زخموں کی سرزمیں پر مرہم لگائیے - ایس احمد پیرزادہ

گزشتہ دنوں مقامی اخبارات میں یہ خبرشائع ہوئی ہے کہ ضلع کپواڑہ کے ترہگام علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک امام و خطیب کو پولیس نے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔ چارج شیٹ میں یہ ’’جرم ‘‘درج کیا گیا ہے کہ مذکورہ امام نے کسی جامع مسجد میں اپنے جمعہ خطاب سے ’’امن و امان‘‘ میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔ اسی طرح کے ایک اور واقعے میں پلوامہ کے ایک مولوی صاحب کو بھی پابند سلاسل بنادیا گیا، کیونکہ اْنہوں نے ایک جان بحق عسکریت پسند کے نماز جنازہ کی پیشوائی کی تھی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی عسکریت پسند کے نماز جنازہ کی امامت کر نے یا اسی مناسبت سے منعقدہ تعزیتی تقریب میں موت و حیات کے فلسفے پر روشنی ڈالنے کی پاداش میں کسی مولوی صاحب یا مْقرر کو پابہ زنجیر کیا گیا ہو بلکہ ابھی تک درجنوں لوگوں پر اس حوالے سے پبلک سیفٹی ایکٹ(PSA) کا اطلاق کیا جاچکا ہے جن میں سے بیشتر تاحال ریاست کی مختلف جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔

اقوام عالم کے بڑے بڑے اداروں نے جنگی قوانین کے تحت یہ بات دنیا کے ہر ملک و قوم میں بلا چنیں وچناں تسلیم کیا ہوا ہے کہ میدان ِجنگ میں مد مقابل لوگ صرف اْس وقت ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوتے ہیں جب تک ان میں سے دونوں یا ایک زندہ ہو اور جونہی جنگ کے میدان میں کسی ایک کی موت واقع ہوجائے، پھر مرا ہو ا فرد یا افراد کا گروہ دشمن نہیں رہتا۔ زندگی کی جنگ ہار جانے کے بعد یہ مرے ہوؤوں کا انسانی حق بنتا ہے کہ اْن کی لاشیں مسخ نہ کی جائیں، اْن کے اپنے عقیدے کے مطابق پورے عزت و احترام کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں یا ان کے لواحقین کو ایسا کر نے سے نہ رُکاجائے، چہ جائیکہ سوگواروں کو جنازے یا آخری رسومات کی ادائیگی یا ماتم پْرسی سے روکا جائے۔ یہ اصول اقوام عالم کی جانب سے قائم کردہ مختلف اداروں کے آفاقی دستادیرمیں درج ہیں۔ لہٰذا اْس قوم اور ملک کو کیا نام دیا جائے جو میدان جنگ میں مرے ہووؤں انسانوں کے تئیں عالم انسانیت میں رائج تمام اخلاقی حدود وقیود کا کوئی پاس و لحاظ نہ رکھتے ہوئے منہ میں رام رام بغل میں چھری کے مصداق جمہوریت، انسانیت اور عدم تشددکی راگنیاں سنائیں۔

یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ کشمیر میں آئے روز انسانی جانوں کا بے دریغ زیاں ہورہا ہے۔ ہر دن کسی نہ کسی ماں کی کوکھ اْجاڑ دی جاتی ہے۔ایسے میں سیاسی اور انتظامی سطح پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انسانی خون کو محترم سمجھتے ہوئے قتل وغارت گری کے سلسلہ کو مکالمہ آرائی سے بند کر نے کی کوششیں کی جاتیں، گولی اور طاقت کی بولی بولنے کے بجائے گلے لگانے اور اصل مسئلہ سمجھنے کی جانب مخلصانہ پیش قدمی کی جاتی، ہر حیثیت میں انسانی جانوں کو تحفظ دینے کے لیے تمام متبادل اقدامات کئے جاتے،مگر المیہ یہ ہے کہ زمینی سطح پر انسانیت اور انسانی حقوق اور انسانی زندگی کی حرمت جیسے اونچے آدرشوں کوا یک طرف پھینک کر محض حقیر سیاسی اغراض ، ذاتی مفادات اور ترقیوں کے زینے چڑھنے والوں کی ایک تثلیث بنی ہوئی ہے جو کشمیر میں لگی آگ کو دہکانے اور بھڑکانے کو کامیابی کی واحد راہ سمجھتے ہیں۔ اگر چنگیزیت اور بربریت میں ہی ان عناصر کو اپنی جیت دکھائی دیتی ہے تو پھر زندوں کا نہ بھی سہی کم از کم زندگی کی جنگ ہار جانے والے بدنصیب کشمیری نوجوانوں کی نعشوں کا ہی تھوڑا بہت احترام کیا جائے۔ اْن کے جنازوں میں شرکت کرنے کے حوالے سے کوئی دھونس دباؤ نہ ہو ،اْنہیں سفر آخرت پر روانہ کرنے والوںکی آہوں اور آنسوؤں کو بندوق کی نوک پر فضول رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں۔ ہمارے عقیدے کے مطابق نماز جنازہ زندوں پر مرنے والوں کا حق ہوتا ہے، یہ ایک مذہبی فریضہ ہے اور اس موقع پر علمائے دین اور ائمہ مساجد کی جانب سے موت و حیات کے فلسفے پر روشنی ڈالنے کی رسم یہاں دہائیوں سے چلی آرہی ہے۔ یہ موقع ہوتا ہے جب نہ صرف سوگواروں کے زخمی دلوں پر دلاسے کا مرہم لگایا جاتا ہے بلکہ آخرت کی فکر دلوں میں پیدا کرکے لوگوں کو اللہ سے ڈرنے اور انسانیت پر مر نے کا درس دیا جاتا ہے۔اگر اس پر بھی قدغنیں عائد کی جائیں اور لوگوں کو جنازوں میں شرکت کرنے پر گرفتارکیا جائے، ان کو سرد آہیں بھرنے یا آنسوبہانے پر بھی انہیںپبلک سیفٹی ایکٹ کے ظالمانہ قانون سے جیل بھیج دیا جائے تویہ سراسر اول دینی معاملات میں مداخلت تصور ہو گی اور دوم عوام کے ہرے زخموں پر نمک پاشی قرار پائے گی۔ا س سے عوامی غصہ اور بھڑک سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مزید مساجد ”ہندوتوا“ کے نشانے پر - قادر خان یوسف زئی

اسی طرح کے ایک اور واقعے میں۱۲؍اکتوبر کو یوپی پولیس نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دو کشمیری ریسرچ اسکالرز کے خلافIPC سیکشن124A کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا تھا۔مذکورہ دونوں اسکالرز پر الزام تھا کہ انہوں نے 11 ؍اکتوبر کو کینڈی ہال میں دیگر کشمیری طلباء کے ساتھ جمع ہوکر مبینہ طور عبدالمنان وانی کا غائبانہ نماز جنازہ اداکرنے کے علاوہ ’’دیش مخالف‘‘ نعرہ بازی کی۔ یوپی پولیس کی جانب سے غداری کا مقدمہ درج ہونے سے قبل ہی یونیورسٹی حکام نے ان دونوں کشمیری اسکالرز کو یونیورسٹی سے معطل کرنے کے علاوہ دیگر درجنوں طلباء کے نام عبدالمنان وانی کی نماز جنازہ میں شرکت پر وجہ بتاؤ نوٹس جاری کردئے گئے تھے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی حکام اور یوپی پولیس کی جانب سے کی جانی والی اس کارروائی کو طلباء مخالف قرار دیتے ہوئے یونیورسٹی میں زیر تعلیم بارہ سو سے زائدکشمیری طلباء نے ایک خط کے ذریعے سے یونیورسٹی اتھارٹیز کے خلاف سخت احتجاج درج کیا تھا۔وی سی کے نام اپنے ایک خط میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے کشمیری نژاد نائب صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر کشمیری طلبہ کو تنگ طلب اور ہراساں کرنے کی یہ کوششیں بند نہ کی گئیں تو یونیورسٹی میں موجود 1200 طلبہ و طالبات اپنی ڈگری اسناد واپس لوٹا کر اجتماعی طور پر یونیورسٹی سے ہجرت کریں گے۔ اس دھمکی کے نتیجے میں یونیورسٹی حکام دو کشمیری اسکالرز کی معطلی کے احکامات منسوخ کرنے پر مجبور ہوگئے، حالانکہ غداری کا مقدمہ ابھی تک بھی یوپی پولیس نے واپس نہیں لیا ہے۔

