طاہر داوڑ کی شہادت اور ہمارا پڑوسی - احسان کوہاٹی

’’بابا! میں تھک گئی ہوں۔‘‘ننھی ابرش اپنی ننھی منی بانہیں سیلانی کی طرف اٹھاتے ہوئے کہا سیلانی نے ابرش کو گود لینے کے لیے ہاتھ بڑھائے تو وہ پیچھے ہوگئی۔

’’باباایسے نہیں میں نے ادھر بیٹھنا ہے۔‘‘ ا س کی انگلی کا اشارہ سیلانی کے کاندھوں کی جانب تھا، ابرش کی مما نے اسے گھور کر دیکھا ’’بابا کو تنگ مت کرو، بابا تھک گئے ہیں۔‘‘

لیکن ابرش کہاں سننے والی تھی اس نے پاؤں پٹختے ہوئے کہا’’بابا مجھے اٹھا لیں ناں۔‘‘

بیٹی کے لاڈ پر سیلانی اپنی ساری تھکن بھول گیا اور اسے اٹھا کر اپنے کاندھوں پر بٹھا لیا ،ابرش خوش ہوگئی اس نے اپنا توازن برابررکھنے کے لئے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنے بابا کے گھنگھریالے بال مٹھی میں پکڑ لیے، ابرش کی مما نے اسے ڈانٹا تو سیلانی نے انھیں منع کر دیا ’’ارے بھئی! میں نہیں تھکا آپ منیب کے لئے جلدی سے سوئٹر دیکھو اور پھر نکلو۔‘‘

سیلانی اس وقت اپنی بیٹی اور مسز کے ہمراہ اسلام آباد کے وسیع و عریض جمعہ بازار میں خریداری کر رہا تھا، جمعہ بازار میں پھل فروٹ، سبزیاں اور دیگر اشیاء بہت مناسب داموں پر مل جاتی ہیں، اس لیے یہاں آدھا اسلام آباد خریداری کرتا نظر آتا ہے۔ اب ان میں سیلانی بھی ہے دونوں میاں بیوی نے گھر سے نکلتے ہوئے ابرش کو بھی ساتھ لے لیا تھا کہ اس نے گھر میں بھائیوں کے قابو نہیں آنا اور یہا ں آدھے گھنٹے میں ہی ابرش تھک کر سیلانی کے کاندھوں پر سوار ہونے کی فرمائش کرنے لگی۔ اب بھلا سیلانی اپنی لاٖڈلی کی فرمائش کیسے ٹالتا، اس نے ابرش کو کاندھے پر بٹھا لیا اور پھر ابرش اپنے بابا کے کاندھوں پر ایسے سوار ہوئی کہ اترنا ہی بھول گئی۔ لگ بھگ گھنٹہ بھر کی مشقت کے بعد سیلانی گھر پہنچا تو اس کے ہاتھ میں جیکٹ، سوئٹر، گرم پاجامے اور خوب ساری تھکن بھی تھی۔ حالت یہ تھی کہ جیسے کمر تختہ ہوگئی ہو۔ سیلانی نے بمشکل نماز پڑھی اور جائے نماز پر ہی اوندھا لیٹ کر شیث خان کو بلا لیا۔ شیث خان پورے وزن کے ساتھ اپنے بابا کی کمر پر کھڑا ہوا تو سیلانی کو قدرے آرام محسوس ہوا جس کے بعد وہ الماری سے لیپ ٹاپ نکال کر مسہری پر آگیا۔ آج وہ سند یافتہ جھگڑالو وزیر اطلاعات کی سینیٹ سے ہفتہ بھر کی جبری رخصت پر لکھنا چاہ رہا تھا۔ سیلانی نے اس حوالے سے کافی کچھ جمع کر رکھا تھا۔ جہلم کا یہ چوہدری کپتان کے سارے کیے کرائے پر پوری دلجمعی سے پانی پھیر رہا ہے۔ صحافیوں کے ساتھ جناب نے سینگ پھنسا رکھے ہیں۔ دوسری طرف وکلاء برادری کے خلاف بھی طبل جنگ بجا دیا ہے۔ ایسے وزراء کی موجودگی میں بھلا کپتان کو کسی اپوزیشن کی ضرورت کیوں کر ہونے لگی!!

سیلانی لیپ ٹاپ لے کر بیٹھا اور اس نے فیس بک کھولی ہی تھی کہ چارپانچ سالہ کی بچی کی تصویر سامنے آگئی۔ الجھے ہوئے بالوں والی یہ لڑکی فرش پر آلتی پالتی مارے بیٹھے تھی۔ اس نے ایک پورٹریٹ سینے سے لگایا ہواتھا۔ اس کے لب بھنچے ہوئے اور ابرو کھنچے ہوئے تھے۔ اس کا معصوم چہرہ بتا رہا تھا کہ اس نے بہت مشکل سے اشک ضبط کر رکھے ہیں۔ اس تصویر کے بعد یقیناًوہ پھوٹ پھوٹ کر روئی ہوگی۔ اس تصویر نے سیلانی کا دل مسوس کر رکھ دیا، اور صرف اسی کا ہی کیا جس نے بھی یہ تصویر دیکھی ہوگی اس کی یہی کیفیت ہوگی۔ یہ اسلام آباد سے اغواء ہونے والے ایس پی طاہر داوڑ کی بیٹی کی تصویر تھی۔ طاہر داوڑ کو پاکستان کے محفوظ ترین شہر اسلام آباد سے اغواء کیا گیا اور پھر اس کی لاش افغانستان کے صوبے ننگر ہار سے ملی۔

