سیرت نگاری کا ارتقاء - ہلال احمد تانترے

لفظ سیرت کی تعریف و تاریخ
عربی زبان میں لفظ ’سیرت‘ یا ’سیرہ‘ اس کے صیغہ فعل ساز، یسیر، سیراََ سے نکلا ہے جس کے معنیٰ چلنے پھرنے یا سفر کرنے کے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے معنیٰ طریقہ، شکل و صورت، راستہ، روش اور چال چلن کے بھی ہیں۔ کسی ایک انسان کی سیرت کا مطلب اس کی زندگی کے سفر کا راستہ ہے، جس پر چل کر وہ اپنی زندگی کے مختلف مراحل طے کرتا ہے، ماں کی کوک سے لے کر زندگی کی آخری سانس تک۔ اس لیے سیرت کا لفظ سوانح حیات کے معنیٰ میں بھی بولا جاتا ہے، تاریخ بیان کرنے کے معنیٰ میں بھی اور ذاتی زندگی کے معاملات بیان کرنے میں بھی۔ قرآن پاک میں بھی لفظ سیرت کا استعمال مختلف معنیٰ میں ہوا ہے۔ مثلاََ سورۃ طٰہٰ/۲۱ میں لفظ ’سیرتھا‘ آیا ہے جو حالت و ہیئت کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح سورۃ نحل/۳۶ میں لفظ’ سیرو‘ آیا ہے جہاں پر اس کا مطلب چلنے پھرنے کے ہیں۔

اصطلاحی معنوں میں لفظ سیرت کا مطلب بنیﷺ کی مبارک زندگی کے احوال بیان کرنا ہے۔ پروفیسر عثمان کے مطابق نبی ﷺ کے حالاتِ زندگی اور اخلاق و عادات بیان کرنے کا نام سیرت ہے۔ اس کے علاوہ علماء و فقہاء نے لفظ سیرت کو مختلف پیروں میں وضع کیا ہے۔مثلاََ، محمد سرور کے رائے ہے کہ سیرت کا لفظ جب مطلقاََ بولا جائے تو شریعت میں اس سے مراد وہ کام ہوتا ہے جو نبیﷺ نے کرنے کا حکم دیا اور جس سے روکا۔ شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اللہؒ کے مطابق جو کچھ ہمارے پیغمبر ﷺ اور حضرات صحابہؓ کی عظمت اور ان کو وجود سے متعلق ہو جس میں آنحضرت ﷺ کی پیدائش سے لے کر وفات تک کے واقعات بیان کیے گئے ہوں، وہ سیرت ہے۔

سیرت نبوی کا اولین استعمال مغازی یعنی غزوات کے تناظر میں استعمال ہوتا تھا۔ ڈاکٹر صلاح الدین ثانی اپنی تصنیف’ اصولِ سیرت نگاری‘ میں اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ ابتداء میں مغازی کا لفظ استعمال ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پچھلے زمانے میں حکمرانوں کا بنیادی کارنامہ ان کی فتوحات ہوا کرتی تھیں۔ لہٰذا کسی حکمران کی بڑائی یہی تھی کہ اس نے جنگیں کی ہوں۔ یہی کسی شخص کے بڑا ہونے کا اسٹیٹس مقرر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے تحت آپﷺ کے مغازی کا پہلے رواج ہوا۔ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام کے مطابق نبیﷺ کی سوانح حیات کے لیے لفظ سیرت کا استعمال دوسری صدی ہجری کے بعد سب سے پہلے ابنِ شہاب الزہری نے کیا، لیکن اس پر پہلا اور باضابطہ کام ابنِ ہشام نے کیا۔ گویا پہلی کتاب جس سے سیرت النبیؐ کا نام دیا گیا وہ سیرت ابنِ ہشام ہے، حالاں کہ لفظ سیرت کا استعمال اس سے پہلے بھی ہوتا تھامگر کتب و تصانیف کو مغازی کا نام دیا جاتا تھا، سیرت کا نہیں۔

