علم و جہل اور ہمارا عملی رویہ - ابراہیم جمال بھٹ

کسی کو بات سمجھ میں نہ آئے، اسے سمجھنے کے لیے کسی سمجھانے والے کے پاس جاکر زانوئے تلمذ تہ کرنا کوئی عیب نہیں، بلکہ ایسا کرنا تعمیر ذات اور تہذیب صلاحیت کے لیے ایک اچھا اقدام ثابت ہوتا ہے۔ اس کے بجائے کم فہم انسان اپنی آراء کے خول میں گرفتار ہوکر کھرے کھوٹے کا فیصلہ صادر کرنے لگے تو ممکن ہے کہ وہ بےشعوری کے عالم میں بناؤ کے بجائے بگاڑ کی منفی راہ پر ہی گامزن ہو جائے، کیوں کہ جس سوچ کو علم وحکمت کی ہوا تک نہ لگی ہو، وہ ہر حال میں محدود الاثر ہوتی ہے، ناقص العمل ہوتی ہے، بےاعتبار ہوتی ہے، اصلاح طلب ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک عالم اور ذہین وفطین انسان کی صحت مند سوچ انمول سرمایہ ہوتی ہے، مگر ممکنہ طور بشریت کے اعتبار سے اس میں بھی محدودیت اور نقائص کی آمیزش کا احتمال ہوسکتا ہے۔ بایں ہمہ عالم کے پاس علم وحکمت کے خزانے کے جتنے موتی دستیاب ہوں، وہ ان سے لوگوں کو راہ بھٹکنے یا گمراہ ہونے سے اکثر وبیشتر روکتے رہتے ہیں۔ اس لیے اگر واجبی سطح کی علمی استعداد رکھنے والے لوگ ایسے خداترس عالم کے پاس اپنا زانوئے تلمذ تہہ کریں تو علم وحکمت کے ان موتیوں کا کچھ نہ کچھ فیض حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے بالمقابل اگر علم و حکمت کی کسوٹی سے پر کھے بغیر اپنے کسی خیال یا رائے کو حتمی سمجھا جائے تو اس سے خطرات اور نقصانات اٹھانے کے کافی امکانات رہتے ہیں۔

ایک بات واضح ہے کہ علم و حکمت کے خزانے ہر کسی کے پاس نہیں ہوتے بلکہ ان خزانوں سے وہی لوگ بہرہ مند ہوتے ہیں جو حق پرستی کی راہ پر ہوں، حق کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسے دوسروں تک منتقل کرنے کا بے لوث جذبہ رکھتے ہوں، ایسا جذبہ جو انسانی زندگیوں میں وقتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسی مستقل تبدیلی کا باعث بن جائے، جو اسے قبول کر نے والے کی دنیا بھی کامیابی کی راہ پر ڈال دے اور آخرت کی کامیابی کا بھی حصہ دار بنائے۔ حق کسی سائنس دان، کسی فلسفی، کسی ڈاکٹر، کسی بڑے عہدہ دار کے پاس ہو، ایسا ضروری نہیں بلکہ علم حق صرف ایک ایسے مؤمن کے متاع گراں مایہ ہوتا ہے جو نہ صرف دل سے مؤمن ہو بلکہ عمل کی دنیا میں اس کی حرکات وسکنات سے اسی حقانیت کی خوشبو جھلک رہی ہو۔ یہ خزانۂ علم وحکمت ومعرفت اسی کے دل میں جا بستا ہے جو ایمان ویقین کی خوشبو سے معطر ہو، جس میں نفسانیت کی کوئی آلودگی نہ ہو، جو صاف وشفاف سیرت والا مخلص بندہ ٔ خدا ہو، کیوں کہ علم وحکمت کا نورانی خزانہ اپنے لیے وہی جائے پناہ اختیار کر لیتا ہے جہاں اندھیرا چھایا نہ ہو، جہاں اصلاح طلبی کا جذبہ زندہ و پائندہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   جہالت کے اندھیرے - نیلم اسلم

