کشمیر؛ قتل عام کی اصل وجہ - غازی سہیل خان

گذشتہ ماہ ریاست کے گورنر ستہ پال ملک نے کہا کہ جب سے اُنہوں نے ریاستی گورنر کا عہدہ سنبھالا ہے تب سے لیکر اب تک 40 جنگجوؤں کو جاں بحق کیا گیا۔ جنگجوؤں کو اس وہم وگمان سے باہر آنا چاہے کہ ان کی زندگی طویل ہوگی، انھوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کا نوجوان نہ صرف دلی سے بلکہ وہ پاکستان، مقامی سیاسی جماعتوں اور حریت نواز جماعتوں سے بھی خفا ہے۔ گورنر نے مزید کہا کہ کشمیر میں اس وقت 400 جنگجو ہیں اور بھارت جیسے ملک کے سامنے 400 جنگجوؤں کا صفایا کرنا بڑی بات نہیں، مگر مسئلہ جنگجوؤں کا نہیں بلکہ جنگجوئیت کو ختم کرنا ہے۔ اسی طرح کا اور ایک بیان گزشتہ ہفتے ناگپور میں آر ایس ایس کی 93یوم تاسیس کے موقع پر منعقد کی گئی ایک تقریب پر تقریر کرتے ہوئے تنظیم کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ کشمیر میں عسکریت کو ہر حال میں کچلنا ہوگا۔

اس نوعیت کے بیانات قوم کشمیر کو 1947ء سے سُننے کو ملتے رہے ہیں۔ جب ہم کشمیر کی صورت حال پر نظر ڈالتے ہیں تو اس بدقسمت ریاست میں 1931ء سے صرف خون و خرابہ دیکھنے کو ملا ہے، ہر دن یوم کربلا اور شام غریباں کا کربناک منظر پیش کر رہا ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جموں میں 1947ء میں کس طرح سے لاکھوں کلمہ گو لوگوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر تاریخ کا سیاہ ترین باب رقم کیا گیا۔ اسی طرح سے کشمیر میں ہزاروں بیواوں اور لاکھوں یتیموں کی فوج تیار کی گئی۔ ان خونین مناظر کو ختم کرنے کے لیے کس طرح سے وقت وقت پر لیڈر حضرات بھی پیدا ہوئے جو امن کے بلند بانگ دعوے کر کے اپنی حکومتیں کر کے چلے گئے اور کشمیر کو اسی جھلستی آگ کی بھٹی میں ہی رہنے دیا۔

کشمیر کی مبنی برحق جدوجہد جس کی خبر ساری دنیا رکھتی ہے کہ یہ اقوم متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عین حق ہے۔ دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ اقوام متحدہ میں بھارت کی لیڈرشپ کی متفقہ رائے سے درجنوں قراردادیں پاس کی گئی ہیں کہ کشمیروں کو یہ حق دیا جائے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ یا کہ آزاد رہ کراپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بات افسوس کے ساتھ رقم کرنی پڑ رہی ہے کہ ڈوگروں کی طرح ہی اس بدقسمت خطہ کے عوام کو اقوام متحدہ اور بھارت نے بیوقوف بنایا اور درجنوں وعدوں کو توڑ کر کشمیر میں بسے لاکھوں انسانوں کے دلوں کو چوٹ پہنچائی۔ الغرض نصف صدی سے زیادہ وقت ہو گیا، وادی کشمیر ظلم و جبر کی چکی میں مسلسل پستی جا رہی ہے اور نام نہاد جمہوریت کے دعویدار الیکشن کر ا کے دنیا کی آنکھوں مین دھول جھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کشمیر میں جمہوری حکومت پر امن طریقے سے اپنا کام کر رہی ہے لیکن جب اصل حقیقت کا پردہ سرکا دیا جاتا ہے تو ہمیں یہاں جمہوریت کے نام پر قتل عام ہی نظر آتا ہے۔ امن و قانون کی صورت حال کو قابو میں کرنے کے لیے کشمیریوں کو آپس میں لڑایا جا رہا ہے، یعنی اغیار کی تمام چالیں اور ریشہ دوانیاں کامیاب ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں، جس میں دونوں طرف (چاہے کوئی پولیس اہلکار ہلاک ہو یا کوئی عام شہری یا کوئی عسکریت پسند) سے بچے یتیم اور مائیں اور بہنیں بیوا کشمیرویوں کی ہی ہو رہی ہیں اور اس کے جواب میں دلی میں بیٹھے لیڈران سینہ ٹھوک کر یہ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر میں حالات قابو میں ہیں۔ کیوں نہیں ہوتے کہ یہاں تو بندوق کی نوک پر کشمیر کی ساری آبادی کو یرغمال بنایا گیا ہے۔ اب کشمیر کی ایسی حالت ہو گئی کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ہر ایک کی گردن فورسز کی بندوق کے نشانے پر ہے۔ یہاں موت اتنی سستی ہو گئی ہے کہ اب یہاں کوئی اپنے پیارے کی موت پہ ماتم بھی نہیں کر سکتا ہے۔ بےگناہوں کو بغیر کسی حساب کے جاں بحق کیا جا رہا ہے۔

