عاصمہ حدید کی ہفوات - مفتی منیب الرحمن

پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی محترمہ عاصمہ حدید نے اپنے آپ کو ایک دانشور کی حیثیت سے پیش کرتے ہوئے اسلام کے مسلّمات پر اپنی زبان کا تیشہ چلایا اور قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر مَن پسند تشریحات کیں۔ خدا معلوم کہ یہ پی ٹی آئی کی پالیسی ہے یا محترمہ کے اپنے افکارِ فاسدہ ہیں۔ میں نے وزیرِ اعظم جنابِ عمران خان سے کہا تھا: حساس مذہبی امور پر بات کرنے کے لیے وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نورالحق قادری کو مقرر کریں اور اپنے اراکین پارلیمنٹ کو پابند کریں کہ وہ دین کو بازیچۂ اطفال نہ بنائیں، اپنی دانش کے جوہر لٹانے کے لیے کوئی اور مَن پسند شعبہ تلاش کریں۔ لیکن شاید انہوں نے ابھی تک اپنی پارٹی کے اراکین کے لیے کوئی رہنما اصول جاری نہیں کیے۔

ذیل میں ہم محترمہ کے قومی اسمبلی میں خطاب کا متن پیش کر رہے ہیں، کیونکہ بعد میں لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہماری بات سیاق و سباق کے بغیر پیش کی جا رہی ہے، سو اُن کے فرمودات مِن و عَن ملاحظہ کیجیے:
’’میں نے صرف آپ کی توجہ دو چیزوں پر کروانی ہے جو صبح سے سن رہی تھی اور میں نے وہ اس لیے کروانی ہے کہ جو میں نے قرآن سے سیکھا، وہ مجھے کچھ آج تھوڑا سا لگا کہ وہ مجھے بتا دینا چاہیے کہ شاید زندگی کا پتا نہیں ہے، آج ہے کل نہ ہو۔ میں نے قرآن سے یہ سیکھا کہ محمد ﷺ جب نماز پڑھ رہے تھے، اس دوران اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ اب تم خانہ کعبہ کی طرف منہ کرلو، ان کا پہلے جو منہ پڑھ رہے تھے نمازیں وہ یروشلم کی طرف تھیں، یعنی کہ مسجد اقصیٰ، اور محمد ﷺ اتنے Kind اور اتنے دنیا کے بہترین شخص ہیں جو آج تک نہیں ہیں اور ہم ان کو میرا خیال ہے سمجھ نہیں سکے، اور ہم نے ان کو Present بھی اچھے طریقے سے نہیں کیا جو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ حضور ﷺ نے جب نماز صلوٰۃ شروع کروائی تو سب سے پہلے انہوں نے خانہ کعبہ کی طرف منہ کیا لیکن جب یہودیوں نے بہت اس طرح کیا تو ان یہودیوں کو خوش کرنے کے لیے انہوں نے نماز جو تھی، یروشلم کی طرف منہ کر کے کر دی اور جب یہ حکم آگیا کہ آپ ابھی آج سے منہ خانہ کعبہ کی طرف کرلیں تو مجھے یہ سمجھ آئی ہے کہ سوہنے رب نے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے مسلمانوں کے درمیان اور یہودیوں کے درمیان یہ فیصلہ اُسی قرآن کیVerse میں ہوگیا ہے، میرا علم تھوڑا ہوگا، میں نے ہسٹری پڑھی، لیکن میں اپنے اللہ سے ڈر کے اور اللہ کی محبت میں یہ کہہ رہی ہوں کہ اس نے یہ فیصلہ وہیں مسلمانوں کی آسانی کے لیے کر دیا کہ جو یہودی ہیں ان کا کعبہ جو ہوگا وہ یروشلم ہے، مسجد اقصیٰ اور مسلمانوں کا کعبہ، کعبہ جو عرب میں ہے، تو یہاں پہ جو پہلی بات ہے مسلمانوں اور یہودیوں کی لڑائی اس میں ختم ہوجانی چاہیے، اور حضور ﷺ نے بھی کہا تھا، حضرت علی نے بھی کہا تھا کہ اپنے دشمن کو دوست بنالو اور سب سے بہترین مثال حضور ﷺ نے دی جن کو یہودیوں کو ان کے ساتھ مل کے کام کیااور اس کے بعد ہم دوسری بات میں یہ بھی دیکھتی ہوں کہ ہم اتنا یہودیوں کے نام پر ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں اور اتنا ہم ڈی گریڈ کرتے ہیں ،جب ہم نماز پڑھتے ہیں مسٹر اسپیکر، اس میں ہم درود پڑھتے ہیں اور درود میں ہم ساری آل کو دعائیں دیتے ہیں، آل ابراہیم کی جس میں ابراہیم علیہ السلام کے اسحاق، اسحاق علیہ السلام ایک جو ہیں یہودی کا کلام ہے اور ایک کرسچین کا کلام ہے، اس طرح ہم سب ایک ہیں، تو ہم نماز میں بھی ان کو دعائیں دیتے ہیں، لیکن میں یہ سمجھتی ہوں کہ حضور ﷺ نے ہمیں جو سکھایا تھا، ہم اس کی Representation بہت غلط طریقے سے کر تے ہیں، جس طرح ہمارے مولانا بھائی بول رہے تھے اور جس طرح ہم، یہ تو بہت بڑی ڈیوٹی ہے کہ آپ ایک Turban (پگڑی) پہن کر اور اس کے بعد بہت داڑھی اتنا معجزانہ رکھ کے اور آپ حضور ﷺ کی کیا کہتے ہیں کہ راہ پر لوگوں کو لانے کے لیے تو وہ بہت تکلیف دہ بات تھی، میں صرف یہ کہنا چاہتی تھی کہ اگر یہ کہنا چھوڑ دیں ہم اور کچھ تسلی کہ آجائیں اسی پر آجائیں، اور آخری بات میں کہہ رہی تھی کہ حضور ﷺ بھی تو بنی اسرائیل سے تھے، سو اگر ہم تھوڑا اس پہ سب سوچ لیں کہ کوئی ایسا طریقہ ہوسکتا ہے کہ ہم مسلمان جو دنیا میں کٹ مر رہے ہیں، برے طریقے سے بچے سیریا میں یمن میں جو حشر ہو رہا ہے، کوئی ایسا طریقہ کرسکتے ہیں ہمارے بھائی جنہوں نے یہ لے لیا ہے، ذمے داری لے لی ہے اللہ کے راہ پر لانے کے لیے، کسی طریقے سے ان مسلمانوں کواللہ کی کوئی بھی قرآن کی کوئی بھی Verse نکال لیں جس میں مسلمان اور یہ سب جڑ سکتے ہوں، خدا کے لیے وہ کچھ کرلیں تو انسان امن میں آجائے گا، یہ جو پہلا قصہ ہوا ہے مجھے یہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو چنا ہے کہ دنیا میں، دنیا میں امن اور پیس بنانے کے لیے اب ساری دنیا کی نگاہیں ادھر آگئی ہیں، سو میں اپنے کولیگ اور اپنے بہن بھائیوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ اس پہ سوچیں اور مسلمانوں کو کٹ مرنے اور جس طرح مسلمانوں کا اور بچوں کا خون کیا جارہا ہے کسی پہ بھی آجائیں جیسے محمد ﷺ نے بہت ساری Treaties بنائی تھیں یہودیوں کے ساتھ ، آپ بھی کوئی اس پہ سوچیں تاکہ ہمارے مسلمان بچے اور عورتیں جس طرح ظلم ہو رہا ہے وہ کسی طریقے سے بچ جائیں‘‘۔

