گدھا بطور ایک تہذیبی علامت - محمد عمران خان

انسانی شعور کی یہ ایک نمایاں صفت ہے کہ وہ کسی بھی خیال، تصور، کیفیت اور شے کو کسی علامت سےجوڑ کر اس کے مخصوص معنی متعین کر سکتا ہے۔ اور اس علامت کو اصل کی جگہ پر رکھ کر اس کے مطابق اپنے رویہ و کردار اور عمل کو ڈھال سکتا ہے۔ یہ کام انسان شعوری سطح پر یعنی ارادتاً بھی کر سکتا ہے اور لاشعوری Unconsciously طور پر کوئی دوسرا بھی اس کی مرضی و منشاء کے بغیر یہ کام سر انجام دے سکتا ہے۔ اس process of association کو Conditioning کہا جاسکتا ہے۔ ہر انسانی معاشرہ مختلف النوع علامات کا استعمال کر کے اپنی تاریخ، ثقافت، علمیت اور ماحول کو ظاہر کرتا ہے۔ علامتی اظہار (Symbolism) کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ یہ الفاظ و گفتگو یا مکالمہ کے بغیر، استعارتاً و کنایتاً اپنا مطلب و مدعا نہ صرف پہنچا دیتے ہیں بلکہ اپنے مخاطبین پر خاطر خواہ اثر بھی قائم کرتے ہیں۔ علامات کااستعمال ورائٹی مہیا کرتا ہے، وسیع الجہت تشریحات و توضیحات کی راہیں کھولتا ہے۔ یہ علامات، اشکال و اجسام، جمادات و حیوانات، شجر و حجر، مظاہرِ فطرت و کائنات، رنگوں غرض بےشمار چیزوں اور تصورات پر مبنی ہوسکتی ہیں۔ مثلاً رنگوں کی بات کی جائے تو کالا رنگ موت، برائی یا اندھیرے کو ظاہر کرتا ہے جبکہ سفید رنگ زندگی اور پاکی و صفائی کا اظہاریہ ہے۔ سرخ رنگ اگر خون، جذباتیت، خطرہ اور بداخلاقی کا رمز ہے تو نیلا رنگ امن، سکون و سلامتی کی علامت ہے۔ جانوروں میں شیر خوف اور طاقت کی جبکہ گیدڑ بزدلی و ڈرپوکی کی علامت ہے۔ شاہین عالی ہمتی و بلند ارادوں کی مثال ہے تو فاختہ امن کی اور کبوتر پیغام رسانی کی۔ انسانی جذبات میں مسکراہٹ محبت و دوستی کو بیان کرتی ہے تو پیشانی پر سلوٹیں غصہ، ناراضگی اور ناپسنددیگی کا استعارہ ہے۔ اسی طرح زنجیر دو چیزوں کو باہم منسلک کرنے کا اشاریہ ہے۔ طلوعِ سحر نئے آغاز کو ظاہر کرتی ہے۔ کھوپڑی خطرہ اور موت کی علامت ہے۔ اسی طرح ہمارے اردگرد بےشمار علامات و رمزیہ اشارات ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں، اور ہم دانستہ و نادانستہ انھیں اپنی روزمرہ زندگی میں مخصوص معانی دے کر مسلسل برت رہے ہوتے ہیں۔

جہاں کچھ اشیاء یا علامات ایسی ہیں جن کے معانی و مطالب ہر جگہ مشابہ ہوتے ہیں تو دوسری طرف دو مختلف تہذیبوں میں ایسی اشیاء یا تصور بھی ہوتے ہیں کہ ان کی ’علامت‘ تو ایک ہی ہو تی ہے لیکن اس کے معنی میں بہت فرق یا تضاد پایا جاتا ہے۔ مثلاً اردو محاورہ میں ’’اُلو‘‘ بےوقوفی و ناسمجھی کا استعارہ ہے جبکہ مغربی معاشرہ میں اس سے ذہانت و سمجھداری اور راز و اسرار وابستہ ہے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ایک چیز کسی معاشرے میں امتیازیت رکھتی ہو جبکہ دوسرے سماج میں اسے وہ مقام و منزلت حاصل نہ ہو جیسے گدھا (حمار donkey) مغرب یا اہلِ کتاب ( یہود و نصاریٰ) کی تاریخ و علمیت میں مثبت و نمایاں اوصاف و کمال کا حامل رہا ہے جبکہ اس کے برعکس عربی و اسلامی اور مشرقی معاشروں میں حمار یا گدھے کو منفی و پست ہمتی جیسے اوصاف کا حامل مانا جاتا ہے۔ حمار سے جاہل اور بےعلم آدمی بھی مراد لیا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ و علمیت میں حِمار کے بجائے حِصان (گھوڑے) کو مرکزیت حاصل ہے۔