یہ بھی پڑھیں:   بچہ کیوں رو رہا ہے؟ روبینہ فیصل

شہید ایس پی کی بیٹی کی اس تصویر نے سیلانی کو سب کچھ بھلا دیا کہ اس نے کیا جمع کر رکھا ہے اور وہ کیا لکھنا چاہ رہاہے۔ اس کی نظروں کے سامنے بس طاہر داوڑ کی معصوم بیٹی کی تصویر تھی جو اپنے باپ کی تصویر سینے سے لگائے سوالیہ نظروں سے کیمرے کی جانب دیکھ رہی تھی جیسے پوچھ رہی ہو میرے بابا کب لوٹیں گے۔ کب ان کی گاڑی کی آواز گیراج میں آئے گی۔ کب میں بھاگ کر ان کی ٹانگوں سے لپٹوں گی۔ وہ کب مجھے اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر ہوا میں اچھالیں گے اور سینے سے لگا کر شفقت سے میری پیشانی چومیں گے۔ ساری بیٹیاں ایسی ہی پیاری ہوتی ہیں، طاہر داوڑ کو بھی اپنی یہ بیٹی اسی طرح پیاری ہوگی جیسے سیلانی کو ابرش اور آپ کو فاطمہ، خدیجہ ،عفت اور زینب۔ جیسے آس پاس کی پرواہ کیے بغیر ابرش کو کاندھے پر اٹھائے اٹھائے پھر رہا تھا ویسے ہی شہید ایس پی کی یہ لاڈوبھی اپنے بابا سے لاڈ کرتی ہوگی، مگر اب ایسا کبھی نہ ہوگا۔ اس کا یہ انتظار کبھی ختم نہ ہوگا، اس کے کانو ں میں اس کے باپ کی آواز کبھی نہ آ ئے گی کہ وہ آواز دبا دی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو ’’محفوظ شہر‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ کتنا محفوظ اور یہاں سے ملک بھر میں حکومت کرنے والے کتنے باخبر ہیں۔ اس کا اندازہ ایک طرف شمالی وزیرستان کے نڈر پولیس افسر کے یہاں سے اغواء سے ہوتا ہے تو دوسری جانب شہید کی لاش کی سپردگی کے انداز سے پتہ چل جاتا ہے۔ وہ یہ درست اطلاع تک نہ حاصل کرسکے کہ شہید ایس پی کی لاش کب دی جائے گی۔ وہ پھیروں پر پھیرے ڈالتے رہے۔ ساتھ ہی یہ بھی پتہ چل گیا کہ کابل اب اپنے پڑوسی کو کس نظرسے دیکھتا ہے۔

طاہر داوڑ کے اغواء سے حکومت کے چہرے پرغیر سنجیدگی کی چیچک بھی نکل آئی۔ اینٹی ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ میں اپنی ملازمت کے بڑا حصہ بتانے اور دہشت گردوں سے نبرد آزما رہنے والا ایک اہم افسر اغواء ہوجاتا ہے۔ خبر پر لگا سات سمندر پار تک چلی جاتی ہے اور میڈیا میں آ کر انہیں مطعون کرنے کے شوقین مشیر وزیر کو کچھ خبر ہی نہیں ہوتی۔ خبر نہیں تو بات کرنے سے انکار کیا جاسکتا ہے، متعلقہ وزیر سے رابطے کے لیے کہا جاسکتا ہے لیکن کسی میڈیا ہاؤس سے آئی ہوئی کال کیسے چھوڑی جائے؟ اٹھائیس اکتوبر کو وزیراعظم کے متمول معاون خصوصی افتخار درانی نے بھی یہی کیا۔ انہیں وائس آف امریکہ اردو سروس آن بورڈ لیتا ہے، پروگرام کی میزبان طاہر داوڑ کے اغواء کے بارے میں سوال کرتی ہے اور معاون خصوصی صاحب شان بے نیازی سے گویا ہوتے ہیں:
’’دیکھیں جی ایسا ایک تاثر دیا گیا ہے کہ وہ اغواء ہو گئے ہیں۔ وہ short leave پر اسلام آباد آئے ہوئے تھے۔ ایس پی رورل ہیں پشاور کے، ان کا موبائل فون بند تھا little while اس کی وجہ سے یہ تاثر دیا گیا۔ فیملی کو تشویش ہوئی جیسا کہ جو صاحب ابھی لائن پر تھے۔ ایک تاثر دیا گیا کہ وہ اغواء ہو گئے ہیں۔‘‘

