مغرب کا مذہب 'سائنٹزم' اور مسئلہ 'شان محمد ﷺ - عمر ابراہیم

مغرب کا تصور 'انسان' تضاد کي دو انتہاؤں پر ہے۔ ايک جانب مغرب کا يہ انسان کيڑے مکوڑے کي سی دماغي کارکردگي کا حامل ہے، بندروں کي جينياتي برادري کا حصہ ہے، معاشرتي حيوان ہے، معاشي جانور ہے، سياسي لومڑي ہے، ايک ايسا ارتقائي وجود ہے جو فطري انتخاب کا حادثاتي يا اتفاقي نتيجہ ہے۔ دوسري جانب يہي انسان مختار بےمہار ہے، آزاد پيدا ہوا ہے، کائنات کے سائنسي حقائق کا دريافت کنندہ ہے، مصنوعي ذہانت کا موجد ہے، سپرمین ہے، سپر ہيومن ہے، کسي بالاترقوت کے تابع نہیں، جوابدہ نہیں، اور بڑے بڑے حقوق اور اختيارات کا دعویدار ہے۔ تضاد کي يہ دونوں صورتيں آج بھي پيکر خاکي ميں متصادم ہیں، اس کي کوئي روح نہیں، محض کيميائي اور حياتياتي تعامل کا مرکب ہیں۔ تضاد کي يہ انتہائیں سائنٹزم کے تصور 'انسان' میں سمجھي جاسکتي ہیں، ان کا جائزہ لبرل اقدار کے تناظر میں بھي کيا جا سکتا ہے۔

يہ سائنٹزم کيا ہے؟ جديد مغرب کا مذہب ہے: سائنس پر اُس کي اہليت سے بہت زيادہ يقین کرنا؛ سائنس کے تجربات، نظريات، اورکليات کو حتمي سمجھنا؛ سائنسي نتائج کي سچائي پر ايمان لے آنا۔ مذاہب کے معروف عالم پروفيسر ہسٹن اسمتھ کتاب Why Religion Matters کے باب Scientism: The Bedrock of the Modern World View میں سائنٹزم کي تعريف يوں کرتے ہيں، ''يہاں ہرشے کا انحصارتعريفوں پر ہے۔ اس ليے سائنس اور سائنٹزم کي اصطلاحات کا فرق نظروں ميں رہنا چاہيے۔ سائنس وہ ہے جس نے جديد ٹيکنالوجي کي معيت میں دنيا کو بدل ديا۔ جديد سائنس وہ ہے، جس نے عہد جديد کو روايتي معاشروں اور تہذيبوں سے ممتاز کر ديا۔ اس کا مواد فطري دنيا کے دريافت شدہ حقائق پر مشتمل ہے۔ مگر سائنٹزم سائنس ميں دو چيزوں کا اضافہ کرتا ہے: ايک يہ کہ سائنسي طريقہ سچائي تک پہنچنے کا واحد رستہ ہے، دوسرا سائنس جن مادوں کے تجربات کرتا ہے يا کر سکتا ہے، بنيادي طور پر بس وہي وجود رکھتے ہیں۔ سائنس ميں سائنٹزم کے يہ دونوں رويے من مانے ہیں، انہيں حقائق کي حمايت حاصل نہیں۔ يہ محض بہت اچھے فلسفيانہ قياسات اور بہت بےوزن خيالات ہیں۔''