محترمہ عاصمہ حدید نے نبی کریم ﷺ پر بہتان باندھا ہے: ’’ آپ نے یہود کو خوش کرنے کے لیے پہلے بیت المقدس کو قبلہ بنایا اور پھر العیاذ باللہ! سودے بازی کر لی کہ چلیے! تم بیت المقدس کو قبلہ بنا لو اور ہم بیت اللہ کو قبلہ بنالیتے ہیں‘‘ ۔

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ ریمارکس دینا کہ آپ دین میں مداہَنت اورسودے بازی کے قائل تھے، انتہائی درجے کی ضلالت اور جہالت ہے، قرآن میں تو کفار اوریہود کے ساتھ دین کے بارے میں مداہَنت اورمفاہمت یعنی سودے بازی کی صریح نفی فرمائی گئی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے(1):’’اور وہ (کفار) چاہتے ہیں کہ آپ (دین کے معاملے میں) اُن سے بے جا رعایت برتیں اور وہ بھی (اس کے عوض) آپ کو کچھ رعایت دے دیں، (القلم:9)‘‘۔(2) سورۃ الکافرون توخاص اس موضوع پر ہے کہ دین کے معاملے میں کفار کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں ہوسکتی، قارئین کرام اس سورت کا ترجمہ پڑھ لیں۔
امام محمد بن یوسف صالحی شامی لکھتے ہیں:
’’جب حضرت ابوطالب رسول اللہ ﷺ کی مدافعت میں استقامت کے ساتھ کھڑے رہے، تو قریش کے کچھ لوگ اُن کے پاس گئے اور کہا: آپ کے بھتیجے ہمارے خداؤں کو برا کہتے ہیں، ہمارے دین میں عیب نکالتے ہیں، ہمیں بےوقوف اور ہمارے آباؤاجداد کو گمراہ کہتے ہیں، اس لیے آپ یا تو انہیں روکیں، ورنہ درمیان سے ہٹ جائیں، ہم ان سے نمٹ لیں گے، حضرت ابوطالب نے انہیں حکمت سے ٹال دیا۔ قریش پھر حضرت ابوطالب کے پاس آئے اور کہا: آپ بزرگ ہیں، ہمارے نزدیک آپ کا بڑا مرتبہ ہے، ہم نے آپ کو بھتیجے کی حمایت سے بہت روکا، لیکن آپ نہ رکے، اب ہم اپنے خداؤں کی توہین برداشت نہیں کریں گے، آپ انہیں روک دیں یا ہماری آپ سے فیصلہ کُن جنگ ہوگی۔ حضرت ابوطالب اس پر سخت رنجیدہ ہوئے اور انہوں نے نبی ﷺ سے کہا: بھتیجے! تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے اور یہ کہا، پس آپ مجھ پر اور اپنے آپ پر ترس کھائیں، اور مجھے میری بساط سے زیادہ مشکل میں نہ ڈالیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا ”ترقیاتی“ ماڈل - محمد عامر خاکوانی

عتبہ نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے کہا: اگر آپ کو مال کی ضرورت ہے تو ہم آپ کو اتنا مال جمع کر کے دے دیتے ہیں کہ آپ قریش کے مال دار ترین شخص بن جائیں گے، اگر آپ کو کسی عورت سے شادی کرنا ہو تو ہم قریش کی دس حسین ترین عورتوں سے آپ کی شادی کرادیتے ہیں اور اگر آپ کو بادشاہت کا شوق ہے تو ہم آپ کو بادشاہ بنا لیتے ہیں ،مگر اس دعوائے نبوت سے باز آجائیں ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوطالب سے فرمایا: چچا جان! اللہ کی قسم! اگر یہ سورج کو میرے دائیں ہاتھ اور چاند کو میرے بائیں ہاتھ میں لاکر رکھ دیں کہ میں اپنا مشن چھوڑ دوں ، تو میں ہرگز نہ چھوڑوں گاتاوقتیکہ اللہ اپنے دین کو غالب کردے یا میری جان اس راہ میں قربان ہوجائے ، (سبل الھدیٰ والرشاد، ج:2،ص:326,327,336،البدایہ والنہایہ،ج:3،ص:80، ملخصاً بتصرف)۔

