حاملہ خواتین کے لیے رہنما ہدایات - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

رحم میں موجود بچہ گویا کمہار کے چاک پر دھرا مٹی کا لوتھڑا ہے جسے کمہار نے 9 ماہ میں عادات و خصائل کی تربیت دینا ہے۔ بلاشبہ مٹی اپنی کچھ خصوصیات پہلے سے رکھتی ہے جیسے کہ رنگ، مٹی چکنی کتنی ہے یا اس میں ریت کا تناسب کیسا ہے، یہ سب ماں کے اختیار میں نہیں۔ بچے کی مٹی میں موجود سیٹ آف جینز بہت کچھ پہلے سے طے کر دیتا ہے، لیکن ماں اتنی بھی بےاختیار نہیں۔ وہ بظاہر ایک انسان ہوتے ہوئے بھی دو انسان ہے۔ اس میں دو دل دھڑکتے ہیں، اس میں دو وجود پلتے ہیں اور دو روحیں اپنی غذا پاتی ہیں۔ جڑواں یا زیادہ حمل کی صورت میں معاملات مزید آگے کی طرف چلے جاتے ہیں، لیکن یہاں نسبت ایک کمہار کے چاک پر دھرے ایک بےشکل مٹی کے پیڑے سے دی گئی ہے، جسے کمہار نے اپنی محبت محنت اور توجہ سے ایک نئی شکل میں ڈھالنا ہے، ایک نیا وجود کمہار کے یکسو ہنر اور ارتکاز توجہ کا بین ثبوت ہوتا ہے۔

میرا ماننا ہے کہ دوران حمل، حاملہ عورت خالق کائنات کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ نہ صرف وہ تخلیق کار کے معاون کی حیثیت سے اس سب عمل کی شاہد ہوتی ہے، بلکہ اسے اپنے شعور و تحت الشعور کی گہرائیوں سے محسوس کرتی ہے۔

ان نہایت پاکیزہ 9 ماہ میں جب طبعی ناپاکی قریب سے بھی نہیں گزرنی، ایک ماں اپنی چاہت سے اپنے بچے کی عادات مرتب کر سکتی ہے۔ اس تمام وقت میں سونے جاگنے اٹھنے بیٹھنے کا جو شیڈول ماں اپنائے گی، وہ بچے کے لاشعور میں فیکٹری سیٹنگ کی طرح فیڈ ہو جائے گا، اس کا بائیولاجیکل کلاک ماں کی گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ ٹک ٹک کرے گا۔ ماں کی پانچ نمازیں بچے کو پانچ وقت کے سجدے کے لطف سے آشنا کریں گی اور ماں کی تلاوت بچے کو قرآن کا عادی بنائے گی۔ ماں ترجمے سے قرآن پڑھے گی تو مادری زبان سمجھنے والا بچہ قرآن کے مفہوم کو سمجھنے لگے گا۔ ماں کا تدبر بچے کو بھی سوچ بچار کا عادی بنائے گا۔

ان 9 ماہ میں ایک ماں اپنے رحم میں موجود اولاد کو دن رات کے ہر لمحے بلاروک ٹوک ٹیوشن پڑھا رہی ہوتی ہے۔ وہ رشتے ناتوں سے محبت کا سبق دے یا نفرت کا، یہ اس کی صوابدید ہے۔ اسے خالق سے جوڑے، خالق کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق کا سبق پڑھائے یا مخلوق سے شفقت کا درس اپنے قول و فعل سے اپنی مٹی کے کھلونے میں گوندھ دے۔ یہ سب وہ محض اپنی سوچ و جذبات کے ساتھ بظاہر خاموش رہ کر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تین بیٹے جو والد کو ساتھ نہ رکھ سکے - بشری نواز

اسرائیل کی مائیں بلکہ والدین ان 9 ماہ میں فلسفہ سائنس، آرٹس، کلچر اور تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں، میتھس کی مشکل ترین ایکویشنز حل کرتے ہیں، اور یہ سب ان کا بچہ سیکھنے سمجھنے لگتا ہے۔

ہم سب لوگ بحیثیت معاشرہ اول تو حمل کی مدت کو بس عام سا واقعہ جانتے ہیں، حالانکہ یہ ہر روز، ہر لمحے پیش آنے والے ان گنت معجزوں میں سے ایک الگ، انوکھا، نیا معجزہ ہوتا ہے۔ اس واقعہ حمل کو ہم کچھ اہمیت دے دیں تو زچہ کو کسی سیانی دائی، نرس یا ڈاکٹر کے دو چار وزٹ کروا دیتے ہیں۔ فولاد کیلشیئم کے سپلیمنٹ خرید دیتے ہیں۔ چند ماہ کے لیے اسے گھریلو کام کاج میں رعایت دے دی جاتی ہے، لیکن اس کی ذہنی حالت یا اس کی روٹین کا خیال نہ وہ خود رکھتی ہے نہ اس کا سسرال نہ میکہ۔