سائنٹزم کا انسان کون ہے؟ يروشلم يونيورسٹي ميں بائيولوجيکل ہسٹري کے پروفيسر يوول ہراري مشہور کتاب Sapiens میں سائنٹزم کے تصور 'انسان' کا ارتقائي نقشہ يوں کھينچتے ہیں:
''تقريبا تين اعشاريہ آٹھ ارب سال قبل ايک سيارہ جسے زمين کہا گيا، يہاں ماليکيولز مجتمع ہوئے اور ايک بہت بڑا پيچيدہ حياتياتي نظام تشکيل ديا، اسے Biology نام ديا گيا۔ تقريبا ستر ہزار برس پہلے، وہ زندہ اجسام جن کا تعلق انسانوں کے انواع سے تھا، معاشرتي سانچوں ميں تشکيل پانے لگے، انھیں ثقافتیں کہا گيا۔ اس کے بعد ہونے والي پيش رفت تاريخ کہلائي۔ ماقبل تاريخ انسان کي سب سے اہم بات يہ ہے کہ وہ غيراہم (قابل ذکر شے نہ تھا)، ايسا حقير جانور جس کا اپنے ماحول پر کوئي اثر نہ تھا، اس کي حيثيت گوريلوں، جيلي فش، يا بھنوروں سے زيادہ نہ تھي۔ ہم پسند کريں يا نہ کريں، ہمارا تعلق ايک بہت بڑے شور مچاتے بندروں کے خاندان سے ہے۔ ہمارے زندہ رشتہ داروں ميں چمپينزي، گوريلے اور ارنگٹن شامل ہیں۔ سب سے قريبي چمپينزي ہيں۔ ساٹھ لاکھ سال پہلے، ايک بندريا کي دو بيٹياں تھیں، جن ميں سے ايک چمپينزي نسل کي پرناني ہے، جبکہ دوسري ہم انسانوں کي پرناني ہے۔ اس طرح 'انسان' کا اصل معني ايک ايسا جانور ہے جس کا تعلق homo genus سے ہے۔ درحقيقت ہم نہیں جانتے کہ کب اور کہاں Homo sapiens اپني ابتدائي حالت سے باقاعدہ انسان کي صورت ميں ڈھلا؟ اکثر سائنسدان قياس کرتے ہيں کہ ايسا ڈيڑھ لاکھ سال پہلے ہوا ہوگا۔ انسان کے سوچنے اور گفتگوکرنے کي ابتدا ستر سے تيس ہزار سال قبل کسي موقع پر ہوئي۔ اس کا سبب کيا تھا؟ ہم يقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے! جس کليے کو قبول عام حاصل ہے، اس کے مطابق انساني دماغ کي وائرنگ کے جینز میں حادثاتي تغیرات پيدا ہوئے۔ داستانیں، ديومالائي کہانياں، خدا، اور مذاہب اسي Cognitive Revolution عہد میں پہلي بار سامنے آئے۔''

پروفيسرہراري نے آگے چل کر زرعي انقلاب اور پھر سائنسي انقلاب ميں انسان کے ارتقا کو کمال پر دکھايا ہے۔ سائنٹزم کا يہ 'انسان' برطانوي ماہرفلکيات اسٹيفن ہاکنگ کي نظر میں ايک ايسا ترقي يافتہ جانور ہے، جو ايک طرف حشرات الارض سي استعداد کا حامل ہے، جسے اس کا اپنا بنايا ہوا مصنوعي ذہانت AI کا نظام تباہ برباد کرسکتا ہے، اور دوسري جانب يہ انسان خلا میں نئي کالونياں تلاش کرسکتا ہے (برطانوي استعماري سوچ يہاں بھي حرکت میں ہے)، تيس سال ميں چاند کو بيس بنا کر پچاس سال تک مريخ پر پہنچ سکتا ہے۔ سائنٹزم کي خصوصيت ہے کہ may may have might اور not sure کے بکثرت استعمال کے باوجود سائنسي نتائج پر نہ صرف اندھا ايمان لاتي ہے بلکہ باقي دنيا سے بھي يہي مطالبہ کرتي ہے۔ جبکہ خالق کائنات کے وجود پر سادہ سي منطق بھي تسليم کرنے کے لیے تيار نہیں (کائنات کا کوئي چھوٹے سے چھوٹا نظام اور واقعہ اتفاق اور حادثے کا نتيجہ نہيں۔ کائنات کي تخليق کس طرح اتفاقي حادثہ ہوسکتي ہے؟)

سائنٹزم کے عقيدت مند اور لبرلز نے اس تضاد (بہ يک وقت بندراور سپرمین) کا يہ حل نکالا کہ 'فطرت کے چنيدہ انسان' کو مغرب کي خلعت پہنا دي، جبکہ کيڑے مکوڑے نما انسان 'مشرق ميں محصور' کر ديے۔ جب چاہا مشرق ميں انسان کي تذليل کر دي۔ جب چاہا مغرب ميں تکريم کر دي۔ يوں دنيا انسان کے لیے عدم مساوات کي دوزخ بن گئي۔ يہي موجودہ عالمي نظام ہے۔ اسے ہيروشيما ناگاساکي پر ايٹم بم حملوں سے شام پر کيميائي اور ڈپليٹيڈ يورينيم بمباري تک مغرب کے 'انسان' کي دونوں انتہائیں 'وحشي پن'' اور''ايٹمي طاقت'' میں واضح طور پر ديکھا جاسکتا ہے۔

