اوپلے والی مائی سکینہ کا عشق نبی ﷺ - اسری غوری

اوپلے والی مائی سکینہ تیرے ہاتھوں سے بو بڑی آتی ہے، لگتا ہے تو نے زندگی بھر بس اوپلے ہی تھاپے ہیں۔ ماسی ادھر بیٹھ، بڑی بدبو آرہی ہے تیرے بدن سے۔ ماسی تیرا گھر تو سارا ہی سڑتا رہتا ہوگا۔ ماسی تو کیا کرے گی اتنے پیسے جوڑ کر؟ کوئی کپڑے ہی خرید لیا کر، ان سب کپڑوں میں تو اوپلوں کی بدبو بس گئی ہے۔

ماسی سکینہ کو ایسے ہی نجانے کتنے جملے سنتے سالوں گزرگئے تھے، مگر وہ تو جیسے ہر بدبو سے بےنیاز ہوچکی تھی، اس پر تو بس ایک ہی دھن سوار تھی کہ اسے بس نبی جی کے قدموں میں جانا ہے، مدینے پاک کی خاک کو آنکھوں سے لگانا ہے۔ اسی حسرت نے ماسی سکینہ کو سب کچھ کھو جانے کے بعد بھی زندہ رکھا ہوا تھا۔ شوہر جوانی میں ہی داغ مفارقت دے گئے، اولاد سے اوپر والے نے محروم رکھا تھا، ماں باپ پہلے ہی چل دیے تھے، اس بھری دنیا میں وہ اکیلی ہی رہ گئی تھی۔ کئی دفعہ کوشش ہوئی کہ وہ دوبارہ گھر بسا لے، پر مائی سکینہ نے اپنے دل میں نبی جی کے قدموں میں جا بسنے کی لو لگا لی تھی۔ اسی تڑپ میں تپتی دھوپ ہو یا سخت سردی، وہ دن بھر اوپلے تھاپتی۔ اپنی کمائی کبھی خود پر خرچ نہ کی، کپڑے کھانا جو کوئی دے دیتا بس اسی میں گزارہ کرتی اور کبھی بیمار بھی پڑتی تو ایک ہی دعا مانگتی۔ رب سوہنے تیرے پاس تو آنا ہی ہے نا، بس مجھے تب تک نہ بلانا، جب تک میں نبی جی کے قدموں کی خاک کو چوم نہ لوں، پھر بے شک ایک سانس بھی اور نہ دینا، ربا پر ابھی نہ بلانا۔

ایسے ہی تڑپتے اور مدینے پاک کی آس لگائے روز کی کمائی اس کٹیا میں رکھی صندوقچی میں رکھتی، ہر روز نکالتی، پڑھی لکھی تو تھی نہیں کہ گن لیتی، بس سوچتی نجانے یہ کب پورے ہوں گے اور کب بلاوا آئے گا کہ نبی جی کے قدموں میں پہنچ سکوں۔ وہ برستی آنکھوں سے اپنی اس جمع پونجی کو چومتی، آنکھوں سے لگاتی، اور جوڑ کر اسی میں واپس رکھ دیتی۔ برسوں ہوگئے اسے یہی سب کرتے۔ پھر ایک دن اس نے سوچا کہ اب تو اتنی رقم ہوچکی ہوگی، اب اس سے اور صبر نہیں ہوتا تھا۔ اس نے سوچا کل ہی شیدا آئے گا تو یہ رقم گنواؤں گی، پھر بس وہ مجھے مدینے پاک بھجوا دے گا۔ رات بھر وہ جاگتی رہی، نیند کوسوں دور تھی۔ صبح تڑکے ہی دو جھگیاں چھوڑ کے کچے مکان کے باہر وہ جا پہنچی اور آوازیں دینے لگی، شیدے او شیدے! آج مزدوری پر جانے سے پہلے میری بات سن کے جانا۔ برابر والی جھگی سے ماسی بختاراں جھانکی، پوچھا خیر تو ہے نا مائی سکینہ، اتنی تڑکے کیوں آوازیں لگا رہی ہے؟
او کچھ نہیں، بس مجھے کام پڑ گیا شیدے سے۔
اتنی دیر میں شیدے کی آواز آئی۔ کیا ہوا مائی سکینے؟
پتر آجا پھر بتاتی ہوں۔

