بلیک یا گرین فرائیڈے - شہاب رشید

آج کل جا بجا بلیک فرائیڈے کے چرچے ہیں اور بازاروں میں ہر دکان کے باہر بلیک فرائی ڈے کی آفرز لگی ہیں۔ آخر یہ بلیک فرائی ڈے ہے کیا، اس کا مطلب کیا ہے اور پاکستان میں اس کے حوالے سے مختلف آراء کیوں ہیں اور اس کی حمایت اور مخالفت کیوں کی جاتی ہے، یہ سب سمجھنے اور جاننے کے لیے ہمیں مختلف زاویوں سے اس کو سمجھنا ہوگا۔
بلیک رنگ کو اگر عیسائیت کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بائبل میں کالے رنگ کو سب سے گہرا رنگ مانا جاتا ہے۔ اور اس کو اندھیرے سے تشبیہ دی جاتی ہے۔عیسائیت میں کالا رنگ خوف، موت اور جہالت کی علامت بھی جانا جاتا ہے۔ عیسائیت میں بلیک فرائی ڈے کو اچھے جمعہ کے رنگ کے طور پر بھی لیا جاتا ہے۔ اکثر مغربی ممالک میں کالے رنگ کو موت اور ماتم کے طور لیا جاتا ہے۔ اور اپنے پیاروں کی موت پر کالے رنگ کے کپڑے زیب تن کیے جاتے ہیں۔

بائبل میں کالے رنگ کو ایسے گہرے اند ھیرے سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے جو روشنی کو جذب کر لیتا ہے اور جس سے روشنی چھن کر نہیں گزر سکتی۔ بائبل میں خدا کو روشنی کے طور پر لیا جاتا ہے اور شیطان کو نافرمانی سے پہلے روشنی لے جانے والا کہا جاتا تھا۔ خدا نے جب اس کائنات کو تخلیق کیا تو سب سے پہلے اسے اپنے نور سے بھر دیا۔ جب لوسیفر (شیطان) نے خدا کی نافرمانی کی تو خدا نے اس کے اندر کی روشنی یا نور کو اندھیرے میں بدل دیا۔ جیسے بلیک ہول اپنے اندر سب کچھ سمو لیتا ہے، یہاں تک کہ روشنی بھی اپنے اندر جذب کر لینے کے بعد بھی کالے کا کالا ہی رہتا ہے، بالکل اسی طرح لوسیفر نے جب خدا کی نافرمانی کی تو اس کے اندر کی تمام روشنی اندھیرے میں بدل گئی۔

بلیک فرائیڈے کی اصطلاح کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ اس کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے۔ سترھویں صدی میں امریکن بچوں کے امتحانات جس دن سے شروع ہوتے تھے، وہ جمعہ کا ہی دن ہوتا تھا، اور خریداری کے نقطہ نظر سے 1960ء میں دکانداروں نے اپنے کھاتوں میں نقصان کو سرخ جبکہ منافع کو کالی سیاہی سے لکھنا شروع کر دیا، اور جمعہ کے دن کو ایسے دن کے طور منانے لگے جس میں ان کے کھاتے سرخ سیاہی سے کالی سیاہی میں تبدیل ہوئے جس کے بعد امریکہ کے تاجروں نے فرائیڈے کو بلیک فرائیڈے کے طور پر منانا شروع کر دیا اور اپنی اشیاء پر بھاری ڈسکاؤنٹ دینا شروع کر دیا جس کی وجہ سے لوگ جوق در جوق خریداری کے لیے آنے لگے اور لوگ اس انتظار میں رہتے کہ کب بلیک فرائیڈے آئے اور وہ خریداری کر سکیں۔ اس کی وجہ سے تاجروں کے کھاتے سرخ سیاہی کی جگہ کالی سیاہی سے بھرنے لگے۔