ہر سلیم الفطرت انسان فطری طور اس انمول جذبے کا طلبگار ہوتا ہے لیکن کبھی کبھار انسانی نفس دوست نما دشمن بن کر اس سے یہ جذبہ اپنے عمل میں پیوست کر نے سے روکتا ہے۔ نفس کا دشمن انسان کا ازلی دشمن قرار دیا گیا ہے، اس کے ہر اشارے میں خسارہ ہوتا ہے۔ نفس کے انہی پسندیدہ اشاروں میں ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ جو کوئی مسئلہ ایسے نفس پرست شخص کو درپیش ہو ، نفس کا بت اُسے یہ سجھاتا ہے کہ خود سوچو ، کسی عالم یاواقف کار سے کیا پوچھنا ، مادی نقصان کی قیمت پر کلام اللہ سے کیا رہنمائی لینا، اپنی ناقص عقل کو اپنی امامت وپیشوائی سونپ دو ، کسی سے مشاورت کی ضرورت بھی نہیں ، بنا کسی علم وحکمت کے آگے بڑھو۔ آج کل اس خود پسندانہ سوچ نے بیٹھے بٹھائے جاہلوں کو ’’عالم وفاضل‘‘ ہونے کا خبط بخشا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا عالم ومفتی اور چالاک وہوشیار انسان تصور کرنے لگے ہیں، اگرچہ وہ علم وحکمت سے اتنا دو ر ہیں جتنا ماؤنٹ ایوریسٹ سمندر سے دور واقع ہے۔ ایسا انسان نہ کبھی کامیابی پا سکتا ہے اور نہ ہی کسی اور کو کامیابی کی راہ پر ڈالنے کا سلیقہ دے سکتا ہے۔ نفس کی اس اندھی غلامی اور اپنے تعقل کی بندگی سے وہ بسااوقات اس قدر خود کو مسائل کے گھورکھ دھندوں میں ڈوبا ہواپاتا ہے کہ آخر کار بچائو بچائوکی آواز بھی نہیں لگا پاتا ۔ اس لئے لازم ہے کہ دانا انسان اپنی سوچ پر حقیقی علم وحکمت کے منبع وماخذ یعنی قرآن حکیم کا ٹھپہ چسپاں کرے، نفس کے مفاسد سے بچنے کے لئے حقیقی علماء کی صحبت اختیار کرے ، اپنی ہر اُس رائے یاعمل سے رجوع کر نے میں کوئی پس وپیش نہ کر ے جو نفس کی جی حضوری یا سنی سنائی باتوں کے بطن سے جنمی ہو ، اس عالم وفاضل کی نصیحت و فہمائش کو دل کے کان سے سنے جو دینی علوم اور اعمال کا مجسمہ ہو ، جس کی رائے ثقہ ہو، جو محدودالفکر نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   جہالت کے اندھیرے - نیلم اسلم

دنیا میں لامحدود کوئی شئے نہیں صرف ایک اللہ کی ذات کے، جس کے کلام میں علم وحکمت بھی ہے اور حقائق و دقائق بھی پوشیدہ ہیں۔ اس کے کسی حکم و فرمان میں محدودیت کی آلائش نہیں بلکہ لامحدودیت ہے کہ جو ہر خاص و عام انسان کو کامیابی سے ہمکنار کرا سکتی ہے۔ ذرا اس زاویہ نگاہ سے سوچئے کہ انسان نے انسانوں کے واسطے علم کے حصول کے نام پر سیلبس ترتیب دیا، حاصل کچھ نہیں سوائے اس کے کہ انسان مشین یا بے فایدہ انسان بن کر رہ گیا۔ انسان نے انسانوں کے لئے قانون بنائے ، حاصل یہ کہ افراط وتفریط کا شکار ہوکر پوری نوع انسانی فساد کی شکار ہو ئی۔ انسان نے اپنے رہنے سہنے کے لئے اپنے من پسند اصول و قواعد ترتیب دئے، حاصل صرف یہ ہے کہ عالم انسانیت بکھر گیا اور ایک انسان دوسرے انسانوں کا ازلی دشمن بن گیا۔ آج کے دور کی پہلی ضرورت یہ ہے کہ اسی لا محدود علم اور حکمت کی جانب پھر سے رجوع کیا جائے جس نے انسانی سوسائٹی کو کبھی امن وسکون اور تعمیر وترقی کی شاہراہ پرڈال دیا تھا ۔ ہاں، اس علم و حکمت کو پانے کے لیے دل کی پاکی، کردار کی ثقاہت اور نگاہ اور سوچ کی وسعت لازم وملزوم ہے ۔ اس علم ِنافع کو حاصل کرنے کے بعد اسے عالم انسانیت تک پہنچانے اور ا س سے اخلاقی تعمیر نو کرنے میں ہی نوع انسان کے لئے دارین کی کامیابی چھپی ہے، وگرنہ بحرو بر میں جہالت، نفس پرستی، لالچ، غرور، بے راہ روی، بےرحمی اورجنگ وجدل کی جوکالی گھٹا ئیں چھائی ہوئی ہیں وہ قیامت کبریٰ کے برپا ہونے کا باعث بنیں گی۔ اللہ بچائے۔آمین