوں گے، انھیں حالیہ بیرونی دوروں میں بہت عزت، نصرت اور مزید شہرت ملی۔ عمران خان سے کئی غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہیں لیکن پھر وہ اچانک کچھ ایسا کرگزرتے ہیں جو کام انہیں مزید شہرت کی بلندیوں پر لے جاتا ہے، عمران خان جہاں دنیا بھر میں مقبول ہیں وہاں بحیثیت وزیراعظم ان کا ملک و قوم کے لیے معقول ہونا بھی قابل رشک ہے۔ عمران خان نے ماضی میں بھی کئی بار بدترین حالات کے باوجود بہترین رزلٹ دیا ہے۔ جو مٹھی بھر مایوس لوگ عمران خان کے حالیہ بیرونی دوروں اور دوست ملکوں کی طرف سے مالی مدد کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں، وہ اس کا کوئی متبادل آپشن بھی تجویزکریں یا اپنے نجی بنک اکاؤنٹ سے۔

حضرت اقبال ؒ ایک منفرد شعر کی صورت میں اپنے شاہین کا تصور کچھ یوں بیان کرتے ہیں
جھپٹنا پلٹنا پلٹ کرجھپٹنا
لہوگرم رکھنے کاہے اک بہانہ

تقدیر کئی بار ہمیں بندگلی میں لے جاتی ہے اور ہمارے پاس وہاں سے فوری واپس پلٹ جانے کے سوا دوسرا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ انسان کے ہر فیصلے میں بہتری کے لیے تبدیلی کا امکان موجود ہوتا ہے۔ عمران خان مسلسل اپنی ''نیک نیتی'' کے بل پر متحدہ اپوزیشن کی ''راج نیتی'' کو نابود کر رہے ہیں۔ متحدہ اپوزیشن کی طرف سے منتخب وزیراعظم عمران خان پر کیچڑ اچھالنا ان کی سیاسی ضرورت ہے مگر قدرت کپتان پر بہت مہربان ہے، عمران خان مسلسل کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ اپوزیشن کے پروپیگنڈا مشن سے عمران خان کاگراف گرنے لگتا ہے مگر پھر اگلے ہی پل وہ عزت اور شہرت کا ایک نیا آسمان چھو رہے ہوتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو کپتان نے جس دبنگ انداز سے کرارا جواب دیا، اسے اندرون و بیرون ملک بہت سراہاگیا۔ عمران خان میں گویا اوورسیز پاکستانیوں کی جان ہے۔ اپوزیشن قیادت اپنے مدمقابل کپتان کے ہاتھوں شکست کی خفت مٹانے کے لیے باربار ذاتیات پراترآ تی ہے۔ ایک وقت تھا میاں نوازشریف عمران خان کومسلم لیگ (ن) کاامیدوارنامزدکرنے کے لیے بیقرارتھے مگر کپتان نے انکار کر دیا، بعدازاں عمران خان نے پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز اور سیاسی مافیاز کو چیلنج کیا تو اس وقت سے اب تک عمران خان کو کیا کچھ نہیں کہا گیا، مسلم لیگ (ن) نے بےنظیر بھٹو سے زیادہ عمران خان کا ''میڈیاٹرائل'' کیا جبکہ قدرت کا فیصلہ دیکھیے آج خالی شریف برادران نہیں بلکہ پورے شریف خاندان کو ''عدالتی ٹرائل'' کاسامنا ہے، سابقہ حکمران خاندان کی کچھ ہستیاں پیشیاں بھگت رہی ہیں تونوازشریف کا بڑا اور چھوٹا بیٹا مفرور اور اشتہاری ہے۔

ماضی کی بات ہے میاں نوازشریف اور بےنظیر بھٹو ایک دوسرے کو سکیورٹی رسک، چور اور غدار کہا کرتے تھے لیکن عمران خان کواس بات کا کریڈٹ دینا ہوگا کیونکہ انہوں نے اِس دیرینہ سیاسی عداوت بلکہ دشمنی کو اُس وقت دوستی میں بدل دیا جب لندن میں ان کے درمیان میثاق جمہوریت پر سمجھوتہ ہوا، اس ''مذاق جمہوریت'' کا بنیادی ہدف پرویز مشرف کو قصرصدارت سے نکالنا جبکہ کرپشن سے قوم کی بیزاری اور سیاسی بیداری کے لیے سرگرم عمران خان کاراستہ روکناتھا۔ اب تک ان کیخلاف متحدہ اپوزیشن کی ہرچال بری طرح ناکام ہوئی ہے، عمران خان کو قوم یہود کا ایجنٹ قرار دیا گیا تو اللہ رب العزت نے انہیں ''بیت اللہ'' کے اندر عبادت کرنے کی بیش قیمت سعادت اور بےپایاں عزت بخش دی۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ''شعور'' کو ''شور'' کی نفرت، مذمت اور مزاحمت کا سامنا ہے۔ جاہل کے پاس دلیل نہیں ہوتی اس لیے وہ اپنے مدمقابل کو ذلیل کر کے اپنے انتقام کی آگ بجھاتا ہے۔