یہ کہہ کر وہ اپنی جھگی میں چلی آئی، صندوقچی کھولی، اس میں سے ساری زندگی کی کمائی نکالی اور اک چادر پر ڈال دی۔ سب سے بڑا نوٹ سو کا ہی تھی، اس کے بعد پچاس پچاس کے کئی نوٹ، دس بیس اور پانچ کے سکے چادر پر بکھرے پڑے تھے۔ تھوڑی دیر میں شیدا آیا تو دیکھ کر بولا کیا ہوا مائی سکینے، یہ کیا ہے؟

پتر! یہ تیری مائی سکینے کی عمر بھر کی کمائی ہے۔ جب سے تیرا چاچا مرا ہے نا، تب سے میں نے اوپلے تھاپنے کا کام کیا۔ برسوں بیت گئے پتر، کبھی بیس کا کام ملا، کبھی دس کا کبھی پچاس کا، میں نے کبھی کچھ خرچ نہ کیا کہ میں نبی جی کے قدموں میں جاؤں گی۔ برسوں جو کچھ جوڑ جوڑ کر رکھا، وہ یہ ہے، بس پتر اب تو اسے گن اور مجھے مدینے پاک بھیج دے۔ پتر! پھر چاہے رب سوہنا مجھے وہاں ایک سانس بھی اور نہ دے۔ یہ کہتے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ شیدا زمین پر بیٹھ گیا اور رقم گننے لگا۔ سو سو کے الگ رکھ، پچاس والے الگ کر وہ گڈیا بناتا جاتا اور الگ رکھتا جاتا۔ وہ بھی چار جماعتیں ہی پاس تھا، بس گنتی بھی کام چلانے جیسی ہی آتی تھی۔ سارے پیسے جمع کرتے، حساب لگاتے بڑی دیر گزر گئی۔ مائی سکینے! یہ تو چونتالیس ہزار آٹھ سو پچاسی روپے ہیں۔ میرا سیٹھ ابھی پچھلے ہفتے ہی گیا مدینے پاک عمرہ کرنے، اس کے پچاسی ہزار روپے لگے ہیں، اور مائی حج پر تو سوچ بھی نہیں سکتی کہ اتنے پیسوں میں جا سکے، ابھی تو عمرے کے لیے بھی تجھے اور جمع کرنے پڑیں گے۔

مائی سکینے کا تو جیسے کسی نے کلیجہ نکال لیا ہو، اس کے پاس آدھے بھی پیسے نہیں جمع ہوئے تھے۔ ہائے اب کیسے نبی جی کے قدموں میں جاؤں گی۔ اس کی آواز اندر ہی گھٹ رہی تھی۔ اچھا جا پتر تو جا، رب سوہنا بھیجے گا مجھے نبی جی قدموں میں۔

