میرا دوست احسن رشید - انجینئر افتخار چودھری

کالم کا عنوان اپنے محسن و مربی جناب ضیاء شاہد کی کتاب سے لیا ہے، پچیس نومبر بھی گزر گئی۔ چار سال پہلے اسی دن احسن رشید اس دنیا سے چلے گئے۔ میں نے احسن بھائی کے ساتھ کوئی دس سال کے قریب وقت گزارا۔وہ سعودی عرب کی ایک بڑی کمپنی جسے فوکس پٹرولیم کے نام سے جانا جاتا تھا اس کے صدر تے۔یہ آئی بیچنے والی کمپنی تھی جس نے سعودی عرب کے طول و عرض میں ان گنت شاخیں قائم کیں۔نوے کی دہائی میں جب ہم لوگ انجینئر سید سلیم معینی، انجینئر عبدالرفیع، حفیظ اللہ خان نیازی، مناظر اوصاف، سید احسان الحق کے ساتھ مل کر انجینئرز کمیونٹی میں متحرک تھے۔پہلی بار فوکس پٹرولیم کا نام سنا۔کمپنی نے ہمارا ایک فنکشن سپانسر کیا تھا۔ وہیں اس دراز قد مشرقی پنجابی ارائیں سے ملاقات ہوئی۔ ظفر تالپور بھی پہلی بار وہیں ملے۔جدہ ان دنوں بڑی بہاروں والا شہر تھا۔پاکستانی اور دیگر ملکوں کے لوگ بڑی آسانی سے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔فارغ وقت میں پاکستان سے آنے والوں کی پذیرائی کرتے تھے۔قد چھ فٹ سے نکلتا ہوا سمارٹ توند سے خالی جسم۔آواز میں کھنک اور چہرے پر مسکراہٹ ایسی کہ گرفتاریاں لازم تھیں۔ 1992ء میں عمران خان نے کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تو اس وقت تھے تو وہ شہر ہی میں لیکن مجھے پورا یقین ہے ان کی عمران خان سے کوئی ملاقات نہ تھی۔ اس لئے کہ عمران خان کی میزبانی ڈاکٹر غلام اکبر نیازی اور ہم لوگوں نے کی۔ البتہ بعد میں ان کی شناسائی عمران خان سے ہوئی۔

میں نے عمران خان اور احسن رشید کو 1997ء میں مہران جدہ میں اکٹھے ایک تقریب میں دیکھا جہاں میں روزنامہ خبریں کی جانب سے کوریج کے لئے گیا۔پہلی بار ان کی تقریر سنی۔پھر ہر اس تقریب میں احسن نظر آئے جو پاکستان کے لئے منعقد کی گئی۔ زیادہ تعارف 1997ء - 2002ء کی اس شدید خشک سالی کے دوران ہوا جب احسن رشید نے پاکستانی کمیونٹی کو اپنے بلوچی بھائیوں کی مدد کے لئے اکٹھا کیا۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستانی اپنے ملک کے لئے آگے بڑھ کر کام کرنا اعزاز سمجھتے تھے۔پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائینز کے ملک محمد ایوب،کرنل ذکاء کا نام کبھی بھلایا نہیں جا سکتا جو قونصلیٹ سے بڑھ کر کام کیا کرتے تھے،کمیونٹی ان کی پشت پر تھی۔احسن رشید نے پاکستان سے نامور افراد کو وہاں جدہ آنے کی دعوت دی۔ان میں شاہد آفریدی،ابرارالحق،امور مقصود،صلاح الدین صلو،معین اختر شامل تھے۔لوگوں نے عمران خان کے بیٹ کو لاکھوں میں خریدا۔یہ احسن رشید ہی کا کمال تھا جس نے پاکستانی کمیونٹی کے اس حلقے کو پاکستان کی مدد کے لئے اکٹھا کیا جن کے پاس دوسرے ملکوں کے پاسپورٹ تھے۔ایک ایسے شخص سے دوستی میرا فخر رہی ہے۔ہم نے عام پاکستانیوں کو اس کام پے لگایا خزام اولمپک پول پر متعدد بڑی تقریبات منعقد کیں لوگوں کو قرض اتارو مہم اور ایٹمی دھماکوں کے بعد ہونے والی تقریب مدتوں یاد رہے گی۔آپ سوچ بھی نہیں سکتے جب سیکورٹی ہیلی کاپٹرز فضاء میں بلند تھے اور ایٹمی دھماکے کرنے والے ملک کا وزیر اعظم ہماری تنظیم حلقہ ء یاران وطن کی ایک ایسی تقریب جس میں پچاس ہزار لوگ شریک تھے خطاب کر رہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   پہلے سو دن، کیا حکومت ناکام ہو گئی؟ سلمان عابد

