حماس کی اسرائیل کے خلاف تازہ فتح کیسے ممکن ہوئی؟ عبدالمنعم

ایک تصویر گردش کر رہی تھی‌، حماس کے رہنما یحیٰ السنوار کی، جس میں وہ ایک سائیلنسر لگا پستول نکال کر دکھا رہے ہیں۔ اس تصویر کا background عجیب اور یقینی طور پر ایمان کو گرمانے ولا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ماسکو میں بھی ایسی ہی مناظر دیکھنے کو ملے جب عباس ستانکزئی اور سہیل شاہین دھڑلے کے ساتھ اپنی بات کر رہے تھے۔ (جب حبیبہ سرابی نے کہا کہ کیا آپ لوگ اگلی بار کسی خاتون کو بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے لائیں گے تو ان کا جواب زلمی خلیل زاد اور اشرف غنی جیسے نام نہاد لبرلز کے منہ پر طمانچہ تھا کہ ”آپ بھی ہمارا مؤقف پیش کر سکتی ہیں۔“

حماس آخری سیزفائر کے بعد خاموشی اور اطمینان کے ساتھ اپنی عسکری، معاشی اور معاشرتی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مصروف تھی، اور جس کی بازگشت ہر طرف محسوس بھی کی جا رہی تھی۔ ٹرمپ کا redneck امریکہ اور دیگر بھی مضطرب تھے کہ حماس کوئی موقع کوئی نہیں فراہم کر رہی؟ وہ حماس جو ان کی ”دانش کدوں“ میں دہشت گرد معروف ہے، اس سب کو نہ صرف اچھے سے سمجھ رہی تھی بلکہ آنے والے eminent کل کے تیاری بھی کر رہی تھی۔

پھر وہی ہوا، پوری دنیا میں جہاز اُڑاتا نیتن یاہو غزہ پر چڑھ دوڑا، اس زعم میں مبتلا کے اب تو مشرق کی رائے عامہ بھی ہمارے ساتھ ہے جسے ہم نے متعصب صیہونی تنظیم AIPAC کے سٹیج پر دی جانے والی کہانیوں پر مشتمل presentation دکھا دکھا کر اپنے عسکری، زرعی اور فنی ٹیکنالوجی کے بت کے سامنے سجدہ ریز کر دیا ہے۔ مگر طریقہ صیہونیت کا پرانا عیاری والا استعمال کیا، کہ حماس نے ہم پر راکٹ برسائے ہیں۔ مگر جب حماس نے جوابی وار کیا تو دنیا کے سامنے دہائی دینے جا پہنچا جدھر پھر احساس ہوا کہ پوری دنیا میں جہاز اُڑا کر جو سفارتی رائے کا زعم قائم کیا تھا، اس کا نتیجہ صفر بٹا صفر ہے اور حماس نے باقی میدانوں میں مات دینے کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی مات دے دی ہے۔

اس سارے adventure کی حقیقت تھی کیا؟
حماس کی مسلح تنظیم كتائب الشہيد عز الدين القسام (Izz ad-Din al-Qassam Brigades) کے سربراہ ایک جسمانی طور پر معذور مگر ذہین ترین فرد محمّد ضيف ہیں۔ جن کے جان کے درپے اسرائیل عرصہ دراز سے ہے مگر جن کا کوئی اتا پتہ کسی کو معلوم نہیں۔ اسرائیل کی اس ضمن میں ٹیکنالوجی کی بےبسی کا ایک اظہار اس وقت ہوا جب امریکی ارب پتی اور Advanced Engineering کی دنیا کا بےتاج بادشاہ ایلن مسک Elon Musk معروف تھنک ٹینک TED کے سٹیج پر بیٹھا تھا اور اس سے سوال ہوا، اس کی اچھوتی Boring Company کی بنائے جانے والی سرنگ کی گہرائی کے بارے میں تو وہ از راہ مذاق بولا کہ اگر ہم زیادہ گہرا کھودیں تو معلوم نہیں ہوگا کہ سرنگ زیرِ زمین ہے بھی کہ نہیں، اور اگر کوئی ایسی ڈیوائس ہو جو اس بات کا پتہ لگا سکتی ہو تو آپ وہ اسرائیلی ملٹری کو بیچ کر بہت سا پیسا کما سکتے ہیں جو ابھی تک حماس کی بنائی سرنگوں کو معلوم کر پانے میں ناکام ہے۔

اسرائیل پوری دنیا میں اپنی سیٹلائیٹس اور اس سے منسلک GPS ٹیکنالوجی کے بارے میں مشہور ہے جو بیک وقت پوری دنیا پر نظر رکھتی ہے اور لمحہ بہ لمحہ ہر طرح کے موسم میں معلومات فراہم کرتی ہے اور اس کی تمام ٹیکنالوجی کی اوقات یہ ہے کہ لاہور شہر سے بھی چھوٹے غزہ میں موجود حماس کی سرنگوں کا مکمل پتہ لگانے میں وہ ناکام ہے۔ اسی سیٹالائٹ ٹیکنالوجی کی غرور میں مبتلا انڈیا نے بھی پاکستان کے خلاف ایک مہم جوئی کا آغاز کیا تھا جسے ہماری ائیر فورس کے سستے مگر پر اثر تریاق کے بعد اسے ترک کرنا پڑا۔ دنیا میں ٹیکنالوجی کا بس اتنا ہی رعب ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عالمی یومِ امن اور کشمیر و فلسطین - ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

