فیض کے میلے میں پابندیاں، کیا یہ حل ہے؟ حبیب الرحمن

کسی کی تنقید یا اختلافی گفتگو کو سن لینے میں کیا قباحت ہے۔ کہتے ہیں کہ اختلاف رائے حسن ہے کیونکہ ہر اختلاف رکھنے والا آپ کے کہے ہوئے جملوں، اختیار کیے گئے مؤقف، کیے گئے فیصلوں اور اٹھائے گئے اقدامات کو مزید بہتری دے سکتا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی فرد کامل نہیں۔ کامل خدا کی ذات کے علاوہ اور کوئی نہیں اس لیے منہ سے نکلی بات، تعین کیا گیا راستہ، اور بڑھنے والے قدم ضروری نہیں کہ آپ کو آپ کی درست منزل ہی کی جانب لے جائیں اس لیے ہر معاملے میں یہ امر ضروری ہے کہ قدم قدم پر ہر بات کا جائزہ لیا جائے تاکہ زندگی میں کسی بھی قسم کی پشیمانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں اس بات کا اندازہ کیسے ہوگا کہ ہماری ہر ہر بات، فیصلے اور اقدامات سو فیصد درست ہیں اور ہم نے جس جس معاملے میں بھی جوجو باتیں کی ہیں، جو مؤقف اختیار کیا ہے اور منزل کی جن راہوں کا انتخاف کیا ہے وہ ساری کی ساری باتیں، مؤقف، فیصلے اور راہوں کی جانب بڑھنے والے اقدامات بالکل درست اور صحیح ہیں؟۔ اس بات کا اگر ہم از خود جائزہ لیں گے تو خرابیاں اپنی جگہ برقرار رہے گی کیونکہ ایسا سب کچھ ہم یکہ و تنہا کررہے ہونگے۔ اپنی ہر بات کا جائزہ لینے کیلئے میرے نزدیک دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ اپنے مخلص اور سمجھ دار دوستوں سے مشورہ لیا جائے اور دوسرا راستہ یہ ہے وہ افراد جو آپ سے اختلاف رکھتے ہوں ان کے سامنے اپنے فیصلے رکھے جائیں۔ پہلا طریقہ گو کہ درست نظر آتا ہے کیونکہ وہ احباب جو آپ سے محبت رکھتے ہوں اور ان کے اخلاص میں بھی کسی قسم کا کوئی شبہ نہ پایا جاتا ہو وہ آپ کا کبھی برا نہ چاہیں گے لیکن ایک خدشہ پھر بھی ہے کہ ان کے دیے گئے مشوروں میں ممکن ہے ادب و احترام اور لحاظ کا پہلو بھی شامل ہو جائے اور اس طرح کوئی ایسی بات مشورے میں شامل ہوجائے جس کا آگے چل کر آپ کو نقصان اٹھانا پڑے۔ اس کے برعکس آپ سے اختلاف رکھنے والوں یا آپ کی ہر بات کی مخالفت کرنے والوں کی باتیں ہر لحاظ سے بے لحاظ و بے لاگ ہونگی اور ہر معاملے کے تمام ایسے پہلو جس میں ذرہ برابر بھی کجی یا سقم ہوگا اس پر حرف تنقید ضرور سامنے آئے گا۔ اگر ان کے نکالے گئے نقائص اور اشارہ کی گئی غلطیوں پر برہمی کی بجائے خوش دلی کے ساتھ غور کر لیا جائے گا اور اصلاح احوال کرلی جائے گی تو ان کا یہی مخاصمانہ اور جارحانہ تبصرہ و تنقید آپ کیلئے مشعل راہ ثابت ہوگا اور آپ پہلے سے کہیں بہتر نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ بد قسمتی سے ہم نے اپنا مزاج ایسا بنالیا ہے ہم کسی بھی قسم کا اختلاف رائے برداشت کرنے کیلئے لئے تیار نہیں اوراختلاف رکھنے والے سے ہمیں نفرت کی حدتک دوری ہوجاتی ہے۔ معاملہ زندگی کے کسی بھی پہلو سے تعلق رکھتا ہو، اگر کوئی بھی فرد کسی بھی قسم کے معاملے میں ذرہ برابر بھی ہماری رائے سے ہٹ کر رائے رکھتا ہو، وہ ہمیں اپنا دشمن نظر آنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے بیشمار اقدامات کے انجام پر اکثر شدید شرمندگی اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں کیونکہ اکثر وہی بات زیادہ درست ثابت ہوتی ہے جو اختلاف رائے رکھنے والوں نے اشارہ کی ہوئی ہوتی ہے۔