حمار یا گدھا سماجی سطح پر ہزاروں سال سے انسان کے لیے بار برداری Beast of Burden اور سواری کے کام آتا رہا ہے۔ آج بھی ترقی پذیر ممالک اور اس کے دیہاتوں میں یہ کارآمد جانور تصور کیا جاتا ہے۔ گدھے اور گھوڑے کی نعل کو مشرقی معاشرے میں نیک شگون اور جادو و ٹونہ کے توڑ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لسانی و ادبی سطح پر اگر جائزہ لیا جائے تو گدھے کو عربی زبان میں ’حمار‘، انگریزی میں Donkey/Ass، فارسی میں ’خَر‘ اور عبرانی میں ’حامور یا حمور‘ کہاجاتا ہے۔ مشرقی معاشرہ میں ’او گدھے‘ اور ’نرا گدھا‘ جیسی تراکیب عام بول چال میں استعمال ہوتی ہیں۔ اسی طرح محاورہ مشہور ہے : ’گدھا کیا جانے زعفران کی قدر‘ جس سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ گدھا ایسا بےوقوف جانور ہے جو جاہ و منصب کی قدر نہیں جانتا۔ ایک اور محاوہ ہے ’گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوجانا‘ کہ کسی شے یا تصور کا یکدم غائب ہوجانا۔ فارسی محاورہ ہے خرِ عیسیٰ گر بمکہ رود چوں باز آید ہنوز خر باشد (حضرت عیسیٰ کا گدھا مکہ میں بھی ہو آئے تو اس کی صورت اور سیرت نہیں بدلے گی) مستعمل ہیں۔ اقبال کے بقول: گد از مغزِ دو صد خر فکرِ انساں نمی آید (دو سو گدھے مل کر بھی انسان کی عقل کے برابر بات نہیں کرسکتے)۔ جدید مغربی ادب کے نمائندہ انگریز ڈرامہ نگار شیکسپیئر نے اپنے ڈراموں میں گدھے کی اصطلاح احمق و بیوقوف شخص کے لیے استعمال کی۔ اسی طرح برطانوی ناولسٹ جارج آرویل نے بھی گدھے کو اپنے مشہور ناول Animal Farm (1951) میں اسی پیرائے میں استعمال کیا ہے۔ غرض دنیائے ادب میں گدھے کی اصطلاح عموماً بےوقوف، نالائق، گاؤدی اور نادان کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ حیاتیاتی طور پر ’گدھا‘ گھوڑے کے خاندان ایکویڈے کا رکن ہے۔ براعظم ایشیا اور افریقہ میں دیگر خطوں کی بہ نسبت گدھے زیادہ ہیں جبکہ چین، پاکستان، ایتھوپیا اور میکسکو وہ ممالک ہیں جہاں یہ بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یاد رہے یہاں محاورتا ً بولے جانے والے گدھے نہیں، بلکہ ’اصلی‘ گدھے مراد ہیں!