حماس کے بنائے اس سرنگوں کے وسیع جال میں محمد ضیف بھی کہیں موجود ہیں۔ 2014ء میں ہونے والے حملے میں بنیادی محرک ان ہی سرنگوں کا خاتمہ اور محمد ضیف کو ختم کرنا تھا، مگر تمام تر کوشش کے بعد اسرائیل بری طرح ناکام رہا اور اپنی جھنجھلاہٹ پورے غزہ کو کارپٹ بمباری کے بعد ملبے کا ڈھیر بنا کر اتاری۔ جبکہ محمد ضیف اللہ کے حکم سے بالکل محفوظ رہے، مگر اس دوران ان کا پورا خاندان بشمول چند ہفتے کا بیٹا بھی اسرائیلی بربریت کا نشانہ بن گئے۔ وہ خود حرکت کےلیے القسام کے مجاہدین کے کندھوں پر بھروسہ کرتے ہیں مگر ان تمام vulnerabilities کے باوجود اسرائیل ان کے عزم میں ذرہ برابر بھی کمی نہ کر سکا۔

اب کی بار اسرائیل نے مگر دوسری چال چلی۔ Heavy bombardement کے درمیان اس کی سپیشل فورسز کے دستوں نے القسام کے رہنماؤں کو ختم کرنے کی کوشش میں غزہ میں ایک آپریشن کیا، مگر اس آپریشن کا نتیجہ یہ نکلا کہ دو دستوں میں سے کوئی ایک دستہ بھی مکمل سلامت واپس نہ پہنچ سکا، بلکہ کچھ کمانڈوز اس دستے میں سے الٹا حماس کے ہاتھ لگ گئے اور کچھ مارے گئے۔ اتوار کو ہونے والے اس سارے آپریشن کے دوران حماس کے 7 لوگ بھی جامِ شہادت نوش کر گئے جن میں سے ایک محمد ضیف کے دستِ راست کمانڈر نور برکاۃ بھی تھے۔

اس آپریشن کی ناکامی کے بعد حماس نے اسرائیل سے زرِ تلافی کے لیے مذاکرات کیے، مگر اسرائیل اپنی ٹیکنالوجی کے زعم میں کسی پرُ امن راستے پر راضی ہونے کے لیے تیار نہ ہوا۔ جواباً حماس نے اسرائیل کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا آغاز کیا اور اس کی بھرپور تشہیر ابلاغ کے میدان میں ”بالمرصاد“ کے عنوان سے کی (بالمرصاد سورۃ الفجر کی آیت سے ماخوذ، معنیٰ: گھات لگا کے)۔ اس مہم جوئی میں بھی اسرائیل کا ٹیکنالوجی کا بت بری طرح زمین بوس ہوا کہ اربوں ڈالرز کے کثیر امریکی سرمائے اور اسرائیلی انجینئرنگ کے اشتراک سے بنائے جانے والے Iron Dome All Weather Air Defense System کی اصلیت بھی دنیا کے سامنے آ گئی۔ اس سسٹم کو اسرائیلی انجینئرنگ کا شاہکار گردان کر پوری دنیا میں اس کی مثال دی جاتی ہے جس سے متاثر ہو کر آذربائیجان اور انڈیا نے بھی اسے خریدا ہے اور مزید کئی ممالک اسے خریدنا چاہتے ہیں۔ اس سسٹم کے ایک یونٹ کی قیمت تقریباً 7 ارب روپے ہے اور اس سے داغے جانے والے ایک میزائل کی قیمت تقریباً 53 لاکھ روپے ہے، اس سسٹم کا ایک یونٹ ایک منٹ میں ایسے سینکڑوں میزائل بیک وقت فائر کر سکتا ہے اور ایسے کئی یونٹ مل کر Iron Dome Air Defense System بناتے ہیں اور ایسے ایک سے زائد سسٹم اسرائیل کی حفاظت کے لیے نصب ہیں جن کا کام حماس کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں کو فضا میں ہی ختم کرنا ہے۔ اسرائیل پچھلی دہائی کے وسط سے اس سسٹم کا پرچار پوری دنیا میں کر رہا ہے مگر اس کے تمام دعویٰ کی اصل یہ رہی کہ حالیہ مہم جوئی میں یہ سسٹم بُری طرح ناکام رہا اور ہر چار میزائل جو القسام کی طرف سے داغے گئے ان میں سے تقریباً ایک کو ہی فضا میں ختم کر سکا۔ حماس نے اس کے سسٹم کا کیا توڑ کیا؟ یہ جاننے کے لیے پوری دنیا مجھ سمیت بےتاب ہے۔ مگر اتنی تفصیل ضرور موجود ہے کہ حماس کے توڑ کرنے والے پورے سسٹم کی قیمت پورے آئرن ڈوم پر آنے والے اخراجات کا 1 فیصد بھی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   امت مسلمہ کے مسائل اور مذہب کارڈ - عمار مظہر

