رحمت اللعالمین ﷺ - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

مشک بو عطر بیز ہوائیں فضا میں خوشی اور وجد سے دیوانہ وار جھوم رہی تھیں۔ صحرا کے ذرے، سمندروں کے قطرے اور کائنات کا چپہ چپہ حالت تشکر میں سجدہ ریز تھے۔ مالک کائنات نے اپنے بندوں پر احسان عظیم فرما دیا تھا، اپنے محبوب کو، اپنے نور ﷺ کو، لباس بشریت میں ملبوس فرما کر عالم رنگ و بو میں جلوہ گری کے لیے بھیج دیا تھا۔ چار دانگ عالم پر قابض اندھیرے روشنیوں میں بدل چکے تھے، سسکتی بلکتی عالم نزاع میں مبتلا انسانیت کو حیات ِنو بخشنے والا آگیا تھا، منکرات کی صلیبوں پر لٹکے ہوئے انسانوں کو زندگی بخشنے والا آگیا تھا، آگ کے بھانبھڑ سے لبریز جہنم کے کناروں پر کھڑے لوگوں کا رخ فردوسِ بریں کی طرف موڑنے والا آگیا تھا۔

یہی وہ مسیحا اعظم تھا جس کے آنے پر ہزاروں سال سے روشن آتش کدے سرد پڑگئے۔ غرور و تکبر کی علامت ملک شام کے فلک بوس شاہی محلات سرنگوں ہو گئے۔ صنم کدوں میں زلزلے آگئے۔ شرک و کفر کے ایوان توحید کے ترانوں سے گونج اٹھے۔ فرش سے عرش تک قدسی ملائکہ کا تانتا بندھ گیا جو وجہ تخلیق کائنات محبوب خدا کی زیارت کے لیے حضرت آمنہ کے آنگن میں حاضر ہو رہے تھے اور قیامت تک محبوب خدا ﷺ کی زیارت و طواف کے لیے آتے رہیں گے اور دِل میں یہ حسرت لیے لوٹ جائیں گے کہ اب روزِ محشر تک ان کی دوبارہ باری نہیں آئے گی۔ آج وہ آگئے تھے جن کے آنے سے گلزار ِہستی میں زندگی اور روشنی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ آپ ﷺ صرف عرب و عجم کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر آئے تھے۔

آپ ﷺ کی آمد سے قبل پوری دنیا جہالت گمراہی ظلم و جبر شرک و بدعت، صداقت و گمراہی نافرمانی کے عمیق گڑھے میں گری ہوئی تھی۔ انسانیت اور انسانی اقدار کا نام و نشان تک نہ تھا۔ لڑکیوں بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتا، عورتوں اور غلاموں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا، عورتیں اور مرد سر عام بیت اللہ کا ننگا طواف کرتے، ایک خدا کی عبادت کے بجائے اپنے ہی ہاتھوں سے تراشیدہ بتوں کی پوجا کی جاتی، بت پرستی اِس حد تک بڑھ گئی تھی کہ خانہ خدا میں بھی تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ فحاشی و عریانی، بےحیائی، فسق و فجور اور بدکاریوں پر ندامت و شرمندگی کے بجائے اِس پر فخر کیا جاتا۔ شراب نوشی و قمار بازی ان کا پسندیدہ ترین مشغلہ تھا۔ حسب و نسب اور تفاخر میں ڈوبے ہوئے تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی جھگڑے طویل جنگوں کا روپ دھار لیتے۔ انتقام و کینہ پروری کو وصف خوبی سمجھا جاتا تھا۔ بتوں کے نام پر جانور ذبح کیے جاتے اور بتوں پر چڑھاوے چڑھائے جاتے۔ ظلم کی انتہا یہ تھی کہ زندہ جانوروں کا گوشت کاٹ کر کھانا محبوب مشغلہ تھا۔ قبائلی عصبیت نقطہ عروج پر تھی۔ ایک قبیلہ دوسرے قبیلے کو کمتر اور ذلیل سمجھتا تھا۔ گھڑ دوڑ پر بازی لگائی جاتی، سو دی لین دین عام تھا۔