گدھے کی اگر تہذیبی و مذہبی شناخت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مصری تہذیب میں گدھا، خدا ئے شمس Sun-God ’را‘ کی علامت تھا۔ جبکہ ہندو از م میں دُرگا دیوی (نووا درگا) کی ایک شکل کالارتری کی سواری مانا جاتا ہے۔ قدیم یونانی کہانی نویس ایسوپ (564 ق م) کی لوک داستانوں میں سے ایک ’شیر کی کھال میں گدھا‘ بہت مقبول ہے۔ یہودی و عیسائی روایات (Judo-Christian) میں حامور یا گدھے کا بارہا ذکر ملتا ہے۔ بائبل میں ڈیڑھ سو سے زائد آیات یا مقامات پر گدھے کا ذکر آیا ہے۔ اہلِ کتاب کی مذہبی روایات کے مطابق گدھا گھوڑے سے زیادہ ثابت قدم تصور کیا جاتا تھا۔ پرانے عہد نامہ Old Testament میں کسی شخص کی دولت و ثروت کا اندازہ گدھوں کی تعداد سے لگایا جاتا تھا (پیدائش30: 43)۔ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس بھی کئی گدھے تھے (پیدائش 24: 35)۔ درحقیقت گدھے کی سواری ایک شاہی سوار ی تصور کی جاتی تھی: ’’اے بنتِ صیون (Zion) تو نہایت شادمان ہو۔ اے دخترِ یروشلم خوب للکار کیونکہ دیکھ تیرا بادشاہ تیرے پاس آتا ہے۔ وہ صادق ہے اور نجات اس کے ہاتھ میں ہے وہ حلیم ہے اور گدھے پر بلکہ جوان گدھے پر سوار ہے۔‘‘ (زکریا9: 9)۔ یہودی روایات یعنی عہد نامہ قدیم کی پیشن گوئیوں کے مطابق ان کا مسیحا (دجالAntichrist)گدھے پر سوار آئے گا جبکہ عیسائی روایات (انجیل) کے مطابق یہ عیسیٰؑ یسوع مسیح تھے جو گدھے پر سوار یروشلم میں داخل ہوئے۔ (متی21: 4-7؛ یوحنا12: 14-15)۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم بھی فلم ڈونکی کنگ دیکھنے گئے - محمد عامر خاکوانی

عیسائی ایسٹر کے تہوار سے قبل ’Palm Sunday‘مسیح ؑ کی یروشلم میں فاتحانہ آمد کی خوشی میں مناتے ہیں۔ عیسائیوں میں گدھے کی سواری گھوڑے سے اس وجہ س بھی افضل خیال کی جاتی تھی کیونکہ گھوڑے جنگ کے لیے مخصوص تھے۔ عہدِ قدیم میں گھوڑے کاتعلق جنگ اور طاقت سے اورگدھے کا صلح اور حلیمی سے کیا جاتا تھا۔ تاہم اس سے یہ خیال نہ کیا جانا چاہیے کہ یہود و نصاریٰ بہت صلح جو اور امن پسند قوم ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ پاپائیت (کیتھولک عیسائیت) کے مسیحی بدعتی فرقوں اور سائنسدانوں کے خلاف دل دہلا دینے والے مظالم، مسلمانوں کے خلاف وحشیانہ صلیبی جنگیں، یورپین خانہ جنگیاں و خونی انقلابات، پرفریب استعماری تاریخ، عربوں کے قلب میں یہودی ریاست اسرائیل کا قیام، خونریز عالمی جنگیں اور 9/11 کے بعد امت مسلمہ کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے خلاف سازشوں اور جنگوں کا لا متناہی سلسلہ ان کی جارحانہ و بےرحمانہ طرزِ عمل کی تاریخی شہادتیں ہیں۔ مستشرقہ کیرم آرم اسٹرانگ یہودیوں کے یہودا کو ’’خدائے جنگ‘‘ قرار دیتی ہے۔

یہ امر باعثِ دلچسپی ہے کہ یہودیوں کے ہاں گدھا حرام ہے۔ اسی طرح اسلام میں بھی پالتو گدھا حرام ہے۔ لیکن قربِ قیامت میں یہودی مسیحا (نجات دہندہ Savior) اس حرام جانور پر سوار آئےگا۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ یہودیوں کے بارے میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنے عبادت خانے (سینیگاگ) میں ’’گدھا خدا‘‘ کی عبادت کیا کرتے تھے، اور یہ کہ پیغمبر موسیؑ گدھے پر سوار ہیں اور بعض میں صرف گدھے کا سر بطور عبادت کے استعمال کیا جاتا تھا، جسے ’گدھے کی پوجا Onolatry‘ کہا جاتا ہے۔ بعض اسے یہود کی ’بچھڑے کی پوجا Calf Worship (پرستش گئیو سالہ)‘ سے بھی جوڑتے ہیں۔ بچھڑے کی پوجا کا ذکر قرآن مجید میں بھی کئی مقامات پر کیا گیا ہے، مثلاًفرمایا گیا: ’’جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔‘‘ (سورۃالبقرۃ2: 54) ( النساء 4: 153)۔

