عمران حکومت کے 100 دن - ڈاکٹر مجاہد منصوری

گزرے 18اگست کو پاکستان کی قومی سیاست میں بڑی تبدیلی برپا ہوئی۔ یہ ملک ہی نہیں خطے اورعالمی سیاست کے تناظر میں بھی کشش کا باعث بنی۔ پاکستان کے مفادات کے حوالے سے دنیا کے اہم ترین ممالک پاکستان کی طرف فوری متوجہ ہوئے۔ ان کی امکانی (تغیر پذیر) نئے پاکستان سے تعلقات کی ضرورت فوری طور پر واضح ہوئی اور انہو ںنے صورتحال کے مطابق سفارتی ایکشن کیا۔ ان سب اہم ممالک کی اہم حکومتی شخصیات نے اسلام آباد کارخ کیا۔ اب یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس اچانک بنتی صورت کے پس منظرمیں، اسلام آباد میں امور ِ خارجہ کا کاروبار ٹھپ پڑا تھا۔ سابق وزیر اعظم نوازشریف ضد پر اترآئے تھے کہ انہوں نے ’’وزیرخارجہ بھی نہیں منتخب کرنا اور خود بھی اس حوالے سے مطلوب کردار ادا نہیں کرنا‘‘ جس کی شدت بڑھتی جارہی تھی۔ تین وزارت عظمیٰ انہیں نہ سمجھا سکیں کہ ایسی ضد گورننس میں ڈیزاسٹر ہوتی ہے۔ شاید پینٹاگان کے پاکستان کے حوالے سے حالیہ ٹویٹ پیغام نے واضح کردیا ہوگاکہ حکومتی سربراہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا ریاستی اداروں کی ضرورت اور آزادی بھی گورننس میں اپنا مقام رکھتی ہے۔

یہ عمران حکومت کا آغاز تھا جو عمران خان کے بطور امتیازی اپوزیشن لیڈر کردار کی کوکھ سے حکومت سنبھالتے ہی برآمد ہوا۔ گویا وزیر اعظم عمران خان بطور غیرروایتی اپوزیشن لیڈر، احتساب اور انسداد بدعنوانی کا ایجنڈا لئے دنیامیں کافی شہرت پہلے ہی پا چکے تھے، جبکہ ان کی اپنی شخصیت کا سحر، ایک شہرہ آفاق کھلاڑی، پرکشش مردانہ وجاہت، پاکستان جیسے کرپٹ ملک میں دیانتدار سیاستدان اور نتیجہ خیز فلاحی جذبے کی وجہ سے بھی کوئی کم نہ تھا۔ وزیراعظم عمران خان کی یہ قابلِ قدر اور سحر انگیز شخصیت انہیں ایک انوکھا اور کامیاب اپوزیشن لیڈر بنانے کا ذاتی اثاثہ ثابت ہوئی۔ ان کی 22 سالہ طویل سیاسی جدوجہد کا یہ کارنامہ ان کی اب تک کی (وزیر اعظم بننے سے بھی بڑی) کامیابی ہے کہ وہ اقتدار ہی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے یہ ممکن کر دکھایا کہ اسٹیٹس کو کی طاقتور حکومت کے برسراقتدار رہتے ہوئے، پاناما اسکینڈل کے بےنقاب ہونے پر آئین و قانون کی بالادستی کے حق میں مسلسل اور بلند درجے کا دباؤ ڈالتے ٹاپ ٹو ڈاؤن احتساب جیسے ناممکن کو پاکستان میں ممکن کر دکھایا۔ سب ہی کچھ تو آئین و قانون کی روشنی اور عدلیہ و نیب جیسے اداروں کےعین آئینی کردار اور آزادی کی ادائیگی سے ہوا۔

دوسری بڑی روایتی جماعت کے ’’سب کچھ‘‘ آصف زرداری کے خلاف آج اصلی احتساب کا جو معجزہ رونماہوا ہے، وہ بقول آصف زرداری، (بار بار کے) ن لیگی حکومت کے قائم کیے گئے مقدمات کا شاخسانہ ہے۔ یہ نہیں ماناجاسکتا کہ ن لیگی حکومت نے کسی روایتی دباؤ کی وجہ سے ایسا کیا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف تو خود ایسے کسی دباؤ کو نہ ماننے میں اتنی واضح پوزیشن لے چکے تھے کہ ماضی میں روایتی دباؤ ڈالنے والے محتاط ہوتے ہوتے خود یہ پوزیشن لے چکے تھے کہ ’’اب کسی منتخب حکومت پر ایسا دباؤ نہ ڈالاجائے جو غیرآئینی مداخلت کے زمرے میں آتا ہو‘‘ بلکہ میاں صاحب تو اعلیٰ منصبی ذمہ داریوں سے بےنیاز اپنے نئے نظریاتی ساتھیوں کے ہمنوا مکمل دیدہ دلیری سے آگے آ کر اپنی مرضی کا شدید متنازع کھیل کھیلتے رہے۔ وگرنہ وزارت ِخارجہ شدید قومی ضروریات کے برعکس اپنی کیپسٹی بڑھانے کے بجائے اجڑتی نا۔ یہاں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے اقتدار میں آتے ہی خارجی امور میں جو تیزتر خوشگوار تبدیلیاں رونما ہوئیں اور ہو رہی ہیں، ان کا گہرا تعلق جاری داخلی اقتصادی بحران سے ہے، جو یقیناً اسٹیٹس کو کے طرز ِ کہن کی پیداوار ہے۔ لیکن یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ پاکستان کے لیے جو قدرے اطمینان کی صورت بنی ہے، اس میں تحریک ِ انصاف کی کسی کامیاب انقلابی پالیسی یا کوئی بڑی اقتصادی حکمت ِعملی یعنی گڈگورننس سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسا ہونے میں ہماری نئی حکومتی قیادت کی شخصیت کے ان مثبت پہلوؤں کا دخل اولین ہے جن کا ذکر اوپر کیاگیا ہے یا پاکستان کی طرف رجوع کرنے والی حکومتوں کے ملکی مفادات کو بھی بڑی وجہ مانا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان، ایک سال میں کیا حاصل کیا؟ محمد عامر خاکوانی

