افغان جنگ میں امریکہ کو کتنا نقصان ہوا؟ موسیٰ غنی

افغانستان کی روداد بہت دلچسپ اور خوفناک ہے جس میں رب العالمین کے معجزات بھی ہیں اور درد و خوف کی انتہا بھی۔ بات کچھ زیادہ پرانی نہیں، بس 18سال قبل افغانستان میں وقت کی سپرپاور نے 48 ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد کے ساتھ افغانستان میں چڑھائی کردی تھی۔ اقوام عالم کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ پاکستان بھی اس جنگ میں امریکا کا اتحادی بنا اور پھر کیا تھا سال گزرتے گئے اور امریکا کے اتحادی کم ہوتے گئے اور وہ وقت بھی آیا کہ امریکا جنگ میں اکیلے نظر آیا اور جس قوت کے ساتھ آیا تھا اسی سبکی کا منہ دیکھنا پڑا بلکہ پڑ رہا ہے۔ لیکن پاکستان نے امریکا دوستی میں اپنے 75,000شہری قربان کردیے، ہزاروں کومعذوری کا منہ دیکھنا پڑا، لاکھوں کو بےروزگارہونا پڑا اور معیشت تباہ ہوگئی۔ پاکستان کی ہر گلی کوچے میں ایک دن میں کئی دھماکے ہونے لگے، لوگ اپنی جان و مال سے ہاتھ دھوتے رہے، مگر حاکمِ وقت نے امریکا سے دوستی کو ترجیع دی، جس کا خمیازہ آج بھی نوجوان بھگت رہے ہیں۔ جس بارڈر پر کبھی فوجی نہیں ہوتا تھا آج وہاں سیکورٹی کے نام پر اربوں روپے کا خرچہ ہے، اور یاروں کے یار امریکا نے ہم کو اس جنگ میں تنہا کر دیا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں امریکا پاکستان سے اپنے 35 بلین ڈالر کا حساب مانگتا ہے جس جنگ میں پاکستان نے نہ صرف شہداء پیش کیے بلکہ 123ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا۔ کس کی ایما پر پاکستان کی جانب سے امریکا کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے دی گئی؟ کیوں ڈرون حملوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بمباری کی؟ کیوں امریکی اور نیٹو افواج کو کراچی کے ذریعے اسلحے کی ترسیل کی گئی؟ یہ وہ سوال ہیں جس کاجواب کسی کے پاس نہیں۔

یہی وہ امریکا ہے جس کے لیے ہمارے حکمران بچھے جاتے تھے آج اس ملک کے صدر نے تمام قربانیوں کا مذاق اڑا کربتا دیا کہ واحد مسلم ایٹمی ملک کی اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ امریکا کو ویت نام کے بعد شکست کا خطرہ لاحق ہے لیکن وہ کیا پاکستان کو کمبوڈیا بنانے کا سوچ رہا ہے تو شاید اس جواب انتہائی ناگواری کیساتھ "ہاں "میں ہوگا۔ امریکی فوجیوں و اتحادی افواج کی جانب سے افغانستان میں ظلم کے پہاڑ ڈھائے گئے ہیں۔ جو بدترین مثالیں سپر پاور نے ویتنام میں قائم کی ہیں وہ ناقابل یقین اور انسانیت سوز ہیں۔ امریکی استعمار نے جنوبی ویتنام کو امریکی فوجی اڈے میں بدلنے کے لیے نئی طرز کی نوآبادیاتی حکومت مسلط کی، وہاں برپا ہونے والے انقلاب کو بے دردی سے کچلا، 1965ء میں جب امریکا براہِ راست ویتنام جنگ میں داخل ہوا اور جب 1975ء میں وہ وہاں سے نکلا، اس دورا ن ویتنام کے 30 لاکھ لوگ جبکہ 58 ہزارامریکی فوجی مارے گئے تھے، جبکہ امریکا نے 10 ہزار جنگی جہاز و ہیلی کاپٹر گنوائے تھے، مگر پھر بھی شکست نہیں دے سکا۔ جسے وہ انڈوچائنا میں 'کمیونسٹ عفریت' قرار دیتا تھا۔ عسکری تاریخ آج بھی گواہ ہے کہ جنگ ہائے عظیم کے علاوہ کبھی اتنا بڑا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا جتنا کہ ویتنام کی جنگ میں ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکی چاند پر نہیں گئے - شاہنواز فاروقی