یہودی روایات کے مطابق یہود کی پہلی ریاست کے دارالحکومت سِکم Schechem (نابلس: اسرائیل) کا شہزادہ حمور(گدھا) تھا۔ (عہدِ عتیق پیدائش ، باب 34)۔ یہودی روایات میں ’مسیحا کا گدھا Messiah’s Donkey‘ وہ گدھا ہے جس پر یہودی نجات دہندہ (Son of David or Messiah ben David) دنیا کے آخری اوقات میں ظاہر ہوگا۔ یاد رہے! ملحمہ عظمیٰ یا ملحمۃ الکبریٰ ( Armageddon) یا آخری زمانہ کی عظیم ترین جنگوں کے بارے میں احادیثِ ملاحم میں دجال کی سواری ’مخصوص گدھا‘ ہی بیان کی گئی ہے۔ مفتی ابو لبابہ شاہ منصور نے اسرائیلی ایجاد کر دہ طیارہ Heron کو گدھے سے مشابہت کی بناء پر دجال کی سواری قرار دیا جبکہ محمد ذکی الدین کی تحقیق کے مطابق صحیح حدیث میں بیان کردہ جگہ ’’لد Lydda‘‘ فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے دارالسلطنت تل ابیب سے چند میل کے فاصلہ پر ہے، وہاں اب لد ہوائی اڈہ (بِن گوریان ائیرپورٹ) قائم ہے۔ یاد رہے جدید عبرانی زبان میں ’مسیحا کا گدھا‘ کی اصطلاح ایسے برے فعل کے لیے مستعمل ہے جو کسی دوسرے کے کہنے پر کیا گیا ہو۔

یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ذرا ٹھہر کر ایک سرسری نظر دجال کی شناخت و اعمالِ شنیعہ پر ڈال لی جائے۔ ختم الرسل ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’پیدائش آدم سے لے کر قیامت تک کوئی فتنہ دجال سے بڑا نہیں۔ (صحیح مسلم)۔ شیخ محمد کمال مشکاۃ اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں: عیسائی صحیفہ انجیل (Gospel) میں اگرچہ دجال (Antichrist یہودی مسیحا) کا ذکر موجود ہے اور اسے وحشی یا حیوان (Beast) کہا گیا اور اس کا عدد 666 بھی بتایا گیا ہے (یوحنا عارف کا مکاشفہ Revelation13:18)۔ لیکن یہ بہت مختصر، غیر واضح اور مبہم علامات ِ دجال ہیں ۔اس کے بالمقابل پیغمبرِ صادق محمد الرسول اللہ ﷺ نے قربِ قیامت اور دجال کی بہت سی نشانیوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ دجال دَجَل سے مشتق ہے جس کے معنی دھوکہ دینا، فریب دینا، غیر کی شخصیت اختیار کرنا وغیرہ ہے۔ دجال دراصل المسیح الدجال کا اختصار ہے یعنی جھوٹا۔ دجال یعنی وہ شخص ہے جو مسیح ؑ حق ہونے کا دعویٰ کرے یا ان کی شخصیت کا روپ دھار لے اور زبانِ حال یا زبانِ مقال سے دعویٰ کرے کہ وہی مسیح ِحق ہے۔ شیخ موصوف کے مطابق آخری زمانے کے تین بڑے دجال ہیں: (1)پہلا دجال وہ ہوگا جو مسیح حق عیسیٰؑ کے تمام معجزات ِروحانیہ کی نقل غیر روحانی (خصوصاً) مادی وسائل سے کرے گا سوائے احیاء الموتیٰ (مردہ کو زندہ کرنا) ،یہ ’’دجالِ علوم یا دجال ِاصغر‘‘ ہے۔ (2) دوسرا دجال ’’دجالِ مسلم‘‘ وہ ہے جو مسلم ملک (اصفہان / خراسان) سے خروج کرے گا، وہ طوافِ کعبہ بھی کرے گا اور مضافاتِ مدینہ تک پہنچ جائے گا، اور وہاں صرف ایک بار شخص کو قتل کر کے زندہ کرنے پر قادر ہوگا لیکن دوبارہ ایسا نہ کر سکے گا اور خدائی کا دعویٰ دار ہوگا، وہ سیدھی آنکھ سے کانا ہوگا۔ (3) تیسرا دجال سب سے آخر میں ’’دجالِ اسرائیلی یعنی دجالِ اکبر‘‘ خروج کرے گا ( بعد فتحِ روما) اور یہ قرناء شیاطین کی مدد سے بار بار لوگوں کو زندہ کرے گا۔ یہ دجال حرمین (مکہ و مدینہ و مضافات کا علاقہ) میں قطعاً داخل نہ ہوسکے گا اور بائیں آنکھ سے کانا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم بھی فلم ڈونکی کنگ دیکھنے گئے - محمد عامر خاکوانی