شیدے کو تو اس نے بھیج دیا، خود مگر بےسکون ہوگئی، بنا کچھ کھائے کام پر نکل آئی، مگر جی تھا کہ لگتا ہی نہ تھا۔ اندر ہی اندر دکھ اسے کھائے جا رہا تھا، عمر کے کتنے برس گزار دیے رقم جمع کرتے، اب اور کتنے برس گزاروں گی۔ بس روتے روتے اوپلے بناتے وہ رب سوہنے سے شکوے کرنے لگی۔ مگر مدینے پاک کی دھن نے اسے پھر سے اسی کام پر لگا دیا۔ اب وہ زیادہ کام کرتی، زیادہ وقت لگاتی، بس اسی میں جتی رہتی۔ اس شام واپس گھر جاتے ہوئے اسے اپنی پرانی باجی یاد آئی، بڑی رحم دل تھی، ان کے گھر اس نے شادی کے بعد کچھ دن کام کیا، پھر شوہر کے منع کرنے پر وہ کام چھوڑ دیا۔ راجو کہتا جب تلک میں زندہ ہوں تو گھروں میں کام نہیں کرے گی۔ بس نئی جگہ ہے تو کچھ دل کر لیا، اب میرا کام ٹھیک چل پڑا، اب تو کچھ نہیں کرے گی بس۔ اس نے بھی ضد نہ کی۔ بی بی جی کہتی سر کا سائیں کمائے تو اس میں برکت ہوتی ہے۔ اب اسے وہ باجی یاد آئی، ان سے ملنے جاؤں گی۔ اس دن وہ خوب اچھی طرح نہائی ،اور جو سوٹ اس بار رمضان میں اسے راشن کے ساتھ ملا تھا، وہ نکالا، بال بنائے، برسوں بعد اس نے شیشے کی طرف دیکھا، تو وہ اب بھی ایک مکمل عورت تھی، اچھی شکل صورت والی، جسامت بھی لمبی چوڑی، وہ کہیں سے عمر رسیدہ نہیں لگ رہی تھی، جیسے اس نے خود کو بنالیا تھا، اس نے اپنی ساری خواہشیں بس ایک خواہش کے پیچھے مار دی تھیں۔ شیشیے کے سامنے سے ہٹی، ساری رقم نکال کر ایک کپڑے میں باندھی، بڑی سی چادر لی اور باجی کے گھر کی طرف چل پڑی۔

باجی زلیغا نے اک نظر میں ہی اسے پہچان لیا۔ ارے سکینہ! کیسی ہے؟ برسوں بعد یاد آئی تجھے؟ بالکل بھول گئی تھی؟ چل آجا اندر آجا۔ وہ دیکھتے ہی اسے گلے ملی، شکوے کیے، اور ساتھ لے کر صحن میں آگئی۔

بس باجی! جب سے راجو گیا، میری دنیا بس اوپلے اور میری کٹیا ہی۔ پر باجی میں آپ کے پاس ایک بڑے کام سے آئی ہوں، اس سے صبر نہیں ہو رہا تھا کہ وہ مدینے پاک جانے کی بات کرنے میں مزید کچھ دیر کرے۔ ہاں ہاں بول سکینہ؟ زلیغا ایک اچھی نیک دل عورت تھی۔

باجی! میں نے راجو کے جانے بعد برسوں ہوئے اپنی زندگی کا مقصد بس نبی جی کے قدموں میں جا کر بسنا بنا لیا تھا۔ دن رات محنت کی، میری حق حلال کی کمائی، باجی! کبھی بیماری میں بھی اس میں سے خرچ نہ کیا، پر باجی کل شیدے نے وہ ساری رقم گنی ہے، وہ تو کہتا اتنے پیسوں میں مدینے پاک نہیں جا سکتی۔ وہ اک ہی سانس میں ساری بات کہہ گئی اور آخری بات پر سسکی۔ باجی! میری تو زندگی برباد ہوجائے گی، جو مدینہ پاک دیکھے بنا مر گئی۔ باجی! تم صابر صاحب سے بات کر کے مجھے کسی طرح مدینے پاک بھجوا دو، میں ساری رقم لائی ہوں۔ اس نے کپڑے میں بندھی رقم نکالی اور میز پر رکھ دی۔ زلیغا کو اس کے اندر کی تڑپ نظر آرہی تھی، اس نے صابر صاحب سے بات کرنے کا وعدہ کیا اور اسے کل آنے کو کہا۔

کل تک کا کیسے انتظار کروں نبی جی، کیسے؟ میں تو بس جی ہی مدینے پاک کے لیے رہی ہوں۔ رات کٹیا میں بیٹھی سکینہ کبھی اٹھتی کبھی لیٹتی، کبھی جھگی کا پردہ ہٹا کر دیکھتی صبح ہونے میں کتنی دیری ہے، پھر جائے نماز پر آ بیٹھی، اسے لمبی چوڑی دعائیں تو آتی نہیں تھیں، برسوں سے بس ایک ہی دعا تھی اس کی تو، سجدے میں روتی وہی دہرانے لگی۔ رب سوہنے نبی جی کے قدموں میں بسا دے، اک بار خاک چوم لوں مدینے پاک کی، پھر چاہے اگلی سانس بھی نہ دو، رب سوہنے۔ روتے روتے کب اس کی سجدے میں ہی آنکھ لگی، اسے پتہ ہی نہ لگا۔