1975ء میں امریکن اشرافیہ بلیک فرائیڈے کو بےہنگم ٹریفک اور لوگوں کے برے رویے کی اصطلاح کے طور پر لینے لگی کیونکہ جو لوگ خریداری کے لیے بڑے بڑے شاپنگ مال میں آتے وہ چیزوں پر پل پڑتے، ایک دوسرے سے چیزیں چھینتے مارا ماری کرتے، یہاں تک کہ سستی اشیاء کی لالچ نے لوگوں کے اندر صبر و برداشت کو چلتا کیا جس کی وجہ سے بلیک فرائیڈے کو برے رویے کے طور پر جانا جانے لگا۔ 29 نومبر 1975ء کو نیویارک ٹائم نے بلیک فرائیڈے کو ٹریفک اور خریداری کے لحاظ سے سال کا مصروف ترین دن قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   سچ کی تلاش - رعایت اللہ فاروقی

شروع میں بلیک فرائیڈے صرف امریکہ میں منایا جاتا تھا لیکن جلد ہی دنیا بھر میں بلیک فرائیڈے کو کرسمس کی پہلی چھٹی کی خریداری اور شکریہ کے طور پر منایا جانے لگا، اور آہستہ آہستہ اس نے تہوار کی شکل اختیار کر لی۔ امریکہ کی تمام بڑی کمپنیاں اس تہوار میں اسی فیصد تک بھی چھوٹ دیتی ہیں جو وہاں کی عوام کے لیے سال بھر میں بہت بڑی کشش ہوتی ہے، لوگ تمام سال اس لوٹ سیل کا انتظار کرتے ہیں اور اس موقع پر دل کھول کر خریداری کرتے ہیں۔

جس طرح ہمارے نبی کا پسندیدہ رنگ سبز تھا، اسی طرح آپ ؐ نے کالے رنگ کو جنگوں میں بطور جھنڈے کے استعمال کیا، جو کہ بالکل سیاہ رنگ کا تھا جس میں کوئی دوسرا رنگ یا نقش استعمال نہیں کیا گیا تھا، اور اس جھنڈے کو عقاب کا نام دیا گیا جو کہ قریش قبیلہ کا نشان تھا۔ اسلام میں جمعہ کے دن کی بہت بڑی اہمیت و فضیلت ہے جس سے کو ئی مسلمان بھی انکار نہیں کر سکتا۔ حضور پاک ؐ کا ارشاد ہے کہ!
’’جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے بڑا ہے اور وہ اللہ عزوجل کے نزدیک عید الاضحی اور عیدالفطر سے بھی بڑا ہے۔ اس میں پانچ خصلتیں ہیں:
۱۔ اللہ نے اسی دن آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ ۲۔اسی دن زمین پر اتارا۔ ۳۔اسی میں انہیں وفات دی۔ ۴۔اسی میں ایک ساعت ایسی ہے کہ بندہ اس وقت جس چیز کا سوال کرے گا وہ اسے دے گا۔جب تک حرام کا سوال نہ کرے اور، ۵۔اسی دن میں قیامت قائم ہوگی، کوئی مقرب فرشتہ و آسمان و زمین اور ہوا اور پہاڑ ایسا نہیں کے جمعہ کے دن سے ڈرتا نہ ہو‘‘۔ (سنن ابن ماجہ ج ۲ ص ۸، ۱۰۸۴)

ایک اور جگہ ارشاد نبویؐ ہے کہ ’’کوئی مسلمان جو جمعہ کے دن یا رات کو وفات پاتا ہے تو اللہ تعالی اسے قبر کے امتحان سے محفوظ فرما دیتا ہے۔‘‘ (ترمذی و احمد)، ارشاد فرمایا ’’جمعہ کا دن جشن کا ہے ،جو کوئی اسے پائے پہلے غسل کرے‘‘۔(سنن ابن ماجہ)

ان ارشادات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے تمام دنوں میں سب سے اہم اور افضل ہے۔ اور بےشک یہ دن مسلمانوں کے لیے عبادت کا اور گناہوں سے استغفار و نجات کا دن ہے۔ اس لیے کوئی بھی مسلمان جمعہ کی فضیلت سے انکار کر ہی نہیں سکتا۔