قرآن، احکامِ تورات کے بارے میں یہود ی طرزِ عمل کو حمار سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتا ہے: ’’جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا، پھر انھوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں لادے ہو۔ اللہ کی باتوں کو جھٹلانے والوں کی بڑی بری مثال ہے اور اللہ (ایسے) ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ (الجمعہ62: 5)‘‘۔ قرآن جنگلی گدھوں کی صفت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے :’’گویا کہ وہ بِدکے ہوئے گدھے ہوں جو شیر سے بھاگے ہوں۔(المدثر74: 50-51)‘‘ یہ ایک عربی محاورہ ہے۔ جنگلی گدھوں کا یہ خاصا ہوتا ہے کہ خطرہ بھانپتے ہی وہ اس قدر بدحواس ہو کر بھاگتے ہیں کہ کوئی دوسرا جانور اس طرح نہیں بھاگتا۔ اس لیے اہلِ عرب غیر معمولی طور پر بدحواس ہوکر بھاگنے والےشخص کو ان جنگلی گدھوں سے تشبیہ دیتے ہیں جو شیر کی بُو یا شکاری کی آہٹ پاتے ہی بھاگ پڑے ہوں (تفہیم القرآن)۔ قرآن گدھے کی آواز کو کرخت قرار دیتا ہے (لقمان31: 19)۔یاد رہے! گدھے کا بلند آواز میں رینکنا (bray) تقریباً 20 سیکنڈ تک رہتا ہے اور تقریباً تین کلومیٹر کی دوری تک سنا جاسکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ سے اس کا فضل طلب کرو کیونکہ اس نے فرشتے کو دیکھا ہے۔ اور جب گدھے کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے شیطان کی پناہ مانگو کیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے(بخاری)۔‘‘

عرب جاہلی و مذہبی روایات و ادبیات میں گھوڑے کا ذکر بارہا ہوا ہے اور اس کے بےشمار نام ہیں مثلاً الخیل، الفرس، حصان وغیرہ۔ عرب شرفاء و فضلاء گھوڑے کی نسل اور نسب تک یاد رکھا کرتے تھے۔ عربی النسل گھوڑے دنیا میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں ۔اصمعی کی ”گھوڑوں کے متعلق شافی جواب“، ابن ہذیل اندلسی کی ”حلیۃ الفرسان“ معروف ہیں۔ غسانی کی کتاب گھوڑوں کے متعلق مکمل انسائیکلو پیڈیا ہے۔ اس کے علاوہ صاحبی، نمیری اندلسی، دمیاطی اور حال ہی میں سعودی عرب کے تاریخ دان حمد الجاسر نے بھی گھوڑوں کی انواع و اقسام، نسلیں اور دیگر مختلف امور پر کتابیں تحریر کی ہیں۔ قرآن مجید میں گھوڑوں کا ذکر خیر موجود ہے۔ مثلاً سورۃ البقرہ2: 259، سورۃ النحل16: 8 اور سورۃ العادیات100 وغیرہ۔ پیغمبرِ عربی ﷺ نے فرمایا: الخیلُ معقود ُفِی نَواصیھا الخیرُ الی َ یوم القیامَۃ یعنی ’’اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر رکھ دیا ہے ‘‘۔آپ ﷺ کے زیرِ استعمال بھی کئی گھوڑے تھے۔

