بچوں کی اردو میں استعداد کیسے بڑھائیں؟ ہمایوں مجاہد تارڑ

یہ چھ آزمودہ باتیں ہیں، یعنی خاص عملی تجربہ کی کسوٹی پر پرکھی ہوئی۔ نتیجہ حیرت انگیز ہے کہ خود میرے بچوں کی اردو استعداد میں پچھلے ایک ہفتہ میں ہی زبردست اضافہ ہوا ہے۔

پہلے یہ دو باتیں نوٹ فرمالیں:

اوّل، چونکہ باقی تمام سبجیکٹس انگلش میں ہیں، اِن بچوں کے دل و دماغ اور نگاہ انگلش ٹیکسٹ پر خوب جمے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُردو ٹیسٹ کی ریڈنگ ہو یا اِملا، دونوں سخت کمزور رہ جاتی ہیں۔ یہ کمزوری ساتھ ساتھ چلتی ہے، تاوقتیکہ بہت عرصہ بعد جب اچانک آپ کے نوٹس میں آتی ہے تو میٹرک کی سطح تک جا پہنچے بچے کی اُردو استعداد دیکھ کر آپ لرز اٹھتے ہیں۔

دوئم، والدین developmental phase میں اس لیے مدد نہیں کر پاتے، یا ریگولر نہیں ہو پاتے کہ پڑھانا اور سِکھانا ایک سُست رو عمل ہے جو وقت دینے کا متقاضی ہے۔ اس میں تردّد ہے؛ یہ نرا سردرد ہے۔

اب اِس عمل کو آسان بناتی کچھ ٹپس ہو جائیں۔ خلوص اور کمٹمنٹ تو خیر چاہیے ہی۔

1— بچے کی اردو کی کتاب میں سے 8 یا 10 اسباق کا انتخاب کریں، بچے کو پاس بٹھا کر۔ فہرست پر پنسل سے نشان لگا لیں۔

2— ایک کاپی یا رجسٹر مخصوص کر لیں۔ ہم نے رجسٹر کا دائیں طرف والا حصہ مخصوص کیا ہے۔ پہلے صفحہ پر کلرڈ پیڈ والے ٹیگز لگا دیں۔ اب ان پر مارکر سے اِن اسباق کے نام لکھ ڈالیں۔ یہ سب خود بچے سے ہی کروائیں۔ اس عمل سے جوش و خروش بڑھ جاتا ہے۔ پہلے صفحہ پر تاریخ بھی درج کی جائے۔ اور پھر ہر صفحہ پر۔

3— اب، بچے کی مرضی سے کوئی سا ایک سبق منتخب کریں، ان 10 اسباق میں سے۔ نثری سبق ہو یا نظم، اس کے دو حصے بنا لیں۔ اب کوئی موبائل فون لیں، یا ٹیب یا کمپیوٹر کے استعمال سے اس پورے سبق کی ریڈنگ اپنی آواز میں ریکارڈ کر ڈالیں۔ نیز، مشکل الفاظ کو انڈر لائن بھی کیا جائے۔ بچے سے کہیں کہ سبق کا پہلا حصہ اس ریکارڈنگ سے گائیڈ ہو کر تین چار بار پریکٹس کرکے لائے۔ پریکٹس کے دوران وہ pause کا بٹن دبا کر ذرا سہولت سے اُس ریکارڈنگ کو فالو کر سکتا ہے۔ نیز، اسے بتائیں کہ انڈر لائن ہوئے الفاظ کو الگ سے پروناؤنس کرنے کی پریکٹس بھی کر کے لائے۔ اس عمل سے آپ کا کچھ وقت بھی بچے گا اور بچے کے سر پر سوار رہ کر ہر ہر لفظ کے لئے اُلجھنے کا تردّد بھی کم ہوجائے گا۔ اسی طرح، سبق کا دوسرا حصہ بھی پریکٹس کرایا جائے۔ بیچ میں 15 منٹس کی بریک دے دی جائے۔ یا ایک دن میں نصف سبق اِس طور کور کرا دینا کافی ہے۔ ایک دم سے لمبا ٹاسک دینے کی صورت بچہ بور ہو جائے گا۔ ذرا وقفے سے انگیج کرنا اور کئے ہوئے کام پر حوصلہ افزائی کرنا بہتر سٹریٹجی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جشن آزادی! بچوں کی خصوصی کہانی - ناہید خان

4— انڈر لائن کئے ہوئے الفاظ کو پینسل کے ساتھ بچے کے سامنے لکھ کر دکھائیں۔ تاکہ وہ دیکھے کہ کون سا لفظ یا حرف کہاں سے شروع ہو کر کہاں ختم ہوتا ہے۔ آپ یہ الفاظ زیادہ dark نہ لکھیں۔ اب بچے سے اپنے لکھے ہوئے پر ڈبل رائٹنگ کروائیں۔ یقین جانیں، بچے میٹرک یا او لیولز کلاس کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں مگر انہیں حروف اور الفاظ کو درست انداز میں لکھنا تک نہیں آتا۔ کم سے کم بھی پانچ اسباق کے الفاظ اسی طرح پریکٹس کرائے جائیں۔ باقی پانچ اسباق کے الفاظ لکھ کر ضرور دیں،تاہم بچہ اُن پر ڈبل رائٹنگ کرنے کی بجائے آزادانہ طور پر خود سے لکھے۔

5— ہر روز ایک پورے سبق کی ریڈنگ اور الفاظ کی رائٹنگ اسی انداز میں کرائی جائے۔ اگر ہر روز ایک پورا سبق کور نہ ہو سکے تو نصف پر گزارا کر لیا جائے۔ یعنی یہ پروجیکٹ 20 دنوں تک پھیلا دیا جائے۔ آپ دیکھیں گے کہ صرف 20 دن کی محنت سے بچے کی زندگی آسان ہو جائے گی۔

6— اب بچے کو آسان لفظوں میں لکھی ایک اردو سٹوری بک پکڑا دیں۔ اس کہانی کے پہلے صرف 5 صفحات پاس بٹھا کر ریڈنگ کرائیں تاکہ بچہ سٹوری میں اِنوالو ہوجائے۔ باقی کہانی وہ خود پڑھے اور پھر اپنے لفظوں میں آپ کو سنا دے۔ کہانی کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا جائے۔ خوب مزیدار کہانی ہو تاکہ بچے میں کہانی پڑھنے کی ایڈکشن جڑ پکڑے۔ اگر اسے اِس "نشے" کی لت پڑ گئی تو سمجھیں کہ پروجیکٹ کامیاب ہو گیا۔ 🙂

تین ماہ کی ایک ٹرم میں صرف 20 دن۔ اگلی ٹرم میں پھر سے 20 دن۔ اگلی دفعہ کتاب بدل لیں۔ کوئی سٹوری بک ہو یا اردو نظموں کا مجموعہ۔۔۔ (انگلش میں استعداد بڑھانے کے حوالے سے بھی بات ہو گی۔ انشاللہ۔)

ذرا ایمانداری سے بتائیں۔ کیا آپ نے اس طرح کا کوالٹی ٹائم اپنے بچوں کو دیا ہے؟؟ یعنی صرف 20 روز؟ اگر نہیں دیا تو پھر استاد اور سکول سے کیسا شکوہ؟ ایسا کوالٹی ٹائم ضرور دیں۔ اللہ آپ کو ہدایت دے، اور آسانیاں عطا فرمائے۔

Comments

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں پاک ترک انٹرنیشنل سکول، اسلام آباد کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.