یہ مولوی کیسے جاہل ہیں؟ سمیرا امام

ہماری ایک دوست فرماتی ہیں، بیڑہ غرق ہو ان مولویوں کا، ستیاناس ہو ناس پیٹوں کا۔ عرض گزاری، بہن کاہے خفا ہوتی ہیں، آپ کی بھینس لے کے بھاگے ہیں کیا؟ فرمانے لگیں، ان مردودں کی وجہ سے راستے بند ہیں، فلاں نے ہسپتال جانا ہے فلاں کی ماں بیمار ہے او.. بتاتے بتاتے آنکھ سے آنسو نکل پڑے۔ جانے کتنی تکلیف ہو رہی ہوگی میری سہیلی کو، جس کی ماں بیمار ہو، اس کی تکلیف کا اندازہ بھلا کوئی دوسرا کیسے لگا سکتا ہے؟

یہ مولوی کیسے پاگل ہیں، راستے بند کر بیٹھے۔ مجھے وہ والدین یاد آگئے جن کے بچے مر گئے تھے تو وہ دفنانے سے انکاری ہو گئے تھے، انھیں گودوں میں لے کے بیٹھ رہے تھے کہ انصاف ملے گا تو تب ہی دفنائیں گے۔ کیسے ظالم والدین تھے، بالکل ان مولویوں جیسے۔

یہ مولوی کیسے جاہل ہیں، ان کے سینے شق ہیں، ان کے آنسو بہتے ہیں، ان کے کلیجے میں آگ لگی ہے، ان کی دنیا لٹنے کو ہے، چور ڈاکو نقب لگا رہے ہیں، جگہ جگہ سے ان کے آہنی قلعے کی دیواروں میں ضربیں پڑ رہی ہیں، ان کی بینادوں کو کمزور کیا جا رہا ہے، وہ دشمن کی چاپ سنتے ہیں، اور روتے ہیں، آہ و بکا کرتے ہیں۔

یہ کیوں روتے ہیں؟ یہ خاموش کیوں نہیں ہو جاتے؟ ان کی چیخوں کی آواز سے ماؤں کے لال نیند سے جاگ گئے تو؟ نیند ٹوٹ گئی تو کیا ہوگا؟ یہ چپ کیوں نہیں ہو جاتے؟ دیکھیں اس بیٹی کو بھی تو دیکھیں، جس کی ماں بیمار ہے، اور وہ روتی جاتی ہے، ہائے امی ہائے امی!

یہ کیوں روتے ہیں؟ ان کے رونے کا سبب کیا ہے؟ کیا مال چاہتے ہیں؟ کیا اسباب چاہتے ہیں؟ دھن دولت کی بھوک ہے؟ اقتدار مانگ رہے ہیں؟ کیا چاہتے ہیں یہ مولوی؟ مولوی کو درد ہو تو چپ رہنا کیوں نہیں سیکھ لیتا؟ مولوی کا کلیجہ شق ہو تو آنکھیں سی لے، روتا کیوں ہے؟ کسی ملعونہ کو آزادی مل گئی، مولوی کیوں گلا پھاڑ رہا ہے؟

سنو! ہم نے چاہا اعتدال کا راستہ اپنا لیں۔ تم نے کہا جب گستاخ گستاخی کرتا ہے تو عدالت کا در کھٹکھٹاؤ، حالانکہ تمھارے باپ کو گالی ملے تو تم تھپڑ رسید کرتے ہو اور ہمیں اخلاقیات اور اعتدال سکھاتے ہو۔

ہم نے مولویوں سے کہا، پیارے بھائیو! ایک بار عدالت جا کے تو دیکھو۔ ہم کیسے بد قسمت تھے، وہ چلاچلا کر کہتے تھے کہ یہ ہمیں عدالتوں میں رسوا کرنا چاہتے ہیں۔ اور ہم کہتے، نہیں نہیں عدالت جانا چاہیے، اور پھر سالہاسال عدالت کے دروازے کھٹکھٹائے گئے۔ اور ہمیں سمجھ آیا کہ اس ملک میں فیصلہ فقط سپریم کورٹ کر سکتی ہے باقی سب تو گدھے بھرتی کیے گئے ہیں۔ اتنے سال وہ جھک مارتے رہے ہیں، ان کو پھانسی پہ لٹکایا جائے جو ملعونہ کے خلاف فیصلے دیتے رہے ہیں۔ وہ کیوں اس مسئلے کو لٹکاتے رہے تھے؟
اگر اس عورت نے کچھ کیا ہی نہیں تھا تو اس کو اتنے سال جیل میں کیوں رکھا؟ کیوں اس کی وجہ سے غدر برپا ہوئے؟ کیوں؟

آج مولوی نے سڑکیں بند کی ہیں، وہ آئندہ اس سے آگے بڑھیں گے۔ اب اگر تم تمام عمر بھی کہتے رہو کہ فیصلہ عدالت میں تو وہ نہیں مانیں گے۔ مولوی چیخے گا، روئے گا بھی رلائے گا بھی۔ میرے آقا نے فرمایا تھا، " تمھارا ایمان تب تک کامل نہیں جب تک میں تمھیں تمھاری جان تمھارے والدین اور تمھاری اولاد سے بڑھ کر تمھارے لیے محبوب نہ ہو جاؤں "

جو اپنی ماؤں کے لیے روتے ہیں جان لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ سب قربان ... میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ قربان۔ میں سوچتی ہوں قیامت کے دن جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شفاعت کا سوال کروں گی تو زبان گنگ ہوگی، کیسے نظریں ملا پاؤں گی۔
ور حسابم را تو بيني ناگزير
از نگاہِ مصطفي پنہان بگير

اگر ميرے نامہ اعمال کا حساب ناگزير بھي ہو، تو پھر اے ميرے مولي اسے اقا محمد مصطفي کي نگاہوں سے پوشيدہ رکھنا