سیاسی معاملات یا ملک کی پالیسیوں سے اختلافات کی بنیاد پر اپنے مخالفین کو اپنے آپ سے دور رکھنا تو کسی حد تک سمجھ میں آنے والی بات ہے اس لئے کہ اگر ان کی دی ہوئی آرا کو سامنے رکھ کر فیصلوں میں رد و بدل کیا جائے تو اس سے سیاسی ساکھ متاثر ہونے کا احتمال ہوتا ہے لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ مزاحمت کی علامت بیسویں صدی کے شاعر فیض احمد فیض کی شاعری اور زندگی کا جشن منانے کے لیے چوتھا سالانہ فیض میلہ لاہور میں منعقد کیا گیا۔ فیض کے اس میلے میں چار مقررین کو نا معلوم دباؤ کے تحت بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ فیض کی شاعری یا اس کی زندگی کے حوالے سے وہ چار مقررین ایسا کیا کچھ کہہ سکتے تھے جس سے کوئی بڑی خرابی یا کسی فتنے و فساد کا ڈر ہو سکتا تھا؟۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ادب و ثقافت، موسیقی، شاعری اور سیاسی بحث مباحثوں پر مبنی تین روزہ میلے میں سرحد پار انڈیا سے آئے شاعر اور نقاد جاوید اختر اور ان کی اہلیہ شبانہ اٰعظمی بھی اس میلے میں شریک تھیں تاہم پاکستان سے تعلق رکھنے والے چار افراد جنہیں مختلف موضوعات پر بحث و مباحثے میں شریک ہونا تھا، ان کی جگہ خالی کرسیاں رکھی گئیں۔ صحافی اور تجزیہ کار راشد رحمٰن، معلم اور مزاحمتی موسیقی کے علمبردار بینڈ 'لال' کے بانی تیمور رحمٰن، علی وزیر اور ایف سی کالج لاہور میں معلم اور سماجی کارکن عمار علی جان کو میلے کے پہلے اور دوسرے روز مختلف موضوعات پر مباحثوں میں مہمانوں کے طور پر حصہ لینا تھا لیکن صد افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تیمور رحمٰن، عمار علی جان اور راشد رحمٰن نے اس بات کی تصدیق کی کہ میلے کے منتظمین کی جانب سےانہیں بتایا گیا تھا کہ وہ کسی 'دباؤ' کے سبب ان سیشنز میں مہمان کے طور پر حصہ نہیں لے پائیں گے۔ تیمور رحمان اور عمار علی جان کو 'آزادیِ رائے' کے موضوع پر ایک مباحثے میں تجزیہ پیش کرنا تھا۔ تیمور رحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ منتظمین کی جانب سے انھیں یہ بتایا گیا کہ 'چند مقتدر حلقوں کی جانب سے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ تیمور رحمٰن کسی مباحثے میں بات نہیں کریں گے'۔ انھوں نے مزید کہا کہ 'مجھے نہیں معلوم کہ وہ مقتدر حلقے کون ہیں اور مجھے منتظمین سے بھی کوئی گلہ نہیں۔ وہ یقیناً ایسا نہیں چاہتے تھے مگر مجبوراً انہیں ایسا کرنا پڑا۔ مجھے یہ نہیں سمجھ آیا کہ میرے بولنے سے کسی کو کیا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ میں کوئی ایسی بات تو کرنے نہیں جا رہا تھا جس سے انتشار پھیلنے کا خطرہ ہو۔ تیمور رحمان کا کہنا تھا کہ آزادی رائے ہر شخص کا حق اور ایسے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں اسے کس طرح دبائے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے'۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عمار علی جان کا بھی کہنا تھا کہ انہیں محض چند گھنٹوں قبل منتظمین کی جانب سے بتایا گیا کہ بیرونی دباؤ کی وجہ سے اب انہیں اس سیشن میں بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ عمار علی جان میلے کے دوسرے روز جس مباحثے میں مہمان کے طور پر شرکت نہ کر پائے اس کو سننے کے لیے وہ حال میں پہنچے ضرور۔ سٹیج پر ایک کُرسی خالی رکھی گئی تھی۔ ہال میں موجود چند طلبا نے ان کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے آوازیں بلند کیں۔ تاہم انہیں سمجھانے کے بعد عمار علی جان سامعین میں شامل ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ وہ کہنا چاہتے تھے، ان ہی کے تاثرات کا اظہار بہت سے دیگر شرکا نے مختلف موضوعات پر بولتے ہوئے کیا تھا تو پھر مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ میری وہی باتیں کرنے سے کسی کو کیا مسئلہ ہو سکتا تھا۔