محترمہ نے نبی کریم ﷺ پر یہ الزام لگایا: ’’آپ نے مدینۂ منورہ میں یہودیوں کو خوش کرنے کے لیے بیت المقدس کی طرف نمازیں پڑھیں‘‘، جبکہ قرآنِ کریم شہادت دیتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ہمیشہ سے تمنا تھی کہ آپ اور آپ کی امت کا قبلہ آپ کے اجدادِ اعلیٰ حضرات ابراہیم واسماعیل علیہما السلام کا مکۂ مکرمہ میں بنایا ہوا بیت اللہ بن جائے، آپ ﷺ وحیِ ربانی کے انتظار میں اپنا چہرہ آسمان کی طرف پلٹ کر دیکھتے رہتے کہ شاید تحویلِ قبلہ کا حکم نازل ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’ بے شک ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں ،پس ہم آپ کو ضرور اُسی قبلے کی جانب پھیر دیں گے ، جو آپ کو پسند ہے ، سو آپ اپنا رخ مسجدِ حرام کی جانب پھیر دیجیے اور (اے مسلمانو!)تم جہاں کہیں بھی ہو(نماز ادا کرتے وقت) اپنا رخ مسجدِ حرام کی طرف پھیر لو، (البقرہ:144)‘‘۔اللہ تعالیٰ نے تحویلِ قبلہ کی حکمت بھی بیان فرمائی : ’’اور اے رسول!)آپ پہلے جس قبلے پرتھے ، اُسے ہم نے اس لیے مقرر فرمایا تھا تاکہ (تحویلِ قبلہ کے موقع پر )ظاہر کردیں کہ کون رسول کی پیروی کرتاہے (اور) کون الٹے پائوں پھر جاتا ہے، (البقرہ:143)‘‘۔عقل کا تقاضا تو یہ ہے کہ قبلہ اُس کی پسند کا ہونا چاہیے جس کی عبادت کی جائے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمادیا : عبادت میری کی جائے گی ،مگر قبلہ اُس کے رسولِ مکرم ﷺ کی پسند کا ہوگا ، یہ عظمتِ مصطفی ﷺ کی معراج ہے، کسی نے سچ کہا:


ہزار کعبے، ہزار قبلے، انہی کے نقشِ پا کے صدقے

وہ جس طرف سے گزر گئے ہیں، اسی کو کعبہ بنا کے چھوڑا

تحقیق یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ مکی زندگی میں بھی بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، لیکن حرمِ پاک میں ایسی جگہ کھڑے ہوتے تھے کہ بیت اللہ بھی سامنے رہے اور بیت المقدس کی طرف بھی رخ رہے، یعنی یہ نہیں کہ مدینہ منورہ جاکر یہود کو خوش کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے مصلحت کے تحت بیت المقدس کوقبلہ بنا لیا ہو، آپ کا ہر فعل اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوتا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے ،ان کا فرمان وہی ہے جو انہیں وحی کی جاتی ہے ، (النجم:3-4)‘‘۔محترمہ نے ایک اور تحریف کی اور کہا: ’’حضور ﷺ بھی تو بنی اسرائیل سے تھے‘‘۔آپ ﷺ نے اپنا نسب خود بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ بنی اسماعیل سے ہیں:
’’واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے اولادِاسماعیل میں سے کِنانہ کو چن لیا اورکنانہ کی اولادسے قریش کو چن لیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو چن لیا اور بنو ہاشم میں سے مجھے چن لیا،(صحیح مسلم:2276)‘‘۔(2) انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اور(از آدم وحوا علیہما السلام تاابوین کریمین ) بنی آدم میں جب بھی دو گروہ بنے، اللہ نے مجھے اُن میں سے بہترین میں رکھا ،میں اپنے نسب کی ہر پشت میں ایسے ماں باپ سے پیدا ہوا( جن کا رشتہ نکاحِ صحیح سے قائم ہوا تھا) ، سو عہدِ جاہلیت کی کوئی خرابی مجھے نہیں پہنچی اور(میرے تمام آباء واجداد)نکاحِ صحیح سے پیدا ہوئے ،آدم علیہ السلام سے لے کر میرے سلسلۂ نسب میں کوئی ایسی کڑی نہیں ہے کہ جن کا تعلق حرام طریقے سے قائم ہوا ہو، یہاں تک کہ (نسب کی پاکیزگی )میرے ماں باپ تک قائم رہی ،سو میں تم سب سے بہترین انسان ہوں ، (دلائل النبوۃ ، جلد:1،ص:174-175)‘‘۔الغرض نبی کریم ﷺ اولادِ ابراہیم میں تو یقینا ہیں، لیکن بنی اسماعیل میں سے ہیں ، بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں ، بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کو کہا جاتا ہے۔