اسلام کا انسان کون ہے؟ خالق سے ہي رہنمائي حاصل کرتے ہیں:
'' انسان پر لامتناہي زمانے کا ايک وقت ايسا بھي گزرا ہے جب وہ کوئي قابل ذکر چيز نہ تھا''۔(سورۃ دہر آيت نمبر۱)

''اے انسان کس چيز نے تجھے اپنے اس رب کريم کي طرف سے دھوکے میں ڈال ديا، جس نے تجھے پيدا کيا، تجھے نک سک سے درست کيا، تجھے متناسب بنايا، اور جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ کر تيار کيا؟'' (سورۃ النفطار6-8)

''ہم نے انسان کو بہترين ساخت پر پيدا کيا، جس میں توازن و تناسب حسین ترین مقام تک پہنچ گیا''۔ (سورۃ تين آيت 4)

''اس نے انسان کي تخليق کي ابتدا گارے سے کي، پھراس کي نسل ايسے ست سے چلائي جو حقير پاني کي طرح کا ہے۔ پھر اس کو نک سک سے درست کيا اور اس کے اندر اپني روح پھونک دي، اور تم کو کان ديے، آنکھیں ديں''( (السجدہ آيت 7-9)

''ہم نے بني آدم کو بزرگي دي،اور انھیں خشکي و تري ميں سوارياں عطا کیں، اور ان کو پاکيزہ چيزوں سے رزق ديا، اورمخلوقات پر نماياں فضيلت بخشي''(سورۃ بني اسرائيل آيت 70)

''ياد کرو جب لقمان اپنے بيٹے کو نصيحت کررہا تھا تو اس نے کہا'بيٹا خدا کے ساتھ کسي کو شريک نہ کرنا۔ حق يہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔' اور حقيقت يہ ہے کہ ہم نےانسان کو اپنے والدين کا حق پہچاننے کي خود تاکيد کي ہے۔ اس کي ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے اپنے ہيٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے ميں لگے۔ ميرا شکر کر اور اپنے والدين کا شکر بجا لا، ميري ہي طرف تجھے پلٹنا ہے۔ ليکن وہ اگر تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ ميرے ساتھ تو کسي ايسے کوشريک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کي بات ہرگز نہ مان۔ دنيا میں ان کے ساتھ نيک برتاؤ کر مگر پيروي اس شخص کے راستے کي کر جس نے ميري طرف رجوع کيا ہے۔ پھر تم سب کو پلٹنا ميري ہي طرف ہے، اُس وقت ميں تمھیں بتا دوں گا کہ تم کيسے عمل کرتے رہے ہو۔ لقمان نے کہا تھا کہ 'بيٹا کوئي چيز رائي کے دانہ کے برابر بھي ہو اور کسي چٹان ميں يا آسمانوں يا زمين ميں کہیں چھپي ہوئي ہو، اللہ اسے نکال لائے گا۔ وہ باريک بیں اور باخبر ہے۔ بيٹا نماز قائم کر، نيکي کا حکم دے، بدي سے منع کر، اور جو مصيبت بھي پڑے اس پرصبر کر۔ يہ وہ باتیں ہیں جن کي بڑي تاکيد کي گئي ہے۔ اور لوگوں سے منہ پھير کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑکر چل، اللہ کسي خود پسند اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اپني چال ميں اعتدال اختيار کر، اور اپني آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زيادہ بري آواز گدھوں کي ہوتي ہے۔'' (سورۃ لقمان)