اب تو یہاں خواتین بھی محفوظ نہیں ہیں۔ حال ہی میں یعنی19 اکتوبر کو شادی مرگ پلوامہ میں عسکریت پسندوں کی طرف سے فوجی کیمپ پر حملے کے بعد فائرنگ کے ایک واقعہ میں ایک جواں سال 6ماہ کی حاملہ خاتون جاں بحق ہوئی ۔مقامی لوگوں نے میڈیا کے ساتھ بات کر کے بتایا کہ کے قریب 7بجکر10منٹ پر انہوں نے شادی مرگ کیلر روڑ پر واقع 44آر آر کیمپ کی طرف ایک دھماکہ کی آواز سُنی جس کے فوراً بعد فورسز اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کی وجہ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ فردوسہ اختر زوجہ خورشید احمد اپنے مکان کے صحن میں نلکے پر برتن دھو رہی تھی اور فوج کی گولی سیدھی اس کی گردن میں جا لگی۔ اور ضلع اسپتال لیجاتے ہوئے دم توڑ بیٹھی۔ اسی طرح کا اور ایک واقعہ 17اکتوبر کو فتح کدل میں ایک خونین معرکے میں عسکری کمانڈر معراج الدین بنگرو اور ساتھی فہد اللہ جاں بحق ہو گیا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک عام شہری یعنی مکان مالک کا بیٹا رئیس احمد بھی ان دلدوز حالات کے ہتھے چڑھ گیا جو اپنے پیچھے اپنی بیوہ اور چند سال کا ایک بیٹاچھوڑ کر اپنے عزیزوں کو روتا اور تڑپتا چھوڑ کر چلا گیا۔ اس واقعے کے حوالے سے پولیس نے ایک بیان میں کیا کہ رئیس احمد عسکریت پسندوں کے ساتھ کام کرتا تھا جبکہ لواحقین نے پولیس کے اس بیان کو پوری طرح سے مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ رئیس احمد کا کسی بھی عسکری جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ان کی والدہ نے میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے کہا کہ رئیس احمد کوفورسز نے شدید ٹارچر کر کے اندی نیند سُلا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکہ اور بھارت کے پیٹ کا مروڑ - شیراز علی‎