محترمہ نے ایک بات کہی:’’ ہم نماز میں آلِ ابراہیم پر درود بھیجتے ہیں‘‘۔ ظاہر ہے کہ اس سے ان کی مراد موجودہ یہود ونصاریٰ ہیں۔ موجودہ یہود ونصاریٰ ہرگز اس کے مصداق نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور ہم نے فرعونیوں کو غرق کردیا اور تم دیکھ رہے تھے،(البقرہ:50)‘‘۔ یہاں قرآنِ کریم میں ’’آلِ فرعون‘‘ کے کلمات آئے ہیں ،امام طبری اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’فرعون مصر کے بادشاہ کا لقب تھا ،جیسے روم کے بادشاہ کا لقب قیصر تھا ،قرآنِ کریم میں جس فرعون کا ذکر ہے ، اس کا نام ولید بن مصعب تھا اورآلِ فرعون سے مراد فرعون کی قوم ،اس کے ہم مذہب اورپیروکارہیں،(تفسیر طبری ،ج:1،ص:308)‘‘۔ فرعون کے بارے میں توآیا ہے کہ وہ بے اولاد تھا ،اس لیے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام ولادتِ باسعادت کے بعد اللہ کی تدبیر سے فرعون کے محل میں پہنچائے گئے ،تواس موقع کی بابت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور فرعون کی بیوی نے کہا:یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، اسے قتل نہ کرو ،شاید یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور وہ (اللہ کی تدبیر)سے بے خبر تھے، (القصص:9)‘‘۔نیز فرمایا : ’’اور یاد کیجیے!جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند باتوں میں آزمایا ،تو وہ اس آزمائش پر پورا اترے ، اللہ نے فرمایا: میں تمہیں سارے انسانوں کا امام بنانے والا ہوں ، ابراہیم نے کہا:اور میری اولاد سے بھی، فرمایا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا،(البقرہ:124)‘‘۔اس سے معلوم ہوا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے حقیقی اہل وہی ہیں جوان کے دین پر ہیں اوروہی امامت کے بھی حق دارہیں ، صرف نسبی رشتہ اس بات کا ضامن نہیں ہے کہ کوئی شخص کسی نبی کی دینی وراثت کا امین بن جائے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اورکہا :اے میرے پروردگار! بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حاکم ہے ،فرمایا: اے نوح! بے شک وہ آپ کے اہل میں سے نہیں ہے ، کیونکہ اس کا عمل خراب ہے ، (ہود:45)‘‘۔الغرض پسرِ نوح کو اُن کی بدعملی کی وجہ سے حضرت نوح علیہ السلام کی نسبت سے محروم کردیا گیا، لہٰذا نماز میں جو ہم آلِ ابراہیم پر درود بھیجتے ہیں ، موجودہ یہود ونصاریٰ اس کا مصداق نہیں ہیں ، کیونکہ وہ ملّت ابراہیمی سے منحرف ہوچکے ہیں ، اب اس کا مصداق صرف امتِ مسلمہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی،بلکہ وہ ہر باطل سے یکسو ہوکر مسلمان تھے اور مشرکین میں سے بھی (نہیں )تھے ،بے شک ابراہیم سے نسبت کے زیادہ حق دار وہ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی اور یہ نبی مکرم اور جو ان پر ایمان لائے اور اللہ اہل ایمان کا مددگار ہے،(آل عمران67-68)‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کے پہلے سو دن، کامیابیاں اور ناکامیاں - محمد عامر خاکوانی