مغرب اور اسلام کے دونوں 'انسان' آمنے سامنے آگئے۔ اب سائنٹزم اور لبرل مغرب جس کا انسان بزعم خود کوجانور سمجھتا ہے، حقير اور درندہ صفت ہے، وحشت و دہشت کي پستيوں ميں گرچکا ہے، جو ايسا مثالي نمونہ Model پيش کرتا ہے جو جنس بازار ہے، جسے بندر کي طرح نچايا جا رہا ہے، بچہ جمورا بنايا جا رہا ہے، بےشمارحقارتوں سے گزارا جا رہا ہے۔ مغرب کا يہ 'انسان' کس طرح اشرف انسان کو قبول کرسکتا ہے؟ جو نہ صرف حشرات الارض اور جانوروں سے اعلي ارفع ہے، بلکہ فرشتوں اور جنات پر مقدم ہے۔ جس کي تخليق احسن تقويم پر ہوئي ہے۔ جس کي درجہ بندي اعمال صالح پر ہے، نہ کہ فطري چناؤ اور اعلٰي نسل و نسب پر۔ جو اعتدال پر ہے، متوازن ہے۔ يہي وہ واحد تصور انسان ہے، جو عالمي مساوات کا ضامن ہے۔ يہ انسان ہي عالمگيرتہذيب کا وارث ہے۔ مگريہ 'انسان' کہاں ہے؟ اکثرمسلمان اس 'انسان' کا مثالي نمونہ پيش نہیں کررہے۔ چنانچہ مغرب نے اسلام کا يہ تصور 'انسان' تسليم نہیں کيا۔ حال کے مسلمانوں نے مغرب کے اس مؤقف کوبھرپور تقويت پہنچائي ہے۔ مسلمان کردار کا عام بحران مغرب کے لیے پروپيگنڈہ ايندھن بن گيا۔ ايک ايسا ايندھن، جسے اسلام کے تصور 'انسان' کے خلاف استعمال کيا جاسکے۔ جسے بہترين انسان 'محسن انسانيت' کے خلاف ہتھيار بنايا جاسکے۔ جسے شان محمد صلي اللہ عليہ وسلم کي توہین کے لیے جواز بنايا جا سکے۔ مگر مقام محمد صلي اللہ عليہ وسلم وہاں ہے، جہاں جبرئيل عليہ السلام کے بھي پر جلتے ہیں۔ مقام محمد صلي اللہ عليہ و سلم کي اقتدا ميں انبيا صف بہ صف ہوئے، وہ مقام جسے سدرۃ المنتٰہي باريابي عطا ہوئي، وہ مقام جسے مقام محمود فرمايا گيا۔

مغرب بخوبي سمجھتا ہے، جب تک مقام محمد (صلي اللہ عليہ وسلم) کم نہ ہوگا، جب تک شان محمد (صلي اللہ عليہ وسلم) ميں کمي نہ آئے گي، جب تک محسن انسانيت (صلي اللہ عليہ وسلم) کا بہترين نمونہ مثال بنا رہے گا، اور جب تک يہ 'تصور انسان' زندہ رہے گا، تب تک مغرب کا 'انسان' عالمگير نہیں ہوسکتا۔ يہي وجہ ہے کہ پورے مغرب کي ساري دولت ساري طاقت توہین رسالت محمدي ؐ پر لگا دي گئي ہے۔ جوتوہين رسالت کا مرتکب ہے، وہ مغرب کا ہيرو(سلمان رشدي) ہے۔ يہاں تک کہ اگر وہ توہين رسالت کا محض ملزم يا ملزمہ (آسيہ نورين) بھي ہے، وہ مغربي پروپيگنڈے کے لیے ايسا موقع ہے، جسے کسي صورت ضائع نہیں کيا جاسکتا۔ مگر سادہ سي بات مغرب نہیں سمجھ سکا، کہ خواہ محبوب ہوں يا ملعون، شان محمد صلي اللہ عليہ وسلم کا معاملہ انسانوں کا اختيار ہي نہیں۔ يہ معاملہ رب کائنات کا ہے، اور اس کا فيصلہ يہ ہے کہ، ''(اے پیغمبر!) ہم نے تمہیں تمام جہان والوں کے حق میں رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ (سورۃ الانبیاء: ۱۰۷) بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود اور سلام بھیجو۔ (سورۃ الاحزاب: ۵۶) بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی ہے۔ پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔ بے شک آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے۔ (سورۃ الکوثر: ۱۔۳)