ہم جو والدین ہیں - روبینہ فیصل

میرا پچھلا کالم "شادی "سوچ کی ایک کھڑکی کھولنے کی کوشش تھی۔ وہ ایک بچی کا اندرونی کرب تھا جو کینیڈا جیسے ملک میں رہتے ہو ئے بھی اس گھٹن کا شکار تھی جو شاید آج کل پاکستان میں بھی لڑکیوں کو نہیں ہوتی۔

سوشل میڈیا نے استاد اور والدین کی جگہ لے لی ہے اور اب وہ استاد اور والدین کے کردار کا تعین کرتا ہے۔ چھوٹی سی ایک مثال پیش کرتی ہوں ہمارے بچے یو ٹیوب پر کچھ براپمٹن کے سکھ لڑکوں کی ویڈیوز بہت ذوق شوق سے دیکھتے تھے۔ مجھے شروع میں سمجھ نہ آئی کہ ہم جو بھی بات کرتے ہیں ایکدم سے ہمارے بچے ہنسنا کیوں شروع کر دیتے ہیں۔ آخر کو ہم والدین ہیں اور ہم نے انہیں اچھے برے کا فرق بتانا ہے اور اپنی ثقافت سے جوڑے رکھنا ہے مگر یہ تو ہماری سب باتوں کو مذاق لینے لگ گئے ہیں۔ کھرا نکالا تو اس سکھ لڑکی کی یوٹیوب ویڈیوز تک جا پہنچا۔ جب میں نے بچوں کے ساتھ بیٹھ کے دیکھنا شروع کیاتو "براون والدین" کا مذاق مذاق میں وہ حشر کیا ہوا تھا کہ مجھے سمجھ نہ آئے کہ میں بچوں کے ساتھ مل کر ہنسوں یا اس بات پر روؤں کہ اب ہم ایک کامیڈی سبجیکٹ بن کے رہ گئے ہیں۔ خیر میں بھی کچھ ایپی سوڈز تک ان کے ساتھ ہنستی رہی تاکہ انہیں یہ نہ لگے کہ مجھے کچھ برا لگ رہا ہے۔ کچھ ایپی سوڈز کے بعد میں نے بچوں کو ایک پوائنٹ پر لا کر بتا دیا کہ مذاق اپنی جگہ مگر کیا براون والدین اتنے ہی سٹوپڈ ہو تے ہیں جتنے یہ لڑکے دکھا رہے ہیں؟ بچوں نے اس کے دفاع میں کچھ کمزور دلیلیں دیں مگر پہلی دفعہ شو دیکھتے ہوئے ان کی ہنسی کو بریک لگی۔ مجھے ہنسنا اور بہت سا ہنسنا اور دوسروں کو بھی بہت سا ہنستے دیکھنا بہت ہی زیادہ اچھا لگتا ہے۔ ہر کہانی کے آخر میں بچوں کے ذہنوں میں جو ماں باپ کا تصور رہ جاتا ہے وہ یا تو ہنستے چہرے کا ہوتا ہے یا ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے والدین کا۔ کیونکہ زندگی کے سٹیج پر زمانے کے سبق انسان کواپنے حساب سے کرادروں میں ڈھال دیتے ہیں۔ اس لیے والدین کے بس چہرے ، ان کے رویے ہی یاد رہ جاتے ہیں۔ میں نے پھر سے ہنستے ہو ئے کہا ہم اتنے بھی برے نہیں ہوتے۔ بچے، سکول میں اس پاپولر شو کی پاپولریٹی کی رو میں بہہ رہے تھے بس اپنا پوائنٹ آف ویو ان کی کتابوں میں ریکارڈ کروانے کی دیر تھی کہ میں نے محسوس کیا کچھ دنوں بعد رفتہ رفتہ اس شو کی باتیں بچوں کے درمیان کم ہو نے لگیں اور بالآخر ایک دن بچے اس شو سے نالاں ہو گئے۔ بس اتنی سی بات۔ بچوں نے سمجھنا ہو تو اتنے سے اشارے سے بھی سمجھ جاتے ہیں نہ سمجھنا ہو تو زمین آسمان ایک بھی کر دو تو کچھ نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   والدین کا دل جیتنے والے دس کام - ابو محمد مصعب