جب ہم کسی بھی آواز کو خاموش کر دیتے ہیں تو وہی خاموشی خود بخود آواز کا روپ دھار لیتی ہے اور وہ دور دور تک سنائی دینے لگتی ہے۔ چناں چہ چند آوازوں کو بے شک اسٹیج سے نشر ہونے سے روک دیا گیا اور منتظمین کے مطابق ان کو محض اس لئے نہیں سنا گیا کہ بعض بیرونی دباؤ ایسا ہی چاہتے تھے لیکن اس سے ہوا یہ کہ روکے جانے والے شرکا کی آواز نہ صرف اس میلے میں شریک بہت سارے مقررین کی آوازوں کا روپ دھار گئی بلکہ سماجی وہب سائڈوں پر بھی ایک طویل سلسلہ چل نکلا جس کی وجہ سے بات دور دور تک پھیل گئی۔ کوئی بھی بات سماجی ویب سائڈوں تک جا پہنچے تو پھر وہ دنیا کے گوشے گوشے میں گونجنے لگتی ہے۔ میں نے ایسے ہی ایک موقعہ کیلئے کہا تھا کہ خامشی بھی صدا ٹھہرتی ہے ہونا جب کوئی صورت ابلاغ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کے میلوں میں جو بھی مقرر اپنی بات کہنے کیلئے بلایا جاتا ہے وہ بہت ہی محدود مدت کیلئے بلایا جاتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی بولنے والا پانچ سات منٹ میں کیا طوفان اٹھا سکتا ہے؟۔

جب صورت حال ایسی ہو تو پھر خوامخواہ کسی کے ہونٹوں پر تالا لگانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اس پابندی کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن جن پر پابندی لگائی گئی تھی وہ خود بخود ہیرو بن گئے اور شاید وہ بہت ہی تھوڑا بولتے لیکن ان کی زباں بندی کا نتیجہ یہ نکلا کہ شرکائے محفل اور مہمانان گرامی نے ان کی اور ان کے مؤقف کے متعلق اس سے کہیں زیادہ بول دیا اس طرح جس آواز کو کسی مصلحت کی بنیاد پر دبانے کی کوشش کی گئی تو ایک جانب آواز دبائے جانے کا مقصد فوت ہو گیا اور دوسری جانب ان افراد کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ پھر ہوا یوں کہ بات محفل سے نکل کر سوشل میڈیا تک جا پہنچی اور یوں پوری دنیا میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ پاکستان میں اظہار رائے پر قد غنیں ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بحث جاری ہے۔ خصوصی طور پر تقریب میں شریک ہونے والے دیگر شرکا کی جانب سے ٹویٹر پر بیانات سامنے آرہے ہیں۔ ہر کس و ناکس کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اب صرف پرنٹ میڈیا کا زمانہ نہیں جہاں اگر کسی بھی خبر یا واقعے کو چھاپنے سے روک لیا جاتا تھا تو دنیا کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوپاتا کہ کہاں کہاں کیا کیا کچھ ہو رہا ہے یا ہوتا رہا ہے۔ اب زمانہ بہت ترقی کرگیا ہے اور زمانے کی آنکھ وہ وہ کچھ بھی دیکھ رہی ہے جو جو کچھ زمانے سے چھپائے جانے کی کوشش کی جاتی ہے اس لئے وہ افراد ہوں، ادارے ہوں، حکومتیں ہوں یا ریاستیں، ان کو کسی کی کوئی بات چھپانا نہیں چاہیے اور ہر فرد، ادارے، حکومت اور ریاست کو ہر کسی کی سخت سے سخت تنقید کو سننے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ یقین مانے لوگوں کی وہ تمام تلخ باتیں جو اختلاف کی صورت میں سامنے آئیں گی، ان میں سے بیشتر باعث اصلاح و رہنمائی بنیں گی۔ تنقید تحقیق کی نئی نئی راہیں کھولنے اور اپنی سمتوں کو درست کرنے کا سبب ہوا کرتی ہے لیکن شرط اس نقطے سمجھنے کی ہے۔