جہاں تک پہلے 100دن میں عمران حکومت کی ظاہر ہونے والی کوالٹی کا معاملہ ہے، اس سے ہر سنجیدہ اور باشعور پاکستانی میں ایک فکر کی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ یہ فکر جاری اقتصادی بحران کی تشویش کے درجے پر آتی جارہی ہے بلکہ معاشی بحران سے نکلنے کی راہیں تو نکلتی نظر آرہی ہیں۔ اس ضمن میں نئی قیادت کے کتنے ہی معیاری پہلوئوں کے زور پر عملاً خودبخود ہو گیا اور بہت کچھ بہتر ہی ہو رہاہے، لیکن داخلی امور کے حوالے سے آغاز ہی پریشان کن ہے۔ صوبوں میں نئے انتظامی سربراہان سے لے کر کابینہ کے ارکان (وزرا) کے انتخاب تک قیادت کے فیصلے مایوس کن نہیں تو ڈبیٹ ایبل ضرور ہیں۔ الیکٹ ایبل کو اسٹیٹس کو کے طرز کی پوزیشن اختیارکرتے اہمیت دی گئی، جو غلط فیصلہ ثابت ہوا کہ وہ اتنی تعداد میں جیت نہ سکے جتنا اندازہ لگایا گیا تھا۔ پھر معاونین اور مشیروں کا انتخاب تو تشویشناک ڈیزاسٹر ہے۔ اس حوالے سے بھی کوئی مشاورت نہیں ہوئی۔ گورننس، موجود و مطلوب اور ظہور پذیرماڈرن نالج اور ٹیکنالوجی کے ساتھ جڑتی نظر نہیں آرہی جو گڈگورننس کی ناگزیر ضرورت ہے۔ وزرا کی وزارت کا انداز اسٹیٹس کو کا عکاس ہے۔ اپنی اپنی وزارت کے حوالے سے ان کا کوئی وژن نہیں۔ کوئی اپنی وزارت کو عوام کی حقیقی خدمت کے لیے چلانے کی صلاحیت کاحامل معلوم نہیں دے رہا۔ پالیسی سازی اور قانون سازی کے لئے جو کچھ پہلے 100 دن میں ہونا چاہیے تھا، اس کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ مسائل تو بہت واضح ہیں اوریہ بہت آسانی سے واضح ہوسکتا ہے کہ وزرا حضرات مسائل کے حل کے لئے موجود وسائل تک کو نہیں سمجھ پا رہے۔ وہ روایتی انداز میں منتظر ہیں کہ خزانہ بھرے گا ہی تو مسائل کے حل کا آغاز ہوگا۔

ایک بہت مفصل فہرست ان مسائل کی تیار کرنا اہم ترین ضرورت ہے جن کے لیے مالی وسائل کا انتظار کرنا ضروری نہیں، بلکہ یہ ذمہ داران کے رویوں اور موجودہ جملہ وسائل سے بخوبی حل ہوسکتے ہیں، لیکن اس کے لئے فہم کا ایک مخصوص معیار اور علوم سے واقفیت ضروری ہے۔ یہ مسائل ٹاسک فورسز کے قیام سے حل نہیں ہوں گے، ان کا تعلق واضح طور پر پالیسی سازی (بشکل ڈاکومینٹیشن اور بمطابق متعلقہ علوم) اور دستیاب ٹیکنالوجی کو اختیار کرنے سے ہے، جو عوام کے لئے ملک گیر سطح پر بڑی اور جلد ی آسانیاں پیدا کرے گی۔ پالیسی کے اطلاق میں ٹیکنالوجی کا استعمال روایتی بیمار انتظامیہ کے رویوں کو تبدیل کرنے میں بے حد معاون ہوگی۔ اس کے باوجود بھی مزاحمت ہو تو، نظام بد کا گندہ خون سمجھ کر اسے جلد سے جلد اس طرح تبدیل کرنا ہوگا جو آئین و قانون کے مطابق ہوگا اور اس پر سیاسی انتقام کا روایتی الزام عائد نہیں کیا جاسکے گا۔ لیکن بڑا سوال یہ سوال ہے کہ بلی کےگلے میں گھنٹی کون باندھے؟ تحریک ِ انصاف کے تنظیمی نظام میں تو اس کا کوئی اہتمام نہیں ہے اور جو قیادت کے درباری بن چکے ہیں، جن پر وزیراعظم کو اعتماد بھی تھا اور اطمینان بھی، جناب عمران خان کی یہ خوش فہمی جلد دور ہو جائے گی کہ یہ خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ عوام الناس کے رویوں میں مطلوب تبدیلی برپا کرنے کے لیے ایک مخصوص ’’کمیونی کیشن سپورٹ سسٹم‘‘ مطلوب ہے۔ انتظامی مشینری کے بااختیار کل پرزے قانون سازی اور ٹیکنالوجی کی اختیاریت سے درست ہوسکتے ہیں لیکن یہ امر تشویشناک ہے کہ پاکستان کی دستیاب ٹیکنوکریسی، جب اس کی شدت سے ضرورت ہے، بکھری ہوئی اور سائیڈ لائن ہے کیونکہ یہ تو اب ثابت شدہ ہے کہ بحیثیت مجموعی عمران حکومت کو اس کے استعمال اور منظم کرنے کا وژن کمزور تر ہے۔