دھماکے کی خبر اور ملکی مفاد - اے وسیم خٹک

وہ گزشتہ کئی سالوں سے مشہور ٹی وی چینل میں بطور سنئیر نیوز پروڈیوسر کام کرتا تھا۔ چینل کا مالک ہر نیوز بلیٹن میں اُس سے رن ڈاؤن پوچھتا کہ آج کون سی خبر پہلے جانی چاہیے، وہ خود چینل کے مالک کے نیوز سینس سے متاثر تھا جو خبر وہ منتخب کرتا باقی چینلز کی بھی وہی ہیڈ لائن ہوتی۔

کسی بھی دھماکے کی نیوز ہمیشہ ہیڈلائن نیوز ہوتی مگر اُس دن وہ سینئر نیوز پروڈیوسر پریشان ہوگیا جب چینل کے مالک نے ایک بڑے دھماکے کی جگہ چائنہ قونصلیٹ پر ہونے والے حملے کی خبر کو فوقیت دی کیونکہ کیو شیٹ میں پروڈیوسر نے دھماکے کو پہلے نمبر پر اور قونصلیٹ حملے کو دوسرے پر رکھا تھا۔ چینل کے مالک نے پروڈیوسر کو بُلایا اور پوچھا، آج کی دو خبروں میں کون سی نیوز اہم ہے؟ پروڈیوسر نے کہا کہ سر دھماکے کی نیوز بڑی خبر ہے کیونکہ دھماکے میں 35 لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور قونصلیٹ میں چار افراد کے جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کی اطلاع ہے۔ چینل کے مالک نے کہا کہ تم نے خبر کی تعریف پڑھی ہے۔ خبر کیا ہوتی ہے؟ پروڈیوسر نے کہا جی سر: خبر کی بہت سی تعریفیں ہیں۔ اُن میں سے ایک مشہور یہ ہے کہ جو غیر متوقع ہو اور پہلے نہ ہوا ہو۔ چینل کے مالک نے کہا کہ پھر آپ نے دھماکے کی نیوز کو پہلے نمبر پر کیوں رکھا؟ پروڈیوسر نے جواب دیا، سر! کیونکہ دھماکہ غیر متوقع تھا اور اس میں زیادہ معصوم جانوں کا ضیاع ہوا تھا۔ جبکہ قونصلیٹ میں کم لوگوں کی شہادت ہوئی تھی۔ اس لیے وہ خبر اہم تھی چینل کا مالک بولا، نہیں یہاں پر چائنہ قونصلیٹ کی خبر بڑی نیوز ہے کیونکہ اس میں ایک بڑا ملک چائنہ شامل ہے اور پھر سی پیک ایک بڑا منصوبہ ہے اور اس میں ملکی مفاد ہے، اس لیے آج ہنگو اورکزئی دھماکے کی نیوز سے چائنہ قونصلیٹ پر حملے کی خبر بڑی خبر ہے۔ اور ہاں! دوسری بات خیبر پختونخوا میں تو روز ہی دھماکے ہوتے ہیں اور روز ہی اتنے مرتے ہیں، وہ اب ایک روٹین کی نیوز بن گئی ہے۔ اور جو روٹین کی خبر ہو وہ بڑی خبر نہیں ہوتی۔ آئندہ دھماکے کی خبرکو فوقیت نہ دیں۔

پروڈیوسر ہکا بکا رہ گیا تھا کیونکہ اسے عام نیوز اور خاص نیوز کی سمجھ آگئی تھی ۔اور پھر خبرنامے میں بڑی خبر وہی رہی اور پھر پورا ایک پروگرام بھی خاص نیوز پر رہا کیونکہ اس میں ملکی مفاد تھا۔اور ہاں وہ اخبار کے نیوز ایڈیٹر کو کہہ دو کہ اورکزئی دھماکے والوں کو جاں بحق جبکہ قونصلیٹ حملے میں شہادت ہونے والوں کو ہیڈ لائن میں شہید لکھ دو ـ