سیرت نگاری کا ارتقاء
ماضی کی شاندار روایات کو یاد رکھنا اور اپنے آبا و اجداد کے محاسن و مفاخر کو بیان کرنا قدیم زمانہ سے دنیا کی قوموں کا کا محبوب ترین مشغلہ رہا ہے۔ جاہلی عربوں کے ہاں اس کا خاص اہتمام تھا۔ وہ اپنے قصائد و اشعار، قصص واسماء کے ذریعے آنے والی نسلوںکو آبائی و قبائلی روایات سے آگاہ کرتے تھے۔ ان کے یہاں جود وسخاء، ایفائے وعدہ، مہمان نوازی، قبائلی حمیت، حق جواز جیسے امور بہترین اوصاف شمار کیے جاتے تھے، اور باہمی جنگ و جدل، قومی ایام وقائع، احساب و انساب کی داستانیں بڑے فخر سے سنی جاتی تھیں۔ (اصولِ سیرت نگاری از ڈاکٹر صلاح الدین ثانی )۔ چنانچہ عربوں کے ہاں خواندگی کا رواج بہت کم تھا، لیکن اپنے بے نظیر حافظہ کی بدولت قدیم روایات کے مطابق اپنی اپنی قومی و قبائلی داستانیں زبانی طور پر اگلی نسلوں کو پہنچانا ان کے ہاں قدیم مشغلہ تھا۔ اس لیے وہ راتوں کو ایک ہی جگہ جمع ہوتے اور مختلف محفلوں کا اہتمام کرتے۔ اسلامی دور جب آیا تو جاہلی، قبائلی، اور نسلی جنگوں اور مفاخرکی جگہ اسلامی جہادو غزوات نے لے لی، اور صحابہ و تابعین نے سیر ومغازی کو آبائی مجدد و شرف اور اخروی علم قرار دے کر ان کا ذکر عام کیا۔۔ صحابہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ وہ عشاہ کی نماز کے بعد تہائی رات تک اخبار عرب، عرب و عجم، کے ایام و حروب، گزشتہ بادشاہوں کے حالات و واقعات اور ان کی سیاست ا ور امم سابقہ کے احوال سنا کرتے تھے(ایضاََ)۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط 1)

صحابہ کا سیرت المغازی (جو پھر سیر ۃالنبی ؐمیں تبدیل ہو گئی) سے اس طرح کا لگاؤ ایک توقرآن کے متقضیات میں سے ہے، دوسرا نبیﷺ کی اسوۃ حسنہ کو بلا کم و کاست اگلی نسلوں تک پہنچانا بھی مطلوب تھا۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ ’اگر تم واقعی اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میری پیروی اختیار کرو‘ (آلعمران /۳۱)، اسی طرح حکم دیا گیا کہ ’درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول ؐ کی زندگی میں ایک بہترین نمونہ ہے‘ (الاحزاب/۲۱)۔ صحابہ اور تابعین سیر و مغازی کے موضوع پر آپس میں تحقیق کرتے، ایک دوسرے سے معلومات حاصل کرتے اور بوقتِ ضرورت اس کے لیے سفر بھی کرتے تھے۔ اسی تحقیق و تفتیش کے ساتھ سیرت و مغازی کا سلسلہ شروع ہوا۔

سیرت نگار ی کے اولین حضرات
ڈاکٹر حمیداللہ ؒ نے سیرت ابنِ اسحٰق کے مقدمے میں ایک دوسری کتاب سے کم وبیش ۲۷ حضرا ت کے نام نقل کیے ہیں، جو ابنِ اسحٰق سے قبل اس فن میں مہارت دکھا چکے تھے۔ ان میں عقیل بن ابی طالب، زیاد بن ابی سفیان، ابو کلاب، زید بن کیاس، صحار بن عباس، قتادہ، ابنِ شہاب، عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ علیم اجمعین وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ ان حضرات کی طر ف سے سیرت و مغازی کے حوالے سے کام کرنے کی ایک خاص وجہ یہ بھی تھی کہ لوگوں کو لاحاصل قصہ کہانیوں اور غیر ضروری جنگوں کا تذکرہ کیے بغیر ایک مستند سیرت و مغازی کی طرف مبذول کیا جائے (تدوین سیر و مغازی ازقاضی اطہر)۔ پہلی صدی کی انتہا اور دوسری صدی کی ابتداء میں عمر بن عبدالعزیز کے حکم سے احادیث و آثار جمع کیے گئے اور دوسری صدی کے نصف میں فقہی ترتیب و تبویت پر عالم اسلام کے مرکزی شہروں میں کتابیں لکھی گئیں اور باقائدہ تصنیف و تالیف کا کام شروع ہوا۔ (اصولِ سیرت نگاری)۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر- ام محمد عبداللہ - قسط نمبر 6