ان 9 ماہ میں صرف عورت کا جسم ہی نہیں بلکہ اس کا ذہنی دباؤ بھی دہرا ہو جاتا ہے۔ مرد اسے صرف اس طرح سمجھ لیں کہ روزانہ 24 گھنٹے وہ اپنے پیٹ کے ساتھ ایک پانی سے بھرا غبارہ لٹکا لیں، جس میں ہر روز پانی کی کچھ مقدار بڑھا دیں، 9 ماہ کے آخر میں یہ پانی بھرا غبارہ 24 سے 25 کلو تک کا ہونا چاہیے۔ اب اپنے روزانہ کے کام کاج میں اس پانی بھرے غبارے کا اس طرح خیال رکھیں کہ یہ کہیں کسی چیز سے ٹکرا کر پھٹ نہ جائے۔ اس غبارے کا بڑھتا وزن بھی اپ کو تھکائے گا اور اس کی حفاظت کا خیال بھی آپ کو کچھ اور کرنے کے قابل نہیں چھوڑے گا۔ صحت سے جڑے دیگر مسائل اس سب کے علاوہ ہیں۔

خیر اصل بات تربیت کی ہے۔ میری اصل مخاطب حاملہ خواتین، ان کی مائیں اور ساسیں، ان کی بہنیں، نندیں، دیورانی جیٹھانی کے علاوہ ہونے والے بچے کے والد صاحب ہیں۔
حاملہ خواتین ان 9 ماہ میں اپنی عادات بہتر سے بہترین کر لیں۔ صاف سوچ، پاکیزہ بدن، بہترین کتب اور فالتو ٹی وی پروگرامز کے ساتھ ساتھ فضول سوشل میڈیا گپ شپ اپنی روٹین سے خارج کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا آپ اپنے بچوں پر چیختے ہیں - جویریہ سعید

پانچ نمازیں، تلاوت و اذکار کی پابندی، بہترین معلوماتی کتب کا مطالعہ یا اعلی ترین معلوماتی، اسلامی، تاریخی یا ادبی پروگرامز اور ڈاکیومینٹریز اپنے بچے کے ساتھ دیکھنا۔ جی اپنے نامولود بچے کے ساتھ۔ اسے مخاطب کر کے اس سے بات کرتے ہوئے اسے سمجھاتے ہوئے۔ جیسے موبائل پر گفتگو کرتے ہوئے آپ کو دوسری طرف بات کے سنے جانے کا یقین ہوتا ہے، اسی یقین سے اپنی اولاد سے گفتگو کیجیے، اور اس کی جسمانی حرکات سے اس کا جواب سمجھیے۔ اپنی اولاد کے تمام رشتوں سے مہر و محبت اور الفت کا رشتہ نبھائیے۔ عزت و تکریم اپنی عادت بنائیں۔ بچہ تہذیب یافتہ پیدا ہوگا۔

اپنے شوہر کے ساتھ زندگی کا یہ نیا تجربہ مکمل طور پر شیئر کیجیے، اسے صرف درد تھکن کا حال مت سنائیں۔ بچے کی باتیں شرارتیں اور سرگوشیاں بھی بتائیں۔ اپنے خاوند سے مکمل الفت کیجیے۔ اولاد والدین کے باہمی تعلقات کے لیے حساس ہوتی ہے، اس کے خمیر میں والدین کی محبت وفاداری اور ذہنی ہم آہنگی کا یقین گوندھ دیجیے۔

زچہ کے تمام عزیز و اقارب معاشرے کو بالعموم اور اپنے خاندان کو بالخصوص ایک بہترین ہیرا دینے کے لیے اپنا اپنا مثبت کردار ادا کیجیے۔ آج آپ اچھا کیجیے، کل آپ کی نیکی آپ کو منافع سمیت لوٹا دی جائے گی۔ "نیکی کا بدلہ نیک ہے بد دے بدی کی بات لے" کے مصداق نیکی کی تالی بھی دو ہاتھ سے بجتی ہے اور کیا خوب بجتی ہے۔

بچے کو رحم میں لوری دیں، اللہ رسول اور کلمہ طیبہ یا درود پاک کی لوری سے بہتر کیا ہے۔ اٹھتے بیٹھے فرصت یا مصروفیت میں زبان قرآنی مسنون دعاؤں سے تر رہے اور دل دعاؤں کے معنی سے غافل نہ ہو۔

صحت کا خیال رکھیے۔ آپ اور آپ کے شریک حیات اس بات کا اہتمام کیجیے کہ آپ دونوں کے جسم میں لقمہ حرام داخل نہ ہو تاکہ بچے کے جسم کی کوئی ہڈی بوٹی، ریشہ حرام سے تعمیر نہ ہو اور آپ کے پیارے کے لیے آگ حرام ہو جائے۔ لقمہ حلال اور صحت مند فرمانبردار اولاد راست متناسب ہیں۔ کہنے کو بہت کچھ ہے، لیکن لمبی نصیحت اثر کھو دیتی ہے۔

آپ سب بھی میری اس سوچ میں اپنا ان پٹ دیجیے۔

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.