میرا بیٹا گریڈ ۵ میں تھا تو ایک اور چاند کی آمد میرے گھر ہوئی تو لگا اسے اتنا وقت نہیں دے پاتی، ٹیچر پیرینٹ میٹنگ میں ٹیچر سے کہا کہ اس کے جو گریڈ کم ہوئے ہیں، میری غلطی ہے میں اسے توجہ نہیں دے پاتی، ٹیچر نے حیرت سے مجھے دیکھا اور کہا یہاں کلاس میں سب کچھ کروایا جاتا ہے، اور یہ اتنا بڑا ہے کہ اس کے اچھے برے کی ذمہ داری، اسی پر ڈالی جا سکے، اس میں تمھارا رتی برابر قصور نہیں۔ خود کو الزام دینے کی یہ بات ہمارے "سیکما" میں ہے، یہ ایک سائیکالوجی کی ٹرم ہے، یعنی ایک چیز جس کے تحت ہم بڑے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی کو لگتا ہے کہ لوگ اس کی معصومیت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، کسی کو لگتا ہے کہ میری ماں ہمیشہ میرے ساتھ برا ہی سلوک کرے گی اور کسی کو لگتا ہے اس نے جب بھی کسی پر اعتبار کیا سے دھوکہ ہی ملا۔ تو یہ ہر ایک انسان کی زندگی میں ایک ون لائنر ہوتا ہے جو اس کی پوری شخصیت کو ڈیفائن کرتا ہے، اس کے ماضی کے سب تجربات بھی اس میں شامل ہو تے ہیں اوراس کی شخصیت پر ایک چھاپ چھوڑ چکے ہو تے ہیں، اور وہ ہر ہو نے والی چیز کو اسی تناظر میں دیکھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں والدین کے سیکما میں یہ بات گھسی ہو تی ہے کہ بچوں کی نیکیاں ان کے کھاتے اور گناہ بھی ان کے کھاتے آنے ہیں۔ تربیت، کارما اور نہ جانے کیا کیا عوامل ہیں جو بچوں کے ایک ایک عمل کے ساتھ جوڑ دیے جاتے ہیں۔ وہ ایک مکمل انسان ہوتے ہیں۔ اپنے اچھے برے کے خود ذمہ دار۔ یونانی ٹریجڈیز کی طرح ہم ہر بات کو کارما پر لا کر ختم کر دیتے ہیں اور یا پھر تربیت پر۔ خلیل جبران نے کہا تھا: آپ بچوں کے بال و پر نہ کاٹیں، آپ انہیں دنیا میں لانے کا صرف ایک ذریعہ ہیں ( کوئی پنجابی ہوتا خلیل جبران تو کہتا کسی باپ کو: پئیو بن ماما نہ بن )۔ کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ بچوں کو اچھا برا نہ بتایا جائے یا جب ان کو کوئی رہنمائی چاہیے ہو تو نہ کی جائے یا انہیں کیرئیر میں آگے بڑھنے کے لیے مناسب مدد نہ کی جائے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انہیں بس احساس دلا دیا جائے اور بتا دیا جائے اچھے برے کا فرق۔ باقی ہماری آنے والی نسلیں جذباتی اور عقلی طور پر ہم سے زیادہ مضبوط اور سمارٹ ہیں۔