مرغا بانگ دینے لگا تو آنکھ کھلی، دیکھا تو جائے نماز پر سجدے میں ہی سوئی ہوئی۔ اٹھی پھر سے وضو کیا، بی بی جی نے قرآن پڑھاتے سکھایا تھا وضو کرنا، انہوں نے ہی تو اس کے دل میں یہ نبی جی کے عشق کا بیج بویا تھا۔

بی بی جی! اللہ نے ہمیں بڑے گھر کیوں نہیں دیے، کوٹھیاں کیوں نہ دیں، ہم کیوں جھگیوں میں رہتے ہیں؟ اس کے ایسے سوالوں کے جواب میں بی بی جی اسے سمجھاتیں، ہمارے نبی جی اللہ سے کہتے تھے، اللہ جی مجھے غریبوں کے ساتھ اٹھانا، مجھے قیامت کے دن ان کے ساتھ ہی رکھنا۔ نبی جی ساری ساری رات روتے تھے اس ماں کی طرح جس کا بچہ بگڑا ہوا ہو اور اسے پولیس پکڑنے آجائے تو ماں کیسے تڑپتی ہے نا اسے چھڑوانے کو، اور جب تک وہ چھوٹ نہ جائے تب تک ماں کو قرار نہیں آتا۔

ہاں ہاں! میں نے دیکھا تھا ماسی برکتے کے بیٹے کو جب پولس جیب کاٹنے پر پکڑ کر لے گئی تھی، ماسی ساری رات دروازے کے باہر بیٹھ کر روئی تھی، جب تک وہ نہیں آیا نا بی بی جی ماسی برکتے نے کوئی شے نہیں کھائی تھی۔

ہاں سکینے! بس نبی جی بھی ایسے ہی روتے تھے ہمارے لیے، اللہ سوہنا اک بار مدینے پاک دکھا دے، نبی جی کے قدموں میں لے جائے تو سمجھوں کہ عمر بھر کی خوشی پالی میں نے۔ بی بی جی کا یہ کہتے کہتے آنسوؤں سے چہرہ بھر جاتا اور پھر دھیرے دھیرے یہ آگ بی بی جی سے اس کے اندر منتقل ہونے لگی تھی۔ اب وہ خود بی بی جی کی عمر کو پہنچ گئی تو یہ آگ بھی اپنی انتہا پر تھی۔

وہ اٹھی، نماز پڑھی، سورج نکلنے تک جو تسبیح اسے بی بی جی نے یاد کرائی تھی پڑھتی رہی۔ صابر صاحب چلے جائیں تو پھر جاؤں۔ اس نے مشکل سے وقت کاٹا۔

باجی جی! مجھے خوشی کی خبر سنانا۔ وہ زلیغا کے سامنے بیٹھی تھی۔
زلیغا نے کہا، دیکھو سکینہ اللہ جب کسی کو صبر کا پھل دیتا ہے نا تو بس وہ سب ہی کچھ دے دیتا، اگلا پچھلا سارے حساب چکا دیتا۔

کیا مطبل ہے باجی! صابر صاب نے میری بات مان لی؟ اس کا چہرہ کھل اٹھا۔
سکینہ بندہ کی کیا سننے کی اوقات، اللہ سنتا ہے بس۔ اور یہ اس کی مرضی وہ جیسے چاہے سنے۔ اچھا اب غور سے سن ! زلیغا نے سکینہ کو قریب بٹھاتے ہوئے کہا۔ ہمارا ڈرائیور تھا، وہ مدینے پاک چلا گیا تھا، وہ جس شیخ کے پاس کام کرتا تھا، ابھی کچھ مینے پہلے اس کی بیوی تین بچے چھوڑ کر مرگئی، اب اسے ایک سمجھدار عورت کی ضرورت ہے جو اس کے بچے سنبھالے۔ وہ ڈرائیور چھٹی آیا ہوا تھا تو اس نے مجھ سے ذکر کیا، اور دیکھو تمھیں اللہ نے میرے پاس بھیج دیا۔