پاکستان میں بلیک فرائی ڈے کو متعارف کروانے والی دراز نامی ایک اون لائین سیلنگ کمپنی تھی جس نے 2015ء میں ایزی پیسہ کے اشتراک سے بڑا شاپنگ ڈے منایا اور اپنے صارفین کو ڈسکاؤنٹ دے کر کروڑوں کا بزنس کیا، جس کو بعد میں دوسری آن لائن کمپنیز نے بھی منانا شروع کر دیا جو کہ اب ہر سال بنکوں کے اشتراک سے باقاعدگی کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   باتوں سے آگے، عمل درآمد کا وقت! شیخ خالد زاہد

پاکستان میں اس وقت یہ بحث عروج پر ہے کہ فرائیڈے کے ساتھ بلیک لگا سکتے ہیں کہ نہیں، اور کیا یہ یہودی سازش ہے کہ پاکستان بھر میں لوگوں نے بلیک فرائیڈے کو منانا شروع کر دیا ہے، جس کا فیصلہ عوام نے خود کرنا ہے کہ آیا یہ یہودی سازش ہے کہ نہیں۔

پاکستان میں لوگوں کو بلیک فرائی ڈے منانے پر اعتراض نہیں، سوال صرف یہ ہے کہ ہمارا مبارک دن جمعہ کالا نہیں ہو سکتا، لوگوں کو صرف اس کے کالے ہونے پر ملال ہے۔ میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ رنگ کا بھی اتنا مسئلہ نہیں ہے، یہ بہت آسانی سے حل ہو سکتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں کرسمس سے پہلے لوگوں کی آسانی اور سہولت کے لیے سستے بازار لگا دیے جاتے ہیں، تاکہ امیر و غریب فائدہ اٹھا سکیں، لوگ سال بھر کرسمس کی چھٹیوں کا انتظار کرتے ہیں کہ چھٹیوں سے پہلے بلیک فرائیڈے کے موقع پر وہ خریداری کریں گے، یہاں تک کہ غریب لوگ اس موقع پر سال بھر کی خریداری کر لیتے ہیں، جس سے ان کا بھرم بھی قائم رہتا ہے اور ضرورت کی ہر چیز بھی انتہائی کم قیمت پر میسر آتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم اپنے مسلم تاجروں کا تقابل وہاں کے غیر مسلم تاجروں سے کریں اور رمضان اور عید پر اپنے ہاں جو مہنگائی کا طوفان امڈ آتا ہے، اس کا جائزہ لیں تو انتہائی دکھ اور تکلیف سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ کسی عیسائی یا یہودی لابی کی سازش نہیں، یہ ہمارے اپنے مسلمان تاجروں اور بھائیوں کی سازش ہے جو اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی خون پسینے کی کمائی سے اپنی جیب اور اکاؤنٹ بھرتے ہیں، ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور مصنوعی بحران پیدا کر کے کروڑوں روپیہ غریب لوگوں کی جیبوں سے نکلوا لیتے ہیں۔ کرسمس کے موقع پر بلیک فرائی ڈے منانے والے تاجروں کو شرم آنی چاہیے اور ایسا انتظام کرنا چاہے کہ ہم اپنے مذہبی تہواروں پر اس طرز کی سیل کا اہتمام کریں، صرف مسلم تاجروں کی بات نہیں، دراصل اگر ہم بحثیت مجموعی اپنے معاشرے کا تقابل مغرب کے معاشرے کے ساتھ کریں، تو ہر معاملے میں ہمارا سر شرم سے جھک جائے گا اور جہاں تک رنگ کا تعلق ہے تو اللہ اور نبی ﷺ کا پسندیدہ رنگ سبز ہے، اور ہمارے پرچم کا رنگ بھی سبز ہے تو اس کو گرین فرائیڈے کے طور پر بھی منایا جا سکتا ہے، مگر افسوس کہ ہم نے مغرب کی ہر بات کی اندھی تقلید کرنی ہے لیکن مغربی معاشرہ کی اچھی باتوں کو نہیں اپنانا۔

Comments

شہاب رشید

شہاب رشید

شہاب رشید ہے وکالت کے شعبہ سے منسلک ہیں، اور سول کے ساتھ کارپوریٹ اور ٹیکس لاء میں پریکٹس کرتے ہیں۔ اردو ادب سے گہری وابستگی ہے۔ حالات حاضرہ، اردو افسانہ و ڈرامہ پسندیدہ موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.