یقین جانیے بہت زیادہ سختی سے چیزیں ٹوٹتی ہیں بنتی نہیں۔ بچوں کو ان کی زندگیاں جینے کا حق دیں وہ آپ کو زیادہ عزت دیں گے۔ بےجا سختی کریں گے تو وہ وقتی طور پر جب تک وہ آپ کے در پر پڑے ہیں، آپ کی اچھی بری بات سن اور سہہ بھی لیں گے ، تب تک مان بھی لیں گے لیکن جیسے ہی بال و پر نکالیں گے، وہ اپنی مرضی سے اپنے حساب سے اڑیں گے اور اس اڑان میں وقت کی جھیل کے پانی میں انہیں آپ کا جو چہرہ نظر آئے گا، وہ ایک جلاد یا قصاب کا تو ہو سکتا ہے، ایک شفیق ماں یا باپ کا نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   حاملہ خواتین کے لیے رہنما ہدایات - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

پچھلے کالم میں اس نوجوان لڑکی کے باغیانہ اور ڈپریشن زدہ خیالات آپ سے من و عن شئیر کیے، اس لیے نہیں کہ میں یا وہ لڑکی، لڑکوں سے آزادانہ ملنے یاحد سے بڑھی دوستیاں کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ وہ صرف اپنا کرب سنا رہی تھی اور میں اس کے کرب کو لفظوں کا روپ دے کر ان سب والدین کو سوچنے کی دعوت دے رہی تھی جو شاید آج بھی صدیوں پرانے رواجوں سے جڑے رہنا چاہتے ہیں۔ اور ایسا کرنے میں منافقت کا عنصر ہماری کمیونٹی میں زیادہ جڑ پکڑ چکا ہے۔ بچوں کی عمر اور یہاں کے رواج ان سے آپ اپنے بچوں کو کہاں تک بچا کر پاکستان اور اسلام کے قلعے میں بند رکھ پائیں گے؟ تو ایسا نہیں ہو رہا۔ میں ان سب ماؤں کی ان باتوں پر کہ ان کی بیٹیاں اپنی مرضی سے حجاب لیتی ہیں اور لڑکے داڑھی رکھتے اور پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں، اس دن تک آنکھیں بند کر کے یقین کر لیا کرتی تھی جب تک میں نے ایک ریستوران میں ہائی سکول کی مسلمان لڑکی اور لڑکے (لڑکی نے حجاب اور لڑکے کی ڈاڑھی تھی) بالکل اسی طرح کی حالت میں نہیں دیکھا جیسے ہم یہاں کے گورے لڑکے لڑکیوں کو دیکھتے ہیں۔ اس لڑکی نے حجاب اور لڑکے نے ڈاڑھی نہ اوڑھی ہوتی تو مجھے کہاں پتہ چلتا کہ وہ مسلمان ہیں۔ ان کے ماں باپ نے یہ شناخت ختم نہ کر نے کے لیے ہی انہیں اس میں باندھ کر رکھا ہوگا۔ مگر جو اصل بات ہے اس کا ذکر تو فسانے سے غائب ہو گیا نا۔ پہناوا رہ گیا، روح اڑ گئی، تو روح کے کھوکھلے پن کو روکنے کی بات ہے۔ اس لڑکی کے کرب کو سمجھنے کی ضرورت ہے نہ کہ مجھ پر بھی یہ کہہ کر بےجا تنقید کی جائے کہ میں شادی سے پہلے لڑکے لڑکیوں کے آزادانہ ملاپ کی حمایت کر رہی ہوں اور مجھے یہ یاد دلانے والی ای میلز آنے لگ جائیں کہ میں بھی ایک بیٹی کی ماں ہوں۔ میں تو اس اسلام کی بات کر رہی ہوں جس میں چودہ سو سال پہلے بھی اپنی مرضی اور پسند کا حق دیا گیا تھا۔ مجھے تو اس اسلام سے امید ہے جس نے زمانہ جاہلیت میں روشنی کی کرن دکھائی تھی اور جس میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا، حضور ﷺ کو خود رشتے کا پیام دیتی ہیں۔