اچھا باجی! تو وہ مجھے مدینے پاک میں نوکری دلوائیں گے؟ وہ اک دم خوش ہو کر بولی۔
نہیں سکینہ نوکری نہیں، اسے نوکرانی کی نہیں، بیوی کی ضرورت ہے۔ اور دیکھو! تم ابھی بھی ایک توانا عورت ہو، تمھیں بھی اک گھر کی ضرورت ہے، اللہ تمھارے صبر کا صلہ دے رہا ہے، اب انکار نہ کرنا، بس عمر بھر نبی جی کے قدموں میں بسنے کی دعا مانگی تھی نا تم نے۔ دیکھو پیارے اللہ نے کیسی سنی ہے؟

سکینہ تو جیسے سکتے میں تھی۔
باجی میں تو شادی گھر سب کو بھلا چکی ہوں۔
بس سکینہ اللہ کی مہربانی ہے، اب تم بس اوپلے والا کام چھوڑ دو اور ہاں کر دو۔ میں اسے کہوں گی، وہ کچھ ہی دن میں آ کر نکاح کرکے لے جائے گا، بس پھر رہنا اپنے نبی جی کے قدموں میں عمر بھر۔
سکینہ کو تو جیسے نہ اپنے کانوں پر یقین آرہا تھا نہ ہی قسمت پر۔ اسے نہیں پتا وہ کیسے واپس جھگی تک آئی۔

باجی زلیغا کی مہربانی سے جلد ہی سارے معاملات طے ہوگئے تھے۔ مائی سکینے کا نکاح ہوچکا تھا، وہ اب جھگی چھوڑ کر باجی زلیغا کے پاس اک کرائے کے مکان میں رہتی تھی جو شیخ نے اسے لیکر ویزہ بننے تک کے لیے لے کر دیا۔ اب اک ماہ بعد وہ مدینے پاک جا رہی تھی۔ روتی جاتی سامان رکھتی جاتی۔ نبی جی کے قدموں میں لے جا رہا رب سوہنا۔

مدینہ پہنچی تو بے حال تھی، جہاں سے گرزتی روتی جاتی۔ ہائے نبی جی! اوپلے والی سیکنہ کو کیا دولت دے دی، ہائے نبی جی! بدبو سے بھرے اوپلے والی کے نصیب میں مدینے پاک کی گلیوں کی خوشبوئیں لکھ دیں، ہائے نبی جی! اندر ہی اندر آگ لگی ہوئی تھی۔ مدینے پہنچی، گھرمیں داخل ہوئی، دو کمروں کا فلیٹ، ہوا کے لیے سامنے لگی کھڑکی کھولی تو سامنے نبی جی کا ہرا ہرا گنبد دیکھ کر دل جیسے شکر اور عشق کی اس آگ سے پھٹ جائے گا۔ ہائے نبی جی! اوپلے والی سکینہ کو اپنے گھر کے سامنے لا بسایا۔ ہائے نبی جی! کیسے منہ دکھاؤں، کیسے آؤں؟

سال بعد آئی تھی پاکستان، ہاتھوں میں سونے کی چوڑیاں، کھلی ہوئی رنگت، اب وہ خود اک باجی لگ رہی تھی۔ جھگی بھی آئی، کسی سے پہچانی نہیں جارہی تھی۔ سارا محلہ جمع تھا۔ وہ سب جو اس کی بدبو کی وجہ سے قریب نہیں بٹھاتے تھے، آج سارے اس کے سونے کنگن اس کے کپڑوں کو دیکھنے ایک دوسرے پر گرے جا رہے تھے۔

وہ بس ایک ہی بات کہتی جاتی، کہاں اوپلے والی سکینہ اور کہاں نبی جی کے قدم۔ جب جب کھڑکی کھولوں نبی جی کا گھر سامنے۔ اوپلے والی سکینہ! نبی پاک نے تیرے بھاگ کھول دیے۔

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.