یہاں عدم برداشت کی باد سموم چل رہی ہے کہ علی الخصوص مسلمان کی آواز کو دبانے کی بات ہو یا اْن کے اجتماعی و مذہبی معاملات میں مداخلت ِ بےجا کا ردعمل ہو ، ہر وقت سرکاری مشینری اور فورسز ایجنسیاں بلا تاخیر ان کے خلاف’’غداری‘‘ یا ’’امن و امان ‘‘ میں رخنہ ڈالنے کا مقدمہ درج کرتی ہیں۔ حالانکہ آئین ہند میں آزادیٔ اظہارِ رائے کی گارنٹی موجود ہے۔ آئین ہند کے مطابق عام لوگ نہ صرف اپنے مافی الضمیر کا کھلا اظہار کرسکتے ہیں بلکہ مذہبی ، سماجی اور سیاسی اجتماعات میں خطابات کے علاوہ حکومت کی جارحانہ اور ظالمانہ پالیسیوں پر مہذبانہ اور مصلحانہ تنقید بھی کرسکتے ہیں۔ اس کام کو بھلے ہی آج’’ بغاوت اور غداری‘‘ کا عنوان دیا جائے مگر حق یہ ہے کہ یہی کسی ملک کی جمہوریت کا حْسن کہلاتاہے۔ قابل ذکر ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو نے اپنے فیس بک پوسٹ میں مسلم یونیورسٹی کے کشمیری اسکالرزکے خلاف کیس درج کیے جانے کے موقع پر لکھا تھا:’’ میری رائے میں اْن کی گرفتاری بالکل ہی غیر قانونی ہے۔ آزادی کی ڈیمانڈ کرنا جرم نہیں ، یہ آئین ہند کی دفعہ برائے آزادیٔ اظہارِ رائے آرٹیکل19(1)(A)کے زْمرے میں آتا ہے۔ یہ تب جرم بن جاتا ہے جب ڈیمانڈ سے آگے بڑھ کر انسان تشدد پر اْتر آجائے۔‘‘انہوں نے مزید لکھا: ’’ہندوستان میں بہت سارے لوگ آزادی کی مانگ کررہے ہیں، مثال کے طور پرکشمیری، خالصتانی، نارتھ ایسٹ کے لوگ وغیرہ اور اْن کا آزادی کی مانگ کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔اس لیے کشمیری طلبہ نے( اگر کسی مرے ہوئے ہم وطن کی ) نمازِ جنازہ ادا کی ہے یا پھر آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی ہوتو اْنہوں نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا جس پر اْن کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔‘‘

کوئی بھی اللہ کا بندہ اس دنیا سے چلا جائے تو اُس کے نمازہ جنازہ میں شرکت کرنا ایک مسلمان کا دینی فریضہ( فرض کفایہ ) ہوتا ہے، اور اگر جانے والا جان پہچان والا ہو، رشتہ دار یا پھر زندگی کے کسی بھی موڑ پر ساتھیوں میں رہا ہو تو اُن کے لیے د ست بدعا ہوجانا انسان کا ناقابل التواء حق بن جاتا ہے۔ کپواڑہ اور پلوامہ کے مولوی صاحبان نے اگر نماز جنازہ پڑھائی ہو یا پھر تعزیتی تقریر کی ہو،علی گڑھ میں کشمیری طلباء نے اگر اسی حق کا استعمال کیا ہے؟ یا پھر آئے روز کے جلوس جنازوں میں لوگوں کی شرکت کا معاملہ ہو، تویہ کون سے ’’جرائم‘‘ ہیں کہ اُن پر غداری کے مقدمات درج کیے جائیں، اْن کے ’’مر تکبین ‘‘ پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔

سوشل میڈیا کے زمانے میں خیالات کا اظہار ہر شہری کا بنیادی حق بن چکا ہے،لیکن جب کشمیری نوجوان یا یہاںکے شہری اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں تو اْنہیں قانون کی مختلف شکنجوں میںکسا جاتاہے، اْنہیں ذہنی و جسمانی طور ہراساں کیا جاتا ہے۔کشمیری نوجوانوں کے سوشل ایکٹویسٹ بن جانے کو کبھی Terrorism Intellectual کانام دیا جاتا ہے تو کبھی OGW's Intellectual کی اصطلاح اُن کے لیے استعمال کی جاتی ہے اورکبھیInstigator کا لیبل چسپاں کرکے اُنہیں ہراساں و پریشان کیا جاتا ہے۔ ناقدین کی نگاہ میں کہ سرکاری پالیسی کا ایک رْخ یہ لگتا ہے کہ سوگوار کشمیری مسلمانوں کو حالات کی سولی چڑھنے والے جان بحق جوانوں کے جنازوں میں شرکت سے روکا جائے، اْنہیں جیل میں ڈال دیا جائے اور مختلف کیس بنا بناکر اْنہیں ذہنی طور ہراساں و پریشان کیا جائے تاکہ وہ اتنے بے بس ہوجائیں کہ وہ وردی پوشوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کرلیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آسٹریلیا کو ٹیسٹ میچ ہرانے کے لیے پاکستان کیا کرے؟

اب ا س گھمبیر صورت حال کی ستم ظریفی بھی دیکھ لیں کہ جہاں نماز جنازہ اور تعزیتی اجتماعات تک بسااوقات قدغنوں کے دائرے میں لائے جاتے ہیں، وہیں مسلم اکثریتی ریاست میں سرکاری سطح پر مسلم مخالف اقدامات سے گریز نہیں کیا جاتا۔ گزشتہ ماہ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طوروہ سرکاری حکم نامہ منظر عام پر آیا جس میں ریاستی حکومت کی جانب سے اسکولوں ،کالجوں اور لائبریریوں کو اْردو اور کشمیری میں ترجمہ کی ہوئیں ہندو مذہبی کتابیں’’ گیتا‘‘ اور’’ رامائن‘‘ خریدنے کے احکامات صادر کیے گئے۔ یہ حکم نامہ سیکر ٹری ایجوکیشن کے دفتر سے ڈائرکٹر ایجوکیشن اور ڈائر کٹر کتب خانہ جات کے نام ارسال کئے گئے تھے۔ بعد میں بہت جلد عوامی دباؤبھانپتے ہوئے سیکولر کہلانے و الی ریاست کی حکومت نے یہ احکامات واپس لے لیے، لیکن سوچنے والے دماغوں میں معمہ نما سوال چھوڑا کہ کیا اس حکم نامے کی اجرائی نے یہ صاف نہیں کیا کہ ریاستی مشنری کن خطوط پر سوچ رہی ہے، کیا اس سے وہ عزائم بے حجاب نہ ہوئے کہ کس کس عنوان سے ریاست کی مسلم شناخت اور تہذیب پر وار ہورہے ہیں۔ ذرا تصور میں لایئے کہ جہاں ایک اْستاد کوامتحانی پرچے میں’’ کرفیوکے دوران عید‘‘ کے موضوع پر مضمون سوال نامے میں شامل کر نے پر گرفتار کیا جائے اورجہاں ایک اردو قاعدے میں ’’ظ‘‘ سے ’’ظالم‘‘ لکھ کر پولیس مین کی تصویر دینے پر ناشر کوحوالات میں دھکیلا جائے، وہاں کس طرح صرف گیتا اور رامائن کتب خانوں میں بڑی مقدار میںمہیا کرنے کا حکم نامہ بڑی بے تکلفی کے ساتھ سرکاری طور جاری کیا جا تا ہے۔ رامائن اور گیتا ہندو دھرم کی متبرک کتابیں ہیں، ان کو کتب خانوں میں رکھنا کوئی پاپ نہیں ، بلکہ حق یہ ہے کہ مذاہب کا تقابلی مطالعہ کر نے والے ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب جیسے صاحب ایمان مبلغ یہ کتابیں حق کے فہم وادراک کے لئے لازماًپڑھتے ہیں مگر پھر سرکار کو اپنے حکم نامے میں قرآن کریم ، گرو گرنتھ اور انجیل بھی لائبریریوں میں رکھنے کا آرڈر دنیا چاہیے تھا۔ ان کو نظرا نداز کر کے دوہرا معیار اپنا چہ معنی دارد۔امن عامہ کا مفاد اسی میں ہے کہ بدنام زماں ملعونہ و گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تسلیمہ نسرین کی کتابیں لائبریریوں کی زینت بنانے سے بھی گر یز کیا جائے۔