اس ناکامی پر اسرائیل ڈرا کہ کہیں حماس 2014ء کی طرح دوبارہ اسرائیل کے بن گوریان ہوائی اڈے پر نو فلائی زون نہ قائم کر دے اور اس ڈر کے نتیجے میں دہائی لے کر دنیا کے سامنے آیا کہ حماس جارحیت دکھا رہی ہے مگر اب کی بار حماس ممکنہ اسرائیلی پروپیگنڈے پر پہلے ہی کام کر چکی تھی اور مصر سے لے کر امریکہ تک یہ باور کروا چکی تھی کہ حماس کی کاروائی محض جوابی ہے۔ حماس نے مزید دھمکی بھی دی کہ غزہ کی سرحد پر موجود اسرائیلی ملٹری سے وہ خوفزدہ نہیں بلکہ مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی بیان دیا کہ وہ اسرائیل کے ناکام covert operation میں مرنے والے سپیشل فورسز کے دستے کے سربراہ کی آپریشن کے دوران ہلاکت کی ویڈیو بھی منظر عام پر لے آئے گی تاکہ معلوم ہو کہ جارحیت کا آغاز اسرائیل کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس پر پھر اسرائیل کو 2014ء کی طرح دوبارہ حماس کی ہی شرائط پر دوبارہ صلح پر قائل ہونا پڑا کہ اس کا آزمایا سر پینترا حماس نے اللہ رب العزت کی نصرت سے اس پر ہی الٹ دیا تھا۔ جنرل سیسی کا مصر اور ٹرمپ کا امریکہ اس تمام کارروائی کو انگشت بدنداں دیکھتے ہی رہ گئے۔

نیٹ پر حماس کے ابلاغی بازو شہاب نیوز کی کاوشوں سے وائرل ہونے والی یحییٰ السنوار کی تصویر دراصل حماس کی اس ریلی کے دوران کی ہے جو حماس نے اپنے شہادت پانے والے 7 مجاہدین بشمول کمانڈر نور کے اعزاز میں منعقد کی تھی۔ یحییٰ السنوار حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ ہیں جو فروری 2017ء میں اسماعیل ہنیہ کے بعد منتخب ہوئے تھے، اس کے ساتھ ساتھ كتائب الشہيد عزالدين القسام کی بھی کچھ ذمہ داریاں آپ کے پاس ہیں۔

ریلی سے خطاب کے دوران ہی یحییٰ السنوار نے وہ سائیلسنر لگی پستول بھی نکال کر دکھائی جو حماس نے ناکام لوٹنے والے سپیشل فورسز کے کمانڈوز میں سے ایک سے چھینی تھی۔ پرُ عزم یحییٰ السنوار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حماس اسرائیل کے غزہ کے گرد قائم کیے گئے جبری محاصرے کو توڑنے کے لیے پرُ عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اب اندازہ ہو چکا ہے کہ ہم یہ محاصرہ مزید جاری نہیں رہنے دیں گے اور اسے یہ بھی سمجھ آ چکی ہے کہ 2014ء کے حملوں کے بعد کا ہمارا صبر کسی بھی طرح ناکام نہیں رہا۔ ہمارے میزائل ماضی کے مقابلے میں اب مزید بہتری کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اگر اسرائیل نے دوبارہ غزہ پر چڑھائی کی حماقت کی تو پھر پہلے کی طرح ہی اس کی ہزاروں قیدیوں کی آزادی کے بدلے میں ہی خلاصی ہوگی۔

اس گرجدار خطاب اور ہزیمت انگیز صلح کے بعد اسرائیل خود بھی داخلی طور پر بحران کا شکار ہے کہ حکمران پارٹی میں ہی پھوٹ پر چکی ہے۔ ایک زنگ آلود پستول سے مزاحمت کا آغاز کرنے والی حماس اللہ رب العزت کی نصرت اور اس پر کامل بھروسے کے ساتھ آج اس مقام پر ہے کہ بارود کے ڈھیر ایٹمی اسرائیل کو اپنی شرائط پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ وہ اسرائیل جس کی پشت پر ٹیکنالوجی کی مہارت اور دنیا کی سپر پاورز کی حمایت ہے۔ بے شک اللہ سب سے بڑا کارساز ہے۔

فَاَکۡثَرُوۡا فِیۡہَا الۡفَسَادَ فَصَبَّ عَلَیۡہِمۡ رَبُّکَ سَوۡطَ عَذَابٍ اِنَّ رَبَّکَ لَبِالۡمِرۡصَادِ (الفجر)
یہ وہ لوگ جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں بہت فساد پھیلایا تھا۔ آخر کار تمہارے ربّ نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا ربّ گھات لگائے ہوئے ہے۔