اسی پر اگر بس ہوتا تو ہم کہتے کہ حادثاتی طور پر ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہاں کشمیر میں اسٹیٹ پالیسی کے تحت کشمیریوں کو مارا جا رہا ہے، جس کی واضح مثال ہمارے سامنے 21 اکتوبر اتورا کی صبح سامنے آئی، ضلع کولگام کا لارو علاقہ اس وقت اُبل پڑا جب عسکریت پسندوں اور فوج کے درمیان خونین معرکہ شروع ہوا۔ تین مقامی عسکریت پسند جاں بحق ہوگئے۔ رپورٹس کے مطابق اس خونین معرکے میں تین عسکریت پسندوں کے جاں بحق ہونے کے بعد لوگوں کا ہجوم زور دار احتجاج کرتے ہوئے لاروجائے جھڑپ کے پاس پہنچ گیا۔ اسی دوران جائے جھڑپ کے مقام پر ایک زوردار شیل پھٹ جانے اور فورسز کی فائزنگ کے نتیجے میں 8نوجوان موقع پر ہی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ واضح رہے ابھی بھی نوجوان زخمی حالت میں اسپتالوں میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں اور چند کی حالت انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ یہ دلدوز سانحہ کربناک منظر پیش کر رہا تھا ہر جانب لوگ زخمیوں میں اپنے پیاروں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکال رہے تھے اور جاں بحق ہوئے نوجوانوں کو پر نم آنکھوں سے سپرد لحد کیا جا رہا تھا۔ غرض کشمیرمیں کوئی دن نہیں جب یہاں کوئی نہ کوئی دلخراش واقعہ رونما نہیں ہوتا۔ اب تو کشمیر کے لوگوں کا مزاج ہی ایسا بن گیا ہے کہ جس دن اخبارات میں کسی دلخراش کی خبر نہیں ہوتی اس دن یہ باتیں سُننے کو ملتی ہیں کہ آج کوئی اچھی اور خاص خبر پڑھنے کو نہیں ملی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قتل و غارت گری کی وجہ سے ہماری سوچ بھی متاثر ہوئی ہے۔ کشمیر میں یہ قتل و غارت گری کا ناچ اور کولگام کا حالیہ روح فرسا واقعہ دنیا کو نظر نہیں آ رہا۔ ابھی تک دنیا نے اس طرح کے واقعے شام میں دیکھے ہیں جہاں پر بم اور بارود برسا کر وہاں کے معصوم بچوں کے چیتھڑے ہو امیں بکھرے پڑے دیکھے گئے، دنیا نے اٖفغانستان میں امریکی فوج کا قہر بھی دیکھا ہے، اراکان اور شیشان میں معصوم انسانوں کی چیڑ پھاڑ بھی دیکھی گئی، اسی طرح سے عراق میں مساجد و مدارس کو زمین بوس ہوتے ہوئے بھی دیکھا گیا، غرض دنیائے انسانیت نے یہ سارے روح فرسا مناظر دیکھے ہوں گے، مگر اگر دنیا کو نہیں دکھتا تو وہ کشمیر میں نوجوانوں ک قبروں میں دفن ہوتا ہوا نہیں دکھتا ہے۔