قرونِ اولیٰ کے چند اہم سیرت نگار
۱۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ (المتوفٰی ۶۸ ھ) : حضرت عبداللہ بن عباس المغازی کی تدریس کے سلسلے میں تخصیص کے مقام کے حامل ہیں۔ان کا بہت سارا وقت مغازی بیان میں لگا جاتا تھا۔

۲۔حضرت عبداللہ بن عمر بن عاص ؓ(المتوفٰی۶۵ھ): آپ نے بہت سارے غزوات اور دوسرے واقعات و حوادث کا سیرت کے متعلق تحریری سرمایہ فراہم کیا۔ احا دیثِ رسول ؐ کی قرأت و کتابت اور انہیں کتابی شکل دینے میںصحیفہ صادقہ ان کی معروف تدوین شدہ کتاب ہے۔

۳۔براء بن عازبؓ (المتوفٰی ۷۴ھ): آپ نے مغازی رسول ؐ کے متعلق بہت کچھ املا کیا۔انہوں نے کانے کی چھال پر سیرت کے حوالے سے بہت کچھ تحریر کیا تھا۔ ابواسحق نے اس سلسلے میں براء بن عازبؓ سے بہت کچھ نقل کیا ہے۔

۴۔عبیداللہ بن کعب(المتوفٰی ۹۸ھ): محمد بن اسحاق کے نزدیک وہ اکابرعلماء انصار میں سے ہیں اور بعض نامور مؤلفین ِمغازی ان پر اعتماد کرتے ہیں (اصولِ سیرت نگاری)۔

۵۔ ابو بکر بن مسلم بن شہاب زہری (المتوفٰی۱۲۴ھ): آپ نے المغازی کے نام سے سیرت و مغازی پرجامع کتاب لکھی ہے۔

۶۔ محمد بن اسحق (المتوفٰی ۱۵۰ھ): آپ نے بھی کتاب المغازی کے نام سے جامع کتاب سیرت النبیؐ قلمبند کی ہے جو سیرت ابنِ اسحق کے نام سے مشہور ہے۔

۷۔ ابو محمد عبدالملک بن ہشام الحمیری(المتوفٰی ۲۱۸ھ): ان کی تصنیف سیرت ابنِ ہشام کے نام سے دنیا بھر میں مشہور و معروف ہے۔

موجودہ دور میں سیرت کی اہم تصانیف
یہ صرف اور صرف حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ والا صفات کا اکمل درجہ کا کمال ہے کہ اپ ؐ کی سیرت نگاری کا سلسلہ آپ ؐ کی بعثت کے بعد آج تک نہیں رُکا ہے۔ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کے بعد مختلف ادوار میں آپؐ کے چاہنے والوں نے آپؐ کی اسوۃ حسنہ کو زمان و مکان کے اعتبار سے مختلف گوشوں کے تناظر میں بیان کیا ہے۔ موجودہ دور میں جن اُردو سیرت کی کتابوں نے غایت درجہ کی مقبولیت حاصل کی، ان میں قاضی محمد سلیمان منصور پوری ؒ کی رحمۃ اللعالمینﷺ، جعفر شاہ پہلواریؒ کی پیغمبر انسانیت ﷺ، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی سیرتِ سرورِ عالم ﷺ، محمد حمیداللہؒ کی محمد رسول اللہﷺ، ابوالحسن ندویؒ کی محمد رسول اللہ ﷺ، نعیم صدیقی ؒ کی محسنِ انسانیت ﷺ، عبدالحیؒ کی حیاتِ طیبہ ﷺ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ سیرت سرور عالم ؐ کا کام صر ف مسلمانوں نے ہی نہیں کیا بلکہ بیشتر غیر مسلموں نے بھی آپ ؐ کی سیرت کے مختلف پہلؤں کو اجاگر کیا ہے۔ اس کے علاوہ شبلی نعمانیؒ اور ان کے شاگرد سید سلیمان ندوی ؒکی یک جا طور پر لکھی گئی سیرۃ النبی ﷺجو سات جلدوں پر مشتمل ہے نمایاں طور پر قابلِ ذکر ہے۔