محترمہ عاصمہ حدید نے کہا:’’مسلمانوں اور یہودیوں میں لڑائی ختم ہوجانی چاہیے ،نبی کریم ﷺ اور حضرت علی یہی کہا تھا کہ اپنے دشمن کو دوست بنالواور یہودیوں کو ڈی گریڈنہیں کرنا چاہیے ‘‘۔اُن کا پیغام یہ ہے کہ کافروں کو بھی دوست بنالو، اس کے برعکس یہود ونصاریٰ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فرامین یہ ہیں:
(1)’’اے مومنو!یہودونصاریٰ کو دوست نہ بنائو، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیںاور تم میں سے جو انھیں اپنا دوست بنائے گا، تو وہ یقینا انہی میں سے ہوگا، بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا، (المائدہ:51)‘‘۔(2)’’اے اہلِ ایمان!مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائو، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم پر اللہ کی صریح حجت قائم ہوجائے ، (النساء:144)‘‘۔(3)’’اور یہود ونصاریٰ آپ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے حتیٰ کہ آپ اُن کی ملت کی پیروی کریں ، (البقرہ:120)‘‘۔ (4)’’اور اُن پر ذلّت اورخواری مسلّط کردی گئی اور وہ اللہ غضب میں آگئے ، یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے ، یہ اس لیے (بھی ہوا) کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے ،(البقرہ:61)‘‘۔(5): ’’بے شک آپ جن لوگوں کو مسلمانوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والا پائیں گے ، وہ یہود اور مشرکین ہیں ،(المائدہ:82)‘‘۔

یہ واضح ہوچکا ہے کہ دین کے بارے میں مفاہمت اورسودے بازی نہیں ہوسکتی۔ قرآن نے عام زندگی میں بدی کا بدلہ نیکی سے دینے کی تعلیم دی ہے ، وقتی اختلاف اور دشمنی مسلمانوں کے درمیان بھی ہوجاتی ہے، اسکی بابت فرمایا: ’’اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہیں،(اے مخاطَب!)بدی کا ازالہ نیکی سے کرو،اس کے نتیجے میں وہ شخص کہ تم میں اور اس میں دشمنی ہے ،تمہارا گہرا دوست بن جائے گا،(حم السجدہ:34) ‘‘۔

محترمہ کی تقریر کا نچوڑ یہ ہے کہ موجودہ یہودیت اسلام کی طرح اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ مذہب ہے، جبکہ قرآن نے اہلِ کتاب کو کافر قرار دیا اور فرمایا: ’’بے شک جنہوں نے کفر کیا،جو اہلِ کتاب اورمشرکین ہیں ،وہ ہمیشہ دوزخ کی آگ میں رہنے والے ہیں ،وہی تمام مخلوق میں سے بدتر ہیں،(البینہ:6) ‘‘۔(2)’’بے شک وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا: بلاشبہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے ، حالانکہ ایک معبودِ (برحق) کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں ہے ،(المائدہ:73)‘‘۔ حضرت موسیٰ وعیسیٰ علیہما السلام کے عہدِ مبارک میں یا بعد میں خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت مبارکہ سے پہلے جو لوگ اُن کے دین پر تھے ، وہ مسلمان تھے۔ آپ ﷺ کی بعثت مبارکہ کے بعد جو لوگ آپ پر اورقرآنِ کریم پر ایمان نہیں لائے ،وہ کافر ہیں ، قرآنِ کریم نے کفار کی دو قسمیں کی ہیں :(۱) وہ اہلِ کتاب جو آپ ﷺ پر ایمان نہیں لائے ،یعنی یہودی اور مسیحی (۲) کفارِ محض اور مشرکین۔