امریکا کو مسلسل پے در پے شکستوں نے امریکی فوجیوں کا مورال بدترین طور پر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ 17سالہ جنگ میں امریکا کے اب تک 2313 فوجی قتل ہوچکے ہیں جبکہ سینکڑوں خودکشی کر چکے ہیں۔ جنگ میں شریک ہونے کے بعد سے سپرپاور کے ہزاروں فوجی ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جبکہ دوسری طرف 48 ملکی اتحاد میں شامل برطانیہ کے 656 فوجی ہلاک ہوئے، کینیڈا کے 157، فرانس کے 88، جرمنی کے 57، اٹلی کے 53، پولینڈ کے 43، ڈنمارک کے 43، آسٹریلیا کے 41، اسپین کے 35، جارجیا کے 32، رومانیہ کے 26، ہالینڈ کے 25، ترکی کے 15، چیک ریپبلک کے 14، نیوزی لینڈ کے 10، ناروے کے 10، ہنگری کے 7، سویڈن کے 5، لٹویا کے 4، سلووکیا کے 3 جبکہ مزید چار ممالک کے ملا کر 10 فوجی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ طالبان کے نام سے افغانستان میں کارروائی کرنے والی تنظیم کے 35,000سے زائد لوگ مارے گئے ہیں۔

اس 17سالہ جنگ میں امریکا کو اب 1 ہزار 70 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ پہلی بار سپرپاور نے افغانستان میں 773 ارب ڈالر کا خرچہ کیا جس میں فوجی آپریشنز، سامان کی ترسیل، جہاز، تنخواہیں اور دیگر چیزیں شامل ہیں، جنگ کو وسیع کرنے اور اپنے انٹیلی جنس روابط کو بڑھانے کیلئے امریکا نے مزید 243 ارب ڈالر خرچ کیے جبکہ جنگ میں زخمی ہونے والوں سائیکو لوجیولیکل بیماریوں میں مبتلا اپنے فوجیوں پر 54.2بلین ڈالز خرچ کئے ہیں جبکہ اس مد میں مزید خرچ ہو رہے ہیں۔

امریکا نے نائن الیون حملوں کے بعد جب افغانستان پر چڑھائی کی تو اس وقت امریکا سمیت اتحادی افواج کے 9,700 فوجی افغانستان میں موجود تھے جب 2003 میں افغانستان میں طالبان نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کیا تو امریکا نے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا اور 13,000 فوجی مزید افغانستان میں داخل کردیے 2004 میں یہ تعداد 18,000ہزار ہوگئی، 2005میں 17ہزار،2006میں فوجیوں کی تعداد بڑھتے ہوئے 20,000ہزار تک جاپہنچی تھی جبکہ اگلے سال مزید 24,000 ہزار فوجی، 2008 میں 32,000 ہزار فوجی افغانستان میں موجود تھے۔ جب 2008 میں طالبان منظم ہوئے اور انہوں نے غزنی اور دیگر علاقوں پر قبضہ کیا تو اسی سال امریکی فوجیوں کی تعداد دوگنی ہوگئی اور 69,000 فوجی افغان سرزمین میں داخل ہوئے جب سپرپاور سے 2010 تک طالبان کنٹرول نہ ہوئے تو انہوں مزید تعداد بڑھا کر 96,000 ہزار کردی تھی جبکہ دیگر اتحادی افواج کے فوجی ملا کر یہ تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ اس تمام میں امریکا نے افغان فوجیوں کو باصلاحیت بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ اب امریکا افغان جنگ میں شکست کے دہانے پر ہے اور اس کوقبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ یوں سپرپاور پاکستان پر الزام تراشیاں کر رہی ہے۔ یہی پاکستان آج اگر کھڑے ہوکر کہہ دے کہ ہم امریکا کے کنٹینر اپنی سرزمین سے نہیں گزرنے دیں گے تو شاید امریکا گڑگڑاتا ہوا پاکستان کی منت سماجت کو تیار ہوجائے گا۔ موجودہ افغان جنگ کے باعث عالمی سپرپاور خود مقروض ہوچکی ہے۔ صرف ملک خداداد کو ایک لیڈر کی ضررورت جو امریکا کو منہ توڑ جواب دے سکے۔