بہر کیف حالات کی الٹی نہج دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہیں ہم ریاستی میں ڈوگرہ راج میںواپس تو نہ آگئے جب جمعہ خطبوں پر پہرے بٹھائے جاتے تھے۔ اْس زمانے میں بھی اسٹیٹ طے کرتی تھی کہ مسلمان کس حد تک دینی شعائر پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں اور آج بھی مر وجہ سسٹم یہ طے کر تا ہے کہ دین اسلام ماننے والے کس کا جنازہ پڑھیں کس کا نہیںاور کہاںان کے دینی شعائر پر پابندی عائدہوگی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی انتظامیہ یہ بات سمجھ لے کہ دھوکہ ، دھونس اور دباؤ کی پالیسی سے حالات میں قطعی طور سدھارنہیں لایا جاسکتا۔ ہمارے کرم فرماؤں کو کشمیر کا مسئلہ اور ا س سے جڑے دیگر امور سمجھنے کی اشد ضرورت ہے تا کہ وہ یہ اشارہ پا سکیں کہ یہاں کے لوگ کیا چاہتے ہیں ، اْن کی ہر بات سنی جائے، تاریخ کے اوراق کو کھنگال کر اْن تند وتلخ حقائق کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو کشمیر کے سیاسی مسئلے کو جنم دینے کے باعث بنے۔ دلی کے اربابِ اقتدار کو دوسرے تمام ناکام تجربات ترک کر کے کشمیر یوں سے کئے گئے ٹوٹے وعدوں کو نبھانے کی طرف لوٹ آنا ہوگا۔ یہ بات ہر ایک کو گرہ میں باندھ لینی چاہیے کہ امن کے سب سے بڑے خواہش مند اور محتاج کشمیری عوام ہیں، وہ روز روز کی ماردھاڑ اور تخریب وتشددسے دل برداشتہ ہیں، کوئی قوم یہ نہیں چاہیے گی کہ اْن کی نسلیں کٹی رہیں اور مرتی رہیں، البتہ عزت اور وقار کو گروی رکھنا بھی کسی غیرت مند قوم کے شایان ِ شان نہیں ہوتا۔ اْمید یہی ہے کہ سرینگر سے دلی تک انتظامیہ اور حکومتی لوگ دیر سویر کشمیر کے تعلق سے اصل حقائق سمجھتے ہوئے کشمیر حل کے لئے مخلصانہ کوششیں کریں گے اور اہل کشمیر کو رام کر نے کے لئے ان کے مذہبی جذبات سے کھیلنا ترک کریں گے۔