پیش کر غافل‘ عمل کوئی اگر دفتر میں ہے - ارشاد احمد عارف

حکومت نے سو دن مکمل کر لئے۔ سو دن میں کچھ کر دکھانے یا کم از کم منصوبہ بندی‘ مستقبل شناسی اور پالیسیوں کی تشکیل کے خدوخال واضح کرنے کا دعویٰ عمران خان نے کیا‘ یہ اپوزیشن کی شرط تھی نہ میڈیا کا تقاضا۔ سو دن کیسے گزرے؟ حامیوں بالخصوص وزارت‘ مشاورت اور دیگر مناصب و مراعات سے لطف اندوز ہونے والوں کے لئے یہ عرصہ اور یہ ماحول امیر خسرو کی زبان میں ؎ پری پیکر نگاہ‘ سرو قد و لالہ رخسارے سراپا آفت دل بود ‘شب جائے کہ من بودم (حسن و جمال میں پری کے جسم جیسا ایک محبوب تھا جس کا قد سرو کی طرح سربلند اور رخسار پھول سے زیادہ نرم و نازک‘ وہ سراپا آفت جاں تھا جہاں کہ کل شب میں تھا)۔

البتہ مخالفین بالخصوص مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے احتساب کی چکی میں گھن کی طرح پستے لیڈران کرام اور مشکلات سے دوچار دانشوروں کے لئے یہ سو دن نہ تھے ‘سو ماہ تھے جو گزر تو گئے مگر جیسے گزرے صرف وہی جانتے ہیں جنہیں اقتدار کے مزے چھوڑ کر احتساب کے عمل سے گزرنا پڑا ؎ لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے کل تک جنہیں اپنی جناب میںگستاخی فرشتہ پسند نہ تھی اکیس بائیس گریڈ کے افسر‘ طرم خان عوامی نمائندے اور ارب پتی تاجر و صنعت کار جن کے روبرو کورنش بجا لاتے ‘ وہ گریڈ سولہ سترہ کے تفتیشی افسروں کو جوابدہ ہیں۔

ایف آئی اے‘ اینٹی کرپشن اور نیب جیسے اداروں نے ان کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ دو داخلی محاذوں پر عمران خان کی حکومت نے مثبت پیش رفت کی اور عوام کو باور کرایا کہ اگلے الیکشن پر اس کی نظر نہیں بلکہ قوم کا مستقبل سنوارنے میں وہ سنجیدہ ہے۔پہلے امریکہ‘ بھارت اور افغانستان کے متکبرانہ رویے کی ترکی بہ ترکی جواب کی پالیسی کا ذکر جس نے قومی غیرت کے حوالے سے عمران خان کے دعوئوں کی تصدیق کی اور باور ہوا کہ ع غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں پورے ملک میں تجاوزات کے خلاف مہم اس وقت شروع ہوئی جب ضمنی انتخابات کاڈنکا بج رہا تھا اور حکومتی امیدواروں کو سیاسی نقصان کا قوی امکان۔ ملک بھر میں کھربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی اور قبضہ مافیا پہلی بار‘ بے بس نظر آیا ‘جو ماضی میں حکومتوں کی تشکیل اور اعلیٰ مناصب کی بندربانٹ میں اہم کردار ادا کیا کرتا تھا۔

چند ماہ قبل کوئی سوچ سکتا تھا کہ ایک پراپرٹی ٹائیکون کے زیر قبضہ اراضی پر بنی عمارتوں پر کوئی سرکاری ادارہ بلڈوزر چلا سکتا ہے مگر سیاسی نفع نقصان کی پروا کئے بغیر کپتان کی حکومت نے کر دکھایا۔ اپنی سیاسی آزادی اور معاشی‘ اقتصادی خود مختاری کا خیال پچھلے دو تین عشروں سے ہم نے ترک کر دیا تھا۔ عالمی مالیاتی اداروں کی کڑی شرائط قبول کر کے سستے قرضے اور مہنگے بانڈز سکہ رائج الوقت تھے جسے مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے چام کے سکوں کی طرح چلایا اور ملک کو نوے ارب ڈالر کا مقروض کر دیا‘ ان قرضوں کی وجہ سے ہماری خارجہ اور معاشی پالیسیوں پر سنگین منفی اثرات پڑے‘ روزگار کے مواقع محدود ہوئے‘ مہنگائی بڑھی اور قومی معیشت مفلوج ہو گئی۔ درآمدات کے لئے دروازے چوپٹ کھل گئے اور برآمدات کم ہونے لگیں ۔پیپلز پارٹی کے دور میں پچیس ارب ڈالر کی برآمدات مسلم لیگ کی تاجر و صنعت کار دوست حکومت کے عہد میں بیس ارب ڈالر رہ گئیں‘ پانچ سال میں پانچ ارب ڈالر کا سالانہ خسارہ۔ کپتان کی حکومت نے پہلی بار دوست ممالک کے تعاون سے یہ روش بدلنے کی سعی کی ۔