انہوں نے مسلمانوں کو یہ مشورہ بھی دیا:’’قرآن میں کوئی ایسی آیت نکال لیں کہ یہود یوں سے دوستی کی گنجائش نکل آئے‘‘۔ ظاہر ہے کہ بندے اپنی طرف سے تو قرآن میں اضافہ نہیں کرسکتے، لیکن اُن کی خواہش ہے کہ قرآنِ کریم میں کہیں نہ کہیں معنوی تحریف کر کے العیاذ باللہ! اُن کی خواہش پوری کردی جائے ۔

پس لازم ہے کہ محترمہ اپنی ان خرافات وہفوات سے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر توبہ کریں اور معافی مانگیں ، کیونکہ اس دانشِ باطل کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی میں کیا تھا اور اصول یہ ہے کہ جس فورم پر باطل کلمات کہے جائیں، توبہ بھی وہیں پرکی جائے۔ پاکستان میں ایک قاصد اور کلرک کے لیے کسی نہ کسی معیارِ تعلیم کی ضرورت ہے، کسی خاص منصب کے لیے تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے، تو وہ لوگ جو پارلیمنٹ میں بیٹھ کر ہمارے ملک کے لیے قانون سازی کرتے ہیں، کیاان کے لیے کسی تعلیم وتربیت کی ضرورت نہیں ہے ، بطورِ خاص جبکہ آئین اس امر کاپابند بناتا ہے کہ قانون سازی قرآن وسنت کے مطابق ہوگی ۔ہمارے بیشتر ارکانِ پارلیمنٹ تو مسودۂ قانون کو پڑھتے ہی نہیں ہیں اور نہ انھیں پتا ہوتا ہے کہ اس میں کیا لکھا ہے، اپنی پارٹی سربراہ کی ہدایت پر ہاں اور نہ کردیتے ہیں ۔ پاکستان روئے زمین کا واحد ملک ہے جہاں اٹھارویں آئینی ترمیم پسِ پردہ مرتّب ہوئی اورپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے ایک دن میں اٹھک بیٹھک کر کے ایک سو ایک ترامیم منظور کرلیں، پارلیمنٹ کا یہی رویہ الیکشن ریفارمز ایکٹ منظور کرتے ہوئے ختمِ نبوت کے حلف نامے کے حوالے سے سامنے آیا۔ہمارے ہاں منتخب ہونے اور حکومت بنانے کے لیے صرف عددی اکثریت کافی ہے ، اس کے لیے کوئی اہلیت اور قابلیت درکار نہیں ہے، جبکہ دعویٰ ہم ریاستِ مدینہ کا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔

محترمہ نے مولانا بھائی کی لمبی داڑھی اور پگڑی کو بھی معجزے سے تعبیر کیا ہے، العیاذ باللہ تعالیٰ، ویسے وہ تھوڑی سی محنت کریں تو اپنے شوہر نامدار اور صاحبزادے کو بھی مولانا بھائی کی وضع اختیار کرنے پر آمادہ کرسکتی ہیں، ان کی جسارت کا یہ عالم ہے کہ دین میں تحریف کر کے پوری امت کو اپنی من پسند راہ پر ڈالنے چلی ہیں، کوئی بتائے کہ یہ راستہ مدینۂ منورہ کو جاتا ہے یا تل ابیب کو۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.