مغربی ثقافت Western Culture میں گدھا ایک اونچے مقام کا حامل حیوان تصور کیا جاتا ہے جو کہ بائبل اور قدیم یونان سے مغربی تہذیب کا حصہ بن چکا ہے۔ یاد رہے امریکہ میں دو بڑی سیاسی جماعتیں حکومت و اقتدار کی رسہ کشی میں حصہ لیتی ہیں، ایک ریپبلیکن اور دوسری ڈیموکریٹ، جن کے انتخابی نشان بالترتیب ’ہاتھی Elephant‘ اور ’گدھا Donkey‘ ہیں۔ ڈیموکریٹ (گدھا) نہ صرف امریکہ کی بلکہ دنیا کی سب سے پرانی پولیٹیکل پارٹی تصور کی جاتی ہے جس کا آغاز 1792ء میں ٹامس جیفرسن (م 1826) نے کیا۔ یہ تیسرا مریکی صدر وہی Thomas Jefferson ہے جو امریکہ کا فاؤنڈنگ فادر، پہلا امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ، دوسرا وائس پریزیڈنٹ اور امریکی اعلانِ آزادی Declaration of Independence کا لکھاری بھی ہے۔ ڈیموکریٹس نے اپنی سیاسی جماعت کے لیے گدھے کی انتخابی علامت 14 جنوری 1870ء کو استعمال کرنا شروع کی۔ بعد ازاں 1874ء میں کارٹونسٹ ٹامس ناسٹ Thomas Nast نے سب سے پہلے ان امریکی سیاسی پارٹیوں کے لیے ’ہاتھی بمقابلہ گدھا Donkey and Elephant‘ کی علامات ہارپر میگیزین میں پیش کی تھیں۔ ناسٹ کو[english] Father of American Cartoon کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کھیل کے میدانوں میں بھی گدھا امریکی فکر کی نمائندگی کرتا نظر آتا ہے۔ Donkey Basketball وہ کھیل ہے جس میں کھلاڑی گدھے پر سوار ہو کر باسکٹ بال کھیلتے ہیں، یہ کھیل امریکن پبلک اسکولز میں 1930ء سے جاری ہے۔ برطانیہ میں دنیا کی سب سے بڑی تحفظِ حیوانات کی خیراتی تنظیم قائم ہے جس کا نام ’مقدس گدھا‘ (The Donkey Sanctuary) ہے۔ یہ ادارہ ساری دنیا میں گدھوں، گھوڑوں اور زیبروں (Equidae Family) کے تحفظ و بقا کے کاموں میں مصروف عمل ہے۔ کئی مغربی ممالک میں گدھوں کی سالانہ ریس کا انعقاد کیا جاتا ہے، مغربی تہذیب کی نقالی میں کئی مشرقی معاشروں مثلاً پاکستان و مصر وغیرہ میں بھی ایسی ’گدھا دوڑ‘ کا انعقاد کیا جانے لگا ہے۔ حال ہی میں (13 اکتوبر 2018) جیو فلمز نے پاکستان کی پہلی کمپیوٹر اینیمیٹڈ فلم The Donkey King (ڈونکی راجہ) ریلیز کی ہے۔ اس مووی کو بہت زیادہ ایڈورٹائز اور پبلی سائز کیا گیا اوراس کا ایک گانا بار بار نشر کیا جاتا رہا۔ راجپوت برادری نے اس فلم اور اس کے گانے کے خلاف ہتک عزت کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی ہے(گلف نیوز 16 اکتوبر 2018)۔

اس تحریر کا حاصلِ کلام یہی ہے کہ ہر تہذیب اپنا ایک الگ ورلڈ ویو یا تصورِ حیات و مَعاد رکھتی ہے اور اسی سے اس کی علمیت و تاریخ، ثقافت، تمدن اور طرزِ زندگی ابھرتے ہیں اور علامتی نظام Symbolism Structure بھی مرتب ہوتا ہے۔ اگر غالب تہذیب کے ان علامتی اظہاریوں کو بلا سوچے سمجھے اپنانا یا اختیار کرنا شروع کر دیا جائے تو ان علامتوں کو قبول کرنے والی معاشرت اور تہذیب جلد یا بدیر اپنی امتیازی علامات و اشارات اور ان کا فہم ترک کر کے غالب تہذیب کے علاماتی سانچوں میں خود کو ڈھالنے لگتی ہے۔ اُن کے ہیرو اِن کے بھی ماڈل و سلیبرٹی بننے لگتے ہیں۔ غالب تہذیب کی کمزوریاں اور قباحتیں یا تو نظروں سے بالکل ہی غائب ہوجاتی ہیں یا بےمعنی ہونے لگتی ہیں اور انسان غیر ارادی طور پر ان میں رنگ کر انھی کا ہم رنگ بن جاتا ہے۔ مغربی تہذیب کے ثقافتی و تمدنی آثار و علامات کو اپنی تہذیب میں سمونا تہذیبی خود کشی کے مترادف ہے۔