دنیا کا میڈیا جس کو جمہوریت کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے، وہ اس طرح کے دلدوز مناظرایک ا لگ ہی طریقے سے پیش کرتا ہے۔ ہم نے ہندوستان کے میڈیا کو بھی دیکھا ہے جس کو امریکہ، فرانس اور روس میں حالات و واقعات کی پل پل کی خبر ہوتی ہے اور سرحد پار بجلی اور پانی کا احتجاج تو نظر آتا ہے، لیکن کشمیر میں انسانیت کو تڑپتے اور مرتے ہوئے دردناک مناظر نظر نہیں آتے۔ ہمیں تو اس میڈیا پر ایسی کوئی توقع نہیں کہ یہ کشمیر کے حالات کو غیر جانبداری سے پیش کریں گے، یہ تو اپنے ملک کے لوگوں کے خلاف بھی میڈیا ٹرائیل کر کے ان کی زندگی کو تباہ کیا جاتا ہے۔ غیر جانبدار میڈیا کے نام پر عام اور بے گناہ لوگوں کو میڈیا ٹرائل کا شکار بنا کر مختلف اور جھوٹے کیسوں میں پھنسا کر ان کی زندگیاں جہنم بنانا کم سے کم ان کو زیبا نہیں دیتا۔ ہندوستانی میڈیا کی ہی من گھڑت خبروں اور رپورٹوں پر ہندوستان کی حکومت نے نہ جانے کتنے معصوموں کی زندگیوں کو عذاب بنا دیا ہے۔ اب ہندوستان میں المیہ یہ ہے کہ اگر کوئی صحافی بےباکانہ طریقے سے غیر جانب داری کی الم کو تھام کر حق اور سچائی لکھنے اور لوگوں تک حقیقت پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو دن دہاڑے موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا ہے۔ کوئی موت سے بچ بھی جائے تو اس کو دن رات انتہا پسند جماعتوں کی طرف سے دھمکیاں ملنا روز کا معمول بن جاتا ہے، جس کی مثالیں ہمارے سامنے گوری لنکیش جیسی مقتول صحافیوں کی ہے۔ ہندوستان کی حکومتوں کا یہ خاصہ رہا ہے کہ یہاں جب کسی کوجرم بےگُناہی کی پاداش میں ظلم و ستم کا نشانہ بنانا ہوتا ہے تو اس کو پہلے میڈیا کے ذریعے سے خوب بدنام کیا جاتا ہے۔ ایک مغربی مفکر کے بقول Give a dog Bad Name and kill him یعنی پہلے ایک فرد کے کردار کو میڈیا کے ذریعے سے اُچھالا جائے ،پھر اس کے خلاف نام نہاد قانون کے ذریعے سے بےگناہی کی سزا کے تحت اس سے زندگی جینے کا حق چھینا جائے۔ اس کی بھی واضح مثال ہمارے سامنے ڈاکٹر ذاکر نائک کی ہے کہ کس طرح سے ڈاکٹر ذاکر نائک کو پہلے میڈیا ٹرائل کے ذریعے سے دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا اور اسلام کے بےباک و حق پسند داعی کی آواز کو دبانے کی نام کام کوشش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر لہو میں نہا رہا ہے اور کرتارپور پھولوں سے سج رہا ہے - حسین اصغر

میں عرض کر رہا تھا کہ اقوام متحدہ اور دنیا کے دیگر ممالک کو کشمیر میں مظالم نظر نہیں آ رہے ہیں، جان بوجھ کر آنکھیں چُراکر ان سارے مظالم کا نظارہ کرتے ہوئے اس جُرم عظیم کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے فورسز کی طرف سے آئے روز اس طرح کے دلدوز واقعات پیش آ رہے ہیں۔ ان سارے درناک حالات سے نجات کے لیے ہندوستان کی لیڈر شپ یہ نہیں چاہتی کہ کشمیروں کو اس دلدل سے نکالا جائے بلکہ بات چیت کے بجائے آئے روز حکومت کی طرف سے دھمکی آمیز بیانات دیے جا رہے ہیں۔ طاقت کے بل بوتے پہ کشمیروں کے جائز حقوق کو دبانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں یہاں کے نوجوانوں کواس دباو کے تحت پشت بہ دیوار کیا جا رہا ہے۔ جب ہم دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی قوم و ملک کو آج تک کسی نے طاقت کے بل بوتے پر غلام نہیں بنایا بلکہ الٹا ظالم ہی فنا ہوگئے۔ مسئلہ کشمیر کے دوسرے فریق پاکستان کی لیڈرشپ بھی اپنے انتخابی جلسوں میں کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے بڑی بڑی تقریریں کرتی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے کے بعد ان کو جیسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔ اسی طرح سے وہاں کا میڈیا بھی ٹھوس طریقے سے دنیا تک کشمیر میں ہو رہے مظالم پہنچانے میں بُری طرح ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ ہندوستان کی حکومت کو چاہیے کہ اگر ترقی کرنا اور ملک کی کروڑوں کی آبادی کو بھوک مری سے نجات دلانا ہے تو طاقت و غرور وگھمنڈ کے نشے سے نکل کر پاکستان اور کشمیر کی حقیقی لیڈر شپ کے ساتھ ٹھوس طریقے سے بات کرے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے جو یہاں دو ملکوں کے درمیان نفرت اور جنگ کاماحول بنا ہوا ہے، وہ ایٹمی جنگ کی صورت اختیار کر کے دونوں ملکوں کی آبادیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دے۔