شرائط ماننے سے انکار کیا۔ خراب معاشی صورت حال کی بنا پر عام شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے کوئی بڑا اقدام تو نہیں ہو سکا مگر پنجاب میں فٹ پاتھوں پر سونے والے غریب‘ نادار اور بے آسرا شہریوں کے لئے پناہ گاہوں کی تعمیر وہ تاریخی کارنامہ ہے جس کی داد نہ دینا کور چشمی ہے۔ یہ ہے ریاست کا وہ کردار جو اسے ماں کے درجے پر فائز کرتا ہے ۔ سو دن میں معیشت ٹیک آف نہیں کر سکی۔ سٹیٹ بنک‘ ایف بی آر اور دوسرے اداروں میں براجمان سابقہ حکومتوں کے نمک خواروں‘ سٹیٹس کو کے محافظوں اور عالمی مالیاتی اداروں کے گماشتوں سے یہ توقع تھی بھی نہیں کہ وہ ایسا ہونے دیں گے۔اسد عمر ‘عمران خان کے قابل اعتماد ساتھی ہیں مگر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ وہ عالمی مالیاتی اداروں کے گماشتہ ٹیکنو کریٹس کے ہاتھوں یرغمال بن چکے یا خود بھی ان کے ہمنوا ہیں۔ فی الحال وہ سائل دہلوی کے اس شعر کی تصویر ہیں ؎ یہ مسجد ہے یہ میخانہ‘ تعجب اس پر آتا ہے جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے لئے وہ بے تاب ‘ اسحق ڈار کی ٹیم کو برقرار رکھنے پر وہ مُصر اور سوئٹزرلینڈ میں پڑی قومی دولت واپس لینے کے بارے میں متامل۔

طارق باجوہ نے جو کہہ دیا وہی جناب کے خیال میں حرف آخر۔ جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالے سے کمیٹی قائم ہو چکی اور ملتان میں سیکرٹریٹ کے لئے پیش رفت جاری مگر نئے صوبے کی تشکیل کے لئے سیاسی سطح پر ہوم ورک سے عوام لاعلم۔ سرائیکی وسیب کی پنجاب سے علیحدگی کے بعد وسطی پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت برقرار نہیں رہ سکتی کہ اکثریت مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے اور فی الحال وہ متحد نظر آتی ہے۔ فارورڈ بلاک کی تشکیل سے تحریک انصاف کی اصولی سیاست کو نقصان ہو گا اور مسلم لیگ (ن) سے جڑے ووٹر میں اضطراب و ہیجان یقینی۔ اس بارے میں تحریک انصاف کی سوچ کیا ہے؟ کسی کو علم نہیں۔ صرف سو دن کی محدود مدت میں تحریک انصاف بطور سیاسی جماعت منظر سے غائب ہے کہ اس کے کم و بیش سارے ہی عہدے دار حکومت کو پیارے ہو چکے اور کارکن بے چارے ع پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں پنجاب میں وہ سب سے زیادہ پریشان ہیں وزیر اعلیٰ سردار عثمان خان بزدار اور کارکنوں میں باہم تال میل ہے نہ وزیر اعلیٰ ہائوس میں کارکنوں کی رسائی آسان۔ سپیکر اتحادی جماعت کے ہیں اور علیم خان سینئر وزیر کے طور پر پھونک پھونک کر قدم رکھتے کہ کوئی بدگمانی جنم نہ لے۔

گورنر چودھری محمد سرور اور علیم خان کارکنوں کے شناسا ہیں اور دونوں ہی رابطوں کے ماہر مگر اقتدار کی نزاکتیں؟ بیوروکریسی اور پولیس میں اصلاحات کے لئے کیا پیش رفت ہوئی’ کوئی کچھ نہیں جانتا‘ ناصر درانی داغ مفارقت دے گئے اور ڈاکٹر عشرت حسین کہیں دکھائی دیتے ہیں نہ سنائی۔ اپوزیشن سے لڑائی جھگڑا تو قابل فہم ہے کہ کرپشن کا خاتمہ اور بے لاگ احتساب موجودہ حکومت کا مینڈیٹ ہے اگرچہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنا اور پارلیمنٹ کا ماحول خوشگوار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔لیکن میڈیا پر دبائو اور اشتہارات کی بندش یا زیادہ درست الفاظ میں اشتہاری بجٹ میں غیر معمولی کٹوتی کا کوئی معقول تو درکنار نامعقول جواز اب تک سامنے نہیں آیا۔ کیا ایک مخصوص میڈیا گروپ کی مخالفت کو عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے پورے میڈیا کی مخالفت سمجھ کر نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے؟ یا وہ قومی میڈیا کو اس قابل ہی نہیں سمجھتے کہ حکومتی ایجنڈے کی تکمیل میں مددگار ثابت ہو سکے۔

مصائب کی شکار اپوزیشن اور مشکلات سے دوچار میڈیا کو دیوار سے لگا کر حکومت کیا فوائد سمیٹے گی؟ کیا حکومت محض سوشل میڈیا ٹیم کے بل بوتے پر اپنی پالیسیوں اور کارناموں کی تشہیر‘ موقف کا دفاع اور اپوزیشن کے بالمقابل حکمت عملی کی وضاحت کر پائے گی؟ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔ فوج اور دوسرے قومی ادارے جب تک حکومت کی پشت پر جم کر کھڑے ہیں اپوزیشن اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ لیکن ریاست مدینہ کی تشکیل کے لئے وضع کردہ ٹیم کے بعض ناکردہ کار ارکان کی غلطیوں اور یوٹرن کاتواتر سے اعادہ کسی وقت بھی خوش گمانی کو مایوسی میں بدل سکتا ہے ۔تب کیا ہو گا؟ غلطیاں انسان سے ہوتی ہیں اور انہیں سدھارنے کی مہلت ملتی ہے مگر غلطیاں کرنے کی اجازت لامحدود ہوتی ہے نہ مہلت لامتناہی۔ سو دن بعد ناقدین تو ناقدین‘ خیر خواہ اور حامی بھی یہ کہنے میں حق بجانب ہیں ؎ یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میںہے پیش کر غافل ‘ عمل کوئی اگر دفتر میں ہے