فہیمدہ ریاض تانیثی شاعری کا معتبر حوالہ‎ - عدیل عباس عادل

معاصر اُردو شعری منظرنامے پر بات کرتے ہوئے جب بھی شاعرات کا حوالہ مانگا جائے تو فورا جو نام ذہن پر آتے ہیں، اُن میں فہمیدہ ریاض ایک اہم ترین نام تھا۔ فہمیدہ ریاض کی شاعری کو نسائی جذبوں کا مزاحمتی بیانیہ کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔

فہمیدہ ریاض کے ارتقاء حیات و فن کو دیکھا جائے تو اُن کی شاعری کی معنویت اور ایک عورت کے جرات مندانہ اظہار کے راز وا ہوتے ہیں۔


حضور میں اس سیاہ چادر کا کیا کروں گی

یہ آپ کیوں مجھ کو بخشتے ہیں بصد عنایت

نہ سوگ میں ہوں کہ اس کو اوڑھوں

غم و الم خلق کو دکھاؤں

نہ روگ ہوں میں کہ اس کی تاریکیوں میں خفت سے ڈوب جاؤں

نہ میں گناہ گار ہوں نہ مجرم

کہ اس سیاہی کی مہر اپنی جبیں پہ ہر حال میں لگاؤں

اگر نہ گستاخ مجھ کو سمجھیں

اگر میں جاں کی امان پاؤں

تو دست بستہ کروں گزارش

کہ بندہ پرور

حضور کے حجرۂ معطر میں ایک لاشہ پڑا ہوا ہے

نہ جانے کب کا گلا سڑا ہے

یہ آپ سے رحم چاہتا ہے

حضور اتنا کرم تو کیجے

سیاہ چادر مجھے نہ دیجئے

سیاہ چادر سے اپنے حجرے کی بے کفن لاش ڈھانپ دیجیے


(نظم’’چادر اور چار دیواری‘‘ سے اقتباس)

ایسے دقیق خیالات و نظریات کو نظم کرنے کے علاوہ ’ کب تک‘، ’زبان کا بوسہ‘، ’ایک لڑکی سی‘، ’باکرہ‘، ’ایک عورت کی ہنسی‘ ایسی بے شمار بےباک نظموں کو جنم دیا۔

جولائی 1945ء کو میرٹھ میں پیدا ہونے والی فہمیدہ ریاض کی ابتدائی نظمیں زمانہ طالبِ علمی میں ’’ فنون‘‘ کا حصہ بنیں۔ 1967ء میں پہلا شعری مجموعہ ’’پتھر کی زبان‘‘ کے نام سے منظرِ عام پر آیا۔ 73ء میں ’’بدن دریدہ‘‘ اور اُس کے بعد ایک مجموعہ ’’دھوپ‘‘ کے عنوان سے چھپا۔ کئی شعری مجموعوں کے علاوہ افسانوی نثر بھی شائع ہوئی۔ شادی سے پہلے کراچی اور بعد ازاں لندن مقیم رہیں۔ لندن میں بی بی سی سے وابستہ ہوئیں، لندن کالج آف فلم ٹیکنیک سے فلم پڑھتی رہیں۔

فہمیدہ ریاض شاعری سے ہٹ کر خواتین کے استحصال اور معاشرتی جبر و قیود کے خلاف عملی طور پر سرگرم رہیں۔ ’’آواز‘‘ کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا۔ ضیاء الحق کے دور میں جبری جلاوطنی کے نتیجے میں ہندوستان شفٹ ہوئیں۔ ہندوستان کے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور کئی دیگر اداروں کے ساتھ کام کیا۔ بھارت قیام کے دوران’’ آئی ایس آئی‘‘ کی ایجنٹ کہلوانے والی فہمیدہ ریاض ضیاء الحق کی موت کے بعد جب پاکستان واپس آئیں تو یہاں اِنھیں ’’را‘‘ کا ایجنٹ کہا گیا۔

فہمیدہ ریاض نے چند غزلیں بھی کہیں لیکن محبوب وسیلہ اظہار نظم کو ہی جانا۔ ان کے پاس جہاں عورت کے لطیف اور کومل جذبات و احساسات کا بیان ہے تو وہیں اُن کی شاعری میں مذہبی و معاشرتی قدغنوں میں جکڑی عورت کا مزاحمتی نوحہ سنائی دیتا ہے۔ معاشرتی بندشوں اور مردوں کے صنفی برتری بخشتے نظام میں گھُٹن زدہ زندگی گزارنے کے بجائے فہمیدہ مزاحمت کی نمائندہ آواز ہ بنیں، جس نے نہ صرف خود اپنے خیالات بلکہ اپنے معاشرے کی عورت کے احساسات کو اظہار دیا۔ اُن کی شاعری میں دورِجدید کی عورت کے اندر اُٹھتی خود مختاری و روایت شکنی کی خواہش کا واضح اظہار ہے۔ وہ ایک ایسی عورت کی تمنا کو قلم بند کرتی دکھائی دیتی ہیں جو سنگ دل رواجوں کے خستہ حال زندان سے فرار پا کر رقصِ رندانہ کی مستی سے آزادانہ سرشاری چاہتی ہے۔ ایسے میں نظم ’’ایک لڑکی سی‘‘ میں ایک عورت یہ سنائی دیتی ہے:


یہ اسیر شہزادی۔۔!

جبر و خوف کی دختر

واہموں کی پروردہ

مصلحت سے ہم بستر

ضعف و یاس کی مادر

جب نجات پائے گی

سانس لے گی درّانہ

محوِ رقصِ رندانہ

اپنی ذات پائے گی


(نظم ’’ایک لڑکی سی‘‘ سے اقتباس)

ایک اور نظم میں عورت میں ممتا روپ کے احساسات کا اظہار ملاحظہ ہو۔


لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا

چھو کے میرا بدن

اپنے بچے کے دل کا دھڑکنا سنو

ناف کے اس طرف

اس کی جنبش کو محسوس کرتے ہو تم

بس یہیں چھوڑ دو

تھوڑی دیر اور اس ہاتھ کو میرے ٹھنڈے بدن پر یہیں چھوڑ دو

میرے بے کل نفس کو قرار آ گیا

میرے عیسیٰ مرے درد کے چارہ گر

میرا ہر موئے تن

اس ہتھیلی سے تسکین پانے لگا

اس ہتھیلی کے نیچے مرا لال کروٹ سی لینے لگا

انگلیوں سے بدن اس کا پہچان لو

تم اسے جان لو

چومنے دو مجھے اپنی یہ انگلیاں


(نظم ’’لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا‘‘ سے اقتباس)

فہمیدہ ریاض کی تمام شاعری میں ایسے ہی کہیں عورت کے لطیف نسوانی جذبات کی عکاسی ہے تو کہیں معاشرے میں عورت کے استحصال کے خلاف ردِعمل کے طور پر واضح اور بے باک مزاحمت ہے۔ اُردو شاعرات میں تانیثی و مزاحمتی انداز کو اپناتے ہوئے ایسا چونکا دینے والا ممتاز اسلوب جوفہمیدہ ریاض کے حصہ میں آیا ہے، آنے والے وقتوں میں اُردو شاعری کی تاریخ میں فہمیدہ ریاض کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