بےخبر لاعلم درانی صاحب یہیں تک رہتے تو شرمندگی کا اتنا سامان نہ ہوتا۔ انہوں نے اگلی ہی سانس میں انہیں پشاور میں محفوظ اور موجود بھی قرار دے دیا۔ وائس آف امریکہ کی میزبان کے لیے یہ بڑی خبر تھی کہ جس شخص کے اغواء سے متعلق وہ پروگرام کر رہی ہے، اس کا مہمان کہہ رہا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک ٹھاک اور مزے میں ہے۔ میزبان نے کہا کہ اتنی بڑی خبر پاکستانی میڈیا کو دینی چاہیے کہ وہ بازیاب ہوچکے ہیں۔ جواب میں نئے پاکستان کی نئی حکومت کے سربراہ کے منتخب معاون خصوصی نے تمسخر اڑاتے ہوئے کہتے ہیں ’’دیکھیں ناں جی آپ کو امریکہ سے داوڑ صاحب مل گئے ہیں اور مجھے خیبر پختونخواہ سے خبر نہیں آئے گی۔ یہ تو آپ نے بڑی مضحکہ خیز بات کہہ دی۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   کیا کہنے - زرین تارڑ

واقعی یہ مضحکہ خیز نہیں افسوس ناک بات تھی۔ افتخار درانی کی گفتگو کا یہ حصہ سوشل میڈیا میں بنا پروں کے اڑتا پھرتا رہا اور نئے پاکستان کی پہلی حکومت کے لیے اس وقت تک شرمندگی کا سامان کرتا رہا جب تک 13نومبر کو طاہر داوڑ کی تشدد زدہ لاش نہ مل گئی۔ طاہر داوڑ کی لاش کی تصویر سوشل میڈیا میں دیکھی جانے لگی تو تب حکومت بغلیں جھانکتے ہوئے حرکت میں آئی اور کابل سے لاش کی سپردگی کا مطالبہ کرنے لگی۔ یہاں کابل بھی کھل کر سامنے آگیا، پشتون تحفظ موومنٹ کو قبائلی پشتونوں میں وقعت، اہمیت اوراحترام دینے کے لیے سارے سفارتی آداب بالائے طاق رکھ دیے اور ریاست نے ریاست سے بات کرنے کے بجائے اس سے ناراض گروہ سے بات چیت کا ڈول ڈال دیا۔ کابل مصر رہا کہ لاش پی ٹی ایم کے راہنما محسن داوڑ کو دی جائے گی، پاکستان پر پھبتیاں طعنے کسنے اور ایک مخصوص مہم چلانے والے محسن داوڑ اس گفتگو میں شریک ہوئے تو لاش حوالے کی گئی۔ یہاں کوئی سفارتی قضیہ تھا نہ سرحدی لکیر کا کوئی تنازعہ، سادہ سی بات تھی، پاکستان کے ایک شہری کو، ایک ریاست کے ایک افسر کو اس کی زمین سے اغواء کیا گیا، جس کے بعد اس کی لاش دوسری ریاست کی حدود سے ملی۔ اصولی طور پر تو افغان حکومت اس بات کی پابند ہے کہ بتائے پڑوسی ریاست کا شہری اس کی حدود میں کیسے پہنچا؟ اور کیسے قتل ہوا؟ کابل حکومت کوطاہر داوڑ کے لہو کا جواب دینا چاہیے تھا لیکن اس نے سارے سفارتی بین الاقوامی آداب ایک طرف رکھ کر بھونڈے انداز سے شہید کی لاش پاکستان کے حوالے کرکے پیغام دے دیا کہ جہاں تک بھارت نواز کابل حکومت کی سنی جاتی ہے، وہاں پاکستا ن کی بحیثیت پڑوسی کچھ نہ سنی جائے گی۔

طاہر دواڑ کی زخموں سے سجی لاش اس کے پاکستان کے حوالے کر دی گئی، اسکی مٹی وہاں پہنچ گئی جس کی مٹی کی حفاظت کا اس نے 1995ء میں پولیس فورس میں اے ایس آئی کی حیثیت سے شامل ہوتے ہوئے وعدہ کیا تھا۔ پاکستان کا وہ وزیر ستان جسے دنیا ’’علاقہ غیر‘‘ کے نام سے جانتی ہے، اس علاقے کے ایک ’’غیر‘‘ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ طاہر پر دو خودکش حملے ہوچکے تھے، اس کے باوجود وہ غازی کی حیثیت سے دہشت گردوں سے لڑتا رہا اور اسی لڑائی میں وہ اپنی گڑیا جیسی بیٹی کی آنکھوں میں کبھی ختم نہ ہونے والا انتظار سونپ کر افق سے پار شہید دوستوں سے جا ملا۔ سیلانی اپنی آنکھوں کے گوشوں کی نمی صاف کرتے ہوئے محبت اور عقیدت سے طاہر داوڑ کی وردی میں مسکراتی تصویر دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.