احسن رشید نے تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے میں عمران خان کی مدد کی۔تحریک انصاف کے وہ پانچ بانی جن میں عمران خان،نعیم الحق،حفیظ خان،مواحد حسین،محمود اعوان شامل تھے کہا جاتا ہے نوشیر وان برکی بھی ان بانیوں می شامل تھے۔یہ حفیظ خان وہی ہیں جو جامعہ پنجاب کے صدر بھی رہے ہیں۔نعیم الحق آج کل وزیر اعظم کے سپیشل اسسٹنٹ اور عمران خان کے انتہائی با اعتماد ساتھیوں میں شامل ہیں۔حفیظ پتہ نہیں کہاں غائب ہیں۔احسن چار سال پہلے اللہ کو پیارے ہو گئے۔پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے کا باعث بھی احسن رشید بنے۔شارع دستور پر سخت گرمیوں کے دنوں میں عمران خان،احسن رشید،ایڈ مرل جاوید اقبال سے ملاقات ہوئی یہ 22 جون کی ایک دوپہر تھی۔میری پی ٹی آئی میں شرکت کا سبب احسن رشید تھا۔یقینا عمران خان کی انقلابی جدوجہد کو میں ایک عرصے اے دیکھ رہا تھا اور 1992ء سے ان سے شناسائی تھی لیکن عملی شمولیت 2007ء میں کی۔

میں نے ایک عشرے سے زاید احسن بھائی کو بھائی ہی پایا۔جدہ میں ہوں یا پاکستان میں ہمیشہ پیار اور محبت کا تعلق رہا۔بات نصیبوں کی ہے نوشیروان عادل نے ایک بوڑھے مالی کو آم کا پودا لگاتے دیکھا اور کہا آپ تو اس کا پھل نہیں کھا پائیں گے۔مالی کا جواب کمال کا تھا کہا ہم سے پہلے والوں نے پودا لگایا ہم نے کھایا اور اب ہم لگائیں گے تو ہماری آنے والی نسلیں کھائیں گی۔سچ بھی یہی ہے۔ حسن نثار نے کیا خوب لکھا وہ اپنے قد سے بھی بڑا آدمی تھا۔ احسن رشید کینسر کے موضی مرض میں مبتلا ہوئے۔اللہ کے کام دیکھیے جس کینسر ہسپتال کو قائم کرنے اور اسے چلانے میں اپنا بہترین کردار ادا کیا اسی ہسپتال میں علاج کے لئے پہنچے۔سلومی بخاری اور احسن رشید کی قربانیاں زریں الفاظ سے لکھی جائیں گی۔

جدہ ہی کی بات ہے وہاں کے لیبر ڈیپاٹمنٹ کو احسن رشید کے کفیل کو بلا لیا کہ تم نے ایک پاکستانی کو پچاس ہزار ریال پر رکھا ہے۔تمہیں چاہئے کہ سعودی کو ملازمت دو۔سعودی کفیل نے جواب دیا میں اس کو اس سے تگنی مراعات بھی دیتا ہوں اس لئے کہ اس نے مجھے اس سے سو گنا زیادہ کما کے دیا ہے۔

احسن رشید نے پی ٹی آئی کو سنبھالا دیا۔ مجھے اندر کی کہانیاں پتہ ہیں۔ سچ پوچھیں پارٹیوں کے اندر کی سیاست بڑی مہلک ہوتی ہے۔ وہ اندر کے چند بندوں کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔ سنٹرل پنجاب کی صدارت سے شکست انہیں اندر سے توڑ گئی۔ مجھے خود بتایا۔ لیکن اللہ کا کام بھی الگ ہیں وہ لوگ بھی اسمبلیوں کو ترس گئے جنہوں نے اس کام قبیح میں حصہ لیا۔
نوید کی شادی پر احسن نہیں آئے میں نے شدید احتجاج کیا اور میسج کیا کہ اس معمولی بیماری کی وجہ سے آپ نے میری خوشی کو بھلا دیا۔ کہنے لگے کاش یہ معمولی ہو۔
لاہور سے پنڈی آئے تو کہنے لگے فلاں بندے کے گھر آ جانا، میں نے کہا احسن بھائی میں زندہ ہوں، کسی کے گھر کیوں؟ میرے گھر سب آئیں گے تشریف لائے۔ مجھے پوری پارٹی میں ان کی جھلک اعزاز آصف میں نظر آتی ہے۔ جو احسن رشید ہی کی وجہ سے دوست بنے۔

یہ بھی پڑھیں:   حضرت عیسی کا تاریخ میں ذکر - کاشف حفیظ صدیقی

جدہ میں ایک تقریب تھی جس میں مہمان خصوصی عمران خان تھے ذوالٹیک کے ذولقرنین علی خان نے بندوبست کیا تھا۔میں نے آخر میں بلانے کی کوشش کی کہنے لگے یہ کیسے ممکن ہے کہ میرا لیڈر پہلے بولے تو میں بعد میں۔وہ عمران خان کو عمران کہہ کر بلاتے۔خود وزیر اعظم عمران خان سلومی بخاری اور احسن رشید کو نہیں بھولتے۔ایک مزے کی بات بتاؤں۔۲۰۰۲ میں جب جدہ کے پاکستانیوں پر سفیر پاکستان قہر بن کر ٹوٹے۔تو کچھ دوست جو آج بہت سے لوگوں کی قسمت کے فیصلے کر رہے ہیں۔وہ جنرل مشرف کی حمائت میں مگن تھے اس وقت میں چند اور پاکستانیوں کے ساتھ جدہ جیل میں تھا۔ہمیں اس لئے بند کر دیا گیا کہ ہم نواز شریف کے ساتھی گردانے گئے۔روزنامہ خبریں میں چھپی ڈائریاں گرفتاری کا اک سبب تھیں۔ویسے سچی بات یہ تھی کہ اسکول کے معاملے میں سفیر پاکستان کی تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا۔ جن دنوں ریفرینڈم ہو رہا تھا پاکستانی سخت مشکل میں گرفتار تھے۔بہت سے لوگ جدہ سے چلے گئے تھے۔ ایک روز احسن رشید سے بات کی پتہ چلا لندن میں ہیں۔ سوچتا ہوں جمہوری لوگ جتنے بھی برے ہوں اس طرح تو لوگوں کے گھر نہیں اجاڑتے۔ شاید اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہے۔ہاں البتی جمہوریت ہونا چاہیے۔

چار سال گزر گئے۔کہتے ہیں تھانے دار کی ماں مری جگ آیا تھانے دار مرا کوئی نہ آیا۔وہ اکثر دوستوں کی محفل میں اپنی بیگم کا نام لیتے اور کہا کرتے نادرہ نے یہ کہا وہ کہا۔آج بھابی کی کوئی خبر نہیں۔کوئی ان کے بیٹے کو نہیں جانتا۔دوستو!کبھی کبھی سوچتا ہوں احسن رشید ایک شیر تھا اور شیر کی کچھاروں میں شیر ہی پلتے ہیں۔مجھے زلفی بخاری، نعیم الحق اور ان گنت عمران خانی دوستوں کی تعیناتی پر خوشی ہے۔ کاش احسن رشید کے گھرانے سے بھی کوئی دائیں بائیں حکومتی بنچوں پر بیٹھا نظر آتا۔ احسن رشید اس وقت تک یاد میں رہے گا جب تک آنکھیں کھلی ہیں نوید ان کی بیماری کے دنوں میں عیادت کے لئے جاتا رہا۔میں جب راشد خان،امین ذکی،حامد خان کو دیکھتا ہوں دوست یاد آ جاتا ہے۔میں نے کالم کا عنوان میرا دوست احسن رشید اس لئے رکھا ہے کہ میرے مربی و محسن ضیاء شاہد کی ایک کتاب کا عنوان اس سے ملتا جلتا ہے۔مجھے ایسے موقعوں پر برادر منور ہاشمی کا شعر رلا دیتا ہے
جانے والا جا چکا تھا اور میری آنکھ میں
اک لرزٹا ٹمٹماتا سا ستارہ رہ گیا