انسانیت سسکتی بلکتی دم توڑتی نظر آرہی تھی اور شدت سے اپنے مسیحا کے انتظار میں تھی اور پھر مالک بےنیاز کو انسانیت اور کرہ ارض پر ترس آیا، اور اپنے محبوب اور آخری رسول ﷺ کو اِس دنیائے آب و گل میں بھیجا۔ آپ ﷺ کے آنے پر حضرت آمنہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک عظیم نور دیکھا جو پھیلتا چلا گیا، یہاں تک کہ شام کے محلات بھی میری نظروں میں روشن ہوگئے۔ آپ ﷺ کسی گندگی کے بغیر پاک و صاف پیدا ہو ئے۔ حضرت عثمان بن ابی العاص کی والدہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کی ولادت کے وقت جدھر نظر جاتی تھی نور ہی نور تھا۔ حضرت شفا جو دایہ تھیں، فرماتی ہیں آپ ﷺ میرے ہاتھوں میں آئے تو حالت سجدہ میں اور انگشت اٹھائے نا ف بریدہ اور ختنہ شدہ تھے۔ ایک آواز بھی آئی رب کریم تم پر رحم فرمائے۔ حضرت آمنہ فرماتی ہیں جب آپ ﷺ پیدا ہوئے تو آپ ﷺ سجدہ پڑ گئے اور دونوں انگلیاں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے سجدہ میں جانے کے بعد انگشت آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بےشک میں اللہ کا رسول ﷺ ہوں۔ حضرت آمنہ فرماتی ہیں بادل کا ٹکڑا نمودار ہوا جس کے باعث آپ ﷺ کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔ میں نے آواز سنی آپ ﷺ کو تمام عالم کی سیر کرائی گئی تاکہ مخلوق آپ ﷺ کی صفات، آپ ﷺ کی صورت اور اِسم گرامی سے آشنا ہو جائے۔ یہ بادل صرف ایک لمحہ کے لیے منور رہا اِس کے بعد پہلے سے بڑا بادل آیا ،اس میں انسانوں اور گھوڑوں کی آوازیں سنیں پھر ایک آواز آئی۔ آپ ﷺ کو جن و انس اور چرند پرند دکھائے گئے، پھر آپ ﷺ کو آدم کی صفوت و بزرگی، نوح کی رقت، ابراہیم کی سی آزمائش، داؤد کی صورت، ایوب کا صبر، یحی کا زہد اور عیسی کی سخاوت عطا ہوئیں۔ یہ بادل صرف ایک لمحہ کے لیے روشن ہوا۔

آپ ﷺ کے ولادت کے وقت آپ ﷺ کے دادا عبدالمطلب خانہ کعبہ میں طواف کر رہے تھے۔ حضرت عبدالمطلب فرماتے ہیں میں اس رات کعبہ میں تھا، میں نے بتوں کو دیکھا کہ سب بت اپنی اپنی جگہ سے سر بسجود سر کے بل گرِ پڑے ہیں اور کعبہ کے درو دیوار سے یہ آواز آ رہی تھی۔ مصطفے ﷺ مختار پیدا ہوا، اس کے ہاتھ سے کفار ہلاک ہوں گے اور کعبہ بتوں کی عبادت سے پاک ہوگا اور وہ اللہ کی عبادت کا حکم دے گا جو حقیقی بادشاہ اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ عکرمہ سے مروی ہے کہ جس روز محبوب خدا ﷺ کی ولادت ہوئی تو ابلیس نے دیکھا کہ آسمان سے تارے گِر رہے ہیں، اس نے اپنے لشکروں کو کہا آج رات وہ پیدا ہوا ہے جو ہمارے نظام کو درہم برہم کر دے گا، اس کے لشکروں نے اسے کہا کہ تم اس کے نزدیک جاؤ اور اسے چھو کر جنوں میں مبتلا کر دو۔ جب وہ اِس نیت سے آمنہ کے لا ل کے قریب جانے لگا تو حضرت جبرئیل نے اسے پاؤں ٹھوکر لگائی اور اسے عدن میں پھینک دیا۔ علامہ ابو القاسم لکھتے ہیں ابلیس ملعون زندگی میں چار بار چیخ مار کر رویا، پہلی مر تبہ جب اس کو ملعون قرار دیا گیا، دوسری مرتبہ جب اسے بلندی سے پستی کی طرف دھکیلا گیا، تیسری مر تبہ جب سرور دو عالم ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی، اور چوتھی مرتبہ جب سور فاتحہ نازل ہوئی۔

آپ ﷺ کی ولادت سے کائنات کا ذرہ ذرہ خوشی سے جھوم رہا تھا، ننھے سردار ﷺ دنیا میں آنے کے بعد آرام فرما رہے تھے کہ امِ ایمن کنیز کمرے میں داخل ہوئی اور بولی، اہل قریش ننھے سردار ﷺ کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ حضرت آمنہ کہتی ہیں کہ آپ ﷺ آرام فرما رہے ہیں اور پھر کنیز کو اٹھا نے کی اجازت دیتی ہیں۔ کنیز آگے بڑھ کر ننھے سردار ﷺ کو پیار سے دیکھتی ہے جو میٹھی نیند سے آرام فرما رہے تھے۔ حضرت آمنہ بولتی ہیں شاید ننھے سردار ﷺ کا نام رکھا جانے لگا ہے۔ جی مالکن مجھے سردار قریش عبدالمطلب نے حکم دیا ہے کہ ننھے سردار ﷺ کو نیچے لے کر آؤ، قوم اپنے نئے سردار کو دیکھنا چاہتی ہے اور پھر کنیز بڑھ کر ننھے سردار ﷺ سرتاج الانبیا سرور کائنات ﷺ کو اٹھا لیتی ہے۔ ننھے سردار ﷺ اس کے اٹھانے سے چونک کر اپنی خوبصورت کالی کالی آنکھیں کھول دیتے ہیں۔ کنیز میرے آقا میرے سردار میرے مالک میری زندگی کہتے ہوئے اپنے سینے سے لگا لیتی ہیں اور پھر ننھے سردار ﷺ کو باہر مہمانوں کے درمیان لے آتی ہے۔ ننھے سردار ﷺ کا ملکوتی حسن اور چاند جیسا چہرہ دیکھ کر سب نے تعریف کی اور قریشیوں کے مخصوص حسن کی فراخدلی سے بھر پور داد دی۔ ہم ننھے سردار ﷺ کو کس نام سے پکاریں تو سردار قریش عبدالمطلب کی آواز گونجی محمد ﷺ، تم اپنے بھتیجے اور ننھے سردار کو محمد ﷺ کے نام سے پکارو گے۔ محمد ﷺ؟ بہت سی حیرت زدہ آوازیں گونجیں ہاں میرے پو تے اور میرے نو بیٹوں کے بھتیجے کا نام محمد ﷺ ہے۔ نام تو بہت اچھا ہے، میں صرف اِس لیے حیران ہو رہا تھا کہ قریش میں یہ نام کبھی سننے میں نہیں آیا، حرب بن امیہ بولا۔ سردار دادے نے اس کی طرف دیکھا اور خوشی اور فخر سے لبریز لہجے میں کہا قریش ہی نہیں حرب پورے عرب میں کہو، مکہ کے سینے میں یہ نام صدیوں اور قرنوں سے امانت کے طور پر محفوظ تھا، آج مکہ اپنی امانت سے سبکدوش ہو رہا ہے۔ یہی وہ نام تھا جو حضرت آدم نے اپنی غلطی پر عرش عظیم کی پیشانی پر لکھا ہوا دیکھا اور جب محمد ﷺ کے نام سے معافی مانگی تو خالق بےنیاز کو ترس آیا اور محمد ﷺ کے نام سے مانگی ہوئی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور اپنا در کھول دیا
(ماخذ عشق مصطفے